Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

طلاق

500.00

Description

حرفِ اوّل

یہ 1987ع کا ذِکر ہے، مَیں اُن دِنوں وہاڑی میں محکمانہ فرائضِ منصبی سرانجام دے رہا تھا۔ دفتر کا ایک ساتھی، جو لاہور میں میرے ساتھ کام کر چُکا تھا….، ہر وقت پریشان اور گُم صُم دِکھائی دیتا تھا۔ مَیں نے وجہ پُوچھی تو پہلے پہل اُس نے ٹالنے کی کوشِش کی۔ پھر میرے خُلُوص اور نیک نیّتی پر مبنی اِصرار کو دیکھتے ہُوئے ایک دِن اُس نے اپنی پریشانی میرے سامنے بِلا کم و کاست بیان کر دی۔

وہ غریب کہِیں غُصّے میں آ کر اپنی بیوی کو تین بار طلاق، طلاق، طلاق کَہہ بیٹھا تھا۔ اب اُس کی بیوی میکے میں تھی، اور وُہ اکیلا اپنے گھر میں بیوی اور بچّوں کو یاد کرتا اور اپنے آپ کو کوستا رہتا تھا۔ مولوی حضرات اُسے یہ کہتے تھے کہ اُس کی بیوی کو پکّی طلاق (طلاقِ بائن) ہوچُکی ہے، اور وُہ رُجُوع کرنے کا کوئی اِختیار نہیں رکھتا، مگر یہ کہ وُہ پہلے اپنی بیوی کا ”حلالہ“ کروائے اور بعد از ”حلالہ“ دُوسرے شوہر سے اُس کی طلاق حاصل کرے، پھر اُس کی عِدّت پُوری ہونے کا اِنتظار کرے اور پھر کہِیں وُہ مرحلہ آئے گا کہ جب وُہ اُس سے دوبارہ نکاح کر کے اُسے اپنے گھر میں لا سکے گا۔

یہ سب کچھ بتا کر اُس نے اِنتہائی دُکھ اور کرب کے ساتھ یُوں اِستفسار کِیا: ”یُوسُف صاحب! آپ ہی بتائیں بھلا یہ حلالے جیسی بے غیرتی والا کام کوئی ہوش و حواس کے عالَم میں کرسکتا ہے؟ کون ایسی بے عزّتی کو برداشت کرسکتا ہے؟؟ یہ کیسا دِین ہے اور یہ کیسا اِسلام ہے، جو سلامتی کے بجاے ننگِ اِنسانیّت بے آبروئی کا حُکم دیتا ہے“؟ وُہ ایک دم کسی آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا۔

جواباً مَیں نے اُسے سورہ البقرہ کی آیاتِ طلاق مع ترجمہ پڑھ کر سُنائیں، اور اُس پر یہ حقیقت واضح کی کہ قُرآنی نصاب کے مُطابق اُس کی بیوی کو طلاق ہُوئی ہی نہیں، لہٰذا وُہ جائے اور فوراً اپنی بیوی کو اُس کے میکے سے واپس لے آئے اور بال بچّوں کے ساتھ نئی زِندگی کا آغاز کرے۔ لیکن آیندہ کبھی مولوی حضرات کے غچےّ میں نہ آئے، اور جُملہ دِینی مُعامَلات میں قُرآن سے براہِ راست راہنُمائی حاصل کرے، اور بعد از قُرآن، عملِ رسُول یعنی ”سُنّت“ کو پیشِ نظر رکھّے اور بس!…. یہی صِراطِ مُستقیم ہے۔

بات…. اُس کی سمجھ میں آگئی۔ وُہ تھا تو حنفی العقیدہ، مگر تھا راست باز…. رشوت اور بددیانتی سے دُور بھاگنے والا…. سو اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ نے اُسے ”حلالہ“ کی شرمناک ذِلّت سے بچا لیا…. وُہ آج بھی مُلتان میں اپنے بیوی بچّوں کے ساتھ آباد و شاد ہے اور شاید یہ اُسی مہربان کی دُعاؤں کا نتیجہ ہے کہ مَیں آہستہ آہستہ دِین کی طرف مُتوجِہ ہوتا چلا گیا…. اور الحمدللہ ربّ العالمین! آج مُکمَّل سنجیدگی کے ساتھ، اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ کے جاریہ فضل و کرم کی بہ دولت پُوری طری مُتوجِہ ہُوں اور ان شاءاللہ ہمیشہ رہُوں گا۔

اِس طرح…. موصُوف کی بِپتا سے آگاہی کے نتیجے میں….فِقہ کی چیرہ دستی سے میرا باقاعدہ آمنا سامنا ہو گیا۔ تین سال تک تو خیر مَیں غافل ہی رہا، مگر 1990ع میں والدِ مُحترم کی وفات نے جیسے مُجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا۔ اُس وقت سے لے کر تادمِ تحریر مَیں اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ کی رہنُمائی میں دِین اور مُبادیاتِ دِین کو بشمُول فِقہ سمجھنے کی کوشِش کر رہا ہُوں۔ فِقہ کے شُعبے میں میری پہلی تحقیق و تصنیف ”حلالہ؟“ ہے، جِس کے دو ایڈیشن آپ تک پَہُنچ چکے ہیں اور اللہ سُبحانہٗ وتعالیٰ کے فضل و کرم سے قلبی قبولیّتِ عام حاصل کر چُکے ہیں اور…. مذکُورہ دفتری ساتھی کی طرح مُلک بھر میں بیسیوں گھرانے ”حلالے“ کی آفت سے محفُوظ و مامون ہوچکے ہیں اور یہ سِلسِلہ بدستُور جاری ہے۔ تاہم مُجھے اِنتظار اُس دِن کا ہے، جب ”حلالہ“ کو قابلِ دست اندازی (COGNIZABLE) اور ناقابلِ ضمانت (NON-BAILABLE) فوجداری جُرم قرار دیا جائے گا۔

”طلاق؟“ فِقہ کے شُعبے میں میری دُوسری تحقیق و تصنیف ہے۔ تحقیق (RESEARCH) کی زُبان دراصل بڑی خُشک اور سپاٹ بل کہ بے رُوح (SPIRITLESS) ہوتی ہے، لیکن دِین سے ہمارا تعلُّق جِسمانی اور روحانی دونوں سطحوں پر ہے اور دُنیا و آخرت…. دونوں جہانوں میں ہے۔ لہٰذا دِینی تحریر میں اِس دوگُونہ تعلُّقِ خاطر کی خُوشبُو…. ضُرُور شامل ہونی چاہیے، تاکہ بات ”از دِل خیزد و بر دِل ریزد “ کے مِصداق آسانی سے اپنی جگہ فطری انداز میں بنا سکے۔ لہٰذا گُذشتہ کی طرح موجُودہ اور موجُودہ کی طرح آیندہ آنے والی ہر تحقیق بھی اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ کے فضل و کرم سے خالی خولی تحقیق کے بجاے برگ و بار والی اور رنگ و خُوشبُو والی تحقیق و تصنیف ہوگی، جو ان شاءاللہ:

”الدِّینُ کُلُّہٗ اَدَبٌ“

”دِین، سارے کا سارا، ادب ہے“۔

کے تسلیم شُدہ مُحاکمے (THESIS) کی آئینہ دار ہوگی…. اور آپ اگر مُجھے اجازت دیں تو مَیں یہ بھی عرض کرتا چلُوں کہ زُبان و ادب کا جو معیار…. ” قُرآن“نے مُتعارف کرایا ہے، وُہ ہم سب کو براہِ راست یہی تلقین کرتا ہے کہ دِین کی بات…. حتّی الامکان، زُبان و ادب کے جُملہ محاسِن کے ساتھ کرنی چاہیے، تاکہ وُہ زیادہ سے زیادہ دِل پذیر ہو! مثلاً ذرا اِن قُرآنی آیات پر توجُّہ مرکوز فرمائیں:

٭ وَالصُبّحِ اِذا تَنَفَّسَ O (التّکویر ۱۸:۸۱)

”اور (غور سے دیکھو) صبح کی طرف، جب وُہ سانس لینے لگتی ہے“۔

٭ اِنّ الاَبرَارَ لَفِی نَعِیمٍ O

٭ یُسقَونَ مِن رَّحِیقٍ مَّختُومٍ O

٭ خِتٰمُہٗ مِسکٌ وَ فِی ذٰلِکَ فَلیَتَنَافَسِ المُتَنَافِسُونَ O  (المُطَفِّفِینَ ۳۸:۲۲ /۵۲/ ۶۲)

”بے شک، بے شک، نیکوکار، نعمتوں (کی آغوش) میں ہوں گے،

 اُنھیں ایک ایسا سربمُہر، لطیف ترین مشروب پِلایا جائے گا۔

خُوشبُو…. جِس کی مُہر ہوگی، پس ہر صاحبِ ذوقِ لطیف کو چاہیے کہ اُسی کی تمنّا کرے“۔

٭ وَقَولُوا لِلنَّاسِ حُسناً…. (البقرہ ۲:۳۸)

”اور تُم لوگوں سے ہمیشہ خیر پر مبنی خُوب صُورت باتیں کِیا کرو!“

سُبحان اللہ! صبح کا سانس لینا…. خُوشبُو کا مُہر بننا…. صاحبِ ذوقِ لطیف ہونا…. اور خیر پر مبنی خُوب صُورت باتیں کرنا…. کیا خُوب صُورت اور معنی آفریں کلمات ہیں۔ اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ نے زُبان و بیان کا کِس قدر باکمال معیار مُتعارف کرایا ہے۔ یقینا اِسی معیار کا حتّی الامکان اتّباع ہی پسندیدہ اُسلُوب ہے۔ لہٰذا میری طرف سے قُدرتاً اور قصداً دونوں اِعتِبار سے اِسی کی پیروی ہو رہی ہے۔ (الحمدللہ!)

 قُرآن…. دِینی ادب کا شہکار ہے۔ اِس کے اُسلُوب اور زُبان و بیان پر کسی قدر بات ہوچُکی ہے۔ اب اِس کے مضامین یا CONTENTS کی طرف آتے ہیں۔ اپنے مضامین کے اِعتِبار سے قُرآن، گُذشتہ آسمانی کُتُب و صحائف کا تصدیق کنندہ بھی ہے اور اُن پر نگران بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ اہلِ اِسلام اور پورے عالَمِ اِنسانیّت کا قیامت تک رہنُما اور رہبر بھی ہے بل کہ بعد از قیامت بھی یہی رہنُما و رہبر ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جِس اُمّت کے نبی حضرت محمدﷺ کے قلبِ مُبارک پر یہ قُرآن نازل کِیا گیا تھا…. وہی اُمّت اِس قُرآن سے بَہُت دُور ہے اور صدیوں سے ایسی کُتُب ہاے دیگر کو رہنُما و رہبر مانے ہُوئے ہے، جن کے بارے میں اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ کی طرف سے قُرآن میں یہ اِعلان صدیوں پہلے ہی سامنے آچُکا ہے:

٭ وَمَا اٰتَینٰھُم مِّن کُتُبٍ یَّدرُسُونَھَا…. (سباء۴۳:۴۴)

”اور جن کتابوں سے یہ درس لیتے ہیں، وُہ اِنھیں ہم نے تو نہیں دِیں“۔

یہ کُتُب ہاے دیگر وُہ فقہی کُتُب ہیں، جو طرح طرح کے فکری مُغالطوں(FALLACIES) سے بھری ہُوئی ہیں، بل کہ فکری ژولیدگی (MENTAL ANARCHY) سے اَٹی ہُوئی ہیں۔ نتیجتاً اِن کی پیروی کرنے والوں کی اکثریت…. قُرآن سے الگ بل کہ قُرآن کے مُتضاد راستوں پر گامزن ہو کر…. صریح گُم راہی اور افسوسناک ذِلتوں کا شکار ہو چُکی ہے…. اِس اکثریت کے لیے نجات کا راستہ ایک ہی ہے اور وُہ قُرآن کی طرف مراجعت کا راستہ ہے۔ اُسی قُرآن کی طرف مراجعت کا راستہ، جِس کا اِتّباع ہم سب پر فرض ہے:

٭ اِتَّبِعُوا مَا اُنزِلَ اِلَیکُم مِّن رَّبِّکُم…. (الاعراف ۷:۳)

”تُم سب اُس (قُرآن) کا اِتّباع کرو جو تُمھارے ربّ کی طرف سے تُم سب کی جانب نازل کِیا گیا ہے“….

٭ وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنزِلَ اِلَیکُم مِّن رَّبِّکُم…. (الزُّمَر ۹۳:۵۵)

”اور تُم سب، اُس سب سے بہتر (قُرآن) کا اِتّباع کرو، جو تُمھارے ربّ کی طرف سے تُم سب کی جانب نازل کِیا گیا ہے“….

واضح رہے کہ اِتَّبِعُوا کے مخاطبین صِرف اہلِ اسلام ہی نہیں ہیں، بل کہ دیگر اقوام، اہلِ کتاب، کافرین، مُنافقین اور دُنیا بھر کے اِنسان…. سب کے سب ہیں۔ اور اِتّباعِ قُرآن ہم سب سے پہلے…. اوّل المسلمین اور خاتم النبیّین پر بھی اِسی طرح فرض تھا…. جِس طرح کہ یہ آج ہم سب پر فرض ہے:

٭ اِتَّبِع مَا اُوحِیَ اِلَیکَ مِن رَّبِّکَ…. (الانعام ۶:۷۰۱)

”تُم (اے نبی!) اِتّباع کرو اُس (قُرآن) کا، جو تُمھاری جانب تُمھارے ربّ کی طرف سے نازل کِیا گیا ہے“….

٭ وَاتَّبِع مَا یُوحٰٓی اِلَیکَ مِن رَّبِّکَ  …. (الاحزاب ۳۳:۲)

”اور تُم (اے نبی!) اِتّباع کرو اُس (قُرآن) کا، جو تُمھاری جانب تُمھارے ربّ کی طرف سے نازل ہُوا ہے“….

پس ہمیں جِس واحد کتاب کا اِتّباع کرنا ہے، وُہ صِرف اور صِرف قُرآن ہے اور دیگر سب کُتُب…. جِنھیں ہم دِینی کُتُب تصوُّر کرتے ہیں…. کو بھی ہمیں قُرآن کے معیار پر پرکھنا ہوگا کیوں کہ قُرآن گُذشتہ آسمانی کُتُب و صحائف کی طرح موجُودہ و آیندہ دِینی اور فقہی کُتُب پر بھی نگران ہے اور یہ تو آپ پہلے ہی جانتے ہیں کہ قُرآن…. فُرقان بھی ہے یعنی یہ حق اور باطل کو الگ الگ کر دینے والی زندہ و پایندہ کتاب ہے۔

اور اہم ترین بات…. جِس کی خاطر یہ پُورا ”حرفِ اوّل“ تحریر کِیا ہے…. یہ ہے کہ قیامت کے دِن جو میزان بُلند ہوگی، وُہ یہی قُرآن کی میزان ہے اور رسالت مآب کی گواہی بھی اِسی میزان یعنی قُرآن کے حوالے سے ہوگی:

٭ وَقَالَ الرَّسُولُ یٰرَبِّ اِنَّ قَومِی اتَّخَذُوا ھٰذَا القُراٰنَ مَھْجُوْرًاO  (الفرقان ۵۲:۰۳)

”اور رسول کہیں گے، یا ربّ! یہ میری وُہ قوم ہے، جِس نے اِس قرآن کو مہجُور حالت میں تھام رکّھا تھا“۔

مہجُور حالت میں تھام رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر تھامے رکھنا، لیکن فی الحقیقت چھوڑے رکھنا، یعنی عمل نہ کرنا…. آج ہر گھر میں قُرآن موجُود ہے…. سب نے قُرآن کو بظاہر تھام رکّھا ہے…. مگر فی الحقیقت عمل پیرا کوئی نہیں ہے…. عمل پیرا اگر ہیں تو فقہی کُتُب پر ہیں…. قُرآن پر بالکل نہیں ہیں۔

قُرآن پر عمل پیرا نہ ہونے والوں یا اِتّباعِ قُرآن سے گُریز کرنے والوں کا جو انجام ہے، وُہ زیرِ حوالہ آیت (الفُرقان ۵۲:۰۳) کی رُو سے خاتم النبّیین کی گواہی کے ساتھ ہمارے عِلم میں آچُکا ہے۔ لہٰذا…. اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں اور قُرآن کی طرف لَوٹ آئیں…. قُرآن ہی وُہ احسن کتاب اور وُہ مُحکم سُنّت ہے، جو رسالت مآب اپنے بعد…. ہماری رہنُمائی کے لیے خُود چھوڑ کر گئے ہیں، اور اِس تاکیدی فیصلے کے ساتھ چھوڑ کر گئے ہیں:

”قُرآن یا تو تُمھارے حق میں حُجت ہے

یا پھر تُمھارے خلاف حُجت ہے“۔

(الحدیث)

یوسف عباس

۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “طلاق”

Your email address will not be published. Required fields are marked *