Description
دیباچہ
آج جب کہ کتاب کا دُوسرا ایڈیشن چھَپ رہا ہے، مَیں اپنی کتاب کے اِس نام پر غور کر رہی ہُوں۔ کیا یہ دُوسرا قدم ہے؟ کیا آدم اور زمین میں کبھی ملنے بچھڑنے کی تاریخ بن چُکی؟ حوّا قید میں تھی، مگر وہ کس کی قید میں تھی؟ کیا اِنسان کی کُل تاریخ قید و بند کی کہانی ہے؟ یا اِس قید خانے کے دُوسری طرف دروازہ بھی ہے؟ وہ دروازہ کس نے بنایا؟ کتنی صدیاں لگیں، کتنے یُگ بیتے جب غُلاموں نے پہلی بار اپنے ناخن سے پہاڑ کاٹنے کا کام شُرُوع کِیا تھا اور پھر جب غار کے مُنہ سے پتّھر ہٹا تو اُس روشنی کو دیکھنے کے لیے آدم اکیلا کیوں تھا؟
یہ کتاب اُس دَور میں لکھی گئی جب دُوسری بار غار کے مُنہ پر چٹان اُگ آئی تھی۔ کیا زمانہ تھا، وہ، روشنی بھی اور اندھیرا بھی۔ مُلک پہ مارشل لا کا گھور اندھیرا، مگر دِلوں میں جدّوجہد کی روشنی۔ سماج میں کٹھ مُلّائیت اور جہالت کی بساند، مگر قلم میں نئے لفظ لکھنے کی جُرأت، وہ ایک نئی دُنیا تھی، اور پُرانی دُنیا بھی۔ عجب دُنیا تھی، خوف اور خوشی ایک ساتھ، قید اور آزادی ایک ساتھ۔ دستورِ زُباں بندی، لفظوں پہ پابندی۔ قرآن کی آیات کے سنسر ہونے کا واقعہ اُنھِیں دِنوں ہُوا تھا۔ مگر نئے پیغام بھی اُنھِیں دِنوں نازل ہُوئے۔ مارشل لا کے سپاہی بندوقوں کے نِرغے میں لے کر جمہوریت کے ورکر کو جیل کی دِیواروں میں اکیلا کر دیتے، مگر اکیلے قیدی کے اندر سے خیال اور آواز کی رونقیں باہر آ کر اپنی ایک محفل برپا کر دیتیں۔ قیدخانوں سے کتابوں کا ورُود ہُوا۔ ایسا زمانہ کبھی کبھی آتا ہے…. وہ زمانہ ایسا ہی تھا۔ کتابوں پر پابندی لگی، تو کتابوں کی پیدایش بڑھ گئی۔ کہانی، شاعری طاقت ور اور تن درُست ہوتی چلی گئی۔ ظُلم کا دستُور رُسوا ہو تو اُس دَور کی کہانیوں اور نظموں سے مزاحمتی ادب تیسری دُنیا کے ادیبوں اور شاعروں نے لکھا تو ایک نئی طاقت کا اظہار ہُوا۔ لفظ کی طاقت کا توڑ سامراج کے لشکر ابھی تک نکال نہیں سکے۔
یہ کتاب اُس دَور میں لکھی گئی، جب میرا ایک پاؤں جیل کے اندر تھا اور دُوسرا جیل سے باہر۔ میری قید کا سال ختم ہُوا، مگر آزادی کا سال شُرُوع نہیں ہُوا۔ مَیں نے باہر کے لوگوں کو کہتے سُنا: کُچھ فرق نہیں، باہر اور اندر کا، بس قید خانے کی وُسعت ہے اور قیدیوں کی تعداد ہے۔ اندر کم، باہر زیادہ۔ گیٹ کے اندر چھوٹی جیل، گیٹ کے باہر بڑی جیل ہے۔ اِن دونوں کے درمیان ایک دہلیز، ”درد کی دہلیز“ یہ بھی میری ایک کتاب کا نام ہے۔ اُس وقت مَیں دہلیز پہ کھڑی تھی۔ دہلیز جو مشترکہ اور متنازع تھی۔ قید خانے کی دہلیز اور آزاد زمین کی دہلیز…. مگر باہر کے لوگوں نے مُجھے بتایا: رہائی میں خُوشی کی بات نہیں کہ باہر بھی قید خانہ ہے ”وڈّا قید خانہ اور نِکّی جیل“۔
اِن کہانیوں کے کُچھ کردار چھوٹی جیل میں ہیں، کُچھ بڑی جیل میں۔ جدّوجُہد اور مُقابلہ۔ حالات کو بدلنے اور برداشت کرنے کی جدّوجہد۔ مگر ایک کہانی ایسی بھی ہے جس کے کردار مُقابلہ ہار چکے۔ اُن کا وقت، وقت کے دائرے سے باہر نکل گیا۔ پچیسواں گھنٹہ، وقت کے دائرے کے باہر کی ساعت ہے۔ جاگنے، سونے کے درمیان کی کیفیت، شُعُور اور بے شُعُور کے درمیان کا کوئی لمحہ۔ سب ہیں مگر کوئی نہیں۔ دِکھائی دیتا ہے مگر کُچھ نہیں۔ کردار دو ہیں مگر ایک بھی نہیں۔ کیوں کہ دونوں ایک دُوسرے کی نفی کرچُکے۔ مَیں خُود اِن کہانیوں کو لکھنے والی آج بھی کہانیاں لکھنے والی ہی ہُوں، ابھی خُود کہانی نہیں بنی۔ مگر وہ جگہ اور ماحول جس میں یہ کہانیاں لکھی گئیں، بہ ذاتِ خُود ایک کہانی بن کر میرے ساتھ آ گیا ہے۔ اب وہ جگہ نہیں، وہ وقت بھی نہیں، وہ درخت بھی نہیں جس کے نیچے بیٹھ کر یہ سب کہانیاں لکھی گئیں۔
کتاب کا پہلا ایڈیشن چھَپا تو خوف خطرے کی فضا تھی، کتاب کے ضبط ہونے کا ڈر تھا۔ چُپ چاپ اور اندر ہی اندر کتاب لوگوں تک پَہُنچی۔ تبصرہ کرنے والوں نے اسے مزاحمتی ادب میں ایک اِضافہ قرار دیا۔ مگر جب یہ کتب دہلی پَہُنچی تو بَہُت کُچھ لکھا گیا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی شاعرہ اور کہانی کار امرتا پریتم نے کہا یہ کہانیاں ہر دَور کو اپنی کہانیاں لگیں گی؟ مگر جو بات اُنھوں نے پہلی کہانی ”مَیں دُوسرے آدم کی اولاد“ کے بارے میں اُنھوں نے دو چار باتیں کیں۔ اچانک اور ایک دم جو بات کہی، وہ یُوں تھی: ”اتنی بڑی کہانی اور اِس قدر مختصر!“ دُوسری بات جو بَہُت سوچ سمجھ کر کہی، یہ تھی: ”ایک طبقاتی سماج میں بڑے چھوٹے، غریب امیر، جابر مجبور، مالک نوکر اور قابض محروم طبقات کے موضُوع پر لکھی گئی بے شُمار کہانیوں میں سب سے مُؤثّر اور مختصر کہانی“۔
کتاب کی کئی کہانیاں الگ الگ پرچوں میں چھپیں، کئی زُبانوں میں ترجمہ ہُوئیں، کتاب کو اُردُو میں چھاپا گیا اور ہندوی میں بھی ترجمہ کِیا گیا۔ دہلی کے علاوہ اور کئی جگہ سے نکلنے والے پرچوں میں اس کی کئی کہانیاں انگریزی میں سے ترجمہ کِیا گیا۔ دہلی کے علاوہ اور کئی جگہ سے نکلنے والے پرچوں میں اِس کی کئی کہانیاں انگریزی میں ترجمہ ہو کر چھَپیں۔ پنجابی میں ترجمہ مَیں نے خُود کِیا، پچیسواں گھنٹا کے نام سے کتاب چھِپی۔ بَہُت زیادہ توجُّہ حاصل کرنے والی کہانی نویدہ رہی۔ عورتوں نے جو انتخاب کیے، اُن میں رجّی اور ست خصمی کو زیادہ اہمیت تھی۔ اِن کہانیوں کو الگ الگ کر کے بھی ایوارڈ ملے اور کتاب کو بھی۔
الگ الگ کہانیوں کے ترجمے کئی زُبانوں میں ہُوئے، مگر ’نویدہ‘ کی تو ڈرامائی تشکیل بھی بَہُت اعلیٰ پیمانے پر کی گئی۔ اِس سِلسِلے میں یونی ورسٹی کی ڈراما فیکلٹی سے پروفیسر نریندرہ اور پروفیسر للت بھیل نے باقاعدہ اِجازت مانگتے ہُوئے مُصنّفہ کو ایک کریئیٹو جینیئس قرار دیا۔ آج ہی دِلّی آنے والی ایک خاتون پروفیسر نے بتایا کہ اُنھوں نے کم از کم 29 ہفتہ وار و ماہوار جریدے رسائل دیکھے جن میں کوئی نہ کوئی کہانی اِس کتاب سے لی گئی تھی….
زمین پہ لَوٹ آنے کا بھی ایک دِن تھا، پہلی عورت کے لیے اور خُود میرے لیے بھی۔ مَیں دُنیا کی آخری عورت نہیں ہُوں اور صِرف عورتوں کے لیے نہیں لکھتی۔ تاہم یہ پہلا مجمُوعہ تھا اور ایسے دَور میں لکھا گیا، جب پوسٹ مارٹم رپورٹ جیسی کہانیاں بن رہی تھیں اور ہماری زِندگی کا دِن پچیسویں گھنٹے پہ چل رہا تھا۔ پھر وہ دِن بھی آیا جب اُلٹا لٹکا ہُوا کلینڈر سِیدھا ہُوا اور ہم سب زِندانیوں نے سر اُٹھا کر آسمان کو دیکھا، وہاں بادل تھے۔ ایک کہاوت ہے، 12 سال بعد رب رُوڑی کی بھی سُن لیتا ہے۔ مَیں تو اُس روز ناچی بھی تھی۔ وہ سامراج کے سپاہی کی موت کا دِن تھا، اور میری قید کے ختم ہونے کا روشن اِمکان۔ ایک پروگریسو رائیٹر کے لیے اُس کے قلم کی قید سے بڑی قید اور کیا ہو گی؟ اِسی لیے آخری دِن کی کہانی، مستقبل کی نسلوں کے نمایندوں تک پھیل گئی۔ اُمِّید کی طرح، روشنی کی اُس لکیر کی طرح جو گُھپ اندھیرے سے نکلی تھی۔
میرے رِیڈرز نے کہا یہ کہانیاں رُلاتی ہیں
مگر آنسو بَہہ جانے کے بعد ایک ریلیف بھی ہوتا ہے
یہ کہانیاں لکھ کر مُجھے ایک تسلّی ہُوئی تھی
بُرے وقت کو لکھنا آسان تھوڑے ہوتا ہے
مگر یہ بھی ہوتا ہے کہ بُرے وقت میں اچھا لکھا جاتا ہے، اور لکھنا ضُرُوری ہوتا ہے۔
افضل توصیف





Reviews
There are no reviews yet.