Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

جیب کُترے

800.00

Description

نیّراقبال علوی : تہذیبی و تمدّنی اَدَب کا نُمایندہ افسانہ ِنگار

ممتاز ادیب نیّراقبال علوی کے افسانوں کا آٹھواں مجموعہ ”جیب کُترے“ اِس امر کا بیّن غمّاز ہے کہ وُہ تخلیقِ ادب کو اپنا فریضۂ حیات بنائے ہُوئے ہیں۔ وُہ لاہور میں پیدا ہُوئے، عُنفوانِ شباب میں فرینکفرٹ (جرمنی) عازمِ سفر ہوئے اور وہیں ’اپنا پاکستان‘ معرضِ وُجُود میں لے آئے۔ تاہم اُنھوں نے ریٹائرمینٹ کے بعد اپنی رفیقۂ حیات ماریسا کے ساتھ مراجعت کی اور آلُودہ و شورش زدہ لاہور میں جنّت نظیر فرینکفرٹ بسا لیا۔
نیّراقبال علوی کی اخلاقی اقدار میں اپنے رِشتوں، دوستوں اور معاشرے کے ساتھ کھڑے رہنا اہمیت کا حامل رویّہ ہے۔ گو اُنھیں اپنے گِرد و نواح میں ہر نوع کی ماحولیاتی آلُودگی قطعی ناپسند ہے، مگر وُہ راہِ فرار اِختیار کرنے کے بجاے اپنے قیام اور مقام کے عِلاوہ مضافات، ساکنوں اور ماحولیات کو سازگار بنانے کی مساعی کر رہے ہیں، وُہ کِسی بھی ُصورتِ حالات میں اپنی شناخت اور متعلقات سے صَرفِ نظر نہیں کرتے، بے شک وُہ وقتی ناکامی کی سرحد سے جا لگیں، وُہ اپنے نظرِیے، مُؤقف اور بیانیے سے دست بردار نہیں ہوتے۔ وُہ اپنا بہترین وقت اپنی رفیقۂ حیات کی صُحبت میں پڑھتے اور لکھتے ہُوئے بسر کرتے ہیں۔ اِسی تخلیقی ریاضت کا ثمر ہے کہ اُن کے قارئین بھی اُن کی تصانیف کے مُنتظر رہتے ہیں، اور اُن کی کُتُب مطالعے کے باوُجُود سینت کر رکھتے ہیں۔
نیّراقبال علوی اپنے قاری کو نام نہاد جمہُوریت کا لبادہ اوڑھے ہوئے آمرانہ نظام کو بے نقاب کرنے اور اخلاقی و فکری بُحرانوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ اُنھیں اِدراک ہے کہ اگر نسلِ نو کو حقیقت پسند، خُوددار اور مِحنتی بنانے کا ہرمُمکن جتن نہ کِیا تو ماضی و حال کے مانند آیندہ بھی غُلام ساز نظام نسلِ فردا کو شکار بنا کر مضبُوط تر ہوتا رہے گا۔ اِسی بِنا پر وُہ ِفکر، اِظہار اور فرد کی حقیقی آزادی کو معرضِ وُجُود میں لانے کے لیے انسانی حُقُوق کے عَلَم بردار دانش ور کے مانند قارئین کو بے تعبیر خوابوں کی مصنوعی لذّت آفرینی کی بُھول بھلیّوں میں بھٹکا رہنے دینے کے بجاے اپنی مدد آپ اور دُوسروں کی مدد بھی کرنے کے تلخ حقائق سے روشناس کروا رہے ہیں۔
”جیب کُترے“ میں شامل افسانوں کے موضُوعات ایسی سینسرشپ اور زبان بند معاشرت کے عکّاس ہیں، جہاں پر راسخ غیراِنسانی، غیرمُنصفانہ اور بدعُنوان نظام ہر شُعبۂ حیات سے وابستہ افراد کو طوائف اور دلّال کے پیشے سے مُنسلک کر دیتا ہے، جو ہچکچائے اُس کی چاردیواری میں پردہ دار زِندگی کو مصنُوعی صدائی اور بصری ٹوٹوں پر مُشتمل فحش منظرنگاری، بے پر کی خبریں اُڑاتی سرکاری، نجّی اور سوشل میڈیا کی بدنام و رُسوا کُن ہراسانی سے سہما، ڈرا، بھگا دِیا جاتا ہے یا بیک وقت سبھی صُوبوں کے متعدّد دُوراُفتادہ اور ماوراے قانون و عدالت تھانوں میں نامعلُوم مُدعیوں کی جانب سے مُقدّمات قائم کروا اور اغوا کر کے لاپتا شہریوں یا غدّاروں اور دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کروا دِیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ سفر و ہِجرت کی ہر راہ بھی مسدُود کی جا چُکی ہے۔ ایسی دِگرگوں صُورتِ حالات میں نیّراقبال علوی عالمی اور مقامی سماجوں میں نوعِ اِنسانی کی وحدت اور یک جہتی کی خاطر اپنی تخلیقات کے جُغرافیائی، تاریخی، تہذیبی اور تمدّنی سیاق و سباق سے بامعنی اور فِکرانگیز جہت کی جانب اپنے قاری کی راہنمائی کرتے ہیں۔
دراصل نیّراقبال علوی کے افسانوں کی وَجہِ تخلیق دُوسروں کے درد کا اِحساس ہے، اِسی لیے ان کا مُطالَعہ اِحساس پر گہرے نُقُوش ثبت کرتا ہے۔ نیز اِن افسانوں کی کہکشاں میں معنویت کی کئی دُنیائیں سموئی ہوئی ہیں، ِکردار، واقعات اور زمان و مکاں کی وُسعتوں میں ہر سمت زِندگی کی نُوری مسافتیں جاری و ساری ہیں۔ نیّراقبال علوی نے مختلف النّوع کِرداروں کے ذریعے کُوڑ مغزوں کو بارِیک ِنکات سُجھائے ہیں، یہاں تک کہ اُنھوں نے اپنی باتوں کو ایجاز کی حد میں پابند کر دِیا ہے۔ اِختصار اور تاثیر کی شِدّت نیّراقبال علوی کے افسانوں کا فنّی وصف ہے۔ سہلِ مُمتنع سے مملُو کلاسیکی پیرایے میں لفظی تراکیب، اشعار کے برمحل حوالے اُن کے اُسلُوبِ نثر کا اِختصاص ہے۔ آمریت، عدم دستوریت، بدنظمی، لاقانُونیت، جبری قبضہ، نااِنصافی، خیانت، بدعہدی، جعل سازی، اغوا براے پریس کانفرنس اور تاوان، حتیٰ کہ ماوراے عدالت قتل ہمارے اَدَب کی اہم علامات ہیں جو نیّراقبال علوی کے نزدِیک حقارت سے مُعَنْوَن ہیں۔ تاہم ان کی لِسانی تشکیلات کِسی بھی سطح پر گنجلک، پیچیدہ اور لایعنیت کا شکار نہیں۔ ان کے اِختراع کردہ اِستعارات کا ابلاغ ہر فِکری سطح کے قاری تک ہوتا ہے۔ اُن کا ہر افسانہ خیال، فِکر، تجرِبے اور جذباتی ردِعمل کی نمُود کے نتیجے میں تاثّر مُرتّب کرتا ہے۔ یہاں کوئی لفظ، واقعہ، کردار، مُکالمہ تک اضافی، غیرضرُوری اور غیر مُتعلّقہ نہیں ہے۔ وُہ رزم گاہ کے مُجاہد ہیں، مگر اُنھیں ایسے مذبح و مقتل میں استحکام پر جنگ بندی کی کاوشِ مُسلسل انجام دینی پڑ رہی ہے، جہاں قابض آمر بطرزِ بُزکُشی معلُومات، عُلُوم اور فُنُونِ لطیفہ کے قتلِ عام کے کھیل سے محظُوظ ہو رہے ہیں۔
تہذیبی و تمدّنی اَدَب کا نُمایندہ افسانہ ِنگار ہونے کے سبب نیّراقبال علوی کے تجرِبات میں تنوُّع اور مرکزی خیالات میں تخیّل، آرزُو، مساعی اور حقائق پر مبنی گہرائی ہے۔ اُن کے افسانوں کی تکنیکی، ہیئتی اور فنّی سطح جدید زِندگی کا اِظہاریہ ہے اور یہ اپنے معاصر زمانے کی تخلیقی پیداوار ہیں۔ وُہ اپنے افسانوں کے فنّی احاطے میں خطابیہ، تجزیہ، مشاہدہ، تجرِبہ اور بیانیہ کو یکساں گرِفت میں لیے دِکھائی دیتے ہیں۔ قدیم اقدار کی تنزّلی، رِشتوں کی شکست و رِیخت، تعلقات کی مفاداتی سطحیت اور زِندگی کی پیچیدگی کے بیان سمیت نیّراقبال علوی نے ہر موضُوع کے وحدتی تاثّر کو اپنے افسانوں میں جامعیت ارزاں کی ہے۔ وُہ کماحقہ‘ آگاہ ہیں کہ تمام تر معاشرتی کج روی اور قومی اِنتشار کے علاوہ عوامی اندیشے، خوف و تشدّدزدگی اور ہَوَس کاری کی کہانیوں کو افسانے کی ہیئت میں کیوں کر متشکّل کِیا جا سکتا ہے۔ افسانہ ِنگار ِجن اشیا، حرکات اور معاملات کی جانب متوجِہ ہوتا ہے، وُہ نہ ِصرف قابلِ اِعتنا بن جاتی ہیں، بل کہ غیرمعمُولی اہمیت اِختیار کر لیتی ہیں۔ یقیناً وُہ چیخوف کی سمت نُمائی میں فنّی تقاضے کے عین مُطا ِبق ہر پتّھر سے چہرہ تراشتے ہوئے کمالِ ہُنر سے فالتُو کِرچیاں ہٹا دیتے ہیں۔
یُوں ہی نیّراقبال علوی نے اِس مُردہ ضمیر و سنگ دِل معاشرے کی چٹانوں پر کاری ضرب لگا کر قارئین کو نئی زِندگی بخشنے کی سبیل کی ہے۔ تخلیقی افسانے کے ہرمُمکن اِمکانات کو برُوے کار لاتے ہوئے نیّراقبال علوی نے اپنے تیشۂ تخلیق و فن سے ایسے فن پارے تخلیق کیے ہیں، جو بیانیہ وسیلۂ اِظہار اور اعلیٰ درجے کی مہارت کو اپنے مُنفرد تخلیقی وصف سے مُتّصف کرتے ہیں۔
اظہر غوری

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “جیب کُترے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *