Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

ہنگامۂ رنگ و صوت

350.00

Description

پا بہ گِل

نیّراقبال علوی کا اِنتہائی بارِیک بِینی اور ذہانت سے لِکھّا افسانوی مجمُوعہ ”ہنگامۂ رنگ و صوت“ دیکھنے کا مجھے موقع ہاتھ آیا، تو مُجھ پر اِک کائنات روشن ہو گئی، مقامِ حیرت پر اِستادہ سوچتا ہُوں اور بے پناہ داد دینے کو بے تاب کہ ایک افسانوی فن کار اپنے مُلکی، شہری اور برِاعظمی سماجی، سیاسی، ثقافتی مسائل کو کِس طرح اِتنی گہرائی سے دیکھتے ہُوئے اپنی پُوری سعی سے اُس عُمق تک غوطہ زن ہوتا ہے۔ اُس کے پاس اِن مسائل سے اُبھرتے نیش زن درد و بے چینی کو بیان کرنے کے لیے اپنی بھرپُور زُبان ہے، نیّر نے اپنے پیش رو افسانہ نگاروں، قاضیوں اور بابریوں کی طرح صِرف شہوانی چٹخارے لیتی زُبان نہِیں برتی، اپنے لوگوں کے مسائل کے ویرانے کو دیکھنے اور سمجھنے کی جُستجُو کی ہے، آج ساری دُنیا کے لوگوں کے اپنے اپنے رسم و رواج کے مطابق پاؤں دِلدل میں دھنس رہے ہیں، نئی سرمایہ داری عمل دارانہ نے ساری دُنیا کو اپنے جور و جبر تلے دبائے رکھنے کا اِک نیا سائنسی طریقہ نکالا کہ ساری دُنیا کے اِنسانوں کو جدید غُلام بنانے کے لیے ایلیانیشن کا حربہ تو پہلے بھی تھا مگر اب جرمن فاشسٹ ڈاکٹر گوبلز کے پراپیگنڈا طریق کو جدید طریق کار سے اپناتے ہوئے نشر و اشاعت کے تمام اوزار اور اسباب سرکاری دسترس سے نکال کر عوامی ہاتھوں میں پکڑا دیے ، اور مذہبی اِنتہاپسندی فحاشت و بے راوہ روی کے علاوہ یہ سارا میڈیا حُصُول و زر کی لالچ میں ایسے ایسے گُر پروتا ہے کہ مال آنے کا راستہ کوئی بھی ہو، بس پیسا ہونا چاہیے، اور انسانی رشتہ جائے بھاڑ میں، اِس ساری ایلیانیشن کو نام دِیا جمہُوری آزادی کا، اور اِتنی بے حِسّی عام کرنے کا زہر گھولا ہے کہ سمجھ بُوجھ کا چراغ گُل ہُوا، کِتابِ فِکر کو دِیمک چاٹ گئی اور عقل کے اِستعمال میں درِندگی در آئی ہے، اور دُنیا کے واحد بادشاہ سلامت نے دونوں ہاتھوں سے ہر برِاعظم کے ہر ذِی رُوح کا اپنے اپنے معاشرتی رنگ و صوت سے ہنگاموں میں لُوٹ مچا رکھی ہے، قاری آپ نیّراقبال علوی کے اِس افسانوی مجموعے کو بغور پڑھیے اور اُس کی بارِیک ِبین زیریکی کی داد دیجیے کہ اُس کے دِل میں اِنسانی دُکھ درد کا کِتنا اِحساس جاگزیں ہے اور بے راہ روی سے اُس میں کتنی نفرین کرتا غیظ بھرا ہے، میرا خیال ہے کہ افسانہ نگار اِنسانی اِحساس اور دردِ دِل پیدا کرنے کے لیے ایسے الفاظ میں بس اِتنی نشان دہی کر سکتا ہے۔ میری دُعا ہے کہ نیّر کا خُدا کرے زورِ قلم اور زیادہ ہو۔
سمیع آہُوجا

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “ہنگامۂ رنگ و صوت”

Your email address will not be published. Required fields are marked *