Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

مٹّی جیسے لوگ

450.00

Category:

Description

اِبتدائیہ

”مٹّی جیسے لوگ“ ایک مُشکل کِتاب ہے، کیوں کہ اِس میں وُہ المیاتی مادّہ جو شہزاد احمد کی شاعری کا اصل جوُہر ہے(Tragic Substance) اپنی تکمیلی اور مجموعی صُورت حاصل کرنے کے آخِری مراحل میں نظر آتا ہے۔ اِس مجموعے میں ایک ایسی اَلمناکی ہے جو صِرف ذِہن اور اِحساس تک محدُود نہِیں ہے، بل کہ یُوں محسوس ہوتا ہے جیسے اُس نے وُہ لامحدُود پھیلاو اِختیار کر لیا ہے جو اِنسان ہی کو نہِیں، کائنات ہی کو نہِیں، خُود حقیقت کو بھی اُس کے تمام انفسی و آفاقی عناصر سمیت اپنی لپیٹ میں لے چُکا ہے۔ جو ہے وُہ بھی، اور جو نہِیں ہے وُہ بھی، سب کُچھ اِسی طُغیانی پر بننے اور مٹنے والے بُلبُلے ہیں۔
شہزاد احمد کی شاعری سے ذرا گہری واقفیت رکھنے والے سبھی لوگ جانتے ہیں کہ یہ جمالیاتی شُعُور کو اُس کی تمام تر طاقت کے ساتھ تلاشِ معنی کی طرف یکسُو رکھتے ہیں۔ چیزیں ہمارے شُعُور اور خُود اپنے اُسلُوبِ وُجُود کی وَجہ سے اُس معنی سے محروم ہو چُکی ہیں جو کِسی قید کو قُبُول نہِیں کرتا۔ اِس تصوُّرِ معنی نے شہزاد احمد کو آج سے پہلے تک اِس نتیجے پر پہنچا رکھا تھا کہ ایک مُکمّل لایعنیت کے تجرِبے سے گُذرے بغیر معنی کو فرض بھی نہِیں کِیا جا سکتا۔
اِس کتِاب میں خُود لایعنیت کو اِس لمبے سفر کا ایک غیر ضُرُوری پڑاو قرار دے کر معنیِ مقصُود کی طرف پیش رفت کا بِالکُل ہی نیا انداز اِختیار یا ایجاد کِیا گیا ہے۔ یہاں معنی شُعُور اور وُجُود کی یکجائی کا وُہ نُقطہ ہے جوموجُودہ وُجُودی دروبست میں سما نہِیں سکتا اور جِس کی جُستجُو جاننے کے جذبے سے نہِیں کی جا سکتی۔ وُجُود اور شُعُور کا ایک ہونا، وُہ کلاسیکی مُسلّمہ ہے جِس نے ذِہن اور اشیا کو ایک جبری نسبت سے باندھ رکھا تھا، شہزاد احمد نے اِس کِتاب میں اُس جبر کو تمام زاویوں سے توڑ کر اُن دونوں کا ایک دُوسرے پر اِنحصار ختم کر دِکھایا ہے۔ شُعُور کو وُجُود سے اور وُجُود کو شُعُور سے آزاد کر کے اُنھوں نے اُس معنی کے اِظہار کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی ہے جو نا معلُوم ہوتے ہُوئے موجُود ہے اور غیر موجُود ہوتے ہُوئے معلُوم…. اور یہی وُہ حقیقت ہے جِس نے ”مٹّی جیسے لوگ“ میں اپنا ایسا اِنکشاف کِیا ہے جِس میں اِس کا نا معلُوم ہونا بھی محفُوظ رہا اور ناموجُود ہونا بھی برقرار۔ بے حِسی اور کُند ذِہنی کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو یہ منظر فریبِ نگاہ نہِیں لگے گا۔ ہونے اور جاننے کی تمام حالتیں جِس آخِری حال میں ضم ہو جاتی ہیں وُہ یہی لا وُجُودی اور لا عِلمی ہی تو ہے۔ گویا کلاسیکی مؤقّف کے برعکس شُعُور اور وُجُود ایک نہِیں ہیں بل کہ عدم شُعُور اور بے وُجُودی ایک ہیں۔ معنی اِس اکائی کا نام ہے۔
بھائی اظہر غوری کی فرمایش ہے کہ اِس تحریر کو بہُت مختصر ہونا چاہیے، اِس لیے تفصیل میں جانا تو ممکن نہِیں ہے، تاہم اِتنا ضُرُور عرض کروں گا کہ اِس مجموعے کو شاعری پڑھنے کی عمومی روایت میں رہتے ہُوئے نہ دیکھا جائے۔ یہ مجموعۂ احوال ہے جو قاری کے شُعُور کو بھی سیراب کر دے گا اور اُس کے وُجُود کو بھی۔ میرا مشورہ ہے کہ غزلوں کے ساتھ اُس کی نظموں کو بھی پُوری یکسُوئی سے سیر کرنے کی کوشش کی جائے، تا کہ ہم اُن احوال میں اُترنے کا تجرِبہ حاصل کر سکیں جو ذِہن کی گُنجایش سے زیادہ اور اِحساس کی صلاحیت سے بڑھ کر ہیں۔ خُصُوصاً کُچھ نظمیں تو ایسی ہیں جِن سے سرسری گُذر جانا خُود اپنے اُوپر ظُلم ہو گا۔ مثلاً ”عجیب رُت ہے“، ”مَیں کِس دُنیا میں رہتا ہُوں“، ”چیونٹیاں“، ”یہ کیسا ٹُوٹتا بنتا جہاں ہے“، ”ایک بُلبُلے میں“، ”کوئی صُورت نہِیں“، ”کب تک تمھیں ڈُھونڈنا پڑے گا“ اور ”آخِری خواب“:
یہ منظر دِید کے قابل نہِیں ہے
کُچھ اِن آنکھوں کو کرنا ہی پڑے گا
احمد جاوید
۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “مٹّی جیسے لوگ”

Your email address will not be published. Required fields are marked *