Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

ہر صدا مُسافِر ہے

500.00

Category:

Description

جدید غزل کی اینتھالوجی

پروفیسر رشید احمد صدیقی نے جِگر صاحب کے بارے میں اپنے تاثُّر کا اِظہار کرتے ہوئے ایک مضمُون میں لکھا تھا کہ ”اچّھا انسان ہی اچّھا شاعر ہو سکتا ہے“۔ میرے نزدیک نثار تُرابی کا شُمار بھی ایسے شُعرا میں کِیا جا سکتا ہے۔ نثار تُرابی کے احباب اور اُن کے ہم عصر شاعر اُن کی شاعری اور تنقید کے مدّاح ہونے کے ساتھ ساتھ اُن کی ذاتی صِفَات کے بھی دِل سے قائل ہیں۔
نثار تُرابی نے80ع کی دہائی میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کِیا تھا۔ اُن کے ماہیوں پر مشتمل مجموعہ ”بارات گُلابوں کی“ 1994ع میں شایع ہُوا جِسے ادبی حلقوں نے بھی سراہا تھا اور قارئین نے بھی بھرپُور پذیرائی کی تھی۔ اور اب قریباً ربع صدی کی تخلیقی مسافت کا حاصل ”ہر صدا مسافر ہے“ لے کر بارگاہِ ادب میں داخل ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے اِس طویل عرصے میں بہُت کُچھ کہا ہے، اِس دوران میں وُہ اپنے بعض ہم عصروں کی طرح ایک سے زائد مجمُوعے لا سکتے تھے لیکن وُہ تحمّل و توقّف کی روش کو اپناتے ہوئے کارِ تخلیق میں مُنہمک رہے اور غزلوں کا ایک ایسا انتخاب ”ہر صدا مسافر ہے“ کی صُورت میں پیش کِیا ہے، جِسے ہمارے عہد کے نمایندہ شعرا کے مجموعوں کے پہلو با پہلو رکھا جا سکتا ہے۔
نثار تُرابی کی ادب کے ترقّی پسندانہ نظریے سے شُعُوری طور پر وابستگی اور تنقیدی شغف کے خُوب صُورت امتزاج کا ہی ثمر ہے کہ اُن کی غزل فِکر و فن کی شایستگی اور زندگی آمیز مثبت قدروں کی آئینہ دار بھی ہے اور آئینہ بردار بھی۔
نثار تُرابی نے غزل میں نئے مضامین تراشنے کے علاوہ نئی زمینوں میں طبع آزمائی کی ہے اور اِس کے لیے اُنھوں نے کوئی شُعُوری کوشش نہیں کی بل کہ یہ سب کُچھ اُن کے مخصُوص طرزِ فِکر کی عطا ہے۔ اِس ضمن میں چند شعر ملاحظہ کیجیے:
ہم ہیں درویش اِسی خاک میں رہنے والے
ہم سِتارے نہیں افلاک میں رہنے والے
تُونے جھانکا ہی نہیں دِل کے نہاں خانے میں
اے مِرے دیدۂ نمناک میں رہنے والے
…………
جہاں پَل میں بدل جائیں تعلّق زندگی بھر کے
وُہاں کہہ کر مکرنے میں کب اِتنی دیر لگتی ہے
ذرا سی آنکھ جھپکے تو سماں پہلا نہیں رہتا
کوئی منظر گُذرنے میں ، کب اِتنی دیر لگتی ہے
وُہ شعر براے شعر کہنے کے قائل نہیں ہیں بل کہ اپنے تجربے اور جذبے کو احساس کی سطح پر پرکھنے کے بعد شعر کہتے ہیں۔ اُن کے اشعار میں لہجے کا تنوُّع اور مصرعوں کی تراش قابلِ دید بھی ہے اور لائقِ داد بھی:
کِسی صِحرا کو پیاسا چھوڑ جاتا ہے کبھی دریا
کبھی پیاسے کو دریا کی سخاوت یاد رہتی ہے
…………
یہ تو شاہوں کو بھکاری سا بنا دیتی ہے
سو مرے دِل ! ہو تجھے خواہشِ دنیا کم کم
…………
اِک خواب تھا جو ہم سے مکمَّل نہ ہو سکا
اِک نقش تھا جو ہم سے سنوارا نہیں گیا
…………
یہ کہہ رہا تھا ستارہ ، سرِ فلک سب سے
دیے بُجھا کے ، ہَوَا بھی کہاں سلامت ہے
…………
مری زمین ! اُجڑنے پہ غم نہ کر اِتنا
مَیں آسماں کو تِری خاک پر اُتاروں گا
…………
رہوں اسیرِ تمنّا ، اِسی لیے اُس نے
مُجھے بھی وعدۂ فردا پہ ٹال رکھا ہے
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض شُعرا کے Diction میں دو ایک الفاظ مختلف Shaded اور نوبہ نو تراکیب کے ساتھ نظر آتے ہیں، اُنھیں تنقیدی زبان میں کلیدی الفاظ سے تعبیر کِیا جاتا ہے۔ نثار تُرابی کی لُغت میں ”تیرکمان“ کلیدی الفاظ کی حیثیت رکھتے ہیں جنھیں اُنھوں نے اپنے اشعار میں اِس طرح مُختلف زاویوں سے برتا ہے کہ قاری ہر مرتبہ نئے احساس سے لُطف اندوز ہوتا ہے:
سب نشانوں کو یاد رکھتا ہے
تِیر ہوتا نہیں کمان میں گُم
…………
مَیں جِس کی زد پہ زمانے کو لے کے بیٹھا ہُوں
وُہ تِیر میری کماں سے نِکل بھی سکتا ہے
…………
پِھر سے اُنھیں کمان میں شامل نہیں کِیا
وُہ تِیر جو رہے ہیں نِشانوں سے بے خبر
…………
پلٹ کے آیا تو تیری طرف ہی آئے گا
وُہ ایک تِیر جو تیری کماں میں باقی ہے
”ہر صدا مسافر ہے“ میں بیشتر اشعار ایسے ہیں جنھیں ہم جدید غزل کے منتخب اشعار کی Anthology میں شامل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
جِن کو بچپن سے ہو روزی کے سفر پر جانا
اُن کے آنگن میں غُبارے ، نہیں دیکھے جاتے
…………
نہ چھاؤں ہے نہ ثمر ہے ہمارے حصے میں
نِبھا رہے ہیں تعلّق مگر شجر سے ہم
…………
ایک سازش سے اُلٹ جاتی ہے شاہی ساری
ایک دُشمن پسِ دیوار بہُت ہوتا ہے
…………
سرسراہٹ ہے کیسی مٹّی میں
نقشِ تازہ اُبھر رہا ہے کیا
…………
کوئی موج کیا ٹھہرے ساحلوں کے پہلُو میں
وقت کے سمُندر میں ، ہر صدا مسافر ہے
صدا اور مسافر میں رفتار قدرِ مُشترک ہے جو زندگی کی علامت بھی ہے، اِس رشتے کونثار نے نہایت خُوب صُورتی سے شعر کے قالب میں ہی نہیں ڈھالا بل کہ اپنے مجمُوعے کا عُنوان بھی بنایا ہے۔ مُجھے یقین ہے کہ اُن کا یہ مجمُوعہ قارئین اور ادبی حلقوں سے پذیرائی کا خراج اور مقبولیت کی سَنَد حاصل کرے گا۔
محسن بھوپالی

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “ہر صدا مُسافِر ہے”

Your email address will not be published. Required fields are marked *