Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

می رقصم

400.00

Description

لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی

صِحرا نورد، دُشواریوں کو اپنا نصبُ العین بناتا ہے اور اِستراحت سے کوسوں دُور رہتا ہے، یہ مُشکل پسندی ہی اُسے آمادۂ عمل رکھتی ہے، تاکہ وُہ مزید راہ گردیوں کے لیے سرگرمِ عمل رہے۔ نیّراقبال علوی فِراق میں آہ و زاری کرنے والا مصنّف ہے، وُہ شوقِ وصل میں جُستجُوے منزل نہیں کھونا چاہتا۔ اُس کو صِرف اپنے کام اور بنی نوعِ اِنسان کی فلاح و بہبُود سے غرض ہے، جِس کے لیے اُس کی رُوح کو قرارِ خاطر راس نہیں۔ اِتنے کم عرصہ میں ”می رقصم“ اُن کی ساتویں کِتاب ہے، جو اُن کے افسانوں پر مُشتمل ہے، افسانوں کا اِختراعی اندازِ فن اور طریقۂ زُبان و بیاں اُن کا اپنا ہے، اِس رسم و راہ میں، کِتابِ دِل کی تفسیریں، جو سراسر اُن کے ذاتی تجرِبات پر مبنی، اور کُچھ جگ بِیتیوں کے اثراتِ مسمُوم ….. جو لکھتے وقت اُن پر غالب رہتے ہیں۔ وُہ تصویرِ عِشق کا نقشہ اگرچہ ہُوبہُو پیش کرتے ہیں، تاہم بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وُہ تصوُّرات سے زخمِ دِل کے لہُو کے دھبّوں پر پٹیاں باندھیں۔
تخلیقی افسانے(Created Fiction) میں کبھی بھی تلخیِ دوراں کے نقشے کھینچ کر یا زخم ہویدا کر کے قارئین کو نہ تو رُلایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی متاثّر کِیا جا سکتا ہے۔ تخیل کی دُنیا میں اپنے فِکرِ نکتہ رس کی فلک پیمائیاں ممکن نہیں، سکُوتِ گُل کا راز جاننے کے لیے، پُھول کے ضمیر میں اُترنا پڑتا ہے۔ نالۂ بلبل کی صداے دِل خراش کی چُبھن جاننے کے لیے، بھنورے کی طرح چمنستانِ راز کی آوارگی کا بِیڑا اُٹھانا پڑتا ہے، تب جا کر شوخیِ طرزِ بیاں سے افسانے جنم لیتے ہیں۔
نیّراقبال علوی، اپنے افسانوں کی رنگ آمیزی کے لیے جو Pallet چُنتے ہیں، اُس پر مشرقی اُفق سے طُلُوع ہونے والی صبح کے وُہ رنگ نہیں جو چمکتے سُورج کی تابناکی سے آنکھوں کو چُندھیا دیتے ہیں جِس کی وجہ سے وُہ بسا اوقات نظر بھی نہیں آتے، بل کہ اُنھوں نے مغربی شفق میں ڈُوبتے سُورج اور شام کے دُھندلکوں کے چھوڑے ہُوئےسحابوں کے ارغوانی Shades کو اپنے افسانوں میں سمونے کے لیے موزُوں جانا، جِن میں گُذرتے دِن کے ڈھلتے ہُوئےآثار، عُروسِ صبح کی تکان، بزمِ فلک کے چھلکتے اور ٹُوٹے ہُوئےساغر، شورشِ مےخانہ کی ُبجھتی ہُوئی راکھ کے انگارے اور سیماےاُفق کےتاج، ٹیکے، بِندیا، زیوروں کے گہنائے ہُوئے رنگ…..
یہ تمام اُڑے ہُوئے رنگ ہاےشفق، درحقیقت اِنسان کے ہاتھوں اِنسان پر کیے گئے مظالم کے مظاہر اور اِستعارے ہیں، جنھیں آفرینش سے لے کر آج تک انسانوں نے روا رکھّا ہُوا ہے، یہ منجمد خُون کے وُہ اَن مِٹ دھبّے ہیں، جِن کی آمیزش سے نیّراقبال علوی اپنے افسانوں کی نقش گری کرتے ہیں۔
ابھی نہ چھیڑ محبّت کے گیت اے مُطرب
نیّراقبال علوی کے افسانے مجمُوعی طور پر اپنے مُعاشرے کے عکّاس ہیں، جِنھیں وُہ اپنے عدسۂ نُکتہ چِیں سے، بغیرتحریف، قطع و برید کیے اپنے قارئین تک پہنچاتے ہیں، جِن میں دُکھیا مَن کی پُکار، اِنسانوں کی حالتِ زار، اُن پر روا رکھّے جانے والے مظالم، نامساعد حالاتِ زِندگی، جہالت اور ناخواندگی، صحّتِ عامہ سے متعلق غم انگیز واقعات، اور حکمرانوں کا فسطائی جبر، عِلاوہ ازیں اشرافیہ اور مُراعات یافتہ طبقے کی غُنڈا گردیاں، وڈیرا شاہی اور اُن کی رنگ رلیاں نیز اُن کی نِجّی جیلوں میں پابہ زنجیر معصُوم مزارعین اور اُن کے افرادِ خانہ، غریب مِحنت کش اور اُن پر ہونے والے مظالم، جابرانہ نِظام اور اس کی چِیرہ دستیاں، ایسے کئی موضُوعات ہیں، جِن میں رنج و غم کی چیخ پُکار شامل ہے۔
نیّراقبال علوی کے مُعاملاتِ غم، صِرف اپنی ملکی مُعاشرت میں بپا ہونے والی شامِ غریباں تک ہی محدُود نہیں، اُن کے مُشاہدے کا مدار بہُت وسیع ہے، اُن کی وُسعتِ نِگاہ میں عالمی سطح پر ہونے والے واقعات کی اہمیت بھی کم نہیں، ظُلم چاہے کہِیں بھی ہو، اس کی تعبیر نرم خُو اور گُداز دِل کے مالک لِکھاری کو رنج میں مُبتلا کر دیتی ہے، اِنسانوں کو یک نگہی سے دیکھنا اور اُن کے دُکھ کو اپنا دُکھ ماننا، یہ نیّراقبال علوی کی طبیعت کا خاصّہ ہے۔ وُہ عالمی بھائی چارے کے داعی ہیں، اُن کے ذاتی شعائر کا یہ رُجحان اُن کے افسانوں میں جھلکتا ہے۔ بہُت سے افسانے اُنھوں نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کی جِدّوجُہدِ آزادی اور اُن کی حق تلفیوں کے بارے میں لکھے۔ اِس ضمن میں بین الاقوامی سیاست کی مکّارانہ روِش اور اِبلیسی چال بازیوں کو بھی اپنے افسانوں کے ذریعے تنقید کا حصّہ بنایا۔ ایک حسّاس طبع اور دردِ دِل رکھنے والا مصنّف جب اِن موضُوعات پر قلم اُٹھائے گا تو اُس کا بیان لامحالہ تُند اور غصیلا ہو گا، سنجیدہ موضُوعِ سخُن، جولانی اور غیظ و غضب اُسے مزید تیکھا کر دیتے ہیں۔ نیّراقبال علوی موسمِ خزاں میں بے موسمی پُھول کِھلانے والا ادیب نہیں، نہ ہی وُہ مُرجھائی ہُوئی کلیوں سےعِطر کشید کرنے کی سعیِ بے کار کرنے کا خُوگر ہے، وُہ جانتا ہےکہ وقت کے کِس دورانیے میں اُسے Grover Washington کے سیکسوفون سے Jazz سُننا ہے، اور کون سا پہر ایسا ہے جب اُس نے شری ہری پرساد چوراسیا کی بنسری سے راگ پیلو کی دُھن سُن کر خُود کو غمناک کرنا ہے، سُروں کے باطنی آہنگ کی پہچان اپنے اندر قلبی واردات کے وُہ تمام پہلُو رکھتی ہے جِس سے شُعُور بالیدگی پاتا ہے، یہ شُعُوری بلاغت ہی افسانہ لکھنے کے اظہارِ بیان میں مُمِدو معاون ہوتی ہے۔ کِسی افسانے کو لُغت کی کیا معنویت درکار ہے، نیّراقبال علوی ڈِکشن کے اُسلُوب اور انشاپردازی کے آئین و ضوابط سے گہری واقفیت رکھتا ہے، وُہ بخُوبی آگاہ ہے کہ اِضطرابِ دِل کو بیان کرنے کا سلیقہ کیا ہے اور نفسِ مضمون کو کِس لہجے کی ضرُورت ہے، وُہ تخلیقی، تنقیدی اور تکنیکی خُوبیوں سے نہ صِرف واقف ہے، بل کہ وُہ اپنے مخصُوص اندازِ تحریر اور جُملوں کی ساخت سے، قاری کو بھی افسانے کا کِردار بنا دیتا ہے۔
نیّراقبال علوی کے افسانوں کی بُنت یہ تقاضا کرتی ہے کہ قاری فہم و ادراک اور عقل و شُعُور کا مالک ہو، اِس لیے کہ اُن کے تمام افسانے سنجیدہ سرزمین میں کاشت ہُوئےہیں، اِسی لیے محاصلِ فصل چھلّیاں اور گیہوں نہیں، بل کہ تلواریں، نیزے، کِیل اور میخیں ہیں، کارزارِ سفّاکیت میں روٹی نہیں بل کہ بُھوک اُگتی ہے، اِس دھرتی کے دُور و نزدِیک میں کِسانوں کی سِسکیوں اورفاقہ زدگیوں کی آہ و بکا ہے، الّہڑ دوشیزاؤں کی لُٹتی عِصمتوں کی دردناک آہ و زاری ہے، غریبوں کے حُقُوق کی پایمالی کے اندوہناک نوحے، شہیدوں کے لواحقین کی لرزہ براندام چیخیں، یہ سب تلخ حقائق ہیں جنھیں افسانے کے پیرایےمیں بیان کرکے حقیقت شناس بنا دیا ہے۔
نیّراقبال علوی نے اپنی زِندگی کا بیشتر وقت یورپ خُصُوصاً جرمنی میں گُزارا ہے، جِس کی وجہ سے اُنھیں مغربی تہذیب کے خدّوخال اور وہاں کے تمدن کومُطالعاتی نِگاہ سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع مِلا۔ اِس دوران اُنھیں یورپی اَدَب سے بھی خاطرخواہ آگاہی ہُوئی۔ وسیع المُطالَعہ ہونے کی وجہ سے نیّراقبال کے افسانوی کینوس کا طُول و عرض بہُت وسیع ہے، اِسی وجہ سے اُن کے بہُت سے افسانوں میں مغربی مُعاشرت کی ثنویت مِلتی ہے، جسے اُنھوں نے ہدفِ تنقید بھی بنایا ہے، اور تعریف کے پیرایےمیں اُن کوائف کو بھی بیان کِیا ہے جو سراہے جانے کے قابل ہیں۔
مَیں قارئین کو یہ بتانا چاہُوں گا، کہ مَیں نے اپنے اِس مضمون کو صِرف کِتاب ”می رقصم“ کے لیے ہی خُصُوصی طور پر رقم نہیں کِیا بل کہ اُن کی دیگر کِتابوں کو پیشِ نظر رکھتے ہُوئے اُن کے افسانوں کو کُلّی طور پر اپنی اِس تحریر میں بیان کرنے کی کوشِش کی ہے۔
قیصراقبال
ورجینیا، امریکا

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “می رقصم”

Your email address will not be published. Required fields are marked *