Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

لاوارث

450.00

Description

ترقّی پسندانہ ادب کی تاریخ میں افضل توصیف نہایت مُعتبر مقام کی حامل ہیں۔ افسانہ، ناولٹ، سوانح، سیاسی و سماجی جدلیات پر مبنی تحریریں اور کالم نویسی کے ضِمن میں اُن کی تخلیقی اور تنقیدی مساعی گراں قدر ہے۔ ”لاوارث“ افضل توصیف کی اٹھائیسویں تصنیف ہے۔ اِس سے قبل اُن کی سولہ اُردُو کُتب ”اندھیروں کا سفر“، ”درد کی دہلیز“، ”ہاری رپورٹ سے آخری فیصلے تک“، ”زمین پہ لوٹ آنے کا دن“ ، ”الیکشن، جمہُوریت، مارشل لا“، ”غُلام نہ ہو جائے مشرق“، ”سوویت یُونیئن کی آخری آواز“، ”لیبیا سازش کیس“، ”شہر کے آنسُو“، ”کڑوا سچ“، ”میری دُنیا، میری زندگی“، ”لاوارث“، ”یہ تو وُہی جگہ ہے“، ”پچیسواں گھنٹا“، ”یہ غُلام جمہُوریت ہے“ اور ”گُذرے تھے ہم جہاں سے“ شائع ہو چُکی ہیں۔ افضل توصیف کی گیارہ پنجابی تصانیف میں ”ٹاہلی میرے بچڑے“، ”کہندا ناں پنجاب“ ، ”ہتھ نہ لا کسمبڑے“، ”پنجیواں گھنٹا“، ”من دیاں وستیاں“، ”مائی اناراں والی“، ”وڈے ویلے“، ”ویلے دے پِچّھے پِچّھے“، ”امن ویلے مِلاں گے“اور ”دھرتی دی بولی“ طبع ہو چکی ہیں۔ افضل توصیف کی کُتُب پٹیالہ یُونی ورسٹی اور دہلی سے بھی گُرمُکھّی اور ہندی رسم الخط میں چھپیں۔ روزنامہ ”جنگ“، ”پاکستان“، ”دِن“ اور ”خبریں“ میں اُن کے ہزارہا کالم شائع ہو چکے ہیں اور وُہ مزید لکھ رہی ہیں۔ افضل توصیف طبقاتی نظام کے خلاف عملی اور قلمی جِدّوجُہد کرتے ہوئے ایسا چاہتی ہیں کہ مُلک میں رہے سہے عِلم و ادب کی توسیع کے ادارے تباہ ہونے کے بجاے مُستحکم ہوں اور ترقّی کریں۔ وُہ سمجھتی ہیں کہ ماضی میں کِسی حد تک آئیڈیلزم مُمکن تھا، مگر اب ویسا سازگار ماحول موجُود نہیں رہا۔ اُنھوں نے شُعُوری سطح پر اپنے آئیڈیلز اور اپنی دُنیا کو بدلتے اور ٹُوٹتے پُھوٹتے ہوئے دیکھا۔ افضل توصیف ایک ایسی لائبریری کے قیام کی خواہاں ہیں، جہاں لاوارث کُتُب محفُوظ ہوں۔ اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اُن کے اِس عظیم مقصد کی تکمیل کی خاطر بساط بھر مُعاونت کیسے کر سکتے ہیں۔

اظہر غوری

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “لاوارث”

Your email address will not be published. Required fields are marked *