Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

ایک مُسَلسَل

250.00

Category:

Description

اُردُو اَدَب کا مہاتما بُودھ

مُنیر نیازی اُردُو اَدَب کے مہاتما بُودھ ہیں، اُن کی شاعری کے مُطالعے سے جہاں کئی دیگر شعری عُقدے وا ہوتے ہیں، وہاں یہ مُعاملہ بھی کُھلتا ہے کہ خواہ جتنے بھی جتنوں سے کتنے ہی تنقیدی معیارات کیوں نہ قائم کر دیے جائیں، مگر تخلیقی شاعری کا ترکیبی عمل مُکمَّل بیان کرنا مُمکن نہیں۔ وُہ ہمہ وقت مہاتما بُودھ کے مانند فِکر میں مُستغرق اور مُنہمک رہتے ہیں، اور ہر خیال کے لیے اِس قدر ریاضت کرتے ہیں کہ سبھی جانے اَن جانے تصوُّرات مُرتکز و مُنکشف ہو جاتے ہیں، یعنی ہر ایک کے دِل کو لگنے والے کثیرالجہات تخیّلات، عکس، حُسنِ نظر، الوان، رنجشیں، آرزُوئیں، تاثُّرات، احساسات، کیفیات، دیرینہ وابستگیاں اور وتیرے شاعر کے ہی دِل میں آ کر مُجتمع ہو جاتے ہیں۔ شاید شاعر کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ وُہ کیا کہہ اور لِکھ رہا ہے۔ شاعری کا بُنیادی مُحرّک یا نُکتہ کِسی یاد اور کِسی بیتے ہُوئے پَل کی غیرواضح صُورت میں شاعر کے اندر کہیں ہوتا ہے۔ گو مُنیرنیازی جیسے شاعر پر کسی مقررہ تنقیدی ضابطے کا اِنطباق نہیں ہو سکتا، پِھر بھی ایسا کہا جا سکتا ہے کہ اِس شاعری میں برگد سے بھی گھنی اِنفرادیت پسندی ہے، صُوفیہ سے بھی گہرا تصوُّف ہے، کِسی عاشقِ صادق سے بھی زیادہ جذباتیت ہے، اور کِسی صاحبِ جمالیات سے بھی بہتر مناظرِ فِطرت سے دِلچسپی ہے۔ بے شک مُنیرنیازی کی شاعری پر کوئی بندھا ٹِکا فلسفہ لاگو نہیں ہوتا، تاہم اِس میں سے کوئی نہ کوئی نیا فلسفہ ضرور برآمد ہوتا ہے کہ فلسفیانہ تصوّریت اور مثالیت مُنیر نیازی کا خاصّہ ہے۔ ”ایک مُسَلسَل“ جیسی شعری جِدّت طرازی کہیں فِطرت پرستی اور پُرجوش جذبات کے بے ساختہ اظہار کے وفور کی عکّاس ہے، تو کہیں اِس میں نرگسیت، انانیت اور انفرادیت پسندی جھلکتی ہے، اور کہیں جبِلّی طرزِ عمل اور غیرمتمدّن فِطری زِندگی سے دِلچسپی عیاں ہے۔ چاہے تخیّل کی فراوانی کا یہ مرقّع شُعُور پر وِجدان کی ترجیح کے حق میں ہے، بہرحال مُنیر نیازی نے نوکلاسیکی رُجحانات اور ہر طرح کے قواعد و قوانین سے بغاوت کرنے کے بجاے اُن کی نشوونُما اور توسیع کے عمل میں لاشُعُوری طریق پر بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کِیا۔ بیش تر محدُود نُقطۂ نظر کے ناقدین مُنیرنیازی کی شاعری کے وسیع تر ارضی مناظر میں چپّا چپّا جُگنُو کی طرح جگمگاتے غیرمنظّم، عجیب و غریب، وحشی عناصر میں جھلکتی کشش خیزی اور تحیّرانگیزی کو ہی رومانیت سے مملُو قرار دیتے رہے ہیں۔ حال آں کہ اِس طرح کی متخیّلہ تخریبی ماحول سے آزادی حاصل کرنے اور تخلیقی عمل سے جُڑنے کی جِدّوجُہد کا حِصّہ ہے۔ اِسی لیے مَیں اُنھیں اُردُو اَدَب کا مہاتما بُودھ تصوُّر کرتا ہُوں کہ جب وُہ سب کُچھ تج چُکا، تو اُس نے مُعترضین سے کہا، ”تُمھارے گلے شِکوے سِدھارتھ سے ہیں، اور اب مَیں وُہ نہیں ہُوں۔“ یُوں ہی مُنیرنیازی ایک تخلیقی شاعر کے منصب پر فائز ہو کر کِسی بھی نقّاد کے سامنے جواب دِہ نہیں ہیں۔
اظہر غوری
سیکرٹری
رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور
۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “ایک مُسَلسَل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *