Description
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالَم
گذشتہ پون صدی میں اُردُو افسانے نے اَدَب کو جو کُچھ دیا وہ ہر لحاظ سے قابلِ قدر بھی ہے اور قابلِ توجُّہ بھی۔ اُردُو افسانے کی اِس ترقّی کی دیگر وجوہ کے علاوہ ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ابتدائی دور کےبیش تر افسانہ نگار اُردُو کے ساتھ ساتھ انگریزی، فارسی، عربی، ہندی یا ترکی زبانوں کے اَدَب پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے۔ بطورِ خاص انگریزی Short Stories کے مُطالَعہ نے انھیں تکنیک کا شُعُور عطا کِیا۔ اُردُو افسانہ میں شُرُوع ہی سے دو بنیادی رُجحانات ”حقیقت نگاری“ اور ”رومانیت“ کی داغ بیل پڑ گئی۔ اکثر افسانہ نویس کِسی نہ کِسی حد تک رومانی انداز اور جمالیاتی نیرنگیوں پر مبنی اُسلوب استعمال کرتے نظر آتے ہیں جس میں کِرداروں کی جذباتیت اور مناظرِ فطرت کی رنگارنگی دِلوں کو دھڑکاتی ہوئی محسُوس ہوتی ہے۔
حقیقت نگاری بلاشبہ اُردُو اَدَب کی ہمیشہ سے توانا ترین روایت رہی ہے۔ چناں چہ بیشتر مایہ ناز افسانہ نگار اِس روایت سے وابستہ رہے ہیں۔ بالخُصُوص 1936ع میں جب ترقّی پسند اَدَب کی تحریک کا آغاز ہُوا تو اس کے ذریعے نئی تکنیک، بہتر کِردارنگاری، عصری شُعُور، ماحول کی عکّاسی اور پُرتنوُّع اسالیب سے اُردُو افسانے میں گراں قدر اضافے کیے گئے۔
ان ہی تکنیکی خُصُوصیات کی حامل اور بُلند پایہ تخلیقی شُعُور رکھنے والی ڈاکٹر عظمیٰ عزیز خان نے اپنا پہلا افسانوی مجمُوعہ سفید جُھوٹ مرتّب کِیا ہے۔ میرے دوست اظہر غوری نےسفید جُھوٹ کا کاغذی پُلندہ پڑھنے کے لیے تھمایا تو اس کو اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ اُن کی مخصُوص ذائقہ دار چاے کی گرما گرم چُسکیوں کے دوران میں پہلا مختصر افسانہ روشن دائرہ پڑھا۔ چار صفحات پر مشتمل اِس دِل گداز افسانے نے اپنے اختتام پر میری مدھم ہو جانے والی آنکھیں نم آلود کر ڈالیں۔ تجسُّس نے مہمیز لگائی تو اتنی ہی ضخامت کا اگلا افسانہ روشنی میں خوشبُو کا قحط بھی وہیں بیٹھے بیٹھے پڑھ لیا۔ بے ساختہ واہ…. واہ کے علاوہ اور کُچھ نہ سُوجھا۔ چند ثانیوں کے بعد دونوں کہانیوں کے سِحر سے آزاد ہُوا تو ہونٹوں پر یہ شعر رقصاں تھا:
جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالَم
مَیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہُوا تھا
سفید جُھوٹ اپنے ساتھ گھر لے آیا۔ پہلے دو افسانوں کے سُرُور نے دِل کو ایسی راحت عطا کی کہ شب بھر میں تمام افسانے پڑھے بِنا آنکھوں نے نیند کو غالب نہ آنے دیا۔ ہر کہانی کے اختتام پر جی اَش اَش کر اُٹھتا۔ ہر کہانی میں ایک جہانِ معنی آباد پایا۔ ہر بار دِل عالمِ تصوُّر میں ڈاکٹر صاحبہ کو تحسین و عقیدت کے پُھول پیش کرتا۔ ایک حیران کُن اور نرالا تجرِبہ ہو رہا تھا۔
محبّت، روشنی، خوشبُو، بارش، سُر، تال، مسرّت، مندر، دُھند، گھنٹیاں، اُمنگیں، ترنگیں، ولولے اور جذبے جیسے اِستعارے اُن کی تحریروں کو غنائیت و موسیقیت سے آراستہ کر رہے تھے تو دُوسری جانب مُفلسی، بے بسی، بے وفائی، کم مایگی، عدم تحفّظ، ناانصافی، ہِجر و فراق، زن و شُو کے جھمیلے دِلوں کو سوز و گداز اور حسّاسیّت کی آنچ سے سوختہ کیے جاتے تھے۔
ڈاکٹر عظمیٰ عزیز خان نے تمام افسانے نہایت ذہانت، علمی بصیرت، تخلیقی اُپج اور قلمی ہُنروری کو برُوے کار لا کر رقم کیے ہیں۔ اُن کے موضُوعات زِندگی کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہوئی تصاویر ہیں۔ عصری زِندگی سے وابستہ حوادث اور وقوعات کے تجزیے رُوحِ عصر کے تابع نظر آتے ہیں۔ چناں چہ سبھی افسانے معاشرتی آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں جِن میں مُعاشرے کے داخلی تضادات، افراد کی منافقت، کِرداروں کی نفسیات اور باہمی اُلجھنیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ وہ افسانہ نگاری کے سبھی رموز سے کماحقہٗ آگاہ ہیں۔ اُن کا اُسلوب بڑا شگُفتہ اور توانا ہے۔ باوقار و شستہ بیانیے کو مُختصر فقروں سے ایسے مرصّع کرتی ہیں، گویا کوئی زرگر اپنے زیور کو چابکدستی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے نگینوں سے مزیّن کر رہا ہو۔ اَدَبی چاشنی سے معمُور ان کے چند جُملے:
٭ لڑکی بے بسی کے بہت مضبُوط پنجرے کی قیدی تھی۔
٭ اُس کی آنکھوں نے میری آنکھوں میں اُتر کر مُجھے بہُت ٹٹولا۔
٭ اُس کا وُجُود اندر ہی اندر اُس کی چادر میں سمٹ گیا۔
٭ اُس کے اندر کی ساری تھکن اُس کی پلکوں پر آ کر رُک گئی۔
٭ کِسی ویران مندر میں ایک دُوسرے کا لمس محسُوس کرتی گھنٹیاں۔
لاطینی امریکا کی قدیم ”مایا“ تہذیب کے اسطورا میں طلسماتی حقیقت Magical Realism کا بڑا عمل دخل ہے۔ لہٰذا اِس خِطّے کے بے شُمار قلم کاروں نے اپنی تہذیب سے جُڑے رہنے اور عصرِ حاضر میں اس کو متعارف کروانے کے سبب سے ”طِلِسماتی حقیقت نگاری“ کی اِس تکنیک کے جدید اُسلُوب کو اپنایا ہے۔ چناں چہ ڈاکٹر صاحبہ کے بڑی اہمیت کے حامل افسانے پیچھا کرتی آواز، پگلی کہانی، بے حصار، کِھڑکی کے پار، اُداسی، دُھند اور وُہ طِلِسماتی حقیقت نگاری کے تاثّر کو اُجاکر کرتے ہیں۔
دُوسری جانب یہ گُمان بھی گُذرتا ہے کہ موصُوفہ تصوُّف سے بھی خاصا لگاو رکھتی ہیں۔ غالباً فارسی زُبان پر خاصا عبُور رکھنے کی وَجہ سے مُمکن ہے کہ اُنھوں نے ایرانی تصوُّف کا گہرا مُطالَعہ کِیا ہو؟ بہر حال ابابیل، بابا موتی شاہ، اُداسی، دُھند اور وُہ صُوفیانہ رو میں تحریر کردہ اُن کے ایسے
مسحُور کُن افسانے ہیں جنھیں پڑھ کر قاری پر وجدانی کیفیات طاری ہو جاتی ہیں۔
زن و شُو کے باہمی تعلّقات سے مُنسلک اُن کی تحریر کردہ کہانیاں اِس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ ہیومن سائیکی خاص طور پر نسائی جذبات اور مردانہ احساسات کا بھی وسیع تجرِبہ رکھتی ہیں۔ اِن موضُوعات سے وابستہ افسانے جنھیں اُنھوں نے کمال فنّی مہارت اور بہترین ذِہنی صلاحیتوں کے تحت قلم بند کِیا ، اپنے اندر دِل پذیری، فنّی اور تخلیقی محاسن کے سامان سمیٹے ہوئے ہیں۔
من حیث المجمُوع ڈاکٹر عظمیٰ عزیز خان ذی شُعُور و پُختہ کار افسانہ نگارہیں۔ ان کو افسانہ نگاری اور نثر نگاری پر مُکمَّل عبُور حاصل ہے۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ سفید جُھوٹ اپنے اندر دِلچسپی، دلگدازی کے علاوہ اَدَبی و فنّی معیار کے تمام رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ اُمّید ہے کہ شائقینِ اَدَب اِس کے مُطالعے سے خُوب حظ اٹھائیں گے۔
!آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعاگو ہُوں کہ ڈاکٹر صاحبہ کی اِس پُرخُلُوص کاوش کو افتخار و کامرانی عطا فرمائے۔ آمین
نیّر اقبال علوی
لاہور
۔٭۔





Reviews
There are no reviews yet.