Description
حرفِ آغاز
”سیال“ جھنگ کا قدیم قبیلہ ہے۔ روایت ہے کہ راجا رائے شنکر جو الہٰ آباد اور فتح پور کے درمیانی مقام دارانگر کا رہایشی تھا، وُہ پنوار راجپوت خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ وُہ 1230ع میں ترکِ مکانی کر کے جون پور میں آباد ہو گیا۔ ’سیال‘ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ رائے شنکر کی وفات کے بعد خاندانی اختلافات رونما ہونے پر ’سیال‘ جون پور چھوڑ کر پنجاب بمقام اجودھن یعنی پاک پتن آیا۔ اس وقت غالباً سلطان علاءُالدین خلجی کا دورِ حکومت تھا۔ ’سیال‘ بابا فرید شکر گنج سے مُلاقاتی ہوا۔ ان کے روحانی پُرجوش وعظ سن کر مذہب اسلام قُبُول کِیا، بابا فرید کی خُصُوصی دُعائیں لے کر اوّل سیالکوٹ میں رہایش پذیر ہوا۔ یہاں قلیل عرصہ کے دوران ایک قلعہ راجپوتان تعمیر کِیا۔ بعد میں ساہیوال تحصیل شاہ پور ضلع سرگودھا آباد ہو گیا۔ یہاں میکن خاندان کے سردار بھائی خان کی ”سہاگ“ نامی بیٹی سے شادی کر لی، پھر دریاے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ ’سیال‘ کی وفات کے بعد اس خاندان کے نویں سردار ’مل خان‘ نے دریاے چناب کے کنارے ”ریاست جھنگ سیال“ کی 1462ع میں بنیاد رکھی اور گورنمنٹ صوبہ لاہور کے تحت اس ریاست کا فرماں روا ہو گیا، اور مالیہ مغل سرکار کو ادا کرتا رہا۔
ولی داد خان جو اس خاندان کا تیرھواں چیف تھا۔ وُہ بڑا قابل اور منتظم واقع ہوا، اس نے ”ریاست جھنگ سیال“ کو وسیع کِیا۔ اس کے زمانے میں یہ ریاست علاقہ منکیرہ سے دریاے راوی پر کمالیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ چناب و راوی کے اتصال سے لے کر چنیوٹ اور پنڈی بھٹیاں تک ولی داد خان کی جھنگ سیال ریاست کا حصہ تھا۔ ولی داد خان سیال 1747ع میں فوت ہوا۔
اس کے بعد اس خاندان کے مُختلف فرماں روا رہے مگر کبیر خان ولد اسمٰعیل خان قابلِ ذکر ہے، اس لیے کہ وُہ مُعتدل مزاج اور اپنے قبیلہ میں ہردلعزیز تصوُّر ہوتا تھا۔ وُہ گیارہ سال تک اس ریاست کا فرماں روا رہا۔ اس کے بعد احمد خان نے ریاست میں اپنا تسلّط قائم کیا، مگر وُہ اس خاندان کا آخری فرماں روا تھا۔
اس وقت سِکھ بھنگی خاندان کے کرم سنگھ ڈِھلو ں نے چنیوٹ کے قلعہ کو فتح کر لیا۔ اور رنجیت سنگھ نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1803ع میں رنجیت سنگھ جھنگ پر حملہ کرنا چاہتا تھا، احمد خان نے مبلغ 70ہزار روپے سالانہ ادا کرنے کی شرط پر حملہ رکوایا۔ مگر تین سال بعد رنجیت سنگھ نے دوبارہ حملہ کر کے احمد خان سیال کو شکست دی اور جھنگ سیال ریاست پر قابض ہو گیا۔ احمد خان نے نواب مظفّر خان سے ملتان میں پناہ لی، اور اس کی مدد لے کر دوبارہ 1808ع میں حملہ کر کے جھنگ سیال ریاست حاصل کی اور اس کا فرماں روابن گیا۔
مگر 1810ع میں رنجیت سنگھ نے احمد خان کو شکست دے دی اور اس کو گرفتار کر کے لاہور لایا۔ راجا رنجیت سنگھ نے احمد خان کو ایک جاگیر عطا کی اور یہ خاندان جاگیردار بن گیا، یُوں اس علاقہ میں ان کی فرماں روائی ختم ہو گئی۔ احمد خان سیال 1820ع میں فوت ہوا۔ مندرجہ بالا واقعات کی تفصیل سر لیپل گریفن کی تاریخی تصنیف ”دی چیفرز آف پنجاب“ میں موجود ہے۔
ضلع جھنگ کا جنوبی حصّہ سیالوں کا صدر مقام تھا۔ اب تو مُختلف مقامات تک سیال قوم پھیل چُکی ہے۔ میرا بھی اسی قبیلہ سے تعلّق ہے۔ پنجاب میں ”ذاتوں کا انسائیکلو پیڈیا“ کے مطابق سیال کہیں ”راجپوت“ اور کہیں ”جاٹ“ درج ہیں۔ ہندوستان میں اب بھی سیال ایک ہندو ذات ہے۔
یہ سوانح حیات ایک مثال ہے اُن طلبہ و طالبات کے لیے جِن کا تعلق دیہات سے ہے کہ ایک طالبِ علم جِس کا تعلق پسماندہ علاقہ سے ہو، جہاں تعلیم کا فُقدان ہو، وہاں سے تمام مُشکلات کو عبور کر کے اپنی تعلیم کو جاری رکھے۔ حُصُولِ علم کے تمامتر مراحل میں خداوند کریم کی مدد سے خُلُوصِ نیّت سے محنت کر کے پہلے ہائی کورٹ کا جج اور بعد میں سپریم کورٹ کا جسٹس اور پھر مُحتسبِ اعلیٰ پنجاب کے عُہدوں پر فائز ہو۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ اپنے حوصلے بُلند رکھیں اور مِحنت کرتے جائیں۔ خداوند کریم کی مدد ازخود حاصل ہو جائے گی اور تمام منازل بآسانی طے ہو سکتی ہیں۔ میری سوانح عُمری خُصُوصی طور پر دیہاتی طلبہ و طالبات کے لیے شاید مشعلِ راہ ثابت ہو، اس لیے کہ ان کو کِن کِن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اور مُختلف مراحل سے گذرنا پڑتا ہے مگر ثابت قدمی، ہمّت، مِحنت اور اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہو تو اپنے مقاصد میں ہمیشہ کامیابی نصیب ہوتی ہے۔
جسٹس منظور حُسین سیال
۔٭۔





Reviews
There are no reviews yet.