Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

کُچھ بکواس

300.00

Description

جارج ماہی: ادبستان کے صدر دروازے پر خوش آمدید

جارج ماہی کے تخلیق کردہ سمارٹ ادب کی کٹھالی میں نشانہ اور نشاندہی کرنے والا یکجا ہو جاتے ہیں، اور یہ عمل وُہی اکائی یا فرد انجام دے سکتا ہے، جو اپنی کائنات کی انفرادیت اور اجتماعیت کو وجدان کی نظر سے دیکھ سکتا ہو اور جدھر بھی نگاہ ڈالے، وہیں تخلیقیت کی گلکاری کر دے، بنجر زمینوں کو شاداب بنا ڈالے۔ جارج ماہی دراصل قلمی نام ہے، فادر جارج جوزف کا، جو گذشتہ دو دہائیوں سے اٹلی کے معروف جزیرے سِسلی میں نہ صِرف کاہنانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، بل کہ یورپی یونیئن کے سکاؤٹس طلبہ کے ہیڈ کے بطور نسلِ نو کی رفاہی تربیت کے فرائض سے بھی عہدہ برآ ہو رہے ہیں۔ جارج ماہی ایک صاحبِ طرز پتلی تماشا کے پیش کار کے علاوہ منفرد موسیقار اور گلوکار بھی ہیں۔

جارج ماہی کا کہنا ہے کہ سر بیڈن پاؤل کی تخلیق سکاؤٹ ہے جو 8 سے 16 سال کے بچّوں کے لیے وُجُود میں لائی گئی۔ اِس میں بچّوں کی جسمانی تربیت، ذہنی شُعُورکی بالیدگی اور اُن کے اندرکائنات کے وُجُود کا احساس پیدا کرنا ہے۔ وُہ کہتے ہیں کہ میرے سکاؤٹ کے مشن میں شامل ہونے کا سبب یہی  وُجُوہ ہیں۔

جارج ماہی کے بقول کڑوی گولی کو بچّے کے مُنہ میں ڈالنے کا پُتلی تماشا سے بہتر طریقہ نہیں کہ وُہ خُوشی خُوشی اسے ٹافی سمجھ کر کھائے۔ سچ کی کڑواہٹ پُتلی کے ہنستے چہرے سے تماشائیوں تک پہنچانا اہم مطمحِ نظرہے۔ اُن کا مؤقّف ہے کہ نرس خُوب صُورت ہو تو ٹیکا لگواتے ہوئے تکلیف نہیں ہوتی۔

جارج ماہی اپنے روحانی سفر سے متعلق کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک مچھلی سمندر سے چلتے چلتے کنویں میں پہنچ گئی۔ وہاں اُس کی مُلاقات مینڈک سے ہوئی اور وُہ مینڈک سے پُوچھتی ہے، کیا تم نے سمندر کو کبھی دیکھا ہے؟  وُہ کتنا بڑا ہوتا ہے؟ تو مینڈک نے اپنے ہاتھ تھوڑے سے کھول کر کہا، ”اِتنا بڑا؟۔“ مچھلی بولی، نہیں اِس سے بڑا۔“ پِھر مینڈک نے ہاتھ پھیلائے، اور تیسری بار پُوری طاقت سے اپنے ہاتھ پھیلا کر بولا، ”اِتنا بڑا؟۔“ مچھلی بولی، ”اِس سے بھی بڑا۔“ اِس دفعہ مینڈک  کنویں کی ایک دیوار سے  دُوسری دیوار کی طرف دیکھ کر بولا،”یہاں سے لے کر وہاں تک۔“ مچھلی نے جواب میں کہا، ”نہیں! اِس سے بھی بڑا۔“ تو مینڈک نے کہا، ”تم جُھوٹ بول رہی ہو۔ اِس سے بڑا تو ہو ہی نہیں سکتا!“اب مچھلی اور مینڈک میں سچّا کون ہے؟ اگر مینڈک تھوڑی دیر کے لیے مچھلی کی اِس بات کو سچ مان لیتا تو اُس میں سمندر کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہو سکتی تھی اور یُوں وُہ ایک بہت بڑی حقیقت سے متعارف ہو سکتا تھا۔ جارج ماہی کے بقول اُن کا سفر کُچھ ایسا ہی تھا۔ شُرُوع میں اُنھوں نے مینڈک کی طرح مچھلی کو جُھوٹا سمجھا لیکن پِھر سوچا، ہو سکتا ہے کہ یہ سچ کہتی ہو! اوریُوں سمندر کو جاننے کی خواہش نے اُنھیں اِس راہ پر چلنے کی تحریک دی۔ لہٰذا وُہ کہتے ہیں کہ اب مَیں مسافر ہُوں۔

جارج ماہی نے اپنی مابعدالطبیعیاتی و ثقافتی شاعری اور سمارٹ ادب یا مُختصر انشائیوں کی وساطت سے مزاح دُوسروں سےکِیا ہے، جب کہ طنز اور پھبتی اپنے آپ پر کَسی ہے۔ وُہ ملامتی صُوفی کے مانند خُوداحتسابی کا وتیرہ اختیار کیے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں۔ امرِ واقعہ ہے کہ جارج ماہی نے خود کو صُوفیانہ زندگی کے لیے وقف کر رکّھا ہے۔

جارج ماہی کا نظامِ خیالات و محسُوساتبھی دیگر دِین داروں کے مانند مخلوق و خالق کے تعلق کی ماہیت پر غور و خوض سے برآمد کردہ نتائج یعنی احسان سے مملو ہے، جو مذہب کی رُوح، اخلاق کی جان اور ایمان کا کمال ہے۔ یہ بشری اوصاف جارج ماہی کی تخلیقات میں مثبت، تعمیری اور ترقّی پسندانہ کِردار کے موجب ہیں۔

وہ رقم طراز ہیں: ”بکواس اور حِکمت میں زیادہ فرق نہیں۔ فرق ہمارے سوچنے کے انداز میں ہے۔ کبھی ہم بکواس کو حِکمت اور کبھی حِکمت کو بکواس بنا دیتے ہیں۔“

جارج ماہی کے افکار کا مرکزی نقطۂ نظر”ہنسی“ ہے، جِس میں وُہ راج ہنس کو تصوُّف کی علامت قرار دیتے ہوئے رقم طراز ہیں، ” مَیں تو کہتا ہُوں، نقلی اور کِھسیانی ہنسی چھوڑ کر راج ہنس والی ہنسی سیکھ لو۔ حِکمت کے موتی چُگ لو اور جو باقی رہ جائے اُسے چھوڑ دو گے تو تمھاری  ہنسی موتیوں سے بھری ہی ہو گی۔ ایک بات یاد رکھنا کہ ہنسنے سے پہلے دانت ضُرُور صاف کر لینا کیوں کہ موتی پیلے نہیں ہوتے۔“

جارج ماہی کی شاعری ہو یا نثر وُہ ملامتی صُوفی کی تمثیل و تجسیم ہیں۔ کتاب کا عنوان ”کُچھ بکواس“ نفیِ خودی کی صُورتِ حالات کا آئینہ دار ہے، یعنی مصنّف کا نقطۂ نظر عقلِ انسانی کی نارسائی اور وِجدان کی حقیقت آشنائی پر محمول ہے۔ بلا شبہ دُنیا، سُوال اور تمنّا کو ترک کرنے سے ہی فقر و استغنا کی عظمت حاصل ہو سکتی ہے۔

جارج ماہی کے کُچھ اقوال ملاحظہ کیجیے: ”انسانیت کے پیار میں بے شرم شرم دار بنتا ہے، جہاں فقیروں کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی شرم نہیں۔“

” بد کو کُچلنے کے بجاے اُس اندھیرے کے سامنے روشنی کرتے جاؤ، وُہ خُود بخُود ختم ہو جائے گا۔“

” جب تک روایتی مذہبی، سیاسی اور ثقافتی ڈھکن نہیں اُٹھاؤ گے دماغ میں کُچھ اندر جانے والا نہیں۔“

جو لوگ بابے برکت یا جارج ماہی کی طرح ریت کے ذرّوں کو ایک ساتھ رکھتے ہیں، وُہ حکمت کے موتیوں کے برابر ہوتے ہوتے مروارید کی آب دار چٹان بن جاتے ہیں، جب کہ مجھ ایسوں کو معاشرت اور انسانیت پر بوجھ بنی ہوئی زندگی ہر روز ریت کے جو ذرّے عطا کرتی ہے، وُہ اُنھیں ہوا میں اُڑا دیتے ہیں۔

جارج ماہی کا کلام گو عوام سے متعلق ہے، لیکن کلامُ الملُوک مُلُوک الکلام کے مثل ہے کہ یہ کلام کِسی بھی کِردار سے نفرت اور برہمی کے احساس سے نہ صِرف محروم ہے، بل کہ محبّت اور ہمدردی کے جذبات سے معمور ہے۔ اُن کا مقصد  صاحبانِ ذوقِ مُطالعہ کے لیےمسرّت آفرینی اور شوق دادِ الہٰی ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ وُہ فرد اور مُعاشرے کی ناہمواریوں اور مضحک رویّوں سے قاری کو دِلچسپ انداز میں روشناس کرواتے ہیں، جو اُنھوں نے زندگی اور  اپنے ماحول سے لگن کے باعث تحمّل، برداشت اور شگُفتہ طبعی سے دریافت کیے ہیں۔

وُہ کہتے ہیں کہ”محبّت سے درد کو جُدا نہیں کِیا جا سکتا، جیسے سُورج کے ساتھ روشنی اور گرمی ہوتی ہے۔“ اور ”جب ہم محبّت کو پُوری انسانیت کے لیے وقف کرتے ہیں تو کُچھ بڑا تخلیق کرتی ہے اور جُونہی محض ایک شخص کے لیے یا چیز کے لیے وقف کر دیتے ہیں تو وُہ درد دیتی ہے۔“

جارج ماہی کے کئی نثرپارے اپنے قاری کو ایک المیہ انجام دینے کے لیے تیار کرتے ہیں، لیکن وُہ اچانک اسے طربیہ اختتام پر مُنتج کر دیتے ہیں۔ ایسا اُسلوب اپنے اندر مخصُوص کشش رکھتا ہے۔

مولانا روم کی مثنویوں، سعدی شیرازی کی حکایات، خلیل جبران کے افسانچوں کی روایت اور صُوفیہ کے اقوالِ زرّیں کوتوسیع دیتے دیتے جارج ماہی نے ”گوبر اور گندم“ کے عنوان سے شاہکار تخلیق کِیا ہے، جو نہ صِرف ہمارے کُرۂ ارض کی ماحولیات کے تحفّظ کی آگاہی مہیا کرتا ہے، بل کہ ابنِ آدم کے خوابیدہ ضمیر کو جھنجوڑنے کے اسباب بھی رکھتا ہے۔

جارج ماہی کا طرزِ احساس اپنے عصری فِکر، سماجی روابط اور اخلاقی عقائد میں سرایت کرنے کی اہلیت سے لیس ہے، معاصر باشُعُور افراد میں اس کے اثرات کا سُراغ مِلتا ہے۔ تخلیقی تناظُر میں واقعتاً اجتماعی زندگی کو متاثّر کرنے والا کوئی بھی رُجحان زمینی حقائق کو سمجھنے کے لیے ناگزیر چیلنج ہے۔ اِس ضمن میں حفیظ صدیقی کا کہنا ہے کہ مُختلف قسم کی طبائع رکھنے والے فن کار اپنی تمام تر انفرادیت کے باوُجُود ایک دور کے آدمی معلوم ہوتے ہیں تو اِس کی وَجہ یہ ہے کہ اُن کے کلام میں انفرادی اختلافات کے باوُجُود رُوحِ عصر کا بھی دخل ہوتا ہے۔

جارج ماہی کی تحریروں کو نثرپارے یا مُختصر انشائیے بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کشاف کے تناظر میں جارج ماہی نے مذہبی سوچ اور مفروضوں کی ژولیدگیوں اور اُلجھنوں کی گِرہ کُشائی کی ہے۔ معاصر عہد میں سائینس اور تکنیکی ارتقا اپنے ارتفاع کی جانب گامزن ہے، ہر ذریعۂ ابلاغ سمارٹ نیس میں مُنقلب ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اِس اعتبار سے جارج ماہی کے نثرپاروں یا مختصر انشائیوں یا حکایات کو بھی سمارٹ ادب کا مثالیہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

جارج ماہی کی پنجابی، اردوشاعری اور نثر کی اولین خصوصیت یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنے ماحول کی تصویرکشی کے دوران بالاختصار باریک ترین جزئیات اور تفاصیل بھی ظاہر کی ہیں۔ بدلے ہوئے تخلیقی اور فلسفیانہ پس منظر میں جارج ماہی معاشرتی اعتبار سے نئی سمتوں کا سُراغ مہیّا کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ یُوں اردو ادب اپنے قارئین کے لیے مزید بامعنی اور فکرانگیز بنتا چلا جا رہا ہے۔ اُنھوں نے اپنے نثرپاروں کے ذریعے انسانی عمل کے روشن پہلو طشت از بام کیے ہیں، جہاں قریب و دُور سے انسانی وُجُود اور کِردار کے مراحل کو واضح طور پر بھانپا اور جانچا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ تخلیقی عمل جارج ماہی کے بطن میں پیوست ہو کر معاشرتی اقدار میں قلبِ ماہیت کر رہا ہے۔ من حیث المجمُوع اُن کا فن کارانہ اظہار بین المعاشرتی زندگی کے الجھیڑوں سے ہمدردانہ آگاہی پر مشتمل ہے۔

”فائدہ تو وُہ ہتھوڑا ہے جو ہر ایک کے سر پر سوار رہتا ہے، بل کہ اکثر تو ہم اِس کوشِش میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں اس کی ہتھی ہو اور لوہے والا حِصّہ کِسی اور کے سر پر۔“

”ہم ہر چیز کو فائدہ کے تھرمامیٹر سے ناپتے ہیں۔“

جارج ماہی نے اپنے پسندیدہ عُنوانات قائم کر کے فلسفیانہ مُوشگافیاں کی ہیں، وُہ کِسی بھی معاملے کا ہر پہلو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی حِکمت مُحکم بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر:”خاموشی وُہ روشنی ہے جو تمھارے سچے موتی کو تم پر ظاہر کرتی ہے، اور صِرف ہمّت والے ہی اس نظّارے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ سکتے ہیں، جہاں تمھاری خُوب صُورتی اور بد صُورتی چھپی نہیں رہ سکتی۔“

”جو اپنے ابھی کو بھرپور جیتا ہے اُسے کبھی کی پروا نہیں ہوتی۔“

” وُہ سب ’تم‘ تو مَیں ہی ہُوں اور وُہ سب مَیں ’تم‘ ہی تو ہو۔“

جارج ماہی کا تخلیقی سفر”ٹرین کے طے شدہ مرحلہ وار کاروانی سفر کے مانند ہے، جو اُنھیں زندگی کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ وُہ جانتے ہیں کہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا شخص لغت میں کُچھ الفاظ کے معنی ڈُھونڈ رہا ہے۔ یقیناً زِندگی کے معانی وہاں نہیں ہو سکتے کہ وُہ اکثرکِتابوں میں نہیں مِلتے۔“

جارج ماہی کِسی بھی شے یا لفظ کی بجریلی مٹّی کے تودوں کی ہر معنوی پرت کو سُوبا سُو اور تہہ در تہہ کھنگالتے ہوئے اپنی مراد کی طلائی مالا میں جواہرپارے پروتے چلے جاتے ہیں بالآخر وُہ اختصار کے بل اِس منطق پر پہنچتے ہیں کہ ڈوری تو مالک نے سب کو دی ہے، اب ہم اپنا گلا کِس ہار کے لیے تیار کرتے ہیں! یہ ہم پر مُنحصر ہے۔ بہ ہرحال جارج ماہی نے کئی ایک اہم الفاظ، اشیا، عادات، رویّوں یا اصلاحات کی اپنی سی شرح یا لغت مرتّب  کرنے کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔

”پِھر تو سچ میں یہ ایک مرض ہی ہے، کُچھ لوگ اسے یُوں دیکھتے ہیں کہ جو چیز میری طاقت سے باہر ہے اور جس کے بارے میں کُچھ نہیں کر سکتا، اُسے خُدا کی مرضی ٹھہرا دیا جاتا ہے۔“

”جب انسان کوئی اُلٹا کام کر لیتا ہے تو وُہ شیطان بن جاتا ہے اور جب اُس سے کوئی اچھّا کام ہو جاتا ہے تو شیطان انسان بن جاتا ہے۔ شاید اِسی لیے اکثر ہم کہتے ہیں، انسان بن انسان!‘‘

بطور کاہن اُن کا یہ جُملہ جنّت کے متلاشیوں کے لیے کافی ہے: ”آپ کو راز کی بات بتاؤں! ایمان کے لیے دُکّان پر مت جائیں۔ بس ایک کان سے ہی سُنو اور ڈٹ کر محنت کرو تو کوئی مائی کا لعل آپ کو روک نہیں سکتا۔“

جارج ماہی کو جا بجا کِسی ایک شے سے کوئی دُوسری شے بھی یاد آتی رہتی ہے، جس میں نسٹلجیا بھی شامل ہے اور معصُومانہ خواہشات بھی۔

یہ سمارٹ ادب نہ صِرف ہمارے عہد کی سماجی اور ثقافتی حکایات ترتیب دے رہا ہے، بل کہ ہمارے تمدن کی شکایت کرتے ہوئے راہروؤں کو منزل کی شناخت بھی مہیّا کرتا ہے۔ مَیں نووارد جارج ماہی کو ادبستان کے صدر دروازے پر خُوش آمدید اور مبارک کہتا ہُوں، نیز اُنھیں اپنے شایانِ شان مسند پر متمکن دیکھتا ہُوں۔ یقینِ واثق ہے کہ وُہ آیندہ بھی یُونہی تخلیقی عمل میں منہمک رہ کرقارئینِ ادب کو مزید مسرّت اور آسُودگی بانٹتے رہیں گے۔

اظہر غوری

سیکرٹری

رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “کُچھ بکواس”

Your email address will not be published. Required fields are marked *