Description
تعارُف
عابد حسن منٹو کا شُمار مُلک کے مُمتاز وکیلوں میں ہوتا ہے۔ وہ انسانی حُقُوق اور جمہُوریت کی بحالی کی جِدّوجُہد میں بہت نُمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان قانونی اور سیاسی مصروفیتوں کے پہلو باپہلو وُہ ادب کی خِدمت میں بھی پیش پیش ہیں۔ وُہ ترقّی پسند ادب کی تحریک کے پُرجوش حامی ہیں۔ انھوں نے زیرِ نظر مضامین میں، جو بڑے عالمانہ اور فِکرانگیز ہیں، ترقّی پسند ادب کے فلسفے اور اغراض و مقاصد ہی کی وضاحت ہی نہیں کی ہے، بل کہ اُن غلط فہمیوں کو بھی دُور کر دیا ہے، جو ترقّی پسند ادب کے بارے میں پھیلائی جاتی رہی ہیں۔
ترقّی پسند ادب کا نظام فِکر و احساس اور حُسن و صداقت کی قدروں پر قائم ہے۔ دردمندی اور انسان دوستی کا شدید جذبہ، معاشرتی مسائل سے گہری دلچسپی، یہ خیال کہ غُلامی، ظُلم اور ناانصافی کے خلاف جہاد ادیبوں کا فرضِ منصبی ہے، اور یہ تصوُّر کہ غمِ ذات اور غمِ زمانہ ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں، ترقّی پسند ادب کی اِمتیازی خُصُوصیتیں ہیں۔ ترقّی پسند ادیب ماضی شناس ہوتا ہے۔ ماضی کے صحت مند ادبی ورثے کو عزیز رکھتا ہے مگر ماضی پرست نہیں ہوتا، نہ وہ فرسُودہ روایتوں اور سماجی رشتوں پر تنقید کرنے سے گُریز کرتا ہے۔
ترقّی پسندی کے سِن و سال کا تعیُّن ممکن نہیں، کیوں کہ زندگی کی حیات آفریں قدروں سے وابستگی اور ان کے فروغ کی آرزو اتنی ہی پُرانی ہے، جتنی حِسّی تجربات کے فنّی اظہار کی روایت۔ لہٰذا یہ سمجھنا صحیح نہیں کہ ترقّی پسند ادب 1935ع میں اچانک پیدا ہوا، اور 1954ع میں جب انجمنِ ترقّی پسند مُصنّفین خلافِ قانون جماعت قرار دے دی گئی تو ترقّی پسند ادب نے بھی دم توڑ دیا۔ ترقّی پسند ادیبوں کی تنظیم کا شیرازہ بے شک بِکھر گیا ہے، لیکن ترقّی پسند ادب کی تخلیق کا عمل بدستور جاری ہے، اور جاری رہے گا۔ منٹو صاحب کے بقول ”اردو ادب میں ترقّی پسند نظریے کی موت کی افواہ کسی دُشمن کی اڑائی ہوئی ہے۔“ ان کا یہ دعویٰ حرف بحرف درست ہے کہ ”نظریے اس لیے جنم لیتے ہیں کہ زندگی کے کسی نہ کسی پہلُو کو اُن کی ضرورت ہوتی ہے، اور اِن کی موت اُس وقت واقع ہوتی ہے، جب وہ زندگی سے کٹ جائیں، یا ساکت و جامد ہو جائیں، اور ارتقا پذیر زندگی آگے نکل جائے۔ چناں چہ وہ نظریے جو ساکت وجامد نہیں ہیں، اور جن کی اساس تاریخی ارتقا کے اصولوں کو سمجھ کر رکھی گئی ہے، اور جن کا بنیادی اصول ہی زندگی اور اس کی بدلتی ہوئی قدروں سے رابطہ قائم رکھنا ہو، موت سے ہمکنار نہیں ہوتے۔ ادب کا ترقّی پسند نظریہ ایسا ہی ایک زندہ اور جاوید نظریہ ہے۔“
ہمارے معاشرے کے نئے دور میں ترقّی پسند ادب کی داغ بیل مرزا غالب، سرسیّداحمد خاں اور ان کے رفقا نے ڈالی تھی۔ انھوں نے اردو ادب کے مزاج اور مذاق کو بدلا اور بہتر بنایا، اور اپنے افکارِ تازہ سے ادب میں زندگی کی نئی روح پُھونکی۔ علامہ اقبال، مُنشی پریم چند، جوش ملیح آبادی، نیاز فتح پوری اور اُن کے ہم عصر دوسرے روشن خیال ادیبوں نے اس روایت کے معیار کو اور بلند کِیا۔ ادب کو نئے مقاصد و مفہوم سے آشنا کِیا اور نئی وسعتیں اور جہتیں عطا کیں۔
نصف صدی پیشتر جس وقت برِصغیر میں انجمن ترقّی پسند مُصنّفین کی بُنیاد پڑی تو دنیا بڑے نازک دور سے گذر رہی تھی۔ اقتصادی بحران، جو سرمایہ داری نظام کے دیوالیہ پن کا ثبوت تھا، فاشزم کے بڑھتے ہوئے مہیب سایے، حبشہ پر مسولینی کا حملہ، سپین کی جمہوری حکومت کے خلاف جنرل فرانکو کی فوجی بغاوت، چین کے بہت بڑے علاقے پر جاپان کا تسلُّط، مصر، شام اور فلسطین میں سامراجی طاقتوں کے خلاف جِدّوجُہد، خود ہندوستان میں سول نافرمانی کی تحریک میں مزدُوروں، کسانوں کی بڑے پیمانے پر شِرکت اور ریڈیکل خیالات کا چرچا وہ معروضی حالات تھے، جن سے مُلک کے باشعور اور حساس ادیبوں کا متاثر ہونا قدرتی تھا۔ ترقّی پسند ادب کی تحریک کو نہایت مُختصر مُدّت میں جو مقبولیت حاصل ہوئی، وہ اس بات کی دلیل تھی کہ نئے ادیبوں کے حِسّی تجربات زندگی کی نئی حقیقتوں سے ہم آہنگ تھے۔ انھوں نے عوام کے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر لیا تھا، اور وہ ان کے دُکھ درد، ان کی آرزوؤں اور اُمنگوں کا شُعُور رکھتے تھے۔
ترقّی پسند ادب نے ہمارے جمالیاتی ذوق کو نِکھارنے میں، ہمارے نظامِ فِکرواحساس کے افق کو وسیع اور روشن کرنے میں جو تاریخی کردار ادا کِیا ہے، اس سے اِنکار مُمکن نہیں۔ وہ ادیب بھی جو ترقّی پسند ادب کے آدرش سے اِتّفاق نہیں کرتے تھے، یا اِس تحریک سے وابستہ نہ تھے، اِس سے مُتاثّر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناں چہ عابد حسن منٹو نے ایسے کئی ادیبوں کے کلام سے مثالیں پیش کی ہیں۔
یُوں تو عابد حسن منٹو کے بقول ترقّی پسند ادب کے تقاضے آج بھی بنیادی طور پر وہی ہیں، جو تحریک کی ابتدا میں تھے یعنی ”سماجی تبدیلی کے عمل میں شعوری طور پر شرکت اور رجعت پرست طرزِ فکر واحساس سے نبرد آزمائی“ لیکن گذشتہ نصف صدی میں دُنیا میں جو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اور ہماری معاشرتی اور تہذیبی زندگی اِن دنوں جن مسائل سے دوچار ہے، دورِ حاضر کا ادیب اُن سے صَرفِ نظر نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایٹمی جنگ کا خطرہ، کہ اب کے ایٹم بم گرے تو ایک دو شہر برباد نہ ہوں گے، بل کہ دنیا کا کوئی گوشہ بھی ان کی ہلاکت آفرینیوں سے بچ نہ سکے گا۔ اس کے علاوہ ہماری سیاست اور معیشت پر، ہمارے تعلیمی اداروں پر، ہماری فکروں اور ادبی قدروں پر سامراجی طاقتوں کا غلبہ، اربابِ حل و عقد کی جانب سے توہُّم پرستی کی حوصلہ افزائی اور سائینسی سوچ اور خِردمندی کی مذمّت، حقوقِ انسانی کی پایمالی، تحریر و تقریر پر پابندی، ابلاغِ عامہ کے ذرائع کا غلط استعمال، اور جبرواستحصال کی قُوّتوں کی من مانی سرگرمیاں، اور علاقائی تہذیبوں اور زبانوں سے ناروا سلوک، غرض یہ کہ بے شمار ایسے مسائل ہیں، جن سے ہمارے ادیبوں کو دن رات سابقہ پڑتا ہے، اور جن کے باعث ان کی تخلیقی کاوشیں سخت مجروح ہوتی ہیں۔ عابد حسن منٹو نے اپنے مضمون ”موجُودہ دور میں ترقّی پسند ادب کے تقاضے“ میں اِن امور سے مفصّل بحث کی ہے۔
اردو ادب میں ان دنوں جو انحطاطی رُجحانات نمودار ہوئے ہیں، مُصنّف نے اُن کے اسباب و محرکات پر بھی سیر حاصل تبصرہ کیا ہے، اور اِن رجحانات کا تجزیہ بین الاقوامی اور ملکی حالاتِ زیست کے تناظر میں کِیا ہے۔ انھوں نے ادب کے بعض بُنیادی سوالوں سے بحث کی ہے۔ مثلاً یہ سوال، کہ کیا ادب کی دوامی قدریں بھی ہوتی ہیں، اور اگر ہوتی ہیں، تو اِن کی نوعیت کیا ہے، یا یہ سوال کہ کیا کوئی ادیب معروضی حقیقتوں کو نظرانداز کر سکتا ہے، اور اسی سے جُڑا ہُوا خارجیت اور داخلیت کے باہمی رشتوں کا مسئلہ۔ منٹو صاحب کے خیال میں زندگی اور زندگی کی قدریں جن میں ادبی قدریں بھی شامل ہیں، چوں کہ متحرک اور تغیرپذیر ہوتی ہیں، ایسی صُورت میں ”ادب میں دائمی اقدار کی تلاش سعیِ لاحاصل سے زیادہ کچھ نہیں۔“ وہ یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ ادیب معروضی حقیقتوں سے بے نیاز ہوتا، یا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ادب ”حِسّی تجربات کے فنّی اظہار کا نام ہے“ اور چوں کہ اِن تجربوں کا تعلُّق براہِ راست حالاتِ زیست سے ہوتا ہے، لہٰذا ادیب کو معروضی حقیقتوں سے مفر مُمکن نہیں۔ جن تاثُّرات کو وہ قلبی واردات سے تعبیر کرتا ہے، وہ بھی معروضی حقیقتوں ہی کا ردِ عمل ہوتے ہیں۔
مُجھ کو یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی ہے کہ کِسی نے تو سیّد مطلبی فرید آبادی کی ادبی خدمات کا اعتراف کِیا۔ سیّد صاحب مرحوم عوام دوست انسان تھے۔ عوامی شاعر تھے، عوام کی زبان میں شعر کہتے تھے، اور ان کے جذبات و احساسات کا سرچشمہ بھی عوام ہی تھے۔ اُن کی سوچ اور ان کی وابستگیاں بھی عوامی تھیں۔ انھوں نے نام و نمود کی کبھی خواہش نہیں کی، بل کہ ساری عُمر درویشوں کی طرح عوام کی خدمت میں صرف کر دی۔
عابد حسن منٹو کے اندازِ تنقید پر بعض اوقات اُن کے پیشہ یعنی وکالت کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔ وہ اپنے ہر دعوے کے ثُبُوت میں شہادتوں، سندوں اور نظیروں کے انبار لگا دیتے ہیں۔ اُن کی دلیلیں اتنی ٹھوس اور معقُول ہیں کہ ادبی عدالت کو، اگر وہ غیرجانب دار ہے تو منٹو ہی کے حق میں فیصلہ صادر کرنا پڑے گا۔
سبطِ حسن
کراچی





Reviews
There are no reviews yet.