Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

مذاکرۂ صُلحِ کُل : لسانِ حیات

1,150.00

Description

پیش لفظ

تشدُّد نام ہے اس بات کا کہ اپنے نقطۂ نظر کو طاقت کے ذریعے دُوسروں پر مسلّط کِیا جائے اور کِسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا اقدام کِیا جائے جِس سے انفرادی یا اجتماعی طور پر کِسی کی جان، مال اور آبرُو کو نقصان پہنچے۔ اِس کے بالکل برعکس عدم تشدُّد کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نقطۂ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کِیا جائے اور اپنے کِسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خالصتاً پُراَمن ذرائع استعمال کیے جائیں۔
انسانی تاریخ اِس بات پر شاہد ہے کہ دُنیا میں اصل کامیابی عدم تشدُّد کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ جب کہ تشدُّد کے ذریعے آنے والی تبدیلی کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ عدم تشدُّد کا اُصول انسانی ضمیر کے عین مُطابق ہے۔ اگر اس کے ذریعے سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو، تب بھی اس سے کم ازکم اتنا تو ہوتا ہے کہ خُدا کی زمین میں فساد اور بدامنی نہیں پھیلتی۔ ہمارے دِین کی تعلیم بھی یہی ہے کہ عدم تشدُّد کے ذریعے لوگوں کو اپنی بات پر قائل کِیا جائے اور قانُونی اختیار ملنے سے پہلے کبھی کوئی اقدام نہ کِیا جائے۔ ماضی قریب کی تاریخ میں ہمیں بے شمار ایسے رہنما ملتے ہیں جنھوں نے عدم تشدُّد کے ذریعے بہت بڑی تبدیلیوں کو ممکن بنایا۔ قائدِاعظم، مہاتماگاندھی، ماؤزے تنگ، سویکارنو، امام خمینی، نیلسن منڈیلا اور عالی جاہ عزت بیگ کی مثالیں ہماری قریبی تاریخ کاحصّہ ہیں۔ عدم تشدُّد کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ غلط قانُون کو نہ توڑا جائے، بل کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ غلط قانُون کو پُراَمن طریقے سے اِس طرح چیلنج کِیا جائے کہ اس غلط قانُون پر حکومت و ریاست کی جانب سے عمل درآمد نہ ہوسکے۔ برِصغیر کی تحریکِ آزادی میں مہاتما گاندھی کی طرف سے شراب خانوں اور دیگر غلط کاریوں کے سامنے پکیٹنگ (Picketing)اِس کی ایک مثال ہے۔ مظاہرین کِسی شراب خانے کے باہر جا کر بس پُراَمن طور پر بیٹھ جاتے تھے اور اِس کے علاوہ اورکُچھ نہیں کرتے تھے۔
ایم کے گاندھی انسٹی ٹیوٹ فار نان وائیولینس کے بانی ارون گاندھی نان وائیولینٹ کمیونی کیشن کے تامل ناڈو، بھارت سے شایع ہونے والے ایڈیشن میں رقم طراز ہیں کہ 1940ع والے زمانے میں نسلی امتیاز کی پالیسی پر سختی سے گامزن ریاست جنوبی افریقا میں رنگ دار نسل کی شناخت کے لیے سِنِ بلوغ کی طرف بڑھنا کِسی لحاظ سے بھی مزے کی چیز ہرگز نہ تھی، وُہی بات تھی کہ
اِک آگ کا دریا ہے اور ڈُوب کے جانا ہے
ایسی صورتِ احوال کا جیون کے ہر مرحلے پر سامنا رہنا عام سی بات تھی اور اُس وقت تو بالکل ہی ’’آگ کے دریا‘‘ والی مثال کی صداقت کُھل کے سامنے آ جاتی تھی جب پُوری بہیمیت کے ساتھ قدم قدم پر، ہر آن، آپ کو یاد دِلایا جانا معمول بن چُکا ہو کہ آپ تو علیحدہ ہی کِسی رنگ و نسل سے تعلُّق رکھنے والی مخلوق ہیں جِس کا سفید چمڑی سے دُور دُور بھی کوئی علاقہ نہیں۔ اِس پر مُستزاد یہ کہ مجھے تو دس برس کی عُمر میں ہی نسلاً گورے لڑکوں کے ہاتھوں مار پِیٹ کا ستم سہنا پڑا تھا کیوں کہ اُن کے حساب سے مَیں سیاہ فام تھا، اور پِھرکالوں کے ہاتھوں بھی پِٹنا پڑا چوں کہ وُہ سمجھتے تھے مَیں سفید فام ہُوں یا یہ کہ کم از کم سیاہ فام تو نہیں نا۔ یعنی مَیں گوروں میں کالا اور کالوں میں گورا تھا۔ ذِلّت و خواری سے اِس طور کا سابقہ کافی ہوتا ہے جو آپ کو مجبور کر دے کہ آپ بھی جواباً اِنتقامی تشدُّد پر اُتر آنے کے جذبات کو دِل میں راہ دے دیں۔
اِس آئے روز کی تحقیر و توہین اور انتہائی ظالمانہ برتاو کے ردِ عمل میں میرے بھی تَن مَن میں اشتعال بھر گیا۔ میرے والدین نے جھٹ مجھے انڈیا لے جانے کی ٹھانی تا کہ مَیں کُچھ عرصہ دادا کے زیرِ عاطفت رہوں جو ساری دُنیا میں جانی پہچانی شخصیّت تھے… جناب ایم کے گاندھی۔ مقصد تھا کہ اُن کے زیرِ سایہ مَیں اُس تربیت کا فیض پاؤں جو مجھے اشتعال، محرومی و مایوسی و بے اثری، ناروا امتیاز، تذلیل اور اِس پُرتشدُّد نسلی تعصُّب سے عدم تشدُّد پر مبنی گاندھی آدرشوں کے ذریعے نمٹنا سِکھا دے کیوں کہ میرے اندر تو اِس تشدُّد آمیز رنگ و نسل والے کرودھ کے خلاف ایک لاوا سا پَل رہا تھا جسے اہنسا کے اُصول ہی سرد کر کے صحیح طور میرے برانگیختہ جذبات کا رُخ موڑ سکتے تھے۔ اٹھارہ ماہ مَیں نے گاندھی جی کی چھایا میں گزارے اور بہت کُچھ سیکھا، اِتنا کُچھ کہ اِس کا مجھے کبھی اندازہ ہی نہ تھا، مگر اب مَیں سوچتا ہُوں تو ایک تاسُّف میرے دامن گیر ہوجاتا ہے کہ اُس وقت میری عُمر تھی ہی کیا، مَیں تو بس تیرہ برس کا… اوسط درجے کا طالبِ علم تھا۔ ناپختہ شُعُور اور اِتنے عظیم آدرش!! کاش مَیں کُچھ تو بڑا ہوتا! قدرے اور سمجھدار!! قُوّتِ مُدرِکہ تیز ہوتی اور فکر و نظر بھی!!! کاش ایسا ہو جاتا، ہو جاتا تو اور بھی بہت کُچھ تھا جو دادا سے سیکھا جا سکتا تھا!! بہرکیف اِتنا بھی بہت ہے جو میرے حصّے میں آیا۔ جو مِلا مَیں اُس پر نازاں و فرحاں ہُوں۔ اِتنی بھی کیا حرص، یہ کم تو نہیں تھا جو سبق مجھے عطا ہُوا، بُنیادی اور اہم ترین سبق، ’’زِندگی وُہی جو اہنسا کے اُصولوں کے تحت قاعدے قرینے سے گزاری جائے‘‘۔ مَیں اُسے کیسے بُھول سکتا ہُوں۔
گاندھی جی مہاتما سے جو بھی سیکِھیں سب پتے کی باتیں تھیں، اُنہی میں یہ بھی تھی کہ… دادا کے دَم سے عدم تشدُّد فلسفے کی گہرائی اور وُسعت کا مجھے ادراک ہُوا، اور ہاں، وُہ بات یہ تھی کہ ’’ تشدُّد ہماری گُھٹّی میں ہے اِس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے ماہیتی خواص میں حد درجہ کمال والی تبدیلی لے آئیں، متشددانہ جذبات قابُو میں رکھیں، عدم تشدُّد ہمارا نصب العین بن جائے۔ توجُّہ طلب امر یہ ہے کہ اپنے معاندانہ رویوں کا ہمیں اِدراک ہی نہیں، ہم تسلیم ہی نہیں کرتے کہ تشدُّد ہم میں کُوٹ کُوٹ کے بھرا ہے۔ اِس کی وجہ محض یہی ہے کہ ہم بے خبر ہیں، شناخت ہی نہیں کر پائے، اِس کے بارے میں ناواقف ہیں ہم۔ ہمیں اپنے رویے، اپنا نقطۂ نگاہ بدلنے کی اشد ضُرُورت ہے، ورنہ تو ہم نے فرض کر رکّھا ہے کہ تشدُّد تو ہم میں ہے ہی نہیں۔ اِس مفروضے کا سبب بھی یہی ہے کہ ہماری دُوربِیں فراست، ہمارا وِژن تشدُّد کے بارے میں بس یہی ہے کہ تشدُّد دنگا فساد ہے، لڑائی جھگڑا ہے، مار پِیٹ، قتل و غارتگری اور جنگ آزمائی ہے۔ نہیں، مار دھاڑ، قتال اور جنگیں وغیرہ تو عام آدمی کے معمولات میں شُمار ہی نہیں کی جا سکتیں‘‘۔
اہنسا کا مجھے حامی بنانے اور اِس کا مکمل شُعُور دینے کے لیے دادا نے کہا کہ تشدُّد کا شجرہ ترتیب دو جو بالکل اُنہی قواعد کے مطابق ہو کِسی بھی شجرۂ نسب کو تشکیل دینے میں جِن کا خیال رکھّا جاتا ہے۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ اِس طرح عدم تشدُّد یعنی اہنسا کی اہمیت مُجھ پر خُوب واضح ہو کر ہمیشہ کے لیے بخُوبی ذِہن نشین ہوجائے گی اور سب سامنے آجائے گا کہ بھلا تمھیں کِتنا کُچھ احساس و اِدراک ہے کہ دُنیا میں کِس قدر جارحیت، من مانی اور تشدُّد کا دور دورہ ہے۔ مہاتما نے اپنا معمول بنا لیا کہ ہر شام مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور میرے سارے دِن کی کارروائی سُنتے اور سب بیتے کا تجزِیاتی جائزہ لینے میں میری مدد کرتے۔ جونئی بات میرے تجرِبے میں آئی، کِسی بھی موضُوع پر مَیں نے جو پڑھا، تمام دِن جو دیکھا یا کِسی کے ساتھ کِیا، سب پر بات ہوتی اور پِھر وُہ تلقین کرتے کہ اُسے اُس شجرہ میں شامل کرو۔ یُوں ’’فزیکل‘‘ (Physical) عنوان کے تحت (اگر وُہ کوئی تشدُّد تھا جِس میں جسمانی طاقت کو استعمال کِیا گیا ہو) یا پِھر ’’مُقاومتِ مجہول‘‘(Passive) عنوان کے تحت الگ (بشرطے کہ وُہ اِس قسم کا تشدُّد تھا جِس سے دِل کو پہنچا دھچکا، صدمہ بڑا جذباتی مسئلہ بن گیا، چرکا تو لگا مگر مضروب نے جذبات دبا کے خاموشی سے اُس وقت برداشت کر لیا)۔
چند ہی مہینوں میں Passive Violence والے افعال سے میرے کمرے کی دیوار بھر گئی۔ مہاتما جی نے اِس مقاومتِ مجہول کو جسمانی تشدُّد (Physical Violence) کے مقابلے میں زیادہ ضرر رساں ہونے کے مترادف قرار دیا اور اِس کی شرح یُوں بیان کی کہ مقاومتِ مجہول والا تشدُّد پایانِ کار اشتعال کوجنم دیتا ہے اور اِس Passive Violence کا شکار انفرادی حیثیت میں یا بطور مُعاشرے کا رُکن ہونے کے انجامِ کار سخت ترین ردِ عمل دِکھاتا ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ مقاومتِ مجہول والا تشدُّد ہی ہوتا ہے جو جسمانی تشدُّد کی آگ بھڑکاتا ہے۔ ایسا اِس لیے ہوتا ہے کہ ہم اِس کے ابلاغ سے محروم تھے یا اِس خیال کو ہم نے درخورِ اعتنا نہیں گردانا ہوتا کہ اَمن کی خاطر ہماری تمام تر جِدّوجُہد یا تو بارآور ثابت ہو نہیں سکی یا پِھر جو اَمن و آشتی کا حُصُول جسے ہم نے مُمکن بنا بھی لیا تھا دراصل وُہ عارضی تھا، وقتی۔ ہم اِس بھڑکتی آگ کو کیوں کر بُجھا سکتے ہیں جب کہ اِس نارِ جہنّم کے ایندھن کی سپلائی ہم نے قطع ہی نہیں کی؟
دادا نے انتہائی خُلُوص، لگن اور فلاحِ انسانیت کے جذبہ و ولولہ کے ساتھ سدا عدم تشدُّد کی ضُرُورت و افادیت پر زور دیا۔ اسی بھاشن کی جوت سے جوت جگاتے ہوئے مارشل بی روزنبرگ نے بھی اِسے اپنے جیون کا اہم ترین مشن بنا رکّھا ہے۔ کئی سالوں سے قابلِ تحسین انداز میں وُہ اِس مشن کی تکمیل میں مصروف ہیں اور اُنھوں نے اپنی تمام خُداداد صلاحیتیں خواہ تحریری صورت میں یا تقریری، ورکشاپس خواہ سیمینار منعقد کر کے اِسی مقصد کی بھٹّی میں جھونک رکھّی ہیں۔ اُن کی کتاب ـ”Nonviolent Communication—A Language of Life” کا مَیں نے بے انت شوق اور معتدبہ انہماک کے ساتھ عمیق مُطالَعہ کِیا اور اُن کے اِس کارِ نمایاں سے مَیں بہت متاثّرہُوا۔ واقعی قابلِ تعریف کام ہے، وقت کی آواز ہے جِس کا ابلاغ اُنھوں نے بَہُت سادگی اور ہم احساسی کے ساتھ تو کِیا ہی ہے، اصل خُوبی یہ ہے کہ اُنھوں نے جو حل پیش کیے ہیں عملی ہیں، سادہ و آسان ہیں، اثر رکھتے ہیں اور ان پر عمل کے لیے طبیعت فوراً مائل ہو جاتی ہے۔
مہاتما گاندھی کا قول ہے کہ ’’جو تبدیلی ہم دُنیا اور دُنیا والوں میں دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، تب تک رُونُما نہیں ہو سکتی جب تک پہلے ہم خُود اُس کی مثال نہیں بنتے‘‘۔ شومیِ قسمت ہم اِس انتظار میں رہنے کے عادی ہیں کہ ابتدا کوئی دُوسرا کرے۔
اہنسا جیسے نصب العین کے لیے برتی جانے والی دانش، ہُنرمندی اور اِس کے لیے حِکمتِ عملی ایسی ہرگز نہیں کہ آج تو اِس سے استفادہ کِیا مگر کل کلاں اُسے طاقِ نسیاں کے سِپُرد کر دیا۔ اِس کی حِکمتِ عملی تمام زمانوں کے لیے یکساں صاد ہے۔ ایسا قیاس کرنا سِرے سے ہی غلط ہے کہ عدم تشدُّد کی حِکمتِ عملی اپنانے سے بندہ ہمّت و جرأت سے عاری ہو جاتا ہے، یا آسانی کے ساتھ اُس شخص کو جو اہنسا کا شیدائی ہو اور اِس کی صداقت و افادیت پر توکّل کرتے ہوئے اِس پر عمل پیرا ہو اُسے کِسی بھی حربے سے مغلوب کِیا جا سکتا یا فریب میں رکھّا جا سکتا ہو۔ اہنسا کے اُصُول تو مثبت رویے سکھانے اور اُن پر خُود بھی عمل کرنے پر محمول ہیں اور عمل کی پہلی کڑی یہ ہے کہ جو ہمارے منفی رویّے ہم پر حاوی ہوتے ہیں اُن کے بجاے اہنسائی مثبت رویّوں کو اپنانا اور اُنھیں عمل میں لانا ہوتا ہے۔ پہل اپنے آپ سے کرنا ہوتی ہے۔ مگر صُورتِ حالات فی الوقت کُچھ ایسی ہے کہ ہمارے تمام افعال محدُود و مشروط ہوتے ہیں، ہمارے خُود غرضانہ ذاتی مفاد کے حصول کے مقاصد کے ساتھ، ہمارا پہلا سوچ ہوتا ہے کہ اِس کام کے کرنے سے میرا کیا فائدہ ہو گا، مُجھے کیا ملے گا، اور اِس سے بڑھ کر یہ بھی ہے کہ بے حد مادّہ پرستانہ سماج میں ہم جی رہے ہیں جِس کا فروغ ہی مشترکہ یا اجتماعی مفاد کے بجاے انفرادی مفاد سے وابستگی پر موقوف ہے جب کہ منفی نقطہ ہاے نظر میں ایک بھی نقطہ ایسا نہیں جِس میں مُمِد ہونے، ترقّی دینے یا آگے بڑھانے کی صِفَت موجُود ہو، تا کہ متجانس خاندان، سماج، مُعاشرہ یا قوم استحکام پا سکے۔
بس اِسے ہی ضُرُوری سمجھنا کافی نہیں کہ بُحرانی صُورتِ حالات میں ہم سب یَک مُشت ہو جائیں اور پرچم لہرا لہرا کے اپنی حُبُّ الوطنی کا اظہار کرنے لگیں، نہ ہی یہ ہر مسئلے کا حل ہے کہ ہم سُپرپاور کہلائیں اور روایتی و غیرروایتی اسلحہ کا ایسا انبار سجا لیں جِس میں تباہ کاری کی ایسی جوہری صلاحیت موجُود ہو کہ آن کی آن میں ہم اِس کُرۂ ارض پر قیامت برپا کر سکنے کے اہل ہو جائیں اور یہ بھی کوئی احسن سٹریٹجی نہیں تسلیم کی جا سکتی کہ ہم اپنی زبردست فوجی طاقت کے بل پر باقی دُنیا پر چڑھ دوڑیں اور غیرممالک اور قوموں کو اپنا باجگزار بنا لیں کیوں کہ ….. خوف و ہراس کی بُنیاد پر اَمن کبھی قائم نہیں کِیا جا سکتا۔
اہنسا پر عمل کرنا اِس کے علاوہ اور کُچھ نہیں کہ آپ کے اندر جو کُچھ بھی مثبت موجُودہے، وُہ باہر آ جائے۔ ہم پر محبّت کی حکمرانی ہو، ہم احترام و عقیدت کے رسیا ہوں، دُوسروں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنی بات کی تفہیم اُن پر آسان بنا دیں، استحسان اور ممنونیت کا والہانہ اظہار ہماری خُو کہلائے، ہمدلی، ہم احساسی اور سب کے لیے غمگساری و ہمدردی کا احساس رکھنے کی صِفَات سے ہم متصف ہوں، ہم دُوسروں کا بھی اُسی طرح خیال رکھیں جِس طرح اپنی ذات اور اپنے عزیز و اقارب کا….. اور….. اور یہ کہ ہم اِن سب آلایشوں سے اپنے آپ کو مُکت کر کے پوتّرہو جائیں جو خُودپرستی، خُودغرضی، حرص و آز، نفرتیں پالنے، تعصُّب برتنے، شکّی اور شقی القلب ہونے اور جارحانہ و متشددانہ رویے اپنانے کے زُمرے میں آتی ہیں اور اُنھوں نے ہمارے خیال و فکر پر قبضہ جما رکھّا ہے۔ ہم نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سُنا ہے:’’بڑی بے رحم ہے یہ دُنیا۔ اگر اِس کے ظُلم سے بچے رہنا چاہتے ہو تو اپنی بقا کے لیے ضُرُوری ہے کہ تم بھی سنگدل بن جائو، اِسی میں بہتری ہے‘‘۔ … نہیں نہیں، بالکل نہیں۔ لوگ اِسے بڑی زوردار دلیل سمجھتے ہیں، معذرت! مجھے اِس سے رتّی بھر بھی اِتفاق نہیں۔ مَیں اِسے بَہُت ہی نامناسب اور نامُنصفانہ رویّہ سمجھتا ہُوں جِس کی ترجمان ہے یہ دلیل۔
دُنیا سے کیا گِلہ، یہ تو بس ویسی ہے جیسا ہم نے خُود اِسے بنا دیا۔ ہمارے ہی افعال و کِردار کا عکس ہے یہ تو۔ جو اِس میں بوئیں گے سو کاٹیں گے۔ اب اگر ہمیں اپنی دُنیا بے رحم دِکھائی دیتی ہے تو اِس لیے ایسا ہے کہ اِس میں خُود ہمِیں نے ظالمانہ و سفّاکانہ رویّوں کے بیج بوئے تھے۔ جَو بو کے گندم تو نہیں نا کاٹ سکتے۔ ہاں، یہ ضُرُور ہے کہ اگر ہم اپنے رویے بدلیں تو دُنیا کو بھی بدل سکتے ہیں، اور ہم میں یہ مطلوبہ تبدیلی تبھی آ سکتی ہے جب ہم اپنی زُبان اپنے کلام اور ابلاغ و روابط کے طریقوں کو بدل ڈالیں۔ میرا پُرزور اور پُرخُلُوص مشورہ یہی ہے کہ آپ مارشل بی روزنبرگ کی اِس کتاب کا بغور مُطالَعہ کیجیے اور غیرمتشددانہ ابلاغ کے جو طریقے یہ سکھاتی ہے اپنی عملی زِندگی میں اُن سے استفادہ کیجیے گا۔ یہ اہم ترین خِشتِ اوّل ہے ہم احساسی اور رواداری کے سیمنٹ سے جُڑی اُس نئی دُنیا کی تعمیر کے خواب کے لیے جسے ہم، این وی سی کی معمارانہ مہارتوں کو کام میں لا کر، حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔
عدم تشدُّد کے علمبرداروں اور کارکنوں پر جب مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور اُن کو مظلومانہ طریقے سے قتل کِیا جاتا ہے تو وُہ اس کے جواب میں ہاتھ نہیں اُٹھاتے۔ اِس کے نتیجے میں عوام کے اندر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخِر ان لوگوں پر ظُلم کیوں کِیا جا رہا ہے۔ اِس سوال کے جواب میں لوگوں کے دِلوں میں ایک احساس اُبھرتا ہے۔ پِھر یہ احساس شُعُوروآگہی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پِھر جب یہ شُعُور پختہ ہو جاتا ہے تو قُدرت کی مدد سے تبدیلی کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔
تشدُّد کے ذریعے آنے والی تبدیلی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔ خوف اور دہشت کے ذریعے لوگوں کے جسموں کوغُلام تو بنایا جا سکتا ہے لیکن اُن کے دِل ودماغ کو تبدیل نہیں کِیا جا سکتا۔ تشدُّد کے ذریعے عموماً کوئی اچھّا مقصد بھی پُوری طرح حاصل نہیں ہوتا۔ یہ عین مُمکن ہے کہ تبدیلی کی طرف دوچار قدم کامیابی کے ساتھ اُٹھ جائیں، لیکن تشدُّد کے نتیجے میں بدامنی اور کشت وخُون کا کلچر اِتنا عام ہوجاتا ہے کہ پِھر حالات سنبھالے نہیں سنبھلتے۔ پِھر ہر آدمی یہی سوچتا ہے کہ بندوق ہی قانُون ہے۔ تشدُّد کے ذریعے قومیں اور معاشرے یا تو تباہ ہوجاتے ہیں اور یا پِھر ترقّی کی دوڑ میں بَہُت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس یہ بھی عین مُمکن ہے کہ عدم تشدُّد کے ذریعے فوری طور پر کوئی اچّھی تبدیلی عمل میں نہ آسکے، لیکن اِس سے کم ازکم یہ تو ہوتا ہے کہ مظلوم قوم مُتّحدرہتی ہے اور ترقّی کی منازل طے کرتی جاتی ہے۔ اگر کوئی قوم اندرونی طور پر مُتّحد رہے اور عدم تشدُّد کے ذریعے آزادی کے حُصُول کی جِدّ وجُہد کرے تو کِسی مناسب موقعے پر قُدرت کی مدد اُس کے شاملِ حال ہوجاتی ہے۔ یہی حال کسی بھی گروہ کی طرف سے کِسی بھی اچّھے مقصد کے لیے جِدّوجُہد کا ہے۔ کیوں کہ فرمایا گیا ہے کہ خُدا صبرواستقامت سے کام لینے والوں کے ساتھ ہے۔
عدم تشدُّد کسی وقتی حکمتِ عملی کا نام نہیں، بل کہ یہ ایک مستقل اُصول اور ذہنیت کا نام ہے۔ عدم تشدُّد کا اُصول انسانیت کو اچّھائی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اُصُول اَمن اور تعمیر کا علمبردار ہے، اور یہی ترقّی کا پیش خیمہ ہے۔
عدم تشدُّد کا اُصُول انسان سے صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ اِس کے برعکس متشددانہ اقدام دراصل جلدبازی اور جذباتیت کا مظہر ہوتا ہے۔ انسان کے لیے اصل راستہ صبرواستقامت کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید میں ایک سو تیس مقامات پر اس کی تلقین کی گئی ہے اور مقدّس بائبل کا مرکزی درس بھی عدم تشدُّد ، صبر، شکر، معافی اور غیر مشروط محبّت کے اسباق پر مبنی ہے۔ صبر بھی دراصل ایک ذہنیت اور ذہنی رویّے کا نام ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک فرد کے لیے حالات ناسازگار ہوں تو دِل چھوٹا نہ کِیا جائے، اِس بات پر یقین رکّھا جائے کہ پروردگار تمام حالات کو دیکھ رہا ہے اور وُہ جب چاہے گا حالات بدل دے گا۔ چناں چہ ٹھنڈے دِل ودماغ سے کام لیا جائے۔ مایوسی اور گھبراہٹ سے بچا جائے۔ حالات کا اچّھی طرح جائزہ لے کر بہترین پُراَمن حِکمتِ عملی بنا کر اُس پر عمل کِیا جائے۔ اور اِس عمل پر ثابت قدم رہا جائے۔
’’چوپڑا سنٹر براے بہبود‘‘ کے بانی اور اسّی سے زائد کتب (43 سے زائد زبانوں میں ترجمہ شدہ بشمول 22 نیویارک ٹائمز بیسٹ سیلرز) کے مصنّف دیپک چوپڑا ایم ڈی پڈل ڈانسر پریس Encinitas، امریکا سے شایع ہونے والے’’نان وائیولینٹ کمیونی کیشن‘‘ کے تیسرے ایڈیشن میں رقم طراز ہیں کہ نظری اور عملی دونوں صُورتوں میں چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصہ پر محیط عدم تشدُّد اِبلاغ کا فلسفہ این وی سی کے عنوان سے معروف اور لگ بھگ 35 ممالک میں اپنی پذیرائی کے بامِ عُرُوج پر متمکّن ہے۔ 30 سے زیادہ زُبانوں میں یہ کتاب 10 لاکھ سے بھی زیادہ تعداد میں چھپی، محض اِس لیے کہ اِس کتاب بل کہ سسٹم کو قبولیتِ عام کی سَنَد مِلی کیوں کہ ..… مفیدِ کار ہے۔ ہماری جذباتی، نفسیاتی اور عام زِندگی میں ہمیں درپیش گوناگوں اُلجھنوں کے علاج کے لیے یہی نسخۂ کیمیا ہے کہ جو امرت دھارا ہے جو ناپایدار تعلقات میں خُوش اُسلُوبی لانے اور نا آسُودہ زِندگیوں میں خُوش اطواری و خُوشگواری کی رمق پیدا کرنے والا حیات افروز و شفا بخش مداوا بھی ہے۔
از خواب گاہ تا کانفرنس ہال، کلاس رُوم تا محاذِ جنگ ہر جا، ہر دم نان وائیولینٹ کمیونی کیشن (NVC) کار ہاے روز مرہ کی ادائی کے لیے ہمارے رویوں کی اصلاح کرتے ہوئے ہم سب کی زِندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے کا اہم ترین محرّک ثابت ہو رہی ہے۔ این وی سی کے سہل الحصول اور مُؤثّر نتائج جب سامنے آتے ہیں تو پتا چلتا ہے پہلی مرتبہ ہم جارحانہ رویّوں، متشدّدانہ انداز اور بے حِسی و بے مروّتی کے سلوک کی تہہ تک پہنچے ہیں کہ یہ پیدا کیوں ہوتے ہیں؟ ہماری کِن ضُرُورتوں کے پُورا نہ ہونے کا یہ ردِ عمل ہیں؟ فقط یہی نہیں اِدراک تو بل کہ اِس کا بھی ہو جاتا ہے کہ ہمارے اور دُوسرے انسانوں کے درمیان مُکمَّل اِبلاغ میں کیا کسر رہ گئی؟ دُوسروں کا درد یکسوئی سے، پُوری طرح ہم کیوں محسُوس نہ کر پائے؟ ہمارا دُکھ، ہماری رام کتھا دِلجمعی کے ساتھ دُوسرے سُن کیوں نہ پائے؟ وُہ اور ہم اپنی بات اُس طرح سمجھا ہی نہ پائے جِس طرح این وی سی ہماری رہنمائی کر رہی تھی۔ ہمارے عمل اور گُفتگُو کے پیچھے جو ہماری ناتمام خواہشیں کُلبُلارہی ہوتی ہیں این وی سی اُن کی تِلملاہٹ اور ہماری مایُوسی و محرومی دونوں کی اتھاہ تک پہنچنے کی سعی کر کے منظّم طریقِ کار کے تحت بھانپ پرکھ کر کے میدان میں اُتر پڑتی ہے تا کہ جو خصومت، بیر، جھگڑا فساد کی نوبت سر اُٹھائے ہوئے ہے پہلے تو اِس میں کمی لائے اور پِھر ہر دُکھتی رگ کو سہلا دے۔ ہمارے جذبات اور انتقامی ردِ عمل کو چِل کرے تا کہ ہماری ساری انرجی، نجی، پیشہ ورانہ اور ذاتی تعلّقات بہتر رکھنے اور ہم میں ہم احساسی پیدا کرنے کی طرف موڑ دے۔ اِسی لیے لسانِ حیات کے ذریعے مذاکرۂ صلحِ کُل کے کرشماتی نتائج کے حُصُول کی خاطر اب مُختلف کارپوریشنوں، تعلیمی اداروں، جیل خانہ جات اور میڈی ایشن سنٹرز میں این وی سی کے کمالاتی سسٹم سے بھرپور استفادہ جاری و ساری ہے، اور تمام دُنیا میں اِس کے ثمرات سامنے آ رہے ہیں۔ NVC کے شُعُور کے سبب، محض کہنے کی بات نہیں، نوشتۂ دیوار ہے کہ ایک نئی مُعاشرت و ثقافت جنم لے رہی ہے۔ ملز، فیکٹریاں، کارپوریشنیں اور حکومتیں این وی سی کی مدّاح ہو کر اپنے تنظیمی ڈھانچوں میں نمودار ہونے والی ترقّی و سبقت کے گراف کو اُوپر سے اُوپر شُوٹ کر جانے کی طرف لانے میں کامیاب نظر آنے لگی ہیں۔
ہماری اکثریت ایسی صلاحیتیں اور مہارتیں جلد حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتی ہے کہ جِن کی مدد سے ہمارے رِشتوں، باہمی رابطوں اور تعلقاتِ عامہ میں گرمجوشی و خُوشگواری سرایت کر جائے اور ہمارے اپنے اختیار و قُوّت کے ذیل میں وُہ گہرائی، اثر اور ہر دِلعزیزی پیدا ہو جائے جو دُوسروں سے اِبلاغ کو آسان تر بنا دے۔ ہماری احتیاجات و التماسات پر وُہ غور کریں اور ہم بھی یہی سلوک اُن کے ساتھ روا رکھیں۔ اُن کا ہمارے اُوپر اعتبار و اعتماد بڑھ جائے اور باہم ہمدلی کے جذبات و احساسات کے ارادوں کو مہمیز لگ جائے تا کہ ایک دُوسرے کی قدر ہمارے دِلوں میں جاگزیں ہو کر ہمیں واقعی اشرف المخلوقات ثابت کر دے۔
شومیِ قسمت، مجموعی طور پر یہ ہمارے خمیر میں ہے کہ مقابلہ بازی، دُوسروں کے بارے میں غلط یا صحیح راے بِنا پرکھ قائم کر لینا اور اُس پر اَڑ جانا، جاہ طلبی، اپنے ہی فائدے کے سوچ کو اوّلیت دینا، دُوسروں سے اپنی مطلب براری کی آس باندھ لینا اور مزید یہ کہ عوامل، مسائل، شخصیات یا عوارض کی شناخت و تشخیص کے ضمن میں اپنے اندازے کو حرفِ آخِر جاننا، دیگر افراد کی خامیوں کو اُچھالنا اور خُوبیوں کو محض ملمّع یا اِتفاقی قرار دے دینا، الغرض یہ سب کُچھ ہماری اوّلین تربیت کا حِصّہ ہے مگر یہ سبھی کُچھ ہماری فطرت نہیں، عادات ہیں جو اپنا نصب العینِ حیات پانے والی منزل سے محروم و ناکام کر دینے والے سنگ ہاے راہ ہیں۔
عموماً ہوتا یہی ہے کہ ہم جِس انداز سے سوچنے اور بولنے کے عادی ہوتے ہیں، اُس سے صحیح طور ہمارا پیغام دُوسروں تک پہنچ ہی نہیں پاتا، اِبلاغ میں خامی رہ جاتی ہے جِس کی وجہ سے کج فہمیوں کو ہَوَا ملتی ہے اور نتیجہ نامُرادی، مایُوسی اور محرومی کی صُورت ہمیں مزید سیخ پا کر دیتا ہے۔ اِسی سیخ پائی کو کنٹرول میں رکھنے، کُول کرنے کے لیے اس لمحے ہماری مدد کو NVC لپکتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہمارا اشتعال بہت جلد ہمیں درُشت رویے اور بہیمانہ تشدُّد پر آمادہ کر دے۔ این وی سی ہمیں اپنے غُصّہ پر قابو پانے اور اپنی گُفتگُو میں شیریں سی اصلاح کر لینے کی طرف مائل کرتی ہے۔ ہم دُوسروں کے نقطہ ہاے نظر کو غور سے سنتے ہیں اور اپنی بات سلیقے اور ہم احساسی کے ساتھ اُن کے سامنے دھرتے ہیں کیوں کہ ہمارے مشاہدے کی بات ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ خواہ مخواہ کے اختلافات، ناراضیاں، آویزشیں، حسد، جلاپے اور دُوریاں مول لے بیٹھتے ہیں حال آں کہ اُن کی ایسی کوئی نیّت نہیں ہوتی۔ یہی ہے کہ اُن سےچُوک ہو جاتی ہے کہ دُوسروں کی بات کے پیچھے کیا مقاصد، خواہشیں، ضُرُورتیں یا درخواستیں کارفرما ہیں؟ اُنھوں نے اِس طرف مطلوبہ دھیان ہی نہیں دیا ہوتا۔
این وی سی ہمیں اپنے ہی اندر غوطہ زن ہونے کی دعوت دیتی اور مدد بھی کرتی ہے تا کہ کُچھ بولنے، عمل کرنے سے پیشتر ہم جانچ شناخت تو کر لیں کہ ہمارے اپنے جذبات و احساسات کا محرّک کیا ہے، کہاں ہے، کون سی چیز اہم اور ناگزیر ہے، کون سی تحریک مُمِدِ حیات بل کہ بِناے حیات ہے اور ہمارے سوچ، فکر، اندازے اور فیصلے کہاں تک انسانی ضُرُوریات و التماسات پرپُورا اُترتے ہیں تا کہ ہم اپنے عمل سے ثابت کر سکیں کہ ہمارا مشاہدہ کمزور نہ تھا، ہم دُوسرے انسانوں کے جذبات زخمی کرنے کے بالعکس اُن کے گھایل احساسات پر اپنی ہمدردی و غمگساری کے مرہم والا پھاہا رکھنے کو آگے بڑھے ہیں۔ جو وُہ چاہتے ہیں ہمیں اُس کا پُورا ادراک ہے اور جہاں تک مُمکن ہو سکے گا ہمارا تعاون ضُرُور اُن کے کام آئے گا۔
احساسات اور ضُرُوریات کو اہمیت دینے کا جو فہم این وی سی نے ہمارے ذِہنوں میں اُجاگر کر دیا ہے اور لسانِ حیات کی مدد سے اس کے اظہار کے لیے الفاظ و معانی پر عبور بھی حاصل کر چکے ہیں اور سِیکھ چکے ہیں کہ دُوسروں کے بھی دِل کی بات ہم نے دِلجمعی و ہمدلی کے ساتھ سُننی ہے اور موقع محل کی مناسبت سے این وی سی والی صلاحیتوں کو اُن کی دِلجوئی کے لیے استعمال میں لانا ہے تو پِھر سیدھی سی بات ہے جب ہمیں اپنی ضُرُورتوں کی آگاہی حاصل ہو گی اور اُنھیں کیوں کرپُورا کِیا جا سکتا ہے اِس کی بھی سُوجھ بُوجھ ہو گی تو ہمیں دُوسروں کا بھی احساس ہو گا۔ دُوسروں کے جِلو میں ہم باہمی اطمینان بخش تعلقات کا سفر ہاتھوں میں ہاتھ لے کر باآسانی طے کر لینے پر قادر ہو جائیں گے۔ یہی، جی ہاں بالکل یہی مارشل بی روزنبرگ پی ایچ۔ ڈی کا فیضان ہے جِس کے سوتے اُن کی کتاب کے ورق ورق سے پُھوٹتے نظر آتے ہیں۔
سو، قدم سے قدم ملائیے اُن ہزاروں لاکھوں خُوش نصیبوں کے ساتھ جنھوں نے اپنے تعلقات میں بہتری لاتے ہوئے اپنی زِندگیوں کو سنوارا اور اب دُوسروں کے لیے خُوشحالی کے دیپ سے دیپ جلانا شُرُوع کر رکھّے ہیں۔ ان دیپوں کو نہ بُجھنے دینے والا تیل ڈاکٹر روزنبرگ کی شبانہ روز محنت، لگن اور انسانیت سے محبّت اور جذبۂ خدمت کی گراں بہا عطا ہے جو رہتی دُنیا تک جاری و ساری رہے گی۔ آمین!
اِسی طرح جب ایک قوم ومُلک کے لیے حالات ناسازگار ہوں، مشکلات زیادہ ہوں اور ہر طرف سے خطرے اُمڈے چلے آرہے ہوں تو صبر کا تقاضا یہ ہے کہ ٹھنڈے دِل ودماغ کے ساتھ انتظار کِیا جائے، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی اور تیّاری کی جائے، اشتعال، فوری ردّعمل اور جلدبازی پر مبنی اقدامات سے گریز کِیا جائے۔ پُوری دنیوی تدبیر کی جائے۔ یہ طرزِ عمل اختیار کِیا جائے کہ ہمیں بہترین دنیوی حِکمتِ عملی کے مطابق کام کرنا ہے۔ خُدا سب کُچھ دیکھ رہا ہے اور جب وُہ ہمیں اِس قابل سمجھے گا تو حالات کی تبدیلی کے لیے حکم دے دے گا۔ تیّاری کے اِس مرحلے میں ثابت قدمی ہی صبر ہے۔
اِس کے برعکس ایک فرد یا ایک قوم کی طرف سے فوری ردِعمل، جلد بازی، معروضی تجزیے کے فقدان، تیّاری کے بغیر اقدام اور حِکمتِ عملی میں عدم استقلال کو بے صبری کہا جائے گا۔
ہر زوال آمادہ قوم کی ایک بڑی کمزوری اور خامی بے صبری اور جذباتیت ہی رہی ہے۔ آج بھی پسماندہ اقوام کے رہنما عوام کو بے صبری اور جذباتیت ہی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ حال آں کہ بنی نوعِ انسان کے لیے اصل سبق صبر اور ٹھنڈے دِل ودماغ کے ساتھ معروضی تجزیے کا ہے۔
عدم تشدُّد اور صبر ہی وُہ ہتھیار ہیں جِن کے ذریعے ہم اِنتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جیت سکتے ہیں اورنتائج کو اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔
این وی سی سسٹم پر عمل کرنے کے ثمرات حسبِ ذیل ہیں:
٭ NVC خاندانی روابط، دوستوں سے مراسم اور مُلازمین و کارکنان سے بہتر تعلقات قائم کرنے کے رویوں میں مثبت تبدیلی لا کر کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
٭ دُوسروں کے بارے میں اپنی سمجھ پرکھ کا اظہار کرتے ہوئے یا اپنے بارے میں اُن کا قیاس بُرا بھلا جیسا بھی ہو سنتے ہوئے، اسی طرح اپنے یا دُوسروں کے حق میں تنقید سنتے یا کرتے سمے خنک مزاجی سے کام لینے کے این وی سی والے گُر اپنے غُصّہ اور دُوسروں کے اشتعال و برہمی کے سامنے منجمد ڈھال بن جاتے ہیں۔
٭ آپ کی گُفتار ایسی ہوجاتی ہے گویا موتی تو جھڑتے ہوں، سوچ مثبت و مصفّٰی، اور دُوسروں کا کہا سلیقے سے سُننا یوں کہ وُہ بھی محسُوس کریں آپ ہمہ تن گوش ہیں اور اُن کی بات دلجمعی اور ہم احساسی کے ساتھ سُن سمجھ رہے ہیں، آپ کے کِردار کا خاصّہ بنا دیتی ہے۔
٭ نان و ائیولینٹ کمیونی کیشن آپ کے سوچ کے وُہ سب انداز بدل دیتی ہے جو کبھی آپ کو گذرتےحالات اور مُنہ چڑاتی مشکلات کے دباو میں لا کر ڈھیر کردیا کرتے تھے، پریشانیوں اور نامُرادیوں سے گھبرا کر آپ بُجھے بُجھے سے رہنے لگے تھے، دِل کہیں بھی نہ لگتا تھا اور کبھی آپ کے پہلے والے انداز ہاے تفکّر آپ کو شدید قسم کے احساسِ خطا میں غلطاں پیچاں کر دیتے اور کبھی آپ کے خیالات اور سوچ کو پریشانی و انفعال کی بُھول بھلیّوں میں پھنسا اور سٹپٹا دیتے تھے۔ ایسی تاریک کیفیتوں میں این وی سی کی حِکمتِ عملیاں ہی روشنی کے مینار ثابت ہوتی ہیں اور آپ کے سوچ کے زاویے بدل جاتے ہیں۔
٭ NVC کہیں بھی ، کِسی بھی وقت، کِسی کے بھی ساتھ آپ کی ذِہنی، دِلی اور احساسی ہم مطابقت کی راہیں ڈھونڈ نکالنے میں آپ کی معاونت اور حوصلہ افزائی کے لیے مُدام آمادہ و اِستادہ رہتی ہے تاکہ شاندار مستقبل کی یافت آپ پر آسان ہو جائے اور زِندگی کی خُوش گواری و خُوش بہاری کا لُطف لینے لگیں۔
کم و بیش چار عشروں میں عدم تشدُّد ابلاغ (این وی سی) دُنیا بھر کے قریباً ساٹھ ممالک میں اپنی افادیت کے طفیل مقبولیت کے پِھریرے لہرا چُکی ہے۔ ایک شخص ہو یا اشخاص، اساتذہ کرام ہوں، طلاب یا والدین سبھی اِس سسٹم سے مستفید ہو رہے ہیں۔ پانچ سو سے زیادہ کمپنیاں ، مختلف حکومتی ادارے، ہسپتال اور کلینکس سبھی اِس کے فوری زُود اثر نتائج کے معترف ہیں۔ این وی سی یونی ورسٹیوں اور کالجوں کے ایم بی اے اور ابلاغیاتی نصاب میں شامل کی جا چُکی ہے۔ کمیونٹی میڈی ایشن سنٹرز اور اینگر مینجمینٹ پروگرامز کے سیٹ اَپ میں بِلاتشدُّد ابلاغ سے کماحقّہٗ فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ اَمن اور معاشرتی سُدھار کے انقلابی علمبرداروں کے ہاں مذاکرۂ صُلحِ کُل کے لیے روزنبرگ کی روشناس کروائی ہوئی لسانِ حیات بدرجۂ اتّم مقبول ہے۔ جیل یاترا کے عادی مجرمان اور عام اسیران کی سماج میں بحالی این وی سی نے آسان تر بنا دی ہے۔ معاشرہ بھی اُنھیں قبول کرنے لگا ہے اور مجرم جیلوں سے بڑے مجرم بن کر نہیں بل کہ ذِمّہ دار، مفید، اچّھے شہری بن بن کر نکلنے لگے ہیں۔ اب عام شہری بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے ہیں، احترامِ آدمیت کو فروغ حاصل ہے اور دُنیا اَمن کا گہوارہ بنتی نظر آنے لگی ہے۔
مارشل بی روزنبرگ کی کتاب میں الفاظ نہیں موتی ہی موتی بِکھرے ہیں، آپ بھی اپنی ضُرُورت اور پسند کے موتی چُن لیں۔
نان وائیولینٹ کمیونی کیشن کا اُردُو زُبان میں پہلی مرتبہ ترجمہ کِیا گیا ہے، سوسائٹی آف جیزز کے مہتمم صاحبان بالخصوص فادر ماریو ایس۔جے اور فادر رناتو ایس۔جے کی خواہش پر مَیں نے اِس کی اشاعت کا بیڑا اُٹھایا۔ ناصر خان صاحب نے اِسے اُردُو دُنیا خاص طور پر پاکستانی معاشرت و ثقافت کے تناظُر میں ترجمے کا قالب دیا۔ وُہ پہلے بھی متعدد اہم تصانیف کا ترجمہ کر چُکے ہیں، جِن میں سے فادر ڈاکٹرکرسچن ٹرال ایس۔جے کی کتاب ’’مسلم سوالات، مسیحی جوابات‘‘ کے علاوہ اسی موضوع سے متعلق ویب سائٹ کا اُردُو ترجمہ قابلِ ذکر ہے۔ اس پر شرعی اور تکنیکی اصطلاحات کے ضمن میں سسٹر ثبینہ رفعت نے نہایت جانکاہی سے نظرِثانی کی۔ بعد ازاں سسٹر نازیہ پرویز نے اِس کتاب کو انگلش متن کے ساتھ مِلا کر نہایت مہارت سے ترجمے کا بغور جائزہ لیا اور کئی جگہوں پر تجاویز دیں۔ آخِرِکار اِس دُنیا کو جنّت نظیر بنانے کے آرزُومندوں کے لیے یہ شاہ کار نسخۂ کیمیا طبع ہو کر آپ کے مُطالَعے کے لیے حاضر ہے۔
اظہر غوری
سیکرٹری
رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “مذاکرۂ صُلحِ کُل : لسانِ حیات”

Your email address will not be published. Required fields are marked *