Description
بنامِ مجید امجد
کون سی اُلجھن ہے مَیں جو بار بار
تیرے رستوں کی طرف….
آزُردہ خاطر ہو کے چلتا ہُوں
درختوں کا وُہ جُھنڈ
وُہ تنے کے پاس
اِک گوشے میں چوبی میز
اور تُمھارے ہاتھ سے لِکھی ہُوئی نظموں کی فائل
ساری نظمیں غیر مطبُوعہ
جنھیں مَیں شوق اور حیرت اور استعجاب سے
پڑھتا بھی ہُوں، تحریر کی بُنتی کو اپنے ذہن
میں بھی نقش کرتا ہُوں
اندھیرے اور اُجالے کی مچانیں
سہ پہر کی رینگتی ہلکی تمازت
آسماں کی نیلگوں وُسعت
فضا میں دفعتاً پھر سائرن کی چیخ
مَیں چاے کی پیالی کو لیے خندق میں اُترا
اُس مُذبذب وقت کیا معلُوم تھا یہ جنگ
ہم نے خُود مُسلّط کی ہے اپنے آپ پر
تجزِیہ کرنے کے قابِل تب ہُوئے
جب تجزیہ بے ہُودگی لگنے گا
شام کو ہوٹل میں مچھلی کے کباب
سبزیوں کا رایتا
وُہ بھی تُمھاری میزبانی میں
یہ شاید آخری خُوشیاں تھیں جِن کی جوت سے
چہرے پہ رونق اور کشش
اِک زرد سرسوں کی طرح کی دُھوپ کی حِدّت
جو پل بھر کو چھپی پژمُردگی کو ڈھانپتی
وُہ آخری سالوں کی عُسرت، سانس کی تکلیف
اس کو ضبط کرنے کا جتن
وُہ دوا پانی تھی جِس کو پُھونک کر پیتے رہے
ہر روز باطن کی تلاشی، گُم شُدہ احوال سے
موتی خزف ریزے جُدا کرتے رہے
گُھلتے رہے
اور موت کی آمد کی نزدیکی سے پیدا
قیمتی لمحوں کو مُہلت جان کر
خُوں کے دباﺅ کے تلے لکھتے رہے
تحریر عُجلت کی مگر تنظیم سے آراستہ
پچّاسویں پت جھڑ کے موقع پر تُمھیں اِحساس تھا
تُم ہارتے جاتے ہو لیکن اِس قدر جلدی میں یہ کایا کلپ ہو گی
بدن جو نیند کے اور خواب کے اُتھلے تھپیڑوں میں کبھی گِرتا اُبھرتا ڈُوبتا
آخِر کنارے تک سعی کر کے پہنچتا ہے، کھلونے کی طرح کمزور ہے
نظم کو تُم نے کہا بے جان مُورت سوچ کی، اور اس کو
گھڑنے کے لیے پِھر اس کے تمثیلی تحیُّر میں کُچھ ایسے کھو گئے
دِن رہے باقی طراوت کے، نہ شب کے آئنوں میں
بے طرح اشکال
بُھولتے جاتے تھے تُم سیروسفر کے راز
اپنی ابتدائی زِندگی، شادی، نیوتا
زخم جو تُم نے چِھپایا
اُس کے لب کو سِی دِیا
اُس کی قُوّت زور آندھی بن گئی
ہر روز دفتر کی تھکن کے بعد بھی وُہ رَتجگا
تنہائی کی بُکّل میں نہ آسُودگی تھی
اور نہ ہی چُپ کی چٹکی میں سکُوں
موت کے نامہرباں سہلانے والے ہاتھ
جو ہر دم لپکتے، تُم کو چُھوتے
تُم نے اپنی نظم کے مصرعے بنائے
جیسے ہر مصرع بچاو کے لیے ہو
زِندہ رہنے کے لیے وُہ ڈھال ہو
اپنی خُود سوزی کی دستاویز ہو
جو تڑپ اور کشمکش کا حلفیہ اعلان ہو
یاد کے رِشتے سے ہم آغوش ہو
وُہ منٹُو ہو یا ایکسیڈنٹ کا بچّہ یا رُلدو ہو یا پنواڑی
وُہ مینا ہو یا موٹر بیچنے والا، تری تنہائی اپنی نرگسیّت میں
اُسی کے رُوبرُو رہتی
وُہ تصویریں جریدوں کی، وُہ رقص و دف، صداے ارغنوں
شالاط سے وُہ مختصر صُحبت، وُہ قلمی دوستی
جھنگ ہو یا کوئٹہ ہو
رُوح کے باریک پردے جھنجھناتے
تُم کُھلی آنکھوں سے دُنیا کو علیحدہ ہوتا جاتا دیکھتے
خاموش تھے، خُود میں نِسائی حِس کو مرہم جیسے ہاتھوں سے
تھپکتے، قطرہ قطرہ نظم کے سانچے سے تُم تھے مُختلط
تُم نہ مُبلّغ، یا مُفسّر،یا کوئی قانُون دان
جیسے کہ اِقبال، شکوَہ اور جوابِ شکوَہ، دونوں ہی
اطراف سے پُختہ دلائل، ٹھوس اور واضح
نشانی کی طرح سِکّہ اُچھالے
یا تمدُّن کی جڑوں تک جا کے قلبی عارضے کی کھوج رکھے
حُکمرانی کے سبق کو اور تصوُّف کو، شرع کو
خورد بینی عِلم سے پرکھے
تُم ہماری ہی طرح سے اُس صدی کے نِصف کے کُچھ دیر بعد
اِک نئے احساس کو بنتا پنپتا دیکھ کر اس کی ادارت
اور نظامت میں لگے تھے،
شہر کے اور گانو کے مابین کی تفریق میں
جو مُفلسی اور مُنصفی کے درمیاں دیوارہے
اُس کو کُھرچتے ہی رہے
شعر کی جاں کا ہی کو تُم خیروبرکت کا وسیلہ جان کر
اِس میں جُتے، یہ قرض تھا
اِس کو ادا کرنا ضرُوری تھا
اور چاہنے والوں کی خاموشی جو آخر خود زُباں بندی بنی
اِس کے پیچھے ذہن کا ہے اِنحطاط
یا حسد ہے یا توجُّہ کی کمی یا اُس کے پیچھے کیا تُمھاری زِندگی کا کوئی راز
کوئی گوشہ جِس سے لوگوں کو قریب آنے میں کوتاہی ہُوئی
تُم سدا ایسے ہی تھے اپنی لگن کی ڈور میں بندھ کر چلے
داد نہ فریاد نہ کوئی اُلہنا
اور اگر چُپ تھے تو ایسے گیان سے تھے
جانتے تھے اور سمجھتے تھے گذارش اور نوازش
خط جو ساہیوال سے رُخصت کے بعد
شکریے کے طور پر مَیں نے لِکھا، اور حال پُوچھا
تُم نے جانے کیوں لِکھا کہ مَیں ہُوں اور کمرے کی تنہائی
خموشی اور دیواروں کا اُکھڑا رفتہ رفتہ گِرنے والا یہ پلستر
اور ہوا میں ہولے سے تحلیل ہوتی بے وُقُوفی
گرچہ یہ کہنا بَہُت معقُول تھا، اور اِن ہی لفظوں میں
یہ خط پُورا ہُوا، اور آگے لِکھتے بھی تو کیا،
اِستوائی خِطّوں کے لوگوں کی بدطنیت سرشت
گرمیوں کے اِس جہنّم سے جو پُختہ تر ہُوئی
احساس سے عاری نہیں تھے، سفلہ پن تھا، بُزدلی
انجان بن کر تُم ملے لوگوں سے جیسے
جو بڑائی اور عظمت تھی وُہ گویا سرسری تھی
اور حد درجہ توجُّہ کے کسی لائق نہیں تھی
رستہ بُھولے ہو یا بھٹکے یا جوانی کے اِنہی سبقوں کو دُہرانے سے اَب تھکنے لگے،
دُنیا اور اِس کے لوگ اور وُہ اُن کا حُسنِ ظن
عُدُو بن کر لپٹنا اور سمٹنا، جاگنا اِک دُوسرے کی آنکھ میں تُل کر، اور اِک دُوجے پہ
نگراں، سانپ اور گیدڑ کی خصلت سے
مگر معصُوم تھے تُم حِیلۂ ہابیل یا پرویز سے، لغزش خطا بشری ہمارے ساتھ
جُڑواں ہے، ہمارے خُون کے خُلیوں میں یہ
جامد نہیں، زِندہ حقیقت ہے، کہ ہم بہکے ہوئے چلتے ہیں منزل کے تصوُّر سے،
مشیّت دُشمنوں کی چال کی صُورت ہمیں اُلجھائے رکھتی ہے
یہ گُزرے دِن جو مالا مال ہیں رونق سے لیکن آج کے اِس مُختصر وقفے میں یہ
آسیب بن کر چھائے رہتے ہیں،
کُریدو اِن کو آنسُو سے، کُدالوں سے، نِدا سے اور چِھلکے کی طرح چِھیلو
یہ دن ذاتی دیومالا کے حِصّے ہیں،
خُداؤں کے مُقرّب، اُن تلک اِن کی رسائی اور حُجّت ہے
یہ اک جوشبد ہے، کثرت سے معنی اپنے دامن میں سمیٹے
جِس کا استعمال بھی تو تُم سے ہی مخصُوص ہے، یہ لفظ جِس کو
تُم ابد کہتے ہو، اِس کے کتنے ہی پَرتو ہیں اور پرچھائیاں
باغِ عدن کی یہ جھلک تصویر میں، رنگوں کے باطن میں، حرارت بن کے جو تمثیل ہے
آنکھوں سے پوشیدہ، صدا جو رُوح کے احساس کو بیدار کرتی ہے
دِلوں پر ہاتھ رکھتی ہے اُداسی کا، اُداسی رات کے اور دِن کے پہروں میں
جُدا لذّت کے ساتھ، ہوش سے آگے کی منزل کا پتا دیتی ہے
تُم نے دیکھا برگ و بر پر، بام و دَر پر، سو قمر قوس آئینوں کی اوٹ سے
نغمہ گر کا پیکرِ بے جاں، شِکستہ
سیڑھیوں پر پاؤں رکھتا واپسیں قدموں کے ساتھ اُس حُجلۂ تنہائی میں
وُہ لَے اور اُس کی بازگشت، جو روشنی ہے
اُن کو جِن کو کُچھ بصیرت ہے، مگر خُود نغمہ گَر نغموں کے جالوں میں رفو ہے
اور لہُو، ذی شان اپنے کندھوں کی سُولی کے ساتھ
تُم نے لِکھا ہے سواے سادہ سی دِلدادگی اور مُفلسی کی میزبانی کے ہمارے پاس
تو کُچھ بھی نہ تھا، وُہ جنگ جِس میں سر کھپا کر
ریڈیو میں قیدیوں سے تُم مُخاطب ہو کے اُن کو یہ کہتے رہے، سُنتے رہے
ہم سب سلامت ہیں، مَگر اِمداد کے قابِل نہیں ہیں
ہم سے اپنے آسرے کی یہ توقّع بھی فُضُول،
سرحدوں سے پھیل کر وُہ جنگ اَب تو ہر گلی میں ہے
اور اس کے زخم قومی رُوح پر اور جِسم پر، تحریر پر، کاری مُسلّم اَن گِنت ہیں
وُہ ابد تحلیل ہو کر روز مرّہ کے جنوں،
جینے کے جتنوں، مُنتشر احوال کی بے باک رسموں میں پریشاں
رفتہ رفتہ اپنے سرچشموں سے کٹتا جا رہا ہے
وُہ خلا اب ذہن کی اِس بے کراں وُسعت میں ڈر اور خوف بوتا ہے
جہاں انجام کی تاریکیوں کے پُر خطر رستے پہ
چلتے جا رہے ہیں، ہاں مَگر یہ ہے، اَبھی زِندہ ہیں گو وہبی بصارت اور
سماعت کھو چکی ہے، سامنے تحریر جو اعداد اور ہندسوں
مُثلّث اورمُربّع، دائروں ،قوسوں میں کُلّیوں میں زمیں کے باطنی رازوں کو
افشا کر رہی ہے، وُہ زمیں پر رہنے والوں کو
کُھلے جبڑوں دہانوں سے نگلتی جا رہی ہے، ہم یہاں ضائع شُدہ اُس جوہری ایندھن
کی صُورت ہیں جنھیں آبادیوں سے دُور
دلدل میں پنہ مِلنی ہے ان کو گاڑا جانا ہے، صداے رفتگاں جو اِس زمیں کی
پُشت پر اِک بوجھ تھا، اُس کو جھٹک سکتے نہ تھے
اب یہ اثاثہ رفتہ رفتہ خُود کُشی کی سمتبڑھتا جا رہا ہے
یہ اَبد کا رُوپ ہے جو جاوداں ہے
اور وُہ گاڑی تُمھاری لاش کو لادا تھا جِس پر، اُس کو دھویا تھا کہ اُس میں
بکریوں اور میمنوں کی باس اور بول و براز
اور چارہ ہر طرف بِکھرے ہوئے تھے
….٭….





Reviews
There are no reviews yet.