Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

پہلے ویج ایوارڈ سے ساتویں تک

500.00

Description

پیش لفظ

یوں تو صحافت سے متعلق بے شمار کتابیں مارکیٹ میں مل جاتی ہیں لےکن اخباری صنعت سے وابستہ صحافی اور غیر صحافی کارکنوں کی اُجرتوں اور دیگر مراعات بارے آج تک کسی نے بھی قلم نہیں اُٹھایا جب کہ سرکاری سطح پر 1960ع سے 2000ع تک وقفے وقفے سے سات ایوارڈز آ چکے ہیں جِن کے گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری ہوئے۔گو کہ اپریل 2012 ع تک ساتویں ایوارڈ پر مالکان کی جانب سے عمل درآمد کو عملی جامہ نہ پہنایا گیا حال آں کہ ستمبر 2011ع میں سپریم کورٹ نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ ورکروں کے حق میں دیتے ہوئے مالکان کو ساتویں ویج ایوارڈ پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی تھی مگر یہاں قانون شکنی اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کو وتیرہ بنا لیا گیا، لہٰذا وہ حسبِ عادت پِھر نظرِ ثانی کی اپیل میں چلے گئے، مگر 21 مارچ 2012ع کوسپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے چیئرمین امپلی مینٹیشن ٹربیونل براے اخبارات ناصر حسین حیدری کو اگلے روز یعنی22 مارچ کو طلب کر کے انھیں سختی سے ہداےی کی کہ مجھے ایک ماہ کے اندر ایوارڈ پر عمل درآمد کروا کراس کی رپورٹ دی جائے کہ آیا اخباری مالکان نے اس پر عمل کِیا یا نہیں۔ کُچھ بڑے اخبارات کے مالکان نے امپلی مینٹیشن ٹربیونل کے چیئرمین کو یقین دہانی کروا دی کہ وہ ایوارڈ کے مطابق اپریل کی تنخواہ مئی میں دیں گے تاہم واجبات کی ادائی کے سلسلے میں کوئی وضاحت سامنے نہ آ سکی۔
شکر ہے کہ 2000ع میں آنے والے ساتویں ویج ایوارڈپر کسی حد تک عمل درآمد شُرُوع ہو گیا مگر اِس دوران میں کارکن دو ایوارڈوں سے پِھر محروم رہ گئے جو کہ قانونی طور پر ہرپانچ سال کے بعد آنا چاہیے۔
اگر آئے دن منہگائی میں اضافے کو دیکھا جائے تو 2000ع کے بعد اشیاے ضُرُورت کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہو چُکا ہے جِس کا ازالہ کرنا وقت کی ضُرُورت ہے۔
چوں کہ میرا بھی تعلق شعبۂ صحافت سے ہے لہٰذا مَیں نے اپنی سی کوشش کر کے ان تمام ایوارڈوں کو جو کہ ”انگریزی“ میں آئے قومی زبان اُردُو میں مرتّب کِیا ہے تاکہ عام کارکن بھی اِس سے مستفید ہو سکے۔ اگر کوئی کوتاہی یا غلطی محسوس کریں تو معاف کیجیے گا۔
اِس کتاب میں آپ کو نہ صِرف اُجرتوں کے تعیُّن بل کہ کارکنوں کی جدوجہد اورساتویں ایوارڈ سے متعلق عدالتی کارروائیوں، مختلف اربابِ اختیار کے بیانات اور مالکان کی جانب سے کارٹونوں پر مُشتمل اشتہارات کے عکس بھی دیکھنے اور پڑھنے کو ملیں گے۔
آخر میں اپنے بچوں، قیصر نعیم انصاری، حسیب جمال خُصُوصاً بیٹی قدسیہ بانو کا کتاب کی کمپوزنگ، پیج میکنگ اور سکیننگ وغیرہ کے سلسلے میں بے حد ممنون ہوں۔
نعیم اختر

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “پہلے ویج ایوارڈ سے ساتویں تک”

Your email address will not be published. Required fields are marked *