Description
جمیل الرحمٰن کی تخلیقی وابستگی کا نمونہ: کارنیوال
جمیل الرحمٰن کی ہر نظم اُن کی غزلوں کے اشعار کی طرح کِسی داستان کا انگ ہے، کِسی کہانی کا رنگ ہے، اور خلّاق شاعر کے کلام کی اُمنگ ہے۔ اُن کی شاعری کی ہیئتِ ترکیبی ”کتابِ محبت کا ایک ورق“ اور ”مَیں شاعر ہُوں“ سے جھلکتی ہے۔ جمیل الرحمٰن دیگر حوالوں کے علاوہ اِس اِعتبار سے بھی اہم شاعر ہیں کہ اُنھوں نے داستانی اور چیستانی غنائیت کے متوازی تاریخی اور معروضی ایمائیت کو بھی تخلیقی ترجیح دی ہے۔ جہاں تک اِس مجموعے کی عُنوانی نظم کا تعلُّق ہے، Rosenmontag کہلانے والا اِمتیازی دِن جرمن تمدُّن میں وومینز کارنیوال یا سٹریٹ کارنیوال ”راکھ کے دِن“ سے قبل کا طویل جشن 11 نومبر کی صبح 11 بج کر 11 منٹ پر آغاز ہوتا ہے۔ جوش و خروش سے بھرپور یہ بڑے جُلُوس سبھی کے لیے خوشی کا باعث نہِیں ہوتے، جمیل الرحمٰن بھی اِس کے رنگ برنگے چڑیلوں جیسے مضحکہ خیز ملبوسات پر یقین نہیں رکھتے۔ ہر فرد اپنی اِنفرادی شناخت تج کر، کوئی دِلچسپ رُوپ دھار کر اِس میلے کے طُول طویل دھارے میں شامل ہوتا ہے، طنزیہ فلوٹس بنانے والے پیشہ وروں کی صلاحیّتوں کا جادُو جاگتا ہے۔ تاہم بعض لوگ نظریاتی اِعتبار سے اِتنے حسّاس ہوتے ہیں کہ اُنھیں مزاح برداشت کرنے کی سکت یا عادت نہیں ہوتی۔ چاکلیٹ، ٹافیوں اور پُھولوں کی مُوسلا دھار برسات میں جب ہر نوع کے اِنسانی جذبات کی طرح مذہبی جذبات بھی مزاح و مضحک کا نشانہ بنیں تو بسا اوقات نقصان کے اسباب کا شاخسانہ ٹھہرتے ہیں۔ کیتھولک روایات سے قبل رومن غُلاموں کو اُن کے آقا مسیحی صیام سے قبل منگل کو یہ جشن منانے کی اِجازت دیتے ہوئے اُنھیں ”ایک دِن کا آقا“ بنا دیتے تھے۔ غالباً یہی وَجہ ہے کہ مسیحی ”ِمِیٹ فیئر ویل“ منانے کے بجاے، کہ اگلے چالیس روز کے دوران میں اُنھیں گوشت خوری کی ممانعت ہے، وہ اپنے نسل در نسل آقاﺅں کا تمسخر اُڑانے کی بھونڈی کاوش انجام دیتے ہیں۔ دراصل اِنفرادیت، عالمگیریت اور آفاقیت کی ابعادِ ثُلاثہ ہی جمیل الرحمٰن کی رُمُوزِ تخلیقیت ہیں۔ تکنیک، فارم اور شُعُوری تخیّل کی ریاضت پر مبنی اقدار مُعاصر عالمی ادب کا حقیقی اثاثہ ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا، اِنٹرنیٹ اورہم آہنگی سے متعلق مُکالمے کے ذریعے سے اب ہر مُلک، مذہب اور نظریّے پر مبنی تہذیب و ثقافت ہُوبہُو، مِلتی جُلتی اور ایک دُوسرے سے برق رفتار، تیر بہدف اثر قُبُول کرنے والی ہیں۔ جمیل الرحمٰن کے تخلیق آفریں تخیل کے مُطابِق مسرّت آمیز کریہہ چیخوں سے گُونجتے لاشوں کے کارنیوال کے راستے میں اب فاختائیں پر نہیں بِچھاتیں اور کبُوتردانہ نہیں چُگتے۔ اِس صُورتِ حالات میں شاعر کو مضحکہ خیز رنگ برنگے کپڑوں اور پُراسرار نقابوں میں مسخ شُدہ ڈھانچوں کا جشن منانا ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اُسے بخوبی عِلم ہے کہ گِیتوں کے لفظوں کی سیاہی کِسی صبح کو جنم نہیں دیتی، یعنی مُردہ لب گِیتوں کے سُنہری لفظوں کی روشنی چُوس کر ٹھہری ہوئی رات کو دوام بخشتے ہیں۔ اِس لینڈ سکیپ میں غیرمرئی دُھند میں اَٹے راستے ہیں اور گِیتوں میں ٹُوٹے ہوئے سِتارے گُونج رہے ہیں۔ شاعر اپنے فلیٹ کی بالکونی میں بیٹھا، کپڑوں میں تِلملاتے کِیڑوں سے چُھٹکارا پانے اور کارنیوال کے گذرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ نظم شاعر کی نراجیت یا مغایرت کا مظہر نہیں، بل کہ غیرمہذّب ہُجُوم میں اِنجذاب سے گُریز اور اِنفرادی تشخّص کی آرزُو سے مملُو ہے۔ جمیل الرحمٰن کا شاعرانہ طرزِ احساس ایسی روشن فکری اور شخصی آزادی کا آئینہ دار ہے، جو فرد کی روحانی اور مادّی سچّائی، رواداری، برداشت اور صُلحِ کُل سے ترکیب و ترتیب یافتہ ہے۔ جمیل الرحمٰن نے اپنی مثالی اقدار کا اِظہار اپنی نظم ”مَیلے کپڑوں کی گٹھڑی“ میں کِیا ہے۔ مِٹی ہوئی تہذیب کے غبار سے آلُودہ جلاوطن شہزادہ ”علی بابا“ اُن خزانوں کا در کھولنے کا اِسم بُھول گیا ہے، جو نہایت سفّاکی سے قتل کیے گئے بے نوا لوگوں کی امانت تھا۔ یعنی شرافت، حیا، برداشت و رواداری اور ہم جِنسوں کے احترام کا خزانہ، جو نہ صِرف اُن کی ریاضتِ فن کی جمع پُونجی ہے بل کہ اُن کے مُعاصرین اور نسلِ فردا کے لیے ورثہ بھی۔ اِسی طرح نظم ”دُوسرا آدمی“ میں طالع آزما مُقتدر اَمن و مصلحت کی آڑ میں عِزّت و آزادی سمیت اپنا سب کُچھ رہن رکھ سکتا ہے، جب کہ چیونٹیوں جیسے لوگ اپنے پکّے ہوئے پھل باغات سے اُتارنے اور سودا کرنے سے پہلے ہی موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اِسی اخلاقیات کے خمیر سے تخلیق پانے والی نظم ”دیکھ! مَیں سیب نہیں کھا سکتا“ میں شاعر آگاہ ہے کہ ہر جان اپنے اعمال کا بوجھ خود اُٹھائے گی۔ اُسے جِدھر بھُوک کھینچ لائی ہے، اُدھر پانی کا گُناہ سیبوں کی خوشبو میں گھُل رہا ہے۔ اِس اثنا شاعر ممنُوع رستے میں آئینوں کے درمیان خواب اور خواہش کو ضمیر کی میزان میں تُلتے دیکھتا ہے، اور اب وہاں کوئی نہیں ہے سِواے سیب کے پیڑوں کے، مگر وہ یہ سیب نہیں کھا سکتا۔ اِس نظم میں بے راہ روی سے مُنہ موڑنے اور تزکیۂ نفس کی ایسی تمثیل مُہیّا ہوتی ہے جو قاری کو عظیم تخلیقی عمل کے جلیل القدر احساس سے متمتّع کرتی ہے۔
”نئی کہانی“کی وساطت سے جمیل الرحمٰن نے گلوبل ویلیج کی ترقّی یافتہ سماج کی تاریک ترین صُورتِ حالات کا منظر بیان کِیا ہے، کہ دشتِ طِلِسمات سے لَوٹنے والے سپاہی دیوانِ خاص میں باریابی کے منتظر ہیں۔ شہزادی اپنی خواب گاہ میں ایک اور قوی ہیکل غُلام کو قتل کر کے حمّام میں ہاتھ دھو رہی ہے۔ سفید ہرنوں کی قطار اپنے جسموں میں ٹُوٹے ہوئے تِیر لیے راج محل کے دروازے پر اِستادہ ہے، جن کے سبھی شکاریوں کی صُورت ایک ہی تھی، ہُو بہُو شہزادی جیسی۔ اِس جدید غُلام ساز نظام میں انسانی شکار اور استحصال کو منصّۂ شہود پر لاتے ہوئے شاعر نے یہ محاکمہ کِیا ہے کہ جب تک شہزادی کے ہاتھ سے تازہ خُون کے دھبّے نہیں چھُوٹتے، سِتارۂ صبح اور سُورج کی مُلاقات کا کوئی اِمکان نہیں ہے۔ یعنی اِنسانی زِندگی کا کوئی خواب سچّا نہیں، نہ ہی کِسی تعبیر کے واضح ہونے کا کوئی یقینی اِمکان ہے۔ جمیل الرحمٰن نے جہاں مُزاحمتی پیش بِینی کو لطافت میں سمو دیا ہے، وہاں ما قبل تاریخ سی مُعاصر سفّاکانہ ہلاکت خیزیوں کو مابعد جدیدیت کے رنگ میں پیش کِیا ہے۔ ”سمن آرڈر“برِّصغیر کی مردانہ اور غیر منصفانہ مُعاشرت کے تیزاب سے جُھلسے ہوئے چہرے کو فن کارانہ چابُک دستی سے بے نقاب کرنے والی عُمدہ نظم ہے۔ جو حُصُولِ عدل کی خاطر کیے جانے والے مُقدّمات کو مُسلسل معرضِ اِلتوا میں رکھنے کی مذموم حِکمتِ عملی کا منظر نامہ پیش کرتی ہے۔ ”شادی“، ”فالسے چُنتے ہوئے ایک سانحہ“، ”فلُو“، ”آدھے آدمی کا پورا گلاس“ اور ”بلیک ہول کے نکلنے سے پہلے“ سمیت اُن کی متعدد نظمیں ہماری ترقّی یافتہ دُنیا کے پس ماندہ ضمیر کو جھنجوڑنے، جگانے کے لیے شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔ مُجھ ایسے ناقدین کی راے جمیل الرحمٰن جیسے شاعر کو مزید بڑا نہیں بنا سکتی، کہ وہ پیدایشی اور فطری طور ہی اہم شاعر ہیں۔ غزل، پابند اور آزاد نظم کے مانند جمیل الرحمٰن کی غیر عروضی نظموں میں جو محاکات، تلمیحات، علامات، استعارے اور تلازماتی نظام متشکّل ہُوا ہے، اُسے ہمارے برپا ادبی تناظُر میں پیش پا اُفتادہ تصوُّر تک نہیں کِیا جا سکتا، بِلاشُبہ ”کارنیوال“ میں شامل 56 نظموں کی شاعری میں غیرمعمولی تخلیقی تجرِبات ہویدا ہوئے ہیں، جو قارئین کی ذِہنی اُپج کو بہتر بنانے پر قادر ہونے کے علاوہ اردو شاعری کو جدید ادبِ عالم کی صف میں کھڑا ہونے کا حق دار منواتے ہیں۔ تاریخِ شاعری کے اوراقِ مصوّر پر فقط جمیل الرحمٰن جیسے معدودے چند خلّاقِ مشّاق ہی سنہری حُرُوف سے تذکرے کے لیے بچ رہتے ہیں جو اپنے آپ کو تجارتی اور تشہیری ہنگاموں کی بھاڑ میں جھونکنے سے مامون پاتے ہیں اور چُپکے چُپکے مقصدی مُستعدّی سے اِنفرادی، اِجتماعی، عالمی اور آفاقی اقدار کی اُستواری کے لیے تخلیقی عمل سے وابستہ رہے ہیں، کہ واقعتاً تخلیقی وابستگی ہی شہرتِ عام اور حیاتِ دوام ہے۔
اظہر غوری
سیکرٹری رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور





Reviews
There are no reviews yet.