Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

سُوکھے درخت اور زرد پتّے

350.00

Description

دیباچہ

فِکشنن اور ثقافتی بیانیہ ایک ایسا موضُوع ہے جو بے حد اُلجھا ہُوا ہے۔ یقیناً ثقافت وُہ معرُوض ہے جِس میں انسان کا جوہرِ وُجُود اپنا اظہار کرتا ہے لیکن فِکشنن کا بنیادی سروکار ثقافت سے نہیں بل کہ وُجُود سے ہے، یہ اور بات کہ ثقافت کے بغیر جوہرِ وُجُود کا اظہار ٹھوس نہیں بل کہ تجریدی ہے اور تجرید ایک ایسا اظہار ہے جِس تک عام ذہن کی رسائی مُمکن نہیں ہوتی، لہٰذا فِکشنن نگار وُجُود کو کسی خاص ثقافتی تناظر میں ہی دیکھتا ہے۔ اِسی لیے بادی النّظر میں یہ محسّوس ہوتا ہے کہ فِکشنن کا اصل سروکار ثقافت سے ہے بل کہ ترقّی پسندوں کے ضِمن میں تو یہ محض معاشی و سماجی رہ جاتا ہے۔
اُردُو فِکشنن کی خُوش قسمتی کہ اِس کا افسانہ نگار پریم چند اپنے دورِ آخر تک پہنچتے پہنچتے اِس حقیقت تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ افسانے کا اصل موضُوع فرد ہے۔ بلاشُبہ کفن پہلا مشکل مُکمَّل اُردُو افسانہ ہے جسے ہم وُہ راستہ قرار دے سکتے ہیں جِس پر چل کر منٹو، بیدی اور غُلام عبّاس نے نئی منزلوں کی جُستجُو کی، اور اُردُو افسانہ انتظار حسین، نیّر مسعود اور حسن منظر سے ہوتا ہُوا اسد محمد خان تک پہنچا۔ چلیں ہم کفن کے ذریعے افسانوی عمل کو سمجھنے کی کوشِش کرتے ہیں۔ اِس افسانے کو مختلف حوالوں سے دیکھا گیا ہے اور دیکھا جا سکتا ہے۔ ہم اسے مادھو اورگھیسو کے وُجُودی بیانیے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ پریم چند نے مادھو اور گھیسو کے وُجُود کو حیات کے دو بڑے تجربوں پیدایش اور موت کے درمیان رکھ کر دیکھا ہے۔ اُنھوں نے اِن دو کِرداروں کو جِس وُجُودی بے معنویت میں پیش کِیا ہے، وہاں نہ پیدایش کا کوئی مفہوم ہے اور نہ موت کا۔ اگرچہ وُجُود کا یہ بیان سماجی اور ثقافتی عمل کے بغیر مُمکن نہیں تھا لیکن اگر افسانہ نگار وُجُود سے صَرفِ نظر کر کے سماجی و ثقافتی عمل کی پیشکش کو مرکزی حیثیت دیتا تو کفن جیسا شاہکار مُمکن نہ ہوتا۔ اب اِس افسانے کی تکمیل کے بعد ہم مادھو اور گھیسو کی معاشی حیثیت، زندگی اور موت کی ثقافتی صُورتیں، طبقاتی تفریق، کسانوں کی حالت، چماروں کی سماجی حیثیت، انسان کی سماجی بے وُقعتی، سب کے بارے میں افسانے کے ذریعے اظہارِ خیال کر سکتے ہیں لیکن افسانے کے تخلیقی عمل کا مُکمَّل سروکار مادھو اور گھیسو کے وُجُود کی بازیافت ہے۔
منٹو، بیدی، غُلام عبّاس کے پاس اُردُو میں بس یہی افسانہ تھا۔ باقی کام اُنھوں نے ترجمے سے لیا۔ انتظار صاحب نے کیسی پتے کی بات کہی تھی کہ جِس زمانے میں اُردُو میں مغربی افسانے کے تراجم ہو رہے تھے، اگر ناول کے ترجمے بھی ہوجاتے تو اُردُو میں ناول کی وُہ روایت بھی قائم ہو جاتی جو افسانے کی طرح عالمی معیار کو پہنچتی۔ یہ بھی اُردُو ادب کی خُوش قسمتی تھی کہ باری علیگ نے منٹو کو تراجم پر لگایا، جِس کے اثرات مجموعی ادبی فضا پر بھی مرتّب ہوئے اور دیگر افسانہ نگاروں نے بھی ترجمے کی اس روایت میں اپنا حصّہ شامل کِیا۔ چناں چہ ابتدائی دور میں ہی اُردُو افسانہ تہذیبی، ثقافتی، سماجی، سیاسی، معاشی بیانیے سے نِکل کر انسان کے وُجُودی انکشافات کی منزل میں داخل ہو گیا۔ یہ نہیں کہ دُوسری طرح کا افسانہ لکھا نہیں گیا۔ دُوسرے درجے کے افسانہ نگاروں نے لکّھا اور خُوب لکّھا لیکن عظیم افسانے کی روایت بھی جاری رہی۔ تحریکی افسانہ نگار سماجی، سیاسی، نفسیاتی، ثقافتی بیانیے تشکیل دیتے رہے اور افسانہ نگار تخلیقی عمل کی بازیافت میں مُنہمک رہے۔ چلیے اب ثقافتی و سماجی عمل کو مرکزیت دینے والا ایک افسانہ دیکھتے ہیں۔ کرشن چند کا شاہکار افسانہ پانی کا درخت ہے۔ یاد رہے کہ یہ کرشن چندر کا ایک شاہکار افسانہ ہے، اُردُو کا شاہکار افسانہ نہیں۔ افسانہ رویل ندّی کے کِنارے ندّی کے پانی کے ساتھ چڑھتی اُترتی زندگی کو پیش کرتا ہے۔ افسانہ نگار کی پُوری توجُّہ اُن سیاسی، معاشی محرکات کا کھوج لگانے یا ثقافتی اظہارات تشکیل دینے میں صَرف ہوئی جو وُجُود کے لیے ناگزیر تھے لیکن وُجُود کہاں ہے۔ افسانے کے سارے مرکزی کِردار ثقافتی بیانیے میں ہی کہِیں گم ہو گئے ہیں حتیٰ کہ پانی کے درخت کا خواب دیکھنے والا نوجوان بھی ہجوم کی صُورت اختیار کر گیا۔ سارا افسانہ کان کنی کی مصیبتوں، زمیندار کے پانی روک لینے سے بنجر ہو جانے والی زندگی اور پانی کی تلاش کی کہانی بن کر رہ گیا ہے جو اِس آرزومندی پر ختم ہُوا کہ ایک دِن رویل ندّی پانی سے بھر جائے گی اور سارے کھیت سیراب ہو جائیں گے۔
درج بالا مصروفیات صِرف ایک نقطے کو واضح کرنے کے لیے پیش کی گئی ہیں کہ افسانہ فی الاصل ثقافتی بیانیہ نہیں ہے بل کہ وُجُودی بیانیہ ہے۔ ثقافتی بیانیہ اس صُورت میں ہے کہ ہر وُجُود ایک مخصوص ثقافتی فضا میں متشکّل ہوتا ہے اور اسی ثقافتی ماحول میں زندگی گزارتا ہے۔ چناں چہ افسانہ نگار جب وُجُود کی جُستجُو کرتا ہے تو بالواسطہ طور پر وُہ اس ثقافت کو بھی دریافت یا بیان کر رہا ہوتا ہے جِس میں وُجُود ظہور کرتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ جِن افسانہ نگاروں نے وُجُود کو مرکزیت دی، ثقافتی اظہارات بھی انہی کے افسانوں میں زیادہ بڑے اور گہرے تجرِبے کے طور پر سامنے آئے ہیں، اب آپ اپنے ذہن میں بیدی کے افسانوں گرہن، اپنے دُکھ مجھے دے دو، ایک باپ بکاؤ ہے، صِرف ایک سگریٹ یا منتھن کو لائیے۔ اتنے گہرے ثقافتی اظہار جِس کی جڑیں اساطیر اور شاخیں موُجُود زندگی میں پھیلی ہیں، دُوسرے درجے کے افسانہ نگاروں کے ہاں نہیں ملیں گے۔ ثقافت کا جیسا تخلیقی اظہار منٹو کے افسانوں یا غُلام عبّاس کے ”حمّام میں“ یا سایہ جیسے افسانوں میں ملے گا، وُہ ان افسانہ نگاروں کے ہاں کتابی معلوماتی رہ جاتا ہے جو وُجُود کی نسبت ثقافتی بیانیے پر فوکس (Focus) کرتے ہیں۔
منٹو نے سماجی اور مذہبی امتناعات میں پھنسے انسانوں کی وُجُودی معنویت کا کھوج لگانے کی سعی کی جِس کے نتیجے میں بابو گوپی ناتھ جیسے کِردار معرضِ اظہار میں آئے۔ بیدی نے برّصغیر کے ٹُوٹے اُلجھتے خاندانی نظام کے وُجُود پر اثرات کا سُراغ لگایا۔ بیدی کا شاید ہی کوئی افسانہ ہو گا جو اُنھوں نے اِس تناظر کو مِنہا کر کے لکّھا ہو، حتیٰ کہ فسادات کے پس منظر میں تخلیق ہونے والا افسانہ بھی آخرِکار اِسی مرکزی استعارے کو جا نکلتا ہے۔ غُلام عبّاس نے وُجُود اور سماج کے تضاد پر اپنے افسانوی بیانیے کی بنیاد رکھی اور وُجُود کے اس المیے تک رسائی حاصل کی جو ایک منافقانہ نظامِ زندگی کا زایدہ تھا۔ اِن افسانہ نگاروں کا اوّل و آخر سروکار انسانی وُجُود تھا چناں چہ وُہ ایسے سائینس دان نظر آتے ہیں جو اپنے تخلیقی تجربے کے ذریعے وُجُود کی اُن دریافتوں تک پہنچتے ہیں جو افسانوی ادب کی عالمی تاریخ میں صِرف اُنہی کا خاصّہ ہیں۔ اگرچہ اُن کے افسانوں سے برِّصغیر کی سماجی و ثقافتی زندگی کی تصویر بھی مُکمَّل تفصیلات کے ساتھ ہم تک پہنچتی ہے لیکن اُنھوں نے اپنے تخلیقی تجرِبے کو وُجُود کی بازیافت کے لیے مُکمَّل آزادی دی۔ اُنہی کی وَجہ سے ہی اُردُو افسانہ اپنی ابتدا میں ہی اپنے کمال کو جا پہنچا۔
جِس زمانے میں انتظار حُسین کے دیگر ہم عصر افسانہ نگار علامت نگاری کے نام پر کم درجہ تشبیہی افسانے لکھ رہے تھے، انتظار حُسین نے ثقافتی و اساطیری علائم کو وُجُود کی بازیافت کا ذریعہ بنایا۔ اُن کی زُبان میں نہ وُہ شُعُوری تشبیہی اُلجھاو ہے جو کہانی کو کھا گیا ہے اور نہ وُہ غیرحقیقی کِردار ہیں جو اُن کے ہم عصر مغرب کے علامتی افسانے کی سطحی نقّالی میں ہمارے ثقافتی منظر میں داخل کرنے کی کوشِش کر رہے تھے۔ اُنھوں نے علامتی افسانے کا تجرِبہ کرنے کے بجاے اپنے تخلیقی تجرِبے کو آزادانہ علامتیں تخلیق کرنے کا موقع دیا۔ اُنھوں نے اپنی پُوری توجُّہ کہانی بننے پر مرکوز کی چناں چہ فساد برپا کرنے والوں کے اِس وُجُود کو دریافت کِیا جو جیتے جی فنا ہو گیا تھا۔ اِسی لیے شہرِ افسوس کا کِردار کہانی سُنتے ہوئے بار بار پوچھتا ہے کہ اور تو مر گیا؟ لیکن موت کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جاتا ہے۔ وُہ ایسے وُجُود کے قصّہ گو ہیں جِن کے اندر بھی دوزخ ہے اور باہر بھی دوزخ یا جِن کے اندر زرد کُتّے پیدا ہو گئے ہیں۔ ہمارے معاشرے کو اِن علامتوں سے زیادہ بہتر اور کیسے بیان کِیا جا سکتا تھا اور یہ علامتیں ہماری ثقافتی زندگی سے پیدا ہوئی ہیں لیکن انتظار صاحب کے افسانوں میں بھی وُجُود کی جُستجُو ہی اصل مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے اِس وُجُود کو برِّصغیر کے اُس ثقافتی بیانیے میں تلاش کِیا جو اساطیر، داستانوں، ملفُوظات، کتھاؤں اور حکایتوں میں مستُور ہے۔ اُنھوں نے ٹھوس تاریخی و سماجی حقائق کو فلسفیانہ و مابعدالطبیعیاتی بیانیے کے ذریعے وُجُود تک رسائی کے لیے برتا ہے۔ انتظار حُسین کے تخلیقی تجرِبے نے اُردُو افسانے کو بیانیہ اُسلُوب سے علامتی اُسلُوب کی منزل تک اِس شان سے پہنچایا کہ افسانے کا حقیقی سروکار قائم رہا اور وُجُود کی تفہیم کا عمل اپنے نئے ثقافتی اظہارات کے ساتھ وقوع پذیر ہُوا ۔ اگر انتظار صاحب کو نیّر مسعود، حسن منظر اور اسد محمد خاں جیسے جانشین میسّر نہ ہوتے تو ہمارا افسانہ تجرِباتی دلدل میں دھنستا چلا جاتا اور تخلیقی تجرِبہ شُعُوری کاوشوں کی بھینٹ چڑھ جاتا۔
نیّر مسعود ایسے افسانہ نگار ہو سکتے ہیں جِن کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ اُنھوں نے ثقافتی زِندگی کے گہرے شُعُور کو فوقیت دی۔ اُن کے ہاں کہانی دبیز ثقافتی بیانیوں میں اپنا ابلاغ کم ہی کرتی ہے جِس کی وَجہ سے یہ گُمان گُذر سکتا ہے کہ اُنھیں کِرداروں اور اُن کے وُجُود کی بوالعجبیوں سے کم دلچسپی ہے لیکن سیمیا کے افسانے ہوں یا بعد کے مجموعوں کے، اُن میں انسانی باطن کی ایک ایسی کائنات فروزاں نظر آتی ہے جو اِتنے ہی اَسراروں میں لپٹی ہوئی ہے جتنی وُہ پیچ در پیچ ہے۔ یہ نفسیاتی تہہ داریوں سے کُچھ زیادہ گہرائی کی حامل ہے۔ نیّر مسعود کے افسانوں میں کہانی کا احساس غالب رہتا ہے، کِردار کسی نیند کی فضا میں تیرتے رہتے ہیں اور قدیم ثقافتی منظرنامہ مُسلسل قاری کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے لیکن اِس کے باوُجُود افسانے کی قرأت کے دوران قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُس کے باطن کے در کُھلتے جا رہے ہیں اور اَن دیکھی دُنیائیں لاشُعُوری طور پر اُس سے لپٹی چلی جا رہی ہیں۔ نیّر مسعود ایک ایسے جادوگر افسانہ نگار ہیں جِن کا جادو کُھل کر بھی نہیں کُھلتا اور جتنا کم زیادہ کُھلتا ہے، کُھل کر پِھر اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اُن کے افسانوں کی خواب گوں کیفیت مُستقل ہے لیکن یکساں نظر آنے کے باوُجُود یکسانیت پیدا نہیں کرتی بل کہ قاری چاہتا ہے کہ مُستقل اِس دنیا سے ناتا جوڑے رکھے۔
حسن منظر کے فِکشنن کی بنیادی خُصُوصیت اُس کا ثقافتی تنوُّع ہے۔ وُہ مُلازمت کے سلسلے میں مختلف ممالک میں رہے، چناں چہ اُن کے افسانوں میں ثقافتی اظہارات کی رنگارنگی ہے۔ اُن کے وُہ افسانے جِن میں اُن کی توجُّہ وُجُود کے اسرار کھوجنے پر رہی ہے، اُن میں ثقافت انسانی باطن سے ہم آہنگ ہو گئی ہے۔ باطن اور معرُوض کی یک رنگی سے اُنھوں نے سوئی بُھوک جیسے افسانے تخلیق کیے ہیں جِن میں ثقافت بھی ہے، سماجی بھی ہے، معاشی صُورتِ حالات بھی ہے، ترقّی پسندی بھی ہے، علامتیت بھی ہے لیکن افسانے میں اِن میں سے کُچھ بھی پہلے قاری کو متوجِہ نہیں کرتا۔ قاری سب سے پہلے اُن کے اُس کِردار میں مُنہمک ہوتا ہے جو کِردار بھی ہے اور سندھ کی وڈیرا شاہی کے ہاتھوں غُلام رُوح بھی۔ اُنھوں نے نہایت کمال سے فرد میں اجتماع کا نظّارہ کِیا ہے لیکن اِس طرح سے کہ فرد کی انفرادیت قائم رہی ہے۔
اسد محمد خان کے افسانوی ادب میں موضُوع، ہیئت اور اُسلُوب کبھی یکسانیت کا شکار نہیں ہوئے۔ اسد محمد خان کے فِکشنن میں مزاج کے اعتبار سے کوئی عُنصُرایسا ہے جو اُن کے بعض افسانوں کو منٹو کے افسانوں کے مزاج کے قریب لے آتا ہے۔ یہ مزاجی اشتراک کہِیں بھی فنی قُربت کا احساس پیدا نہیں کرتا، حتیٰ کہ اُن کے اُن افسانوں میں بھی جِن کے کِردار جسم فروشی کے ادارے سے تعلُّق رکھتے ہیں۔ اُن کے کُچھ افسانوں کا ثقافتی پس منظر شیرشاہ سوری کے عہد سے مُستعار ہے۔ کِرداروں کا تعلُّق بھی بظاہر اِسی عہد سے ہے لیکن اُنھوں نے اِن کِرداروں کے ذریعے ہمارے عہد کے انسان کی وُجُودی دُنیا تک رسائی حاصل کی ہے۔ اُن کا افسانہ باسودے کی مریم ہو، مٹّی دادا ہو، ترلوچن ہو یا نربدا، اُنھوں نے انسانی وُجُود کی لا محدود دُنیا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ اُن کے لہجے کا کڑوا پن دراصل ہماری زِندگی کے کڑوے پن کا عکّاس ہے۔ پست انسانی کِرداروں کو جِس حقارت سے دیکھتے ہیں، اُس کی وَجہ انسان بیزاری نہیں ہے بل کہ انسان سے محبّت ہے کیوں کہ وُہ عظیم انسانی وُجُود کو اِتنا بے بضاعت دیکھنا نہیں چاہتے جتنا وُہ موجودہ عہد میں نظر آتا ہے۔
ہر فن پارے کی طرح افسانہ بھی نامیاتی وُجُود ہوتا ہے افسانہ نگار وُجُود کے ذریعے وُہ فنّی وحدت حاصل کرتا ہے جِس میں موضُوع، ہیئت، اُسلُوب، سماج، ثقافت، زُبان، کِردار سب ایک دُوسرے میں یُوں پیوست ہوتے ہیں کہ ایک کو دُوسرے سے الگ کرنا مُمکن نہیں رہتا۔ ہر علم کا اپنا سروکار ہوتا ہے اور افسانے کا سروکار انسانی وُجُود سے ہے۔ اگر افسانہ انسانی وُجُود سے مخاطب نہیں ہوتا تو وُہ تمام فن کاری کے باوُجُود افسانہ کہلانے کا حق دار نہیں ہے۔
پروفیسر محمد اکرام ہوشیار پوری کے افسانوں کا مجموعہ ”سُوکھے درخت اور زرد پتّے“ ڈاکٹر محمد ریاض انجم صاحب نے مرتب کِیا۔ فی زمانہ یہ کام بے لوث خدمت کے طور پر نہیں کِیا جاتا۔ عموماً اولاد یا عزیزوں میں سے کوئی یہ کام کرتا ہے یا ایم-اے، ایم-فِل کی ڈگری کے حُصُول کے لیے یہ کام کِیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد ریاض انجم نے یہ کام صِرف محبّت سے اور ادب کی خدمت کے لیے کِیا ہے۔ وُہ اِس بے غرض ادبی خدمت کے لیے مبارک کے مُستحق ہیں۔ اِس کام سے زِندگی کے بارے میں اُن کے رویّوں کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اُنھوں نے جِس طرح ایک گم شُدہ ادبی کام کو جمع کِیا ہے، اس کا تجزیہ کِیا ہے، اسے ترتیب دے کر شایع کروا رہے ہیں، اِس سے پتا چلتا ہے کہ وُہ اچّھے انسان ہیں اور خُود کو نُمایاں کرنے کے بجاے انھوں نے ایک گم شُدہ ادیب کو دریافت کر کے ادبی دنیا کے سامنے پیش کِیا ہے۔ انھوں نے متن کی تدوین کا ایک نیا طریقہ اپنایا ہے یعنی تجزیاتی تدوین۔ اُنھوں نے کتاب میں شامل 9 افسانوں کا تجزیہ تحریر کِیا ہے۔ ہر افسانے سے پہلے اُس کا تجزیہ ہے اور پِھر افسانہ۔ اُن کے تجزیے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وُہ فنِ افسانہ نگاری سے واقف ہیں۔ اُنھوں نے فنِ افسانہ نگاری کو میکانکی طور پر اِن افسانوں پر مُنطبق نہیں کِیا بل کہ جِس افسانے میں جو فنّی خُصُوصیت نُمایاں تھی، اُسے اُس کے حوالے سے دیکھا ہے۔ مثلاً پہلے افسانے ”بانسُری کی دُھن“ میں ایک مختلف نسوانی وُجُود کو پیش کِیا گیا ہے۔ یہ کِردار دیہاتی پس منظر میں ظہور کرتا ہے۔ دیہاتی زِندگی میں نسوانی وُجُود کو درپیش ایک غیرانسانی زِندگی کے برکس یہ کِردار پورے افسانے میں اپنی من مانی کرتا نظر آتا ہے لیکن آخرِکار اُسے بھی سماجی نظام کے سامنے ہتھیار پھینکنے پڑتے ہیں اور رواجوں کے آگے سرِتسلیم خم کرنا پڑا ہے۔ ڈاکٹر محمد ریاض انجم کے پہلے تعارُفی مضمون میں اس کِردار کو تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اُن کے تعارفیے مُختصر ہیں لیکن افسانے کی تفہیم میں کلید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے اِس افسانے کے مرکزی کِردار گجری کو دیہاتی ثقافت کی روشنی میں دیکھا ہے۔ وُہ جانتے ہیں کہ انسانی کِردار کی تشکیل میں ثقافت اور سماجی زِندگی پس منظر مُہیّا کرتے ہیں۔ افسانہ نگار اور افسانے کے نقّاد اِس حقیقت کو سمجھے بغیر افسانے کا تجزیہ نہیں کر سکتے۔ چناں چہ اُنھوں نے دیہاتی زِندگی کے بارے میں ایک پیراگراف تحریر کِیا ہے اور باقی تجزیہ گجری کے کِردار کے گِرد گُھومتا ہے۔
دُوسرے افسانے وقت کی بات میں کِردار کی نسبت کہانی اہم ہے۔ چناں چہ ڈاکٹر صاحب نے کِرداروں کو کہانی کی رفتار سے ہم آہنگ کر کے دیکھا ہے وُہ جانتے ہیں کہ کِردار کے بغیر افسانہ فِکشن بننے سے محروم ہو جاتا ہے اِس لیے انھوں نے کِرداروں پر اپنی توجُّہ مرکوز رکھی ہے لیکن کِرداروں کو کہانی کے بہاو سے مُنسلک کر کے دیکھا ہے۔ افسانے کی بنیاد نہ کِرداروں پر ہے، نہ کہانی پر بل کہ یاد اس کا مرکز ہے، چناں چہ یاد سے جُڑے کِردار واقعات میں بہتے ہوئے آتے چلے جاتے ہیں اور قاری پر ایک نقش بناتے ہوئے معدوم ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعات بھی کم از کم دو کہانیوں سے جُڑے ہیں لیکن دونوں کا تعلُّق یاد سے قائم ہے اور یاد اِس نُقطے سے جُڑی ہے کہ وقت کے بہاو میں سب کُچھ بہہ جاتا ہے۔
تیسرا افسانہ ”سُوکھے درخت اور زرد پتّے“ ہے۔ کتاب کا نام اس افسانے کے عُنوان کو ہی بنایا گیا ہے، اِس لیے اِس مجموعے میں اِس افسانے کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ اِس افسانے میں بھی کلیم ہی ایک مُستقل کِردار ہے اور باقی کِردار اِس ایک کِردار کے باطن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹرمحمد ریاض انجم نے اپنے تجزیے میں بھی اِس کِردار کو پیشِ نظر رکھا ہے اور ہر پَل بولتی اُس کے اندر کی زِندگی کو نُمایاں کِیا ہے۔ یہ کہانی بیماری اور موت کی مجموعی فضا میں تخلیق ہوئی ہے اور قاری کو زِندگی کا وُہ رخ دِکھاتی ہے جو بیماری اور موت کے برعکس زِندگی سے مُنسلک کرتے ہیں۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ ہر گُذرتا لمحہ اپنے اندر یہی دو مسائل لیے ہوئے ہے، چناں چہ لا شُعُوری طور پر اُسے احساس ہوتا ہے کہ زِندگی کو بیماری اور موت کے چنگل میں پھنسے لمحات سے الگ گزارنا چاہیے اور آسایش و آرام کے دِنوں میں انسانوں سے تعلُّق کو محسوس کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر محمد ریاض انجم نے اِن تجزیوں کے آخر میں افسانوں کے مرکزی خیال بھی تحریر کیے ہیں جو انسانوں کے فکری مرکز کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اُن کا اُسلُوب رواں اور سادہ ہے اور اُن کے نقطۂ نظر کو قاری تک آسانی سے منتقل کر دیتا ہے۔ اُن کی یہ کاوش اِس گمنام ادیب کے کام کو قارئین کے حلقے تک پہنچانے کی ایک کامیاب کوشِش ہے۔ اُمید ہے وُہ اپنے اِس کام کو جاری رکھیں گے۔
ڈاکٹر ضیاءُ الحسن
پنجاب یونی ورسٹی، لاہور
۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “سُوکھے درخت اور زرد پتّے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *