Description
دیباچہ
عصرِحاضر کے ایک شاعر خاقان بابر نے کہا تھا:
پُوچھتا کون ہے سیپی میں چھپے موتی کو
جو ترے دِل میں تھا ہونٹوں پہ تو لایا ہوتا
خاقان بابر نے سچ کہا ہے مگر اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ دِل کی بات ہونٹوں پر لانا آسان نہیں بل کہ بَہُت ہی مُشکل ہے اور یہ مُشکل مزید بڑھ جاتی ہے اگر بات کہنے کے طریقے اور سلیقے سے شناسائی نہ ہو اور بعض اوقات دِل کی بات لبوں پر آکر رُسوائی اور جگ ہنسائی کا سبب بھی بن جاتی ہے تاہم اگر بات کَھری اور سچّی ہو اور اظہار کا انداز مؤثّر ہو تو وُہ ہر سُو پذیرائی کی منازل بھی آسانی کے ساتھ طے کر لیتی ہے۔
خواجہ آفتاب حسن کو بولتے ہوئے تو مَیں نے برس ہا برس سُنا ہے یعنی 4 مئی 1992ع سے لے کر ”ابتک“….. جب میری اُن سے پہلی ملاقات ہُوئی اور جب وُہ میرے ہمسفر بنے ….. بولنے میں تو وُہ بَہُت Blunt ہیں ….. جو کُچھ کہنا چاہتے ہیں کہہ لیتے ہیں چاہے کِسی کو اچھّا لگے یا بُرا ….. مگر یہ جان کر مُجھے بَہُت حیرت ہُوئی کہ اپنے دِل کی عمیق گہرائیوں میں ایسی بَہُت سی باتیں بھی انھوں نے جمع کر رکّھی ہیں جو اُن کے لبوں سے مَیں نے کبھی نہیں سُنیں۔ اب جب اُن کی تحریریں میری نظر سے گذری ہیں تو خواجہ آفتاب حسن کی شخصیت کے کئی پہلوؤں تک میری رسائی ہُوئی ہے۔ بظاہر شرمیلا اور غصیلا خواجہ آفتاب اندر سے کتنا حسّاس، مردم شناس، اپنوں اور غیروں کے دُکھوں کو اپنا دُکھ سمجھنے والا اور دردِ دِل رکھنے والا انسان ہے۔ اُن کی تحریریں انتہائی جاندار اور دِلچسپ ہیں اور پڑھنے والے کو پُوری طرح اپنی جانب راغب رکھتی ہیں۔
خواجہ آفتاب حسن کی کتاب ”فنکاریاں“ مُختلف کہانیوں پر مُشتمل ہے جو سچّی معلوم ہوتی ہیں مگرخواجہ آفتاب حسن نے انھیں افسانوی انداز میں تحریر کِیا ہے اور اِس کے لیے اُنھوں نے مُختلف کِرداروں کا سہارا لیا ہے۔
انیسویں صدی کے ایک معروف ناول نگار Flaubert کے ایک ناول “Madame Bovary” نے دُنیا بھر میں بے پناہ شُہرت حاصل کی۔ دُنیا کی ہر زُبان میں اِس ناول کا ترجمہ ہُوا اور دُنیا کے قریباً ہر ملک میں اِس ناول پر مبنی فلم بنائی گئی۔ اِس ناول کا مرکزی کِردار میڈم باوری ہے جِس کی داستانِ حیات دِلوں کو چُھو لینے اور ذہنوں کو زبردست متاثّر کرنے والی ہے۔ یہ ناول Flaubert کا پہلا ناول تھا جِس کی اشاعت نے اُس کی شُہرت کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ Flaubert کے چاہنے والوں میں سے ہر ایک کی خواہش تھی کہ اُسے پتا چلے کہ آخر ”میڈم باوری“ کون ہے جِس کی کہانی کو Flaubert نے بنیاد بنا کر اِتنا زبردست ناول تحریر کِیا ہے۔ بالآخر ایک روز اپنے پرستاروں کی ایک بزم نے اُنھیں یہ راز افشا کرنے پر مجبُور کر دیا۔ Flaubert نے بڑی معصُومیت سے یہ انکشاف کِیا۔
”میڈم باوری تو دراصل مَیں خُود ہُوں۔“
خواجہ آفتاب حسن کی کہانیاں بھی مُختلف کِرداروں کی زِندگی کا احاطہ کرتی ہیں مگر مُجھے یقین ہے کہ اپنی کہانیوں کا مرکزی کِردار خواجہ آفتاب حسن خُود ہی ہیں۔
ربّ ذُوالجلال اُن کے سوچوں اور جذبوں کو زِندہ و تابندہ رکھے۔ آمین!
سیّد سجّاد بخاری
چیف ایڈیٹر
روزنامہ ”ابتک“ لاہور/ اسلام آباد
۔٭۔





Reviews
There are no reviews yet.