Description
ایک حقیقت نگار: نیّراقبال علوی
نیّراقبال علوی ایک منجھے ہُوئے افسانہ نگار ہیں۔ ”سِلسِلۂ روز و شب“ اُن کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ اُنھوں نے اپنی زِندگی کا زیادہ عرصہ مغرب میں گُزارا ہے، اُن کے یہ افسانے ایک سطح پر عصری مشرقی اور مغربی ثقافتی اقدار کے حقیقت پسندانہ تجزِیوں پر مُشتمل ہیں۔
جنوری 2004ع کانفرنس ہال، اکادمی ادبیاتِ پاکستان میں ایک قومی ادبی سیمینار ”اردو افسانہ: ایک صدی کا قِصّہ“ کے بُنیادی موضُوع پر زیرِ صدارت اِنتظار حُسین مُنعقد ہُوا، مسعُود مفتی اور خالدہ حُسین مہمانانِ خُصُوصی تھے اور منشا یاد مُکالمے کا آغاز کرنے والے تھے۔ ڈاکٹر انور سجّاد، پروفیسر اقبال آفاقی، اسد محمد خان، ڈاکٹر آصف فرخی، محمود احمد قاضی جیسے متعلقہ نقّادوں کو مضمُون پڑھنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر افسوس یہ ہے اُس سیمینار میں مغرب میں موجُود پاکستانی افسانہ نگاروں کو مُکمّل طور پر نظرانداز کر دیا گیا اور محمد حمید شاہد کی میزبانی بھی اِس ضِمن میں کوئی اہم کِردار ادا نہ کر پائی۔ وقار بن الٰہی، یُونُس جاوید، رشید امجد، اعجاز راہی، احمد جاوید، اسلم سراج الدین، انور زاہدی، آصف فرخی، نیلوفر اقبال، منشا یاد، محمد حمید شاہد، نگہت سلیم وغیرہ کو افسانے پڑھنے کا شرف بخشا گیا تھا۔ ایسے میں اپنے سمیع آہُوجا اور انیس ناگی کا کلین بولڈ ہونا یقینی ٹھہرا اور غیرمُلکی مُبصرین نے خالدہ حُسین تک کو کوئی اہمیّت نہ دی۔ اُس ایک سیمینار سے اور اُسی طرز پر مُنعقد ہونے والے اُردُو دُنیا کے دیگر سیمیناروں سے اِس امر کا بخُوبی اندازہ کِیا جا سکتا ہے کہ اب تحسین و توصیف کی ریوڑیاں بانٹنے والے کون لوگ ہیں؟
ہم جِس افراتفری اور آپادھاپی کے زمانے میں سانس لے رہے ہیں، اِس میں اگر کوئی اپنی ”مَیں مَیں“ کو کہِیں دفن کر کے اپنی ذات کی حقیقی شناخت کرنا چاہتا ہے تو اُسے لامُحالہ کسی مُرشدِ کامل کے دروازے پر دستک دینی پڑتی ہے۔ جِس نے اپنی تخلیقی عاقبت سنوارنی ہے اُسے اِتنا تو کرنا ہی پڑے گا۔ اُردُو افسانے کو عظمت کی بُلندیوں پر سعادت حسن مَنٹُو نے پَہُنچایا۔ آج کِرداری، مظہری اور علامتی اُردُو افسانے کی ماخذ تلاشی کرنے والے سعادت حسن مَنٹُو کو کِسی بھی صُورت نظرانداز نہیں کر سکتے۔ کبھی کبھار کوئی پِدّی اگر اپنے شوربے پر اکڑتی ہے تو پارکھ زمانہ اُس کو اُس کے اصل مقام کی خبر دے دیتا ہے۔
نیّراقبال علوی کو اپنی اور اپنے عہد کی حقیقی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے۔ اُنھیں اُردُو افسانے کی تاریخ میں موجُود سعادت حسن مَنٹُو کا کام اور نام یاد ہے، وہ اپنی کتاب سِلسِلۂ روز و شب کے افسانوں کا آغاز ”ہری شلوار“ سے کرتے ہیں۔ یہ مرحُوم مَنٹُو کے ساتھ ایک فرضی مُکالمہ ہے۔ اِس میں افسانہ نگار نے اپنے اُس دُکھ کا اظہار کِیا ہے کہ آج بھی انسان اُسی ناشائستہ اور غیرانسانی ڈگر پر چل رہا ہے، جس کو مَنٹُو صاحب نے بے دردی سے نشانہ بنایا تھا۔ اُس نے حیوانی درندگی کے نئے ڈھنگ اپنا لیے ہیں۔
نیّراقبال علوی نے اپنے عہد کی مخصُوص نفسیاتی، اخلاقی، سیاسی اور مادّی صُورتِ حالات پر ”ٹُوٹا ہُوا کھلونا“ ، ”کنارِ دجلہ“،”قہقہہ“، ”منزل“، ”بھیانک سپنا“، ”ادُھورا سفر“، ”اِنتقام“، ”بُلندی و پستی“، ”فصیل سے باہر“ ، ”دائرے“، ”نکتہ“، ”دِل شِکستہ“ ، ”غیرمشرُوط محبّت“، ”گورکھ دھندا“، ”زندانِ ابُو غریب“ جیسے تخلیقی افسانے لکھ کر بے حِسی کی دلدلوں میں غرق انبوہ کو انسان کی تحت الثرائی پستیوں کا آئینہ دِکھایا ہے۔ مغربی ماحول میں موجُود مادّی اقدار کی بدولت انسان سے انسانیت کا جو اثاثہ چِھنا ہے، نیّراقبال علوی نے قارئین کو اُس کا بخُوبی احساس دِلایا ہے۔ ذاتی اغراض کے مارے انسان اپنے چاہنے والوں کو بِلاہتھیار کیسے قتل کرتے ہیں اور مادّی منفعت کی دوڑ میں جُٹی بڑی قومیں بے گُناہ آبادیوں کا اپنے مُہلک ترین ہتھیاروں سے کیسے صفایا کرتی ہیں؟ نیّراقبال علوی آپ پر ایک حقیقت نگار کے مانند سب کُچھ واضح کر دیتے ہیں۔
جِن افسانہ نگاروں نے افسانہ نگاری کے اسرار و رموز مَنٹُو سے سیکھے ہیں، اُن کا قلم اپنے عہد کے بھیانک ترین ذاتی نفسیاتی، اجتماعی اخلاقی، بین الاقوامی سیاسی، اور مستُور سماجی جرائم اور مظالم کو قارئین کے سامنے لانے سے گُریزاں نہیں ہو سکتا۔
ڈاکٹر سعادت سعید





Reviews
There are no reviews yet.