Description
”جیلانی کامران- ایک مُطالَعہ“ جناب لطیف قریشی کی تالیفِ لطیف ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں لطیف قریشی جیلانی کامران کے زیرِ تلمّذ رہ چکے ہیں۔ وہ فخر سے کہتے ہیں کہ اُن کی اَدبی تربیّت یا شاعری کے ذوق اور تنقیدی سلسلے میں جیلانی کامران کی تعلیم و تربیّت کے گراں قدر اثرات ہیں، یہ کِتاب اگرچہ جیلانی کامران صاحب کی وفات کے بعد شائع ہو رہی ہے، لیکن اس کے بیش تر مضامین اُن کی زندگی میں لکھے گئے تھے۔ اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہ مضامین اُن کی نظر سے گذر چکے تھے۔ شاعری کے باب میں نو متنوّع مضامین جیلانی کامران کی خارجی اور داخلی سیّاحت کا تعارُف کرواتے ہیں۔ کِتاب میں شامل ”جیلانی کامران اور حمدِ الٰہی“ اور ”جیلانی کامران کی ایک مُنفرد نعت“ کے عنوانات سے دو مضامین بہُت سے لوگوں کو چونکا دیں گے۔ تاہم اِس حقیقت سے انکار مُمکن نہیں کہ جیلانی کامران کی شاعری میں اِلہام کا عُنصُر شامل تھا، اور وہ اُن سرچشموں سے سیراب ہوتے تھے جو فطری زرخیزی کا ماخذ ہیں۔ وہ ابوابِ تنقید اور تحقیق کے مضامین پر مُشتمل ہیں، اور یہ جیلانی کامران کے مُطالعے کی وُسعت، تنقیدی و تحقیقی صداقت اور اُن کے مُنفرد ادبی نُقطۂ نظر کے آئینہ دار ہیں۔
لطیف قریشی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُنھوں نے جیلانی کامران کی وفات کے بعد اُن پر پہلی کِتاب شائع کی، بل کہ صداقت یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنے اَدبی رہ نُما کا حق خُوش اُسلُوب انداز میں ادا کرنے کی کاوش کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کِتاب اہلِ نظر سے بھی تحسین حاصل کرے گی، اور جیلانی کامران کے فِکر و فن کے سلسلے میں بُنیادی حوالے کی تالیف ثابت ہو گی۔ اِن شاء اللہ
ڈاکٹر انور سدید





Reviews
There are no reviews yet.