Description
یُوسُف عبّاس: اسلام اور دیگر ادیان کے جدید شارح
”حلالہ؟“ یُوسُف عبّاس کا دوسرا آزادانہ تحقیقی معرکہ ہے، یہ محض ایک تحقیقی کام ہی نہیں ہے، بل کہ یہ اُس رسمی رواجی ظُلم و سِتَم کے خلاف ایک مُؤثّر احتجاج اور بھرپُور دفاع بھی ہے، جو حلالہ کی آڑ میں مُسلمان عورت پر برس ہا برس سے بے دریغ ڈھایا جا رہا ہے۔
قبل ازیں یُوسُف عباس باہمی اِشتراک کی صُورت میں مُمتاز مصوّر، شاعر اور دانش ور پروفیسر تنویر مُرشد کی سنگت میں تین کُتب کی تصنیف کے فرض سے عُہدہ برآ ہو چکے ہیں:
1- Flee unto Almighty Allah
2- The Gospel by Jesus
3- An Introduction to God
مذکُورہ بالا تینوں کُتُب نہ صِرف قومی اور بین الاقوامی سطح پر جانی پہچانی، اور مانی ہوئی ہیں، بل کہ دینی الاصل ہونے کے باوُجُود ہر قسم کے مذہبی تعصُّبات اور فِرقہ وارانہ افراط و تفریط سے بالکل پاک ہیں، اور بفضلِ تعالیٰ انسان دوستانہ خُلُوص اور مُستحکم نیک نیّتی سے عبارت ہیں۔
مذکُورہ بالا تینوں کُتب کے پیشِ نظر ”اِنٹرنیشنل اِسلامک یُونی ورسٹی اِسلام آباد“ کی جانب سے یُوسُف عبّاس کو کورس یُونٹ رائٹر کی حیثیت سے منظُور شُدہ پینل پر لے لیا گیا، اور اُنھیں ”جہاد“ جیسے حسّاس موضُوع پر تحقیقی کام کی ذِمّہ داری سونپ دی گئی۔ اُنھوں نے یہ ذِمّہ داری بھی بفضلِ تعالیٰ بطریقِ احسن پُوری کی، اور: Philosophy of Jehad in Islam کے عُنوان سے ایک جامع تحقیقی مقالہ تحریر کِیا، جسے اِنٹرنیشنل اِسلامک یُونی ورسٹی اِسلام آباد کی جانب سے پہلی میٹنگ میں ہی منظُور کر لیا گیا، یُوں یہ کتاب غیر مُلکیوں اور اِنگلش زُبان پڑھنے، بولنے اور لکھنے والے مُسلمانوں کے لیے ترتیب دیے گئے کورسز میں شاملِ نصاب ہوئی۔
”جہاد“ کے موضُوع پر یہی کتاب یُوسُف عبّاس کا پہلا آزادانہ تحقیقی معرکہ تھا، جِس کے مُندرجات میں قُرآن و سُنّت کی رُو سے یُوسُف عبّاس نے یہ واضح اور ثابت کِیا تھا کہ جہاد کی مُتعدّد اقسام ہیں، اور اِن ہی میں سے ایک قسم ”قِتال“ بھی ہے، جِس کی اجازت صِرف اور صِرف دفاع (Defence) کی صُورت میں ہے، جارحیت (offence) یا جبر (coercion) کی حالت میں ہرگز نہیں ہے۔ یا پِھر ”قِتال“ کی طرف پیش رفت مظلُوم کی حمایت میں کی جا سکتی ہے اور اِن دو صُورتوں کے علاوہ کوئی تیسری صُورت ایسی نہیں ہے کہ جِس میں ”قِتال“ کی اجازت ہو۔ گویا اِسلام میں قِتال کا تصوُّر ہر اعتبار سے دفاعی اور ہمدردانہ ہے، یہ جارحانہ یا ظالمانہ ہرگز نہیں ہے، نہ ہونا چاہیے۔
یُوسُف عبّاس اُن معدودے چند حقیقی معنوں میں مومن عُلماے کرام میں سے ہیں، جو ذاتی اغراض اور منفعت سے ماورا، کسی فِرقے یا مخصُوص نُقطۂ نظر سے بالاتر، فقط اللہ تعالیٰ کے احکام کی روشنی میں اپنے باطن و ظاہر، اپنی سماج اور کائنات کو منوّر کیے ہوئے، مُسلمانانِ اسلام اور بنی نوعِ انسانی کو صراطِ مُستقیم پر ہی گامزن رکھنے کے خُوگر ہیں۔ اپنے نظری اور فکری میلانات و رُجحانات کے تناظُر میں وُہ کوئی اکیلے موحّد نہیں، تاہم وُہ تفہیم القرآن اور فطرت و منطق کے اعتبار سے مُنفرد مُحقّق و مُصنّف ہیں۔
میری اُن سے فقط یاد اللہ ہی نہیں، بل کہ مجھے اُن سے اکتساب و فیض مندی کی دیرینہ نسبت ہے۔ میں 1979ع کے دوران میں اُن سے ایک ترقّی پسند شاعر، ادیب اور نقّاد کی حیثیت میں مِلا، اور پِھر عُمر بھر کو مُلاقات چلی گئی۔ ادبی، دینی اور سائینسی شُعُور کے یکجان عناصر اُن کی شخصیّت پر غالب ہیں، اِن مُختصر سطور میں اُن کا سوانحی خاکہ اور ہمہ جہت تحرّک انگیز مُثبت اور تعمیری سرگرمی کا مُحاکمہ کرنا کوئی کارِ آساں نہیں ہے۔ بہر حال جو معلُومات وقتاً فوقتاً یُوسُف عبّاس کے اعزّا و اقارب سے یا کبھی کبھار اُن کی زُبانی حاصل ہُوئیں، اُنھیں رقم کرنا ازبس ضُرُوری معلُوم ہوتا ہے۔ گو اُنھوں نے اپنی ذات کے بارے میں گُفتگُو کو اہمیّت کبھی نہیں دی، اور نہ ہی وُہ اپنی تصویر کی طباعت سے مُتّفق ہیں، البتہ جہاں مَیں نے اُن کے قارئین اور ارادت مندوں کے لیے تصویر شائع کرنے کی مُخلصانہ جسارت کی، وہاں اُن کے حالات بھی رقم کیے دیتا ہُوں:
یُوسُف عبّاس چھے اکتوبر 1949ع کو ضلع جھنگ کے ایک دیہات ”نٹّھرکے“ میں پیدا ہوئے، پرائمری تعلیم اُسی دیہات سے حاصل کی۔ میٹرک 1966ع میں ایم بی ہائی سکول (موجُودہ گورنمنٹ ہائی سکول) جھنگ شہر سے کِیا۔ یہی وُہ ہائی سکول ہے، جہاں سے پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائینس دان ڈاکٹر عبدالسلام نے بھی میٹرک کِیا تھا۔
بعد ازاں حالات کے تقاضوں کے تحت اُنھوں نے گورنمنٹ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ جھنگ صدر سے مکینکل ڈرافٹسمین کا کورس 1968ءمیں پاس کِیا۔ تقریباً اڑھائی سال تک پرائیویٹ مُلازَمت کی پھر 1971ءمیں پاکستان آرڈی نینس فیکٹریز واہ کینٹ میں بحیثیت مکینکل ڈرافٹسمین گورنمنٹ سروس شُرُوع کر لی۔ وہیں ایک ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر سے سول ڈرافٹسمین کا کورس پاس کِیا۔ ساتھ ہی ساتھ نان پروفیشنل تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا، اور 1974ع میں پنجاب یونی ورسٹی سے ایم اے اِمتیازی حیثیت میں پاس کِیا۔
واہ کینٹ میں قریباً ساڑھے چھے سال تک مُلازَمت کرنے کے بعد اُنھوں نے فروری 1977ع میں ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اسلام آباد میں مُلازَمت کا آغاز کِیا اور تادمِ تحریر اِسی مالیاتی ادارے میں مُلازم ہیں۔ پیشے اور ذوق دونوں کے اعتبار سے کڑی محنت اور غیر لچکدار دیانت پر پُختہ یقین رکھتے ہیں، لہٰذا مُلازَمت کے میدان میں کم کم، لیکن ذوق کے میدان میں زیادہ سے زیادہ کامیاب ہیں۔
بُنیادی طور پر یُوسُف عبّاس کا تعلّق دُنیاے شعر و ادب سے ہے۔ اُردو اور انگریزی ادب کے ساتھ عربی زبان و ادب اور عالمی دینی ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ صاحبِ طرز شاعر اور صاحبِ فِکر نقّاد ہیں۔ شاعری سرِدست ترک کیے ہوئے ہیں، اور تنقید و تحقیق کے راستے پر مُستقل مزاجی کے ساتھ گامزن ہیں۔ 1987ع میں ”اچھّے دِنوں کی آس“ کے نام سے شعری مجموعے کی اشاعت کے بعد جتنا کام کِیا، وُہ تنقید و تحقیق میں کِیا، اور اُردو کے بجاے انگریزی زُبان میں کِیا، بل کہ دُنیاوی ادب کے بجاے دینی تحقیقی ادب میں کِیا۔
1989-90ع میں یُوسُف عبّاس پی ایچ ڈی کے لیے ”اُردو تنقید کا عمرانی دبستان“ کے موضُوع پر کام کر رہے تھے، کہ اُنہی دنوں موصُوف کے والدِ گرامی جِگر کے عارضے میں مُبتلا ہو کر اِس جہانِ فانی سے کُوچ کر گئے۔ اِس حادثے نے اُنھیں نہ صِرف غیرمعمولی طور پر مُتاثر کِیا، بل کہ ذہنی اور فکری سطح پر یکسر بدل کر رکھ دیا، اور وُہ ثنویّت اور کثرت پرستی سے توحید اور ایمان بِاللہ کی طرف آ گئے۔
تاہم اِس تبدیلی نے یُوسُف عبّاس پر کوئی روایتی اثر بالکل نہیں چھوڑا، بل کہ موصُوف جِس طرح ماضی میں بیش تر مُسلمانوں کی طرح ایک ”سیدھے سادے اور بے ضرر دُنیا دار“ تھے، اُسی طرح حال میں گِنے چُنے مومنین کی طرح ”ایک سیدھے سادے اور بے ضرر دِین دار“ ہیں، گویا موصُوف اخلاقی سطح پر پہلے بھی ایک صاحب کردار اور انسان دوست عبد (بندہ) تھے، اور آج بھی ایک صاحبِ کردار اور انسان دوست عبد ہیں۔ معبودِ حقیقی سے تعلّق نے اُنھیں عبدِ حقیقی اور عبدِ فِطری ہی بنایا ہے۔ عبدِ غیر حقیقی یا غیر فطری ہرگز نہیں بنایا۔
اکتوبر 1990ع سے دینی فِکری مُغالطوں پر مُسلسل تحقیق کر رہے ہیں، اور نقدِ تحقیق بِلا اِمتیاز رنگ و نسل و مذہب ۔۔۔ پُورے عالمِ انسانیّت تک پہنچانے کی گراں قدر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اِس ضمن میں اسلام اور ادیانِ عالَم پر موصُوف کا تحقیقی کام سو فی صد اجتماعی اور سو فی صد انسانی نُقطۂ نظر کا حامل ہے، جِس کی دورِ حاضر میں بے حد ضرُورت ہے۔
میری دُعا ہے کہ اللہ سُبحانہٗ و تعالیٰ یُوسُف عبّاس کو اپنی حفاظت اور امان میں رکھے، اور عُمرِ خضر عطا کرے، تاکہ وُہ اِسی طرح کے تحقیقی کاموں کی صُورت میں اسلام اور ادیانِ عالَم کی بالخصُوص اور پُورے عالَمِ اِنسانیّت کی خدمت بالعموم کرتے رہیں۔ آمین، ثُم آمین!
اظہر غوری
سیکرٹری جنرل
رائٹرز ایسوسی ایشن، لاہور





Reviews
There are no reviews yet.