Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

کُوے بازگشت

450.00

Category:

Description

جمیل الرحمٰن کی غزل

ایک زمانہ تھا جب اردو غزل کے ایوان میں، یا ایوان کے اندر نہ سہی، ایوان کے دروازے پر نئی نئی آوازوں کا ہجوم تھا۔ آہستہ آہستہ کُچھ آوازوں کو ایوان کے اندر بار مِل گیا اور کُچھ تھک تھک کر دروازے ہی پر پست ہو گئیں، کُچھ بالکل ہی غائب بھی ہو گئیں۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں کئی آوازوں کو جدید شاعری میں اتنا وقار مِل گیا کہ دوست دُشمن سب کو قائل ہونا پڑا کہ یہ شاعری اب بہرحال اردو ادب کا مُعتبر حوالہ بن چُکی ہے۔ نئی اور معتبر آوازوں کی اس کثرت میں ہم لوگوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہونے لگا کہ اب آیندہ والے اپنی لے کے لیے بھلا کِس ساز کا سہارا لیں گے، کون سی راہ نکالیں گے؟ یہ خدشے ایک حد تک بے بنیاد ثابت ہوئے۔ ترقّی پسند شاعری کے برخلاف، جدید شاعری میں نئی راہوں اور نئے امکانات کو قبول کرنے، بل کہ ان کی ہمت افزائی کرنے کی صلاحیت شروع ہی سے تھی۔ جدید شاعری کی بنیاد اس بات پر تھی کہ نئے خیالات کو، نئے ادبی تجربات کو، نئی طرزوں کو پھلنے پُھولنے کا پورا موقع ہونا چاہیے۔ 1980ع کی دہائی میں کئی نئے شاعر سامنے آئے جن کا انداز 1960ع والے جدید شعرا سے مختلف تھا، لیکن وہ انداز جدید شاعری کے باہر نہ تھے، اس کے خلاف ہونے کا تو خیر کوئی سوال ہی نہیں۔ ان کے محسوسات بھی مختلف تھے لیکن وہ بھی جدید ہی محسوسات تھے، اس معنی میں کہ وہ پیشین گوئی پذیر نہ تھے، یعنی ایسے نہ تھے کہ نظم یا شعر شروع کرتے ہی پتا لگ جائے کہ شاعر نے کیا کہا ہو گا۔ ایلیٹ کہتا تھا کہ جب تک میں نظم کو مکمل نہ کر لوں میں کیا بتا سکتا ہوں کہ میں اس میں کیا کہنا چاہتا تھا؟ یعنی شعرگوئی کا اصل طریقہ یہ ہے کہ خیال پوری طرح آزاد ہو، پھر وہ شاعر کو چاہے جہاں لے جائے۔ شاعر کو کسی مکتبِ فکر، کسی نظریے، کسی خارجی دباو کا پابند نہ ہونا چاہیے۔ اسے کسی منصوبہ بند انداز میں شعر نہ کہنا چاہیے۔ ترقّی پسند نظریۂ شعر کی رو سے یہی منصوبہ بندی شعر کی روح تھی۔ سنہ 1960ع کے شعرا، اور پھر سنہ 1980ع کی نسل کے شعرا نے اسی منصوبہ بند اور پیشین گوئی پذیر شعر کو رد کِیا۔
سنہ 1980ع کی دہائی میں کُچھ نئے شاعر ابھرے۔ ان میں سے بعض شعرا اپنی محنت، اور فن کے تئیں اپنے خلوص کے بل بوتے پر کامیاب ہوئے، اس طرح اور اس قدر، کہ دو دہائیاں گذرتے گذرتے انھوں نے اپنی جگہ قائم کر لی۔ یہ وہی شعرا تھے جن کے محسوسات نئے تھے لیکن جنھوں نے اپنے محسوسات اور تجربات کو کسی خارجی حوالے کا پابند نہ کیا تھا۔
جمیل الرحمٰن بے شک سنہ 1980ع کی دہائی کے انھیں شعرا میں ہیں جن کا تجربۂ حیات، غزل کے تئیں جن کا رویّہ، اور جن کے مضامینِ شعر، سنہ 1960ع کی دہائی کے شعرا سے مختلف ہیں۔ استعارہ، اور اس سے بڑھ کر پیکر، ان کی کشت زارِ شعر کے نمایاں پھول ہیں۔ اور ان پھولوں کو ترکِ وطن، محبّت کی تلاش، معاصر دنیا میں سکون کی اُمّید اور نااُمّیدی کے اظہار کا پردہ ٹھہرایا گیا ہے۔ دُور نہ جا کر جمیل الرحمٰن کے اس تازہ مجموعے ہی کی سرسری ورق گردانی کریں تو ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں محزونی کو ایک پیچیدہ تجربے کے طور پر بیان کِیا گیا ہے، صرف ایک صُورتِ حالات کے طور پر نہیں۔ مثال کے طور پر کتاب کے نام ہی کو لیں’کُوے بازگشت‘، جو اس کا سرنامہ بھی ہے:
ہم پر کھلا یہ راز بھی اس کوے بازگشت میں
کوئی صدا نئی نہیں کوئی سخُن نیا نہیں
’کوے بازگشت‘ ایک طرف تو تمام شاعری کا استعارہ ہے، کہ یہاں جو کُچھ ہے وہ سب پہلے کہا جا چُکا ہے، لیکن دوسری طرف یہ واپسی کا بھی استعارہ ہے، کہ متکلّم جب دنیا گھوم کر اپنی گلی میں واپس آتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ درد کی صدائیں جنھیں سنتا ہوا وہ اپنی گلی سے باہر نکلا تھا وہی صدائیں باہر بھی تھیں۔ شعر میں ”صدا“ اور ”سخُن“ الگ الگ معنی رکھتے ہیں۔ تیسرا پہلو یہ ہے کہ متکلّم واپس تو آجاتا ہے، اگرچہ وہ دراصل کسی چیز کی تلاش میں، یا کسی مجبوری کے باعث، اپنی گلی سے نکلا تھا اور اس کی بازگشت بظاہر ممکن نہ تھی۔ لیکن وہ واپس آیا، خواہ اس بنجر بصیرت کے ساتھ کہ ہر چیز ہر جگہ ایک سی ہے۔ اسی غزل کا مقطع دیکھیے:
ہم نے جمیل کا ٹ دی اک عمر اس کے روبرو
اصرارہے اسے مگر وہ ہم سے آشنا نہیں
یہ محض عشقیہ شعر نہیں ہے، یا یوں کہیں کہ یہ عشقیہ شعر ہے لیکن غمِ ذات کے کئی اور پہلوؤں کو محیط ہے۔ پہلے کے شعرا کا محبوب موضوع یہ تھا کہ محبوب کے روبرو یا اس کے قریب رہتے ہوئے بھی متکلّم کو تنہائی یا محرومی کا احساس ہوتا ہے۔ اس مضمون پر بیدل کا شعر زباں زدِ خاص و عام ہے:
ہمہ عمر باتو قدح زدیم و نرفتِ رنجِ خمار ما
چہ قیامتی کہ نمی رسی زکنارِ ما بکنار ما
ہمارے زمانے میں خلیل الرحمٰن اعظمی نے اسے بڑے سادہ اور پرکار انداز میں کہا:
ایسی راتیں بھی ہم پہ گذری ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
جمیل الرحمٰن کے شعر زیرِ بحث میں، معشوق کے پہلو میں، یا معشوق کے آغوش میں ہوتے ہوئے بھی متکلّم کے تنہا ہونے کی بات نہیں۔ یہاں اس سے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ معشوق کو متکلّم کی صورت آشنائی سے بھی انکار ہے۔ اب معنی کا اگلا قدم یہ ہے کہ صورت آشنائی سے انکار کرنے والی یہ ہستی معشُوق بھی ہو سکتا ہے یا یہ کوئی بھی ایسی ہستی ہو سکتی ہے جِس سے کسی بھی قسم کی توقّع ہو۔ اس طرح، صورت آشنائی سے انکاری ہونے کا یہ کنایہ سیاسی بھی ہو سکتا ہے، فلسفیانہ بھی ہو سکتا ہے، یا زندگی کے کسی بھی شعبے پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ معشوق کہہ رہا ہو، ہم نے تمھیں زندگی بھریہاں پڑے ہوئے دیکھا تو ہے لیکن اصلاً تم کیا ہو اور کون ہو، یہ ہمیں ابھی تک نہ معلوم ہو سکا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ صورت آشنائی ہونے سے انکار کرنے والی ہستی در حقیقت موجود ہی نہ ہو، یا موجود ہو لیکن متکلّم نے اس سے کُچھ کہنے کی ہمّت نہ کی ہو، جیسا کہ جمیل الرحمٰن کے اس شعر میں ہے:
دل کی پکار گنبدِ بے در میں رہ گئی
فریاد گونج بن کے مرے سر میں رہ گئی
اپنے وجود کے لیے ’گنبدِ بے در‘ کا استعاراتی پیکر کس قدر مناسب ہے، یہ کہنے کی ضُرُورت نہیں۔ ’سر‘ اور ’گنبدِ بے در‘ کی مناسبت بھی خوب ہے۔
’سخُن‘ اور ’فریاد‘ کے مضمون کو جمیل الرحمٰن نے کئی بار کھنگالا ہے اور ہر بار نئے پہلو سے۔ میں اسے ان کے تجربۂ حیات کے مرکزی شناخت ناموں میں قراردوں تو غلط نہ ہو گا:
کرتا ہے ابر و باد سے کیا کیا سخُن عجب
اک سنگ ستاں ترے در پر پڑا ہوا
…………
نمازِ عشق ادا کی اگرچہ مُہربلب
جمیل سجدے میں باتیں ہزار کر آئے
…………
اب تک اسی کی گونج میں لپٹا ہوا ہُوں میں
اک عُمر ہو گئی ہے کسی کو صدا دیے
گونج میں لپٹا ہوا رہ جانے کا پیکر بدیع بھی ہے اور معنی خیز بھی، کیوں کہ گونج غیر مرئی ہونے کے باوجود طاقت ور ہوتی ہے اور کسی چیز میں لپٹا ہوا شخص نقل و حرکت کی آزادی کھو دیتا ہے۔
اس گلی میں ایسے روئے حشر برپا کر دِیا
کم نما ہے وہ تو اپنی بے کلی بھی کم نہیں
یہ شعر میر کی سی خود نگری اور خود شناسی رکھتا ہے۔ اس شعر پر میر کُچھ اس لیے بھی یاد آتے ہیں کہ ’کم نما‘ کی ترکیب میر ہی کی ہے۔(دِیوانِ سوم)
وہ کم نما و دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
میر کے شعر میں عِشق کی نارسائی کو ہنس کر قبول کرنے، بل کہ اسے سہل بنانے کی ادا ہے (معشوق کم نما ہے لیکن اس کے چاہنے والے کا حال ظاہر ہے)، جمیل الرحمٰن کے شعر میں معشوق (یا دنیا) پر بازی لے جانے کی ادا ہے۔ ذیل کے شعروں میں متکلّم نے اپنی فریاد (یا صدا، یا سخُن) کی نارسائی کے تجربے کو ڈرامے اور افسانے، بل کہ ایک مُسلسل گذرتی ہوئی فلم کے رنگ میں پیش کیا ہے:
آہوے دشت کے ساتھ کہیں تو پھرتا رہتا ہے مستی میں
اور ترے مسافر دِن بھر تجھے پکار کے سو جاتے ہیں
میں ساحل پر اتر کے ان کو دیتا ہوں آواز جمیل اب
لوگ جلا کر دیے گھروں میں دریا پار کے سو جاتے ہیں
ان دونوں شعروں میں تجربہ اور استعارہ دونوں نئے ہیں۔ ایسے ہی شعروں کی بدولت جمیل الرحمٰن دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم لوگ سنہ 1960ع کی دہائی والوں کے وارث بھی ہیں اور ان کی توسیع بھی ہیں۔
نارسائی اور تلاش کے کئی استعارے جمیل الرحمٰن کی غزل میں ملتے ہیں۔ اور بعض شعروں میں خود یہ نارسائی ایک کائناتی حقیقت کا استعارہ بن جاتی ہے:
ہم جمیل آسمان کے ڈر سے
اب زمیں کے بھی ہو نہیں سکتے
…………
مکمل کر سکے جو سب کی دنیا
وہ کیا ہے اور وہ آئے گا کہاں سے
…………
وہیں سے داستاں الجھی ہوئی ہے
رہا ہوتی ہے شہزادی جہاں سے
دوسرے شعر میں وہی کائناتی حقیقت ہے کہ شہزادی (شاید The Sleeping Beauty) کو قید اور نیند سے آزاد کرانے والے پھر نارسائی یا تلاش کی کسی نئی بُھول بھلیّاں میں پھنس جاتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ بھی ہوتا ہے کہ شہزادی کو خطرات سے چھپائے رہنے کی کوشِش میں ناکامی کا خدشۂ روح فرسا ہونے لگتا ہے:
کہاں چھپائیں یہ جنگل پہاڑ دریا ہم
زمیں ہے نرغۂ دُشمن میں اور تنہا ہم
اس شعر میں زمین اور زمین کی چیزیں دولتِ حُسن کا استعارہ بھی ہیں، دولتِ عشق کا بھی اور سیدھے سادے لفظوں میں ماحول کی آلودگی کے خلاف احتجاج کا وسیلہ بھی اور کبھی کبھی یُوں بھی ہو سکتا ہے کہ منزل سے زیادہ وہ لوگ اہم ہو جاتے ہیں جو منزل کی تلاش میں کھو گئے:
اب راحت منزل بھی درماں نہیں کلفت کا
کھوئے ہوئے مل جائیں تو رنجِ سفر جائے
لیکن یہ کھوئے ہوئے رہرو مل نہیں سکتے۔ اس کے لیے انتظارحُسین کے افسانے بھی دلیل ہیں اور ظہوری اور نظیری کے یہ شعر بھی:
استخواں ہاے سالکاں نہ گزاشت
رہرواں را بہ راہبر محتاج
اب نظیری کو سُنیے:
زاستخواں شہیداں اگر نمی خیزد دود
دلیلِ راہرواں کس دریں بیاباں نیست
ظاہر ہے کہ ظہوری اور نظیری جیسا سرد، کائناتی ڈرامے سے بھرپور لہجہ اور مسافروں کے خُشک یا جلتے ہوئے استخوانوں جیسا پیکر جمیل الرحمٰن کے یہاں نہیں، ٹی۔ایس۔ایلیٹ کے یہاں مِل سکتا ہے:
I thnik we are in rat’s alley
Where dead men lost their bones.
(The Waste Land: A Game of Chess)
لیکن جِس طرح غالب نے تفتہ کو مبارک دِی تھی کہ تمھیں ایک مصرعے میں شوکت بخاری سے توارد ہوا اور یہ بات تمھارے لیے باعثِ فخر ہے کہ جہاں شوکت بخاری پہنچا وہاں تم پہنچے، اسی طرح ہم جمیل الرحمٰن سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پیش روؤں میں ظہوری اور نظیری بھی ہیں اور ٹی۔ایس۔ایلیٹ بھی۔ جمیل الرحمٰن ان سے بہت پیچھے ہیں لیکن راہ تینوں کی ایک ہے۔
نارسائی کی ایک اور کیفیت جِس میں سخن کی نارسائی بھی شامل ہے، حسبِ ذیل شعر میں دیکھیے:
وہ آرزو ہی کبھی دل پہ مُنکشف نہ ہوئی
کہیں کا رکھا نہیں جِس نے رنج وراحت میں
پھر اس کے ساتھ یہ دو شعر بھی رکھیے اور دیکھیے کہ ایک استعارہ کتنی دُور تک جا سکتا ہے:
عُمر بھر رکھا مسافت میں تحیّر نے ہمیں
اور عدم کی سمت بھی شوقِ نظارہ لے گیا
اپنی تنہائی سمیٹی پھر سوادِ شہر سے
رات ہوتے ہی اسے میں گھر دوبارہ لے گیا
جانوروں اور رنگوں پر مبنی پیکروں سے شغف جمیل الرحمٰن کی غزل کو ایک اور طرح کی تازگی بخش دیتا ہے:
ایڑی پہ سانپ کیسے ڈسے اس کی چال دیکھ
پاپوش میں ہے جِس کی زمرد جڑا ہوا
…………
سفید پھول ہرے پتے قرمزی شاخیں
دھنک میں دھو کے شجر کو نہال کس نے کیا
…………
کبھی یاقوت و مرجاں سے بدل لینا زمرد کو
کبھی سلکِ گہر بادیدۂ تر دیکھتے رہنا
…………
برف کی چھت موم کے در کا نچ کی دیوار ہے
پھر بھی ایند ھن بھر لیا ہے گھر کے آتش دان میں
…………
جہاں سے لائی تھی اک فاختہ زیتون کی ٹہنی
وہ جنگل تو کبھی کا راکھ ہو کر کھو گیا پیارے
…………
کھول کے وہ اک دُکھ کے در سناٹے میں
جگنو تتلی مور کی چیخیں سنتا ہے
…………
جس عُمر میں چرا کے ہوا خواب لے گئی
پھیلا رہی تھیں تتلیاں آنچل گلاب پر
جمیل الرحمٰن کی غزل میں دو قریباً متضاد مضامین، یا زندگی کے دو متضاد تجربے یکساں جاری و ساری نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو محبّت کی تلاش ہے اور محبّت کے نہ ہونے پر تاسُّف اور تعجّب ہے، اور دُوسری طرف محبّت کے رایگاں ہونے، یعنی محبّت کے ذریعہ کُچھ کر نہ بننے کا رنج۔ یہ بھی جدید شاعر کے المیے کا ایک پہلو ہے کہ وہ جِس چیز کو مداوا سمجھتا ہے وہ خود ایک نیا مرض لے کے آتی ہے:
کس کس کی رگِ جاں میں سرایت نہیں کرتے
یہ غم تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے
کرتے ہیں وہ کس طرح حسابِ غمِ ہستی
کیا کرتے ہیں جو لوگ محبّت نہیں کرتے
ہم دائرہ پیماﺅں کی تقدیر ہے چلنا
ہم خیمے لگا کر بھی اقامت نہیں کرتے
…………
کھرے عاشق ہیں لیکن عشق کھوٹا
جُنُوں اپنا تماشا ہے انا کا
…………
پھر جینے میں وہ ڈھنگ کسی طور نہ آیا
صدحیف کسی سمت بھی لاہور نہ آیا
…………
مگر اسباب وخواب اپنے پُرانے
سفر ہر بار کرتا ہوں نیا میں
اس مجموعے میں اچھے اور تازہ کاری سے بھرے ہوئے اشعار اس کثرت سے ہیں کہ جی چاہتا ہے سارا مضمون اشعار ہی سے بھر دیا جائے۔ لیکن پھر آپ کے پڑھنے کے لیے کیا رہے گا؟ لہٰذا یہیں پر سخن تمام کرتا ہُوں۔
شمس الرحمٰن فاروقی
الٰہ آباد
اگست2008ع
۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “کُوے بازگشت”

Your email address will not be published. Required fields are marked *