Description
پیش لفظ
غالب کے بارے میں (1969ع کے اردگرد اور اس کے بعد) جو کُچھ کہا گیا ہے، اور جو کُچھ شائع ہُوا ہے، اُس سے دو باتیں بخُوبی واضح ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ غالب کی بینُ الاقوامی شُہرت قائم ہوئی ہے، اور دُوسری یہ کہ اِس بینُ الاقوامی شُہرت کے اجزا میں سے اُس پس منظر کو بے دخل کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ غالب کی فِکری اور تہذیبی شخصیّت ظاہر ہوتی تھی۔ نئے عُلُوم اور نئے حالات نے غالب کو ہماری تاریخ سے بے تعلُّق کر کے جہاں غالب کی بڑائی کو قائم کیا ہے، وہیں ہماری تاریخ کے تہذیبی ورثے کو اِس کے مناسب ترکیبی مقام سے محرُوم کِیا ہے۔ مَیں نے جو کُچھ کہا ہے اِسے بڑی آسانی کے ساتھ پرکھا جا سکتا ہے۔
مُجھے اِس امر سے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ غالب انسان کو مُخاطب کرتا ہے، اور اُس کی شاعری کا ایک بُنیادی وصف انسان دوستی بھی ہے۔ اور مَیں اِس امر سے بھی اتّفاق کرتا ہُوں کہ غالب کے شعری تجربے میں زمین کا رشتہ بے حد نُمایاں ہے۔ اور اُسے اپنے شہروں سے بے حد لگاو بھی ہے (ژان مریک)۔ علاوہ ازیں یہ سچّائی بھی بہت حد تک دُرُست ہے کہ غالب انسان کی بُنیادی حالت پر نظر رکھتا ہے (مس ھش منووا) اور اُسے پیش کرتا ہے۔ غالب کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ پڑھنے والوں کی راے سے بھی مُجھے انکار نہیں کہ غالب کے ذریعے ذہن مُغلئی ہندوستان ہی میں نہیں ٹھہرتا، بل کہ سعدی، حافظ اور رُومی کی طرف پلٹتا ہے (ڈاکٹر شمیل) اور اِس طرح وہ اُس روایت کا ایک حصّہ ہے، جو مشرقی تُرکیہ، ایران اور تُرکستان سے وابستہ ہے۔ تشبیہات اور الفاظ کے رابطے سے غالب کی پہچان بھی میری نظر میں ایک قابلِ قدر کوشش ہے(بوسانی، ڈاکٹر شمیل)۔ لیکن ان تمام تر رُجحانات کا انداز نیم سائینسی ہے۔ اِس اعتبار سے کہ اُن کے مُطابق غالب ایک معرُوضی شے ہے، جسے تاریخ سے باہر نِکال کر اُسی طرح جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے، جِس طرح کسی مادّی شے کو ناپا جاتا ہے، اور اس کے بارے میں آرا کی فہرست تیّار کی جا سکتی ہے۔ یہ سارے رُجحانات شاعری کو سائینس سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔
اِس اندازِ فِکر کے ساتھ ساتھ ایک دُوسرا انداز غالب کو تاریخی حوالے کے مُطابق پڑھنے کا ہے۔ یہاں بھی دو مُتضاد صُورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ بعض لوگ غالب کو گِرتے ہوئے مُغلئی نظام اور اس پر قائم شُدہ سیاسی اقتدار کا نُمایندہ خیال کرتے ہیں۔ اور غالب میں افسُردگی کی تلاش کرتے ہیں۔ بعض دُوسرے لوگ غالب کو سمجھنے کے لیے شاہ ولی اللہ کے زمانے کا پس منظر تجویز کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں غالب مُسلمانوں کی نشاة الثانیہ کا نمایندہ ہے۔ جہاں تک اِس دُوسرے اندازِ فِکر کا تعلُّق ہے، اِس پر سرِدست کوئی کام نہیں ہُوا ،اور اِس کی حیثیت ابھی تک مفروضے ہی کی ہے۔ البتّہ جہاں تک پہلے نُقطۂ نظر کا سوال ہے، اُسے بہت کم لوگ معقُول تصوُّر کرتے ہیں۔ یہ دونوں اندازِ فِکر غالب کے مادّی اور فِکری ماحول کا نقشہ تیّار کرنے کو کہتے ہیں، لیکن غالب کی نِگاہ سے کُھلتے ہوئے علاقوں کی نشاندہی کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
آپ اِتّفاق کریں گے کہ شاعر کا مُطالعہ، جُغرافیے اور ماحول کی قُدرتوں کے باوُجُود اِس اعتبار سے ادُھورا اور نامُکمّل رہتا ہے کہ اِس مُطالعے میں وہ دکھائی دینے والی دُنیا نظر نہیں آتی جو شاعر ہم تک پہنچانا چاہتا ہے۔ اصل بات تو شاعر کی ہمارے ساتھ گُفتگُو ہے۔ لیکن مَیں نے جن رُجحانات کا تذکرہ کِیا ہے، اُن کے ذریعے ہم صِرف شاعر کی قیام گاہ تک پہنچتے ہیں، اور اُس کے ساتھ تعارُف اور گُفتُگو کا موقع بہُت کم نصیب ہوتا ہے۔ سوال غالب کو فوکس میں لانے کا نہیں، اُس کے ساتھ تجربے میں شرکت حاصل کرنے کا ہے، اور جہاں تک مَیں سمجھ سکا ہُوں ،ابھی تک ایسا کوئی قابلِ اعتماد طریقِ کار مُیسّر نہیں آیا، جو اِس شرکت کو مُمکن کر سکتا ہو۔
پچھلے دو تین برسوں کے اندر غالب کے دو انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں۔ ایک نیویارک میں اور دُوسرا کلکتہ میں، لیکن اِن دونوں میں غالب کو اس کے ذہن سے بے تعلُّق کر کے پیش کِیا گیا ہے۔ ترجمہ کرنے والوں نے غالب کو اُس کے لسانی اور فِکری ماحول میں محسوس کرنے کے بجاے اُسے ایک موضُوع کے طور پر ترجمہ کِیا ہے۔ اِس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ ترجمہ کرنے والے غالب کے فِکری اور تہذیبی پس منظر سے آشنا نہیں ہیں۔ غالب تک پہنچنے میں سب سے بڑی دُشواری اِس پس منظر کی کمیابی ہے۔
تاریخ کے کئی ایک اتّفاقات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ 1969ع کے اردگرد ہماری اپنی تاریخ تغیرُّ کے اُس عمل سے دوچار تھی، جِس کے ساتھ زمانہ اپنی صُورت بدلتا ہے۔ اس لیے ہمارے ہاں غالب کے مقام کی دریافت اور نشاندہی پر سنجیدگی سے کوئی کام نہ ہو سکا۔ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ اِس دوران میں غالب پر کُچھ لکھا نہیں گیا۔ ہم نے اپنی مجبُوریوں کے باوُجُود اِس تاریخی موقع پر غالب کے شعری مقام کی تصدیق ضُرُور کی۔ لیکن ہم نے جِس شعری مقام کا پتا دیا، وہ مُستعار اور نامُکمّل تھا۔ ہم نے نئے عُلُوم سے رہبری کو کہا۔ اور نئے عُلُوم نے ہمیں اپنی پسند کا غالب فراہم کِیا۔ سوال یہ نہیں کہ غالب کی کیا تشریح کی جا سکتی ہے؟ بل کہ سوال یہ ہے کہ غالب کی وہ تشریح کون سی ہے، جِس کی اساس ہماری اپنی تہذیب میں ہے؟ یعنی ہم غالب کو اپنی نِگاہوں سے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ اور اس طرح ہم اس دنیا کو کیسے واضح کر سکتے ہیں، جو غالب کی دُنیا ہے، اور غالب کے رِشتے سے ہماری اور ہماری تہذیب کی دی ہوئی دُنیا ہے۔
مَیں نے اِن صفحات میں غالب کو جِس طرح پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بارے میں اختلاف کی بڑی گُنجایش ہے۔ تاہم اِس امر سے اختلاف نہیں ہو سکتا کہ شاعری کا تہذیبی تصوُّرات کے ساتھ گہرا رشتہ ہے اور غالباً یہ تصوُّرات ہی ایک ایسی واحد سچّائی ہیں جو قوموں کی باطنی تاریخ مُرتّب کرتے ہیں۔ مَیں نے غالب کے ضِمن میں جِس فِکری پس منظر کی طرف اشارہ کِیا ہے، وہ غالب کے تخلیقی دائرۂ کار میں بڑا بااثر دِکھائی دیتا ہے۔ تاہم یوں دیکھتے ہوئے یہ کہنا بھی مُشکل ہے کہ تصوُّرات کا یہ پس منظر ہمارے ذہن کی تہوں میں موجُود نہیں ہے۔ سچّی بات بھی یہی ہے کہ غالب کی شعری تاثیر کا جو طِلسم آج تک قائم ہوتا رہا ہے، اُس کی تہہ میں اِنہی تصوُّرات کی مُشترکہ بُنیاد کارفرما رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہ کہنا مناسب ہے کہ غالب کے مُتعلّق جو کُچھ بھی کہا گیا ہے اُسے اِس مُشترکہ بُنیاد ہی پر اُستوار کرنا ضُرُوری ہے۔ وگرنہ غالب کو سمجھنے کے تمام طریقے اور معیار ادُھورے اور نامُکمّل رہیں گے۔
مَیں نے اِن صفحات میں ابنِ عَرَبی کی فتُوحاتِ مکیّہ کے اُردُو ترجمے کے مناسب مقامات پر حوالے دیے ہیں۔ یہ اُردُو ترجمہ 1927ع میں چنگا بنگیال، تحصیل گوجر خاں راولپنڈی سے شائع ہُوا تھا۔ اِس موقع پر مُجھے یہ کہتے ہوئے بھی خُوشی محسوس ہوتی ہے کہ غالب کے بارے میں بہُت سی باتوں کے لیے مَیں نے اپنے والد شیخ غُلام رسُول صاحب سے اِستفادہ کِیا تھا۔ قُرآنی تفاسیر پر اُن کی بڑی گہری نظر تھی۔ وہ اب اِس دُنیا میں نہیں ہیں، لیکن اُن کے خیالات اِن صفحات میں جابجا موجُود ہیں۔ آخر میں اپنے دوست مولوی شیر محمد خوشابی کا تہہ ِدل سے ممنُون ہوں کہ اُنھوں نے فلسفۂ ابنِ عَرَبی کے بارے میں میری رہنُمائی کی۔
جیلانی کامران





Reviews
There are no reviews yet.