Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

آدھی صدی میں کِتنی صدیاں

₨650.00

Category:

Description

سونیا خان کی کائنات

سونیا کی شاعری اور وُہ خود، دو الگ چیزیں نہیں ہیں اُس کا کلام پڑھتے ہوئے مَیں اُسے محسوس کر سکتی ہوںاپنے اِرد گِرد، چلتے پھرتے، باتیں کرتے، کھانے کی میز پر بیٹھے، اپنی بے حد گہری، ذرا سی پُراسرار…. بے تحاشا بولتی مگر بظاہر خاموش، کبھی بَہُت ساکن ، کبھی بے حد متلاطم، کبھی ذرا سا جائزہ لیتی آنکھوں سے آپ کو دیکھتے ہوئے اپنے مخصوص روایتی ”خانوں“ والے لہُو کے زیرِ اثرآپ کی مسلسل مدارات کرتے ہوئے اور جب آپ طعام اور لذّتِ کام و دہن کی افراط سے خائف ہو کر ہاتھ کھینچنے کی کوشِش کرتے ہیں تو بس ایک شکوہ کناں نظر آپ پر ڈالتی، بزبانِ خاموشی اپنا ما فی الضمیرآپ تک پہنچانے پر قادر….

سونیا ہی کی طرح اس کی نظمیں بے حد سادہ الفاظ اور بے حد گہری نکتہ بیں، نکتہ داں ، نکتہ سنج باتیں وُہ آپ کے آگے پیچھے پھرتی ہوئی ، آپ سے باتیں کرتی، سوفے کی گدّی ٹھیک کرتی، نشست گاہ کے پردوں کو آرایشی رسّی سے باندھتی اور شیشے کی بڑی دیوار سے چھن کر آنے والی دُھوپ کو ہاتھوں کے کٹورے میں بھر بھر کر کمرے میں لا نے کے جتنوں میں مشغول گھر کے آنگن میں بندھی تار سے جُھولتے پیراہن کی گنتی کرتی، اپنی ذات کی گہرائیوں میں اُترنے کی لاشُعُوری کوشِشیں کرتی، اپنے بدن کی ڈالی پر کِھلے پُھولوں کی آبیاری کرتی چاندنی راتوں سے باتیں، اور اُڑتے بادلوں سے شبیہیں تراشتی گیسوﺅں کو بکھیر کر گُذرتی سر پھری ہَوَاﺅں کا دامن پکڑتی اور خود کو اس ہَوَا ہی کی طرح سمجھتی سونیا….

اپنے خوشنما وُجُود اور فطرت کی طرح ہر چیز سے حُسن تراشنے اور تلاشنے والی سونیا پُھول بانٹتی اور جواب میں آنے والے کنکروں کو حیرت سے گِنتی…. محبّتوں کے جواب میں محبّت مانگنے کے بجاے محض ساتھ چلنے کی اجازت مانگتی…. ہجر میں جانے والے کے ساتھ اپنی سحر طراز آنکھیں بھی رُخصت کرتی اور پھر انتظار کے کھجور سے درخت کے نیچے بیٹھ جاتی ہے…. جِس سے نہ اُسے سایے کی توقّع ہے نہ ہی پھل کی آس۔ وہ اس انتظار میں صدیاں جیتی ہے:

 ”مَیں ایک صدی سے/ اس بُوڑھے مکان کی/ ضعیف کھڑکی میں بیٹھی/ جھانکتی ہُوں/ کہ شاید تم کبھی یہاں سے گذرو/ اور میرا بِیتا وقت/ ساتھ لیتے آﺅ“۔ (گلی)

وقت کے راﺅنڈ اباؤٹ پر کہِیں نہ کہِیں مِلنے کے یقین پر مخالف سمت میں تنہا ہی سفر پر نکلتی …. اپنی معصُومیت اور بے خبری میں یہ بھی بھُول جاتی ہے کہ ہر راﺅنڈ اباؤٹ تو چوراہا ہوتا ہے جہاں سے نجانے کہاں کہاں کو جانے والی راہیں نکلتی ہیں یہاں جو ہاتھ تھام کر سفر شُرُوع کرتے ہیں وُہ بھی راستے میں بِچھڑ جاتے ہیں، نجانے کون کہاں کہاں کِس راستے پر مُڑ جاتا ہے۔ تنہا مِلن کی آس میں سفر اختیار کرنے والے تو خلا میں ٹُوٹے ستاروں کے سے ہوتے ہیں جو اپنے اپنے مداروں میں تیرتے پھرتے دُور مزید دُور ہوتے جاتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کی گُھٹن اور حبس سے بھی آشنا ہے، وُہ اپنی حدود و قیود کو بھی جانتی ہے اور پھر بھی کبھی ایک خودکلامی کے عالم میں کہنے لگتی ہے:

”کُچھ روشنی مِلے…. کُچھ دُھوپ لگے/ یہی سُوچ کر خود کو/ درا زسے نِکالا ہے/ تہوں میں لگی تھی …. سیدھا کِیا ہے/ جھاڑا ہے….اور/ آنگن میں بندھی رسّی پر/ ِبچھا دیا ہے“۔ (دُھوپ)

وہ تو نظم لکھ کر اپنا کتھارسس کر کے سو گئی ہو گی۔ یہاں مَیں اِس سوچ میں گم ہُوں کہ جب دُھوپ ڈھل جائے گی تو سُورج کی روشنی کھایا وُجُود، شاداب ہَوَا کے دامن میں مُنہ چِھپا کر تازگی سے بھرپُور سانس لیتا، اپنی تہوں کی شکستگی کو بھُول کر ہَوَا کے ساتھ لہرایا وُجُود….کیا واپس اب دراز میں جا سکے گا….کیا پُرانی تہوں کی سلوٹ پر نئی تہیں بن پائیں گی؟؟؟

وُہ سر جھُکائے اپنے اندر کے انسان کو کھوجتی رہی ہے اور پھر اِس تگ و دو کو بے حد سادہ اور روز مرّہ کے الفاظ کے شیشے کے بند پیالے میں بھر کر آپ کے سامنے سجا گئی ہے اور بس…. بالکل ایسے ہی جیسے وُہ شیشے کے گُلدان میں پھُول سجا کر کمرے کے کونے میں رکھ دیتی ہے نہ صِلے کی تمنّا، نہ ستایش کی پروا، نہ داد کی آرزُو۔

مَیں…. سونیا کی سہیلی…. جب اُس کی نظموں کو اپنی ”سونیا شناسی“ کی عینک لگا کر دیکھتی ہُوں تو بار بار رُک جاتی ہُوں …. عینک اتارتی ہُوں ….ہونٹوں کے قریب لا کر ذرا سی بھاپ دیتی ہُوں ….آنچل کے کونے سے صاف کرتی ہُوں ….دوبارہ پہنتی ہُوں اور پھر پڑھنے کی کوشِش کرتی ہُوں نجانے میری عینک کے شیشے، عدسے پھر کیوں دُھندلے ہونے لگتے ہیں مَیں سامنے رکھّا پانی کا گلاس اُٹھا کر اپنے اندر انڈیلتی ہُوں اور پھر اپنی سہیلی کا مُطالَعہ کرنے نکلتی ہُوں ….پھر دوبارہ اور سہ بارہ اِس نظم کو پڑھتی ہُوں :

”گھر کہِیں چِھپ جاتا ہے/ ہر رات/ گھر میں سوتی اور/ مکان میں جاگتی ہُوں/ ہر صبح سوچتی ہُوں/ کہاں سے شُرُوع کروں/ مکان کے ہر کونے میں/ گھر کو ڈُھونڈتی ہُوں/ دِن بھر سمیٹتی ہُوں/ ہر بکھری شے کو/ شام ڈھلے تک/ سوفے کی گدّی کو/ آخری بار سمجھ کر/ سیدھا کر کے/ دیکھتی ہُوں/ اِک ٹھنڈی سانس بھر کے/ من ہی من مُسکا کے/ خود سے کہتی ہُوں/ سب ہو گیا/ لیکن/ بھُول رہی ہُوں/ ِبستر کی اک سلوٹ/ سیدھی کرنا/ باقی ہے/ ابھی“۔ (گھر کی عورت)

مُجھے لگتا ہے میری سہیلی مُجھے مکان کے دُوسرے کونے پر کھڑی کہہ رہی ہے” سہیلی بُوجھ پہیلی“۔ مَیں پہیلی بُوجھنے کی کوشِش میں اِس کی تحریروں کو بارہا پڑھتی ہُوں۔ چھوٹی چھوٹی سطریں….

پنجابی محاورے ”سُولاں جمدیاں ای ترکّھیاں ہوندیاں نیں“ خار پیدا ہوتے ہی نوکیلے ہوتے ہیں کے مصداق ان کی چُبھن کو اپنے دِل میں اُترتا محسوس کرتی ہُوں۔ حیران ہوتی ہُوں کہ گُلوں کے لہجے میں بات کرنے والی سونیا جسے اب بھی لوگ اُس کے سراپے کی وَجہ سے گلبدن اور گُل اندام کہتے ہیں، جو گُلاب دیکھوں، گُلاب سُوچوں، گُلاب لکھوں، گُلاب بانٹوں پر یقین رکھتی ہے۔ جسے آپ کی ذرا سی پریشانی بھی راتوں کو سونے نہیں دیتی اور جو بارہا فون کرکے پُوچھتی ہے تم ٹھیک ہو نا…. اپنی شاعری جو رُوح کی زُبانی رُوح کی اپنی کہانی ہے، دُوسروں کو خار کیوں کرچبھو سکتی ہے۔ مَیں اُس کی نظموں کی سطریں پڑھتی ہُوں کبھی حیران ہو کر، کبھی اُلجھ کر اور کبھی دہل کر ان کو اُلٹ دیتی ہُوں۔ میرے محسوسات ایک عجب سا ارتعاش محسوس کرتے ہیں۔ مَیں دُور کہِیں اپنے زمانۂ طالبِ علمی کے حسیں دور میں جا پہنچتی ہُوں اِس ریشمی ڈور کے اُلجھے دُوسرے سرے پر میرے ہاتھوں میں سارہ شگفتہ کی نظمیں ہیں اور مَیں ایک کم فہم طالبہ کی طرح سوچتی ہُوں یہ کیا ہے…. دیوانے کی بڑ…. شیزوفرینیا کا حملہ ہونے سے چند لمحے قبل کی منتشر باتیں، پیرا نائیڈ، کوئی سطر مربوط نہیں، بھلا شاعری میں کون ایسے بھاری الفاظ استعمال کرتا ہے۔ دیوانے کی بڑ، کوئی ذِہنی مریض اپنے معالج کے پاس بیٹھا تحلیلِ نفسی کے ذریعے اپنا بوجھ دُور کر رہا ہو۔ اُن دِنوں نفسیات کی طالبہ ہونے کے باعث نئی نئی پڑھی تھیوریوں اور فلسفوں کا غیر جاذب حالت میں اطلاق کر دینے کا شوق بھی تھا۔ مَیں نے ان نظموں کو پڑھنا چھوڑ دیا لیکن اب عُمر کے دریچے سے جھانکتی وقت اورتجرِبے کی نرم گرم دُھوپ سے الفاظ کی چمک اور حِدّت اپنا اِدراک کروا چُکی ہے۔

اب جب مَیں رات کو جاگ کر ان حقیقت پسندانہ نظموں کو پڑھتی ہُوں مُجھے ان میں جابجا سارہ شگفتہ دھڑکتی محسوس ہوتی ہے۔ مَیں نے کہا تھا…. کہا تھا مَیں نے….میری سکھی اپنے اندر کی عورت کو…. اور اگر عورت کو انسان بھی سمجھ لیا جائے تو اس انسان کو دریافت کرنے کی خاطر، اپنے شُعُور اور اپنی ذات کے بے حد دِیدہ زیب اور جاذبِ نظر شیشے کے گُلدان کو تڑخاتی ہے پھر ان ریزہ ریزہ ، کِرچی کِرچی شیشے کے فرش پر چلتی میری سہیلی، دِل میں کُھب جانے والی نظمیں لکھ کر پوچھتی ہے

”جسم/ پڑوسی ہُوا/ قدموں کو/ گھر نہیں مِلتا/ راستوں میں/ دریا کھُدے ہیں/ آسماں/ چاند نِگل گیا/ سب پیڑ کاغذ ہو گئے/ اور چھانو/ سیاہی/پِھر بھی نظم نہ ہوئی“۔ (کیا لکھوں)

بعض اوقات اِس حسیں پیروں کے سارے ریزے میرے دِل میں، آنکھوں میں اور نیندوں میں کُھب جاتے ہیں۔ مَیں ایک لمبی ہائے کے ساتھ چھوٹی انگلی کے محتاط ناخن سے نیند کی آنکھ سے اس ریزے کو نکالتی ہُوں، اس کی حسیں تصویر میرے تصوُّر میں مُسکراتی ہے اور مَیں بغیر بولے اس سے پُوچھتی ہُوں…. کیوں سونیا…. اتنی شِدّت کیوں؟ تم اتنی بڑی بات اتنی آسانی سے کیسے کر لیتی ہو۔ رویّوں اور رُجحانات کا اتنا سنگین تجزیہ کہ ایک لمحے کو تو سُوچ بھی ساکت رہ جاتا ہے۔

”تمھاری جیب دیکھ کر/ خود کے دام/ گھٹا دیے تھے مَیں نے/ لوگوں نے / سمجھا/ عورت ہی سَستی ہے“۔ (سَستی عورت)

یا پھروہ معاشرتی رویوں کو کتنی سہولت سے چند سطروں میں بیان کر کے قلم رکھ دیتی ہے:

”بازار میں/ ناچنے والی پر/ گِرنے والے سکّے/ سچّے تھے اور/ گھر میں بیٹھی/ تسبیح پھیرتی کے/ دانے جھُوٹے نکلے“۔ (سچّی تسبیح کے جھُوٹے دانے)

اگر وُہ اسے واحد متکلّم کے طور پر نہ بھی لکھتی تو اسے مَیں تخاطب و تکلم کے تمام رنگوں کے بیچ سے ڈھونڈ کر پہچان لیتی۔ وُہ اپنی نظموں کے دبیز مخمل میں خود کو کتنا ہی کیوں نہ لپیٹے، مَیں الفاظ کی بُنت اور سُوچ کے تانوں بانوں کے درمیان میں سے شناخت کی سُوئی کی نوک سے اسے نکال لیتی۔ اُس کی نظموں کو ایک اجنبی پڑھ کر سمجھ پائے تو وُہ اسے بھی سمجھ سکتا ہے محبّتیں بانٹتی، اچھّائیاں ڈُھونڈتی، اپنی ذات سے مُکمَّل خود آگہی ، اپنے وُجُود کا ادراک اور یقین اور ہزارہا خوبیوں سے آراستہ ہونے کے باوُجُود ناز بھرا ایک نیاز….

مُجھے یقین ہے کہ وُہ قاری جو اُس کو نہیں بھی جانتا وُہ بھی اپنے احساس کے فہم و ادراک کے بدن میں پیوست ہوتا محسوس کرے گا۔ عربی زبان کی کہاوت ہے کہ دوست معدنیات (دھاتوں) کے مانند ہوتے ہیں، کئی بَہُت سستے تو کچھ بَہُت ہی منہگے (الصدقاءکالمعادن منھم الرخیص ومنھم النفیس)۔ مَیں اُس کی نظموں کی دُنیا کی چھوٹی چھوٹی سیدھی سیدھی راہوں پر چلتی ہُوں۔ مُجھے وُہ مٹّی گارے سے کھیلتی ننھی سی بچّی کے رُوپ میں مِلتی ہے جو کھیلتے کھیلتے انہی ہاتھوں سے زِندگی کی اُلجھی ڈور سُلجھانے چل پڑی ہو اور زِندگی کے روشن اُجلے آدھے چہرے کو دیکھتے دیکھتے باقی آدھے چہرے کی تاریکی پر نظر ڈال کر ہراساں نہیں ہوتی، کیوں اور کیسے کے ناخن سے گِرہ کو کھولنے کا ہُنر سیکھنے لگتی ہے وُہ اندھیرے اُجالے کے اِس مِلاپ سے ، چہرہ بدلتی زِندگی سے اور تضادات کی اِس دُنیا سے خائف نہیں ہوتی۔ اُس کی کالی چادر میں روشنی اُگلتے دھبّے ہیں۔ اُس کے سینے میں محبّتوں کے سمُندر مدفون ہیں جِن کو وُہ قطروں کی صُورت مُنجمد کر کے مالا پروتی ہے جیسے کوئی گھر کے چراغ سے بے خبر، رات بھر جاگ کر سُورج کی پہلی کِرن سے نُور کی بوندیں چُنے وُہ زِندگی کی چھوٹی چھوٹی مبارکبادوں کو جمع کر کے اپنے آنچل سے ”چتاﺅنی“ کی طرح باندھ لیتی ہے۔ وُہ رِشتوں کے انہدام سے ڈرتی ہے اور ان کے احترام کی قائل ہے:

”رِشتوں کی گٹھڑیاں باندھے/ سر پر اُٹھائے چلنا/ زِندگی کے سفر پر نکلنا/ اور/ کُچھ دُور آ کر/ تھکنے لگنا/ کیوں نہ اِن رِشتوں کی/ اُنگلی تھام لیں/ ساتھ میں چلنا سیکھ لیں وُہ “۔ (رشتوں کی گٹھڑیاں)

وُہ خود آگاہ ہے اور اپنے اندر کے بے آواز چیخیں مارتے خوف سے کُلّی طور پر آشنا ہے۔ وُہ اس کی بے آواز چیخوں کی صداے بازگشت سُننے پر بھی قادر ہے۔ وُہ زِندگی کے راستوں پر چلتے چلتے بے دم بھی ہوتی ہے تو بالکل فطری انداز میں سوچتی اور بات کرتی ہے۔ اُسے دِکھاوے کی بناوٹی اور مصنوعی دانش وری خود پر طاری کرنے کا کوئی ہوکا نہیں ہے۔

”میری آنکھیں/ ایسا کاریگر ڈُھونڈتی ہیں/ جِس کی اُنگلیاں/ آنسُو پُونچھنے کا فن/ جانتی ہوں“۔(جُستجُو)

کُنْ فَیَکُوْن کی مُنتظر، از سرِ نو تخلیق ہونے کی متمنّی تو ضُرُور ہے لیکن وُہ شاید خود بھی یہ نہیں جانتی کہ وُہ جب بھی تخلیق ہو گی وُہ ویسی ہی سونیا ہو گی جیسے اب ہے، وُہ پُرانے دُکھوں کی عُمروں کے موتی گِن کر نئی خوشیوں بھرے دِنوں کی زُلفوں میں ٹانکتی وہی سونیا ہو گی جو کِسی کے ذرا سے دُکھ پر اپنی آنکھوں کے سمُندروں سے قطرہ قطرہ بہنا شُرُوع کر دیتی ہے:

”پِھر سے/ تخلیق ہونا چاہتی ہُوں/ اِک نئے کُن کی/منتظر ہُوں مَیں“۔ (کُنْ فَیَکُوْن)

اور اسے بارِ دگر تخلیق ہونے پر بھی نیا کچھ نہیں ملے گا۔ جِس مٹّی سے اُس کا خمیر اُٹھا ہے، اُس میں محبّت کرنے کا سلیقہ اور محبّت کے غم سہنے کی لذّت سمو دی گئی ہے سو میری سکھی تم اِسی ہستی، اِسی وُجُود اور اِسی درد کے ساتھ شانت ہو جاﺅ کہ اِسی وُجُود کی شانتی تمھاری نظموں سے اُمڈتی ہے اور سکون کی یہی روشنی دُوسروں تک ایسے ہی پہنچنے دو۔ اِس علم، فخر اور غُرُور کے ساتھ کہ دما دم آتی صداے کُنْ فَیَکُوْن تمھارے لیے نہیں، تمھارے اِردگِرد پھیلی کائنات کے لیے ہے۔ تمھاری کائنات تو خود تمھارے ہاتھوں میں ہے۔

صدف مرزا

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “آدھی صدی میں کِتنی صدیاں”

Your email address will not be published. Required fields are marked *