Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

آنے والا کل

450.00

Category:

Description

سروبرگِ ادراکِ معنی

غالب نے اپنے کِسی شاگِرد کو لِکھّا تھا کہ شاعری معنی آفرینی کا نام ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کلاسیکی شعریات اپنی اِنتہائی سطح پر اِسی اُصُول پر اُستوار ہے۔ لیکن غالب کے قلم سے نِکل کر یہ اُصُول زیادہ زِندہ اور زیادہ بامعنی ہو گیا ہے۔ کیوں کہ یہ وُہی قلم ہے، جِس نے اُردُو شاعری کی تقدیر لِکھّی ہے۔ شعری ذوق اور فہم کے تمام معیارات، بل کہ ہمارے جمالیاتی شُعُور کی رسائی کے سارے حُدُود جِس شخصِ واحد نے مُقرّر کِیے ہیں، وُہ اگر کوئی پُرانی بات بھی دُہراتا ہے، تو اُس کی معنویّت میں کوئی بُنیادی اضافہ ضُرُور کرتا ہے۔ شہزاد احمد کا یہ مجموعہ دراصل اُسی اضافے کا آئینہ دار ہے، جو غالب نے روایتی تصوُّرِ معنی میں کِیا تھا۔ اِس دیباچے میں خاص طور پر یہی دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ معنی آفرینی سے غالب کی جو مُراد تھی، وُہ اِس کتاب میں کِس انداز سے پُوری ہُوئی۔ غالب کا حوالہ تو شاید اَب نہ آئے، لیکن یہ بات بہرحال واضح رہنی چاہیے کہ معنی کی جِن جہتوں کو آگے چل کر کھولنے کی کاوش کی جائے گی، اُن کی دریافت کا عمل غالب ہی سے شُرُوع ہُوا تھا۔ وُہ نہ ہوتے تو ہمارے اندر شاید یہ داعیہ ہی نہ پیدا ہوتا کہ معنی کی جمالیاتی ساخت کا اُصُول تلاش کِیا جائے۔

شہزاد احمد کے بارے میں ایک فِقرہ مُدّت سے چلا آ رہا ہے کہ اُن کی شاعری تلاشِ معنی کی رُوداد ہے۔ کوئی چیز بہُت زیادہ چل پڑے تو بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ بے معنویّت اپنی طرف مُتوجِہ بھی نہیں ہونے دیتی۔ شہزاد احمد کے ساتھ بھی یہی ہُوا کہ اِس قول نے رفتہ رفتہ ایک شور کی شکل اِختیار کر لی، جِس میں اُن کی شاعری کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ معنی کی تلاش شہزاد احمد کا مسئلہ نہیں ہے، مگر ہمیں کم از کم اِتنا تو اندازہ ہونا چاہیے کہ شاعری میں معنی کا کیا مطلب ہوتا ہے اور اِس کی تلاش سے کیا مُراد ہے؟

شہزاد احمد کے پچھلے تین چار مجموعوں میں ایک چیز مُشترک ہے: معنوی تھیم (theme)۔ ہر مجموعے کا اپنا ایک موضُوع ہے، جِس کی تشکیل ایک ایسے کُل کی طرح ہُوئی ہے، جو حقیقت، معنی اور صُورت کا احاطہ کر لینے والی وُہ مُرتکز وُسعت رکھتا ہے، جِس کے حُدُود میں داخل ہو کر چیزیں اپنی اِنفرادیّت کو برقرار رکھتے ہُوئے آپس میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ ادغام اور اِمتیاز کا یہ عمل گو کہ شُعُور کے اُس دائرے سے باہر ہے، جِس میں رہنے کے ہم عادی ہو چکے ہیں، تاہم اِس کے اثبات میں شِدّت پیدا کِیے بغیر معنی کی اصلی بناوٹ تک نہیں پَہُنچا جا سکتا۔ معنی تو دُور کی بات ہے، اِسے نظرانداز کر کے وُہ نِسبت بھی اوجھل رہ جائے گی، جو الفاظ و اشیا اور اُن کے معانی کے درمیان جبری طور پر پائی جاتی ہے۔ ”آنے والا کل“ میں بھی شہزاد احمد نے ایک معنوی کُل بنایا ہے، جو پچھلے themes سے مربُوط ہونے کے باوُجُود دروبست میں قدرے مختلف ہے۔ مگر یہ اِختلاف ساخت کا ہے اور ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک ہی زنجیر کی کڑیوں میں ہوتا ہے۔ مثلاً: ”اُترے مری خاک پر سِتارہ“ اور ”معلُوم سے آگے“ میں کائنات اور انسان میں معنی پذیری کی نئی جہت کا کھوج لگانے کی کاوش، جِس تقدیری المیے پر ختم ہُوئی تھی، ایک پہلُو سے یہ کتاب اُسی کا تسلسُل ہے، مگر اِس میں ایک عارفانہ ٹھہراو کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اِس سے ایک نئی المیاتی گہرائی پیدا ہو گئی ہے:

جاگو!

مگر اب جاگنے کا وقت شاید جا چُکا ہے

وُہ زمانہ آ چُکا ہے

جِس کی خواہش کرتے کرتے

تُم زمین میں دھنس گئے ہو

اپنے اندر پھنس گئے ہو

(ٹُوٹتے بنتے ہُوئے)

اِس مجموعے میں گو کہ غزلیں زیادہ ہیں، مگر اِس کا مزاج نظموں ہی سے مُتعیّن ہوتا ہے۔ تاہم اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غزلوں کا کِردار محض ثانوی یا آرایشی ہے۔ اِس کتاب میں شہزاد احمد نے حِسّیات اور ذہن کو ایک دُوسرے کا بدل بنانے کا جو تجرِبہ کِیا ہے، وُہ اِن غزلوں کے بغیر ادُھورا رہ جاتا۔ اِنھیں خارج کر دِیا جائے تو ”آنے والا کل“ کی وُہ اِنفرادیّت فنا ہو جائے گی، جِس کی طرف اُوپر اِشارہ کِیا گیا ہے۔ اِس کتاب کی معنوی بناوٹ ایسی ہے کہ اپنے اندر ایک دُہرا پن رکھتی ہے اور اِس کا بُنیادی تھیم، جِس وحدت کا حامل ہے اُس کے اجزا آپس میں ایک عجیب طرح کی مُتوازیّت رکھتے ہیں، جو اِنھیں نہ مِلنے دیتی ہے، نہ جُدا ہونے دیتی ہے۔ گویا ایک دائرہ در دائرہ صُورتِ حالات ہے کہ ہر دائرہ دُوسرے سے الگ ہے بھی اور نہیں بھی۔ اِس ہم آہنگ مُتوازیّت کی تشکیل میں مرکزی کِردار غزلوں کا ہے، لیکن جِس دائرے میں یہ سب ہو رہا ہے، وُہ نظموں کا بنایا ہُوا ہے۔

”آنے والا کل“ کی غزلوں اور اُس کے بعد نظموں پر گُفتگُو کرنے سے پہلے ضُرُوری ہے کہ یہ دیکھ لِیا جائے کہ جِس مُتوازیّت کا اِس قدر اہمیّت کے ساتھ تذکرہ ہو رہا ہے، اِس کتاب میں اُس کی کارفرمائی کِس طرح ہُوئی ہے؟ اِس سوال کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ شہزاد احمد کا پہلا مجموعہ ہے، جِس میں غزلیں اور نظمیں ہم موضُوع ہیں، اور دُوسرا جواب یہ ہے، یہاں فِکر و احساس کو اُن کے باہمی اِمتیازات سمیت ایک اِکائی میں ڈھالنے کا سامان کِیا گیا ہے۔ اُصُولی بات اِتنی ہی ہے، باقی تفصیل آگے بیان ہو جائے گی۔

غزل میں موضُوع کا تصوُّر ہی عجیب ہے، مگر کیا کِیا جائے، جو شاعر محسُوسات میں بھی ذہنیت پیدا کر دیتا ہو، اُس کی غزل میں ایک مجموعی معنویّت کا وُجُود فِطری اور ناگُزیر ہے۔ بس اِسی کو موضُوع سمجھ لیجیے۔ ”آنے والا کل“ کی غزلیات میں گو کہ شہزاد احمد نے اپنی غزل گوئی کے ڈھب میں کوئی بُنیادی تبدیلی نہیں کی، لیکن ایک چیز بہر حال واضح ہے۔۔۔ اِن غزلوں میں ایک مضبُوط اور باقاعدہ ربط پایا جاتا ہے، مضامین میں بھی اور اسالیب میں بھی۔ قریباً سارے مضامین اِنسان کے گِرد گھُومتے ہیں، انسان جو ایک واقعہ ہے اور کِسی تصوُّر کا مِصداق بننا قُبُول نہیں کرتا۔ یہی صُورت اسالیب کی بھی ہے۔ تمام غزلیں ایک ہی تکنیکی پھیلاو کے مختلف حِصّوں کو مُحیط ہیں۔ لفظ کو معنی سے جُڑا رکھنے کے لیے اُسے عموماً ایک چیز کی طرح برتا گیا ہے اور اُس کی اِس وضعی تہہ داری سے کوئی مدد نہیں لی گئی، جِس کی بُنیاد پر یہ معنی سے زیادہ وُسعت پکڑ لیتا ہے یا اُس کے وُجُود کو خُود پر مُنحصر کر لیتا ہے۔ اِن غزلوں میں، اور ایک حد تک نظموں میں بھی، الفاظ کی لفظیّت کو اُبھرنے کا موقع نہیں دِیا گیا۔ اِن کا کِردار بس معانی کی واقعاتی تشکیل تک محدُود ہے، یعنی معنی، تصوُّر کی قید سے نِکل کر جِس غیرذہنی صُورت بل کہ عمل، بل کہ واقعے میں ڈھل جاتا ہے، لفظ اُسے لائقِ تجرِبہ بنا دیتا ہے اور اِس تجرِبے میں خُود اپنی بھی آمیزش نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے، قریباً ہر شعر میں آپ دیکھیں گے کہ جیسے ہی بات مُکمّل ہوتی ہے، الفاظ گویا ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کُچھ اشعار دیکھیے، جن میں بظاہر وُہ الفاظ استعمال کِیے گئے ہیں، جو ہماری روایت میں اِصطلاحات کا درجہ رکھتے ہیں اور کوئی شاعر اُنھیں اُن کے مُقرّرہ علامتی سیاق و سباق سے کاٹ کر اِستعمال کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ شہزاداحمد نے ایسے بھرے ہُوئے خُودمُختار لفظوں کو بھی دیکھیے کیسا سدھا کر صَرف کِیا ہے:

یہ مُعجزہ اب کے مری آنکھوں ہی میں ہو گا

یہ بحر تو قطرے کو گُہر کر نہیں پاتے

٭

نہیں اگرچہ سِتارے مرے بنائے ہُوئے

مگر ہُوں سر پہ کئی آسماں اُٹھائے ہُوئے

٭

کِسی دیار ، کِسی دشت میں اسِیر نہ ہو

ہواے صبح چمن کی طرف نہ آتی ہُوئی

٭

طے اپنی آگہی کا سفر کِس طرح سے ہو

گُذری ہے عُمر خُود سے حقیقت چِھپانے میں

٭

اِس سے پہلے کہ اِن آنکھوں میں سمُندر آ جائے

جو بھی اِس دل میں چِھپا بیٹھا ہے، باہر آ جائے

٭

اِن اشعار میں جو اِسم بھی آیا ہے، وُہ اپنے فوری مسمّٰی سے تجاوز نہیں کرتا اور ہر شعر معنی کی جِس ساخت پر تمام ہوتا ہے، وُہ ایک ٹھیٹھ واقعیت ہے، جو اِدراک و اظہار کی مُستقل مجبُوری کی بِنا پر ظاہر تو لفظ سے ہوتی ہے، مگر اُس پر قائم نہیں ہے۔ شُعُور کی تحویل میں آتے ہی شعر ایک ایسی فضا میں بدل جاتا ہے، جو تصوُّرِ محض سے مُشابہت نہ رکھنے کے باوُجُود بڑی حد تک غیر لفظی ہے۔ لفظ ہمیں ایک جگہ تک پَہُنچا کر رُخصت ہو جاتے ہیں۔

بُلندیاں مرے چاروں طرف فروزاں ہیں

مری نظر ہے عجب مشعلیں جلائے ہُوئے

یہ بات کہِیں ذہن سے نِکل نہ جائے، اِس لیے یہِیں عرض کِیے دیتا ہُوں کہ معنی کی واقعاتی (یا واقعیّتی؟) ساخت سے مُراد یہ ہے کہ اِس میں ذہن کی تصوُّر سازی کا عمل دخل کم سے کم ہو، اور شُعُور اِسے ایجاد نہ کرے، بل کہ بنی بنائی حالت میں قُبُول کرے۔ بالفاظِ دیگر، معنی ذہن کی مُداخلت سے آزاد ہوں، اور ایک exteriorized ہیئت رکھتے ہوں۔ اِس ہیئت کی تعمیر شہزاد احمد کا خاص الخاص ہُنر ہے، جو نظم اور غزل دونوں سے ظاہر ہے۔ سرِدست غزل پر بات ہو رہی ہے، اِس لیے وُہیں سے کُچھ نمُونے مُلاحِظہ فرمائیے:

سایے کے ساتھ بھی تو کوئی ہونا چاہیے

سایہ لگا ہُوا ہے اگر آدمی کے ساتھ

٭

اپنے قدموں پر ٹھہر جائیں سِتارے سارے

ایسی چُپ ہو کہ شب و روز کو چکّر آ جائے

٭

مُجھے اُس شخص پر ، اُس کو یقیں مُجھ پر نہیں آتا

اِسی باعث تو مَیں تصویر سے باہر نہیں آتا

٭

عجیب چیز تھی ، مٹّی سے گھُورتی تھی مُجھے

اور اُس گھڑی مری آنکھوں میں کُچھ پڑا ہُوا تھا

٭

ہوا کی طرح زمینیں گُذرتی جاتی تھیں

ہماری آنکھ کے اندر سفر چِھپا ہُوا تھا

٭

یہ سب اشعار پیچیدہ مناظر کی طرح ہیں، جِن کی پیچیدگی ذہنی نہیں، بل کہ محسُوساتی ہے۔ اِن میں سے ہر شعر یقیناً کوئی نہ کوئی مطلب رکھتا ہے، لیکن وُہ مطلب ذہن میں مفہُوم بن کر مُنتقل نہیں ہوتا، بل کہ تصویر کی طرح ثبت ہو جاتا ہے۔ یہاں شاعر کُچھ کہہ نہیں رہا بل کہ کُچھ دِکھا رہا ہے۔

معنی کی بصری تشکیل اور احساسات کی ذہنی بناوٹ جوجدید فزکس اور نفسیات کے ساتھ شہزاد احمد کے تخلیقی تعلُّق کا نتیجہ ہے اور اُن کی کُل شاعری کا خاصّہ ہے، اِس کتاب میں اِس کا اِظہار ایک مختلف پس منظر میں ہُوا ہے۔ فزکس کی دُنیا اور نفسیات کے آدمی کو بدلے بغیر ایک شعری تناظُر میں اُن کے درمیان ایسی نسبتیں دریافت یا ایجاد کی گئی ہیں، جِن کی معنویّت مُتعیّن کرنے کے وسائل فی الحال مُیسّر نہیں ہیں۔ اُوپر جو اشعار نقل ہُوئے ہیں، اُن میں سے کسی بھی شعر کو منتخب کر کے اُس پر جتنا چاہے غور کر لیں، نتیجہ یہی نِکلے گا کہ معنی، محسُوس تو ہو جاتے ہیں، مفہُوم کی سطح تک اُتر کے مُتعیّن نہیں ہوتے۔ یہ چیز نظموں میں زیادہ ہے، لیکن غزلوں میں بھی اِس کی کارفرمائی اِتنی شِدّت سے ہے کہ نسبتاً روایتی بل کہ رسمی مضامین میں بھی کِسی نہ کِسی پہلُو سے شامل نظر آتی ہے۔ مثلاً:

مُجھے خبر ہے کہ پھر رات آنے والی ہے

چراغ دِن کو بھی مَیں نے نہیں بُجھائے ہُوئے

٭

جھیلے ہیں گو عذاب بہُت تیرے عِشق میں

اور عِشق بھی کِیا ہے بڑی بے دِلی کے ساتھ

٭

طُلُوع ہوتی ہے پھر صبح چہچہاتی ہُوئی

صبا ، صدا کی طرح ہر طرف سے آتی ہُوئی

چراغ ساحلوں پر ڈُوبتے اُبھرتے ہُوئے

اُداس شام تہہِ آب جگمگاتی ہُوئی

٭

کرتا ہے جو کام یہ سُورج

وُہ تو دِیا بھی کر سکتا ہے

٭

کُچھ نظر آتا نہیں ہم کو اندھیرے کے سِوا

آنکھ جلتے ہُوئے سُورج سے مِلائے ہُوئے ہیں

٭

ایسا اِک پھُول میرے باغ میں ہے

روشنی جِس کی ہر چراغ میں ہے

٭

خزاں پھر سے پلٹ کر آ گئی ہے

مُجھے تو پتّا پتّا چاہیے تھا

٭

اِس طرح کے اشعار میں اُسلُوب اور بات روایتی ہے، مگر اِن کی جمالیاتی معنویّت غیر روایتی۔ تضادات کا معنی خیز اجتماع، گہری نفسیاتی پیچیدگی کا تجرِبہ، احساسات کے اندرُونی ٹکراو کی تالیف، محسُوسات کی باہمی منتقلی کا عمل اور اُن کے اِمتیازات اُٹھ جانے کی حالت ایسی چیزیں ہیں، جو ہماری شعری روایت کے بہُترین نمُونوں میں بدرجۂ کمال پائی جاتی ہیں، لیکن شہزاد احمد نے اُنھیں کسی تخئیلی یا مابعدالطبیعی سیاق و سباق کے بجاے ایک ایسی معنویّت کی تشکیل میں صَرف کِیا ہے، جو تجربی ذہن کی گرفت سے باہر ہونے کے باوُجُود اپنی غایت اور ماہیت میں تجربی ہی ہے۔ مَیں تاحال کسی ایسے ہم عصر شاعر سے ناواقف ہُوں، جِس کے ہاں جمالیاتی شُعُور کی اِس سرگرمی کا مدّھم سا سُراغ بھی پایا جاتا ہو۔

مختصر یہ کہ اِس کتاب کی غزلوں میں بھی جمالیاتی شُعُور کی اُس قُوّت کا اِظہار پایا جاتا ہے، جِس کے ذریعے سے عقل اور حواس کی ناکامیوں اور کوتاہیوں کی تلافی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی حقیقت اپنے ہر تصوُّر میں جمالیاتی شُعُور کا موضُوع ہے نہ کہ عقل وغیرہ کا۔

ایک وضاحت البتّہ یہِیں ہو جائے تو بہُتر ہے۔ غزل والے حِصّے میں منقبتیں وغیرہ بھی شامل ہیں، جو لگتا ہے فرمایش پر لِکھی گئی ہیں۔ اِس گُفتگُو کا اُن سے کوئی تعلُّق نہیں ہے۔ اِن پر ثواب تو مِل سکتا ہے، داد نہیں۔

٭

”آنے والا کل“ کی نظموں کے بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ اِن میں معنی، کرافٹ اور معنویّت دونوں پر غالب ہے۔ یہاں معنویّت کا مطلب ہے معنی کا وُہ تصوُّر جو ذہن کا اِیجاد کردہ ہے اور جِس کی بُنیاد پر ذہن، شے پر تسلُّط جمائے رکھتا ہے۔ اِن نظموں میں سب سے زیادہ زور اِسی پر ہے کہ معنی اور ذہن کا تلازُم توڑ کر معنی اور شے کی اصلی نِسبت بحال کی جائے۔ دُوسری بات یہ ہے کہ شہزاد احمد نے غالباً پہلی مرتبہ آدمی کو اُس کی actuality کی سطح پر رکھتے ہُوئے، اُسے حقیقت کے تصوُّر کی تشکیل کرنے والے ہر دستیاب تناظُر سے گُزارا ہے۔ یعنی آدمیّت کے عُمُومی اُصُول کو مابعدالطبیعی بیان میں بھی کھپا کر دِکھایا ہے:

بے شُمار احباب، ہر لمحہ نئے چہروں کے ساتھ

مُجھ کو مِلتے ہیں

مُجھے کہتے ہیں پہچانو ہمیں

مَیں اُنھیں پہچان لیتا ہُوں

مگر اِس کھیل میں

بھُول جاتا ہُوں کہ مَیں خُود کون ہُوں

                             (کِس قدر تنہا ہے تُو)

          ٭

کیا مَیں ایسی زمیں پر کھڑا ہُوں

جِسے دیکھنے کے لیے

مُجھ کو آنکھیں نہیں چاہییں۔۔۔

                             (اُس گُماں کی طرف)

ایک چُپ تھی کہ جو چِلّائے چلی جاتی تھی

میری ہی چاپ کو دُہرائے چلی جاتی تھی

مَیں تھکا ہارا مُسافر تھا

کِسی سایے کی حاجت تھی مُجھے

شاید اپنی ہی ضُرُورت تھی مُجھے

                             (اپنی دہلیز پر)

یہ اقتباسات مَیں نے اُن نظموں سے نِکالے ہیں، جِن پر مُجھے گُفتگُو نہیں کرنی۔ ایسا محض یہ دِکھانے کے لیے کِیا ہے کہ مذکُورہ بالا باتیں کُچھ منتخب نظموں کے حوالے سے نہیں کی گئیں، بل کہ اِس مجموعے کی قریباً ہر نظم پر صادق آتی ہیں۔ اِن ٹکڑوں کو غور سے دیکھیے، تینوں میں بالترتیب نفسیاتی، کائناتی اور مابعدالطبیعی تناظُر بنایا گیا ہے، جو آدمی بل کہ عام آدمی پر مرکُوز ہے۔ یہ ٹکڑے جِن نظموں سے لِیے گئے ہیں، اُن کا یہی موضُوع ہے، لہٰذا یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کُچھ چیزیں اِدھر اُدھر سے الل ٹپ جمع کر دی گئی ہیں۔

اصل میں مُجھے چار نظموں پر گُفتگُو کرنی ہے، قدرے تفصیل کے ساتھ۔ ”مَیں کہاں ہُوں“، ”بند مُٹھّی“، ”ہم تُم سے کیوں مِلتے“ اور ”مَیں سے مَیں تک“۔ میری راے میں یہ اِس کتاب کی بہترین نظمیں ہیں۔

”مَیں کہاں ہُوں“ بناوٹ میں سادہ مگر فی الواقع بہُت پیچیدہ نظم ہے۔ بیان کے اوّل و آخِر میں ایک سادہ سی یکسانی ہے، جیسے دائرہ جِس نُقطے سے شُرُوع ہوتا ہے، اُسی پر تمام ہو جاتا ہے۔ مگر کیا دائرے کا نُقطۂ آغاز اور نُقطۂ اِختتام ایک ہی چیز ہے؟ یہ نظم کہتی ہے کہ ”ہاں“، اور یہی نظم کہتی ہے کہ ”نہیں“۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ شہزاد احمد نے ”ہاں“ اور ”نہیں“ کو ایک دُوسرے میں کیسے ضم کِیا ہے۔

مَیں کہاں ہُوں

یہاں کُچھ نہیں

صِرف ہونے کا احساس ہے

نظم کی یہ ابتدائی تین لائنیں اُس اِشارے کی طرح ہیں، جو اُن سمتوں کی طرف بھی راہ نُمائی کرتا ہے، جو کہِیں نہیں پائی جاتیں۔ جو بتایا جا رہا ہے، وُہ سمجھنے کی اِستعداد سے مُتصادم ہے اور جو دِکھایا جا رہا ہے وُہ دیکھنے کی روایت سے باہر ہے۔

”مَیں“ کو یقین سے مُتعیّن نہیں کِیا جا سکتا۔ یہ صیغۂ مُتکلّم ایک نقاب کی طرح ہے، جِسے کِسی بھی چہرے پر چڑھایا جا سکتا ہے۔ ایک ایسی نِسبت جِس کا حامل واضح ہے، مگر پتا نہیں چلتا کہ وُہ موجُود ہے، یا غیرموجُود۔ یہ غیرمُتعیّن ”مَیں“ جب کہتا ہے: ”مَیں کہاں ہُوں“ تو اُس کی بے تعیُّنی سارے ’مَیں‘ میں سرایت کر جاتی ہے۔ ”کہاں“ بھی اُس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور ”ہُوں“ بھی۔ ہونا اور ہونے کا ماحول، اثبات کی رسائی سے بھی پرے ہے۔ اُس مقام کو ”یہاں“ سے تعبیر کرنا ایک لسانی مجبوری ہے، جِسے ”کُچھ نہیں“ کے ذریعے سے قابُو میں رکھنے کا اہتمام کِیا گیا ہے، یعنی ”یہاں کُچھ نہیں“۔۔۔ نہ مَیں، نہ کہاں، نہ یہاں، نہ ہستی۔ ”صِرف ہونے کا احساس ہے“ جو کُچھ نہ ہونے کو بامعنی بناتا ہے۔

ایک اور رُخ سے دیکھیں، تو پہلا مِصرع قاری کو اپنا اِختیار اِستعمال کرنے پر اُکساتا ہے۔ ہم اِسے کئی انداز سے پڑھ سکتے ہیں اور یہ لائن بل کہ پُوری نظم ہر اندازِ قِرأت کی سمائی رکھتی ہے۔ مثلاً ”مَیں کہاں ہُوں“ پر کوئی بامعنی نشان ڈال دیں یا لہجہ بدل کر ادا کریں، تو باقی دو مِصرعے بھی اُس کے تابع ہونے کی وجہ سے کُچھ نئے مفاہیم دینے لگیں گے۔ آئیے کُچھ مشق کر کے دیکھتے ہیں:

1- ”مَیں کہاں ہُوں؟“

1:1     کوئی مُجھے بتائے کہ مَیں کہاں ہُوں؟ فی الوقت جہاں ہُوں، وہاں تو کُچھ نہیں ہے۔ بس ایک احساس ہے کہ ہونا بھی کوئی چیز ہوتا ہے، مگر میرا ہونا تو احساس کی سطح پر بھی ثابت نہیں ہے۔

1:2     یہ محض ایک وہم ہے کہ مَیں ہُوں، ورنہ بتاﺅ مَیں کہاں ہُوں؟ مُجھے جہاں موجُود فرض کِیا جا رہا ہے، وہاں تو خُود وُجُود ایک خیال ہے، موجُود کا کیا ذِکر؟

1:3     بُوجھو تو سہی مَیں کہاں ہُوں؟ یہاں! نہیں یہاں تو کُچھ نہیں ہے۔ یہاں تو صِرف ہونے کا ایک احساس ہے، جو مُجھ پر بھی طاری ہے اور تُم پر بھی۔

1:4     مَیں خُود سے پُوچھتا ہُوں: مَیں کہاں ہُوں؟ یہ ”مَیں“ جو میرا تشخُّص بنا ہُوا ہے، یہ تو مَیں نہیں ہُوں۔ یہاں کُچھ نہیں ہے، بس ایک احساس سا ہے کہ ”مَیں“ کے بغیر بھی ہونے کی ایک حالت شاید مُمکن ہے۔

2- ”مَیں کہاں ہُوں!“

2:1     مَیں بھلا کہاں ہُوں/ آہ مَیں کہاں ہُوں، جہاں مَیں ہُوں، یہاں مَیں تو کیا، کُچھ بھی نہیں ہے۔ اور اِس نہ ہونے میں ایسی شِدّت ہے کہ بس ہونے کا ایک احساس سا رہتا ہے، کِسی نسبت کے بغیر۔

2:2     تُم مُجھے ”مَیں“ سمجھ رہے ہو؟ یہ مَیں کہاں ہُوں۔ یہاں کُچھ نہیں ہے سِواے ایک ہونے کے احساس کے، جِس نے تمھیں بھی دھوکے میں ڈال رکھّا ہے اور مُجھے بھی۔

2:3     مُجھے ”من وتُو“ کے فرسُودہ اور محدُود وُجُودی معیارات سے مَت دیکھو۔ مَیں اُن سے بُلند ہُوں۔ آﺅ تُمھیں دِکھاتا ہُوں کہ مَیں کہاں ہُوں! یہاں، جِسے وہاں بھی کہہ لو تو کوئی فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ یہ مقام کہیں پایا نہیں جاتا، نہ خارج میں نہ داخل میں، یہاں کُچھ نہیں ہے، حتّٰی کہ کُچھ نہ ہونے کا شُعُور بھی نہیں ہے، صِرف ہونے کا احساس ہے جِسے محسُوس کرنے والا بھی نہیں ہے۔

2:4     اوہ یہ مَیں کہاں آ گیا ہُوں! یہاں توکُچھ نہیں ہے، بس مَیں ہُوں اور ہونے کا ایک احساس۔

اِس مشق یا کھیل کو جتنا چاہے طُول دے دیں، مگر سرِدست اِتنا کافی ہے۔ اِن مثالوں سے یہ بہرحال واضح ہو گیا کہ اِس نظم کا آغاز ہی اِس طرح سے ہُوا ہے کہ قاری خُود کو ایک ایسے تجرِبے کے مُقابل پاتا ہے جِس کے مفہُوم بننے کا عمل حال آں کہ ثانوی اور ضِمنی حیثیت رکھتا ہے، مگر کثیرالاطراف ہے۔

وُجُود اور موجُود کی دُوئی کا تصوُّر، تخیُّل کا وُہ مُنتہیٰ ہے، جہاں حقیقت کا ماوراے اِدراک ہونا تجرِبے میں آ جاتا ہے۔ اس تجرِبے کی معنویّت اِتنی شدید ہوتی ہے کہ شُعُور کی بُنیادی منطق کا ڈھانچا جو کثرت، اِختلاف اور تضاد پر اُستوار ہے، مُنہدم ہو جاتا ہے۔ ہاں اور نہیں کے درمیان حائل دِیوار گِر جاتی ہے۔ یہ نظم، گو کہ اِسی تصوُّر پر مبنی ہے، مگر یہاں یہ تصوُّر عارفانہ تخیُّل کی پرواز کا حاصل نہیں ہے، بل کہ شِدّتِ احساس کا نتیجہ ہے۔ پُوری فضا مابعدالطبیعی پھیلاو کی حامل ہے، مگر نظم کا محور آدمی ہے۔۔۔ آدمی جو ابھی define نہیں ہُوا۔

نُور کا ایک طُوفان ہے

جو بہُت تیز ہے

پھر بھی آگے گُذرتا نہیں

اپنے پیچھے بھی جاتا نہیں

نظم کا یہ حِصّہ بعض رسمی دلالتوں اور روایتی ”ماحول“ کی وجہ سے یُوں لگتا ہے جیسے وُجُود کی لامکانی، لازمانی کیفیت کی منظرکشی ہے، مگر غور سے دیکھیں تو یہ منظر ایک رنگین پردہ ہے، جِس کے پیچھے کوئی مابعدالطبیعی ہستی نہیں، بل کہ انسان چِھپا ہُوا ہے۔ وُہی ”مَیں“ جو خُود بھی غیر مُتعیّن ہے اور اُس کی نِسبت بھی۔ یہ اِتنا حقیقی ہے کہ اخفا اور اِظہار کے ناظر اساس حُدُود میں نہیں سماتا، اور اِتنا مُکمّل ہے کہ تمام نِسبتوں سے آزاد ہے۔ نہ یہ کِسی سے منسُوب ہے اور نہ کوئی اِس سے۔ یہ ”نُور کا طُوفان“ ہے یعنی وقت کی بندش سے آزاد ہے۔ آگے گُذرتا ہے نہ اپنے پیچھے جاتا ہے، یعنی مکان کی قید سے باہر ہے۔

بس جہاں ہے، وہیں ہے

مگر سرد و ساکت نہیں ہے

اِک حرارت ہے جِس میں سکُونت کا پھیلاو ہے

نُور کے طُوفان کے بارے میں یہ کہنا کہ ’بس جہاں ہے، وُہیں ہے‘ اُس وقت تک نامُمکن ہے، جب تک تخیُّل جدید فزکس کے سانچے میں پُوری طرح ڈھلا ہُوا نہ ہو۔ شہزاد احمد نے فزکس کے اثرات کو مابعدالطبیعی کیفیت اور معنویّت کے ساتھ قُبُول کِیا ہے۔ یہ نظم اِس کی ایک مثال ہے کہ خیال اور احساس کی جو سطحیں مابعدالطبیعاتی اُمُور کے لیے وقف ہیں، اُن پر بھی فزکس کی گرفت قائم کر دی گئی ہے۔ چلو یہ بات تو پھر بھی کِسی حد تک سمجھ میں آ جاتی ہے، کیوں کہ جب سے فزکس مادّے اور تجرِبیّت کے چُنگل سے نِکلی ہے، اِس میں تحدید اور قطعیّت کا رنگ ماند پڑ کر ایک مابعدالطبیعی مزاج پیدا ہو گیا ہے، لیکن یہ چیز بہرحال اچنبے میں ڈال دیتی ہے کہ اِس نظم میں انسان کی رُوحانی یا نفسیاتی گہرائیوں کو بھی فزکس کی مدد سے کھنگالا گیا ہے۔ یہ مناظر جن کا locale کہِیں اور نہیں، نفسِ اِنسانی کی بعید ترین اور عمیق ترین تہہ میں واقع ہے، اِن کا تار و پود فزکس سے بنا ہے۔ نُور کا طُوفان جہاں ہے، وُہ مقامے از مقامات نہیں ہے، بل کہ غیرمکانی نُقطہ ہے، جِس کا اِرتکاز وُسعت سے زیادہ وسیع ہے اور دوام وقت سے زیادہ قدیم۔ جدید ترین فزکس کے ایمان بالغیب کا یہ مرکز جو اصلِ کائنات ہے، اِس نظم میں انسان کے اندر مُنتقل ہو گیا ہے۔ اب یہ ”مَیں“ ہے، جہاں وُجُود اپنی محضیّت کو محفُوظ رکھتا ہے۔ انسان کا وُجُودی مُنتہیٰ یہی ہے کہ اِس ”مَیں“ کے ساتھ نِسبت قائم کرنے کا اِستحقاق حاصل کر لے۔ خیر اِس آخری فقرے کو جُملۂ مُعترضہ سمجھیے اور فی الحال موضُوع سے خارج رکھیے۔ نُور کے طُوفان پر بات نامُکمّل رہ گئی تھی، اُسے پُورا کر لیتے ہیں۔

آفاقی کائنات کی طرح انفسی کائنات بھی ایک نُقطے کے دھماکے سے پیدا ہُوئی ہے۔ اِس نظم میں اُسی نُقطے کو دوبارہ تعمیر کِیا گیا ہے، جہاں وُجُود و عدم ہم معنی ہیں، بل کہ اگر ایک غیر زمانی قبلیت کو فرض کِیا جا سکے، تو یہ نُقطہ وُجُود و عدم سے پہلے ہے۔ نُور کا طُوفان اِس کا Content ہے، جو نہ مُتحرّک ہے نہ ساکن۔

          مَیں کہِیں بھی نہیں ہُوں

          مگر ہر جگہ مُجھ کو ہونے کا احساس ہے

          مَیں کِسی کی طلب میں نہیں

          اور نہ کوئی مرے پاس ہے

ہستی کے باطنی پھیلاو کو پھر سے سمیٹ کر وُہی نُقطہ بنانے کا عمل ’مَیں‘ کی تکمیل پر تمام ہو جاتا ہے۔ وُجُود اور موجُود کا اِمتیاز اُٹھ جاتا ہے۔ ’صِرف ہونے کا احساس‘ اب ’مَیں‘ کے موجُود ہونے کا احساس بن جاتا ہے۔ یہ ’مَیں‘ انا یا شخصیت نہیں ہے، بل کہ انسان کی حقیقت ہے اور اِس حقیقت کی خُود شُعُوری کا مرکز جو اِتنا مُکمّل اور اِتنا خالی ہے کہ غیر کی ضُرُورت ہے، نہ گُنجایش۔ اِتنا مُرتکز پُورا پن اور ایسا خالص خلا ہونے اور نہ ہونے سے بے نیاز ہے، وُجُود اِس پر کوئی اضافہ کر سکتا ہے، نہ عدم اِسے بھر سکتا ہے۔

اِس نظم میں حقیقتِ انسانی کو ایک غیر اِنفرادی انا میں مُتعیّن کر کے جو تجرِبہ ایجاد کِیا گیا ہے، وُہ ماورائی نہ ہونے کے باوُجُود یکسر نامانُوس ہے۔ اِس تجرِبے میں معنویت کا زور اِتنا زیادہ ہے کہ کیفیت کا سارا وُفُور کُچھ دیر کے لیے مُعطّل سا ہو جاتا ہے۔

ایک بدلے ہُوئے پس منظر کے ساتھ ”مَیں سے مَیں تک“ کا بھی یہی موضُوع ہے۔ یہ اِس کِتاب کی سب سے لمبی نظم ہے۔ ”مَیں کہاں ہُوں“ کا ’مَیں‘ نُقطہ ہے تو، اِس نظم میں وُہ دائرہ بن گیا ہے۔ وہاں ’مَیں‘ کا اِرتکاز تھا اور یہاں پھیلاو۔ وہاں دائرہ سِمٹ کر نُقطہ بن گیا تھا، تو یہاں نُقطہ پھیل کر دائرہ۔ اِسی لیے اِس نظم میں ’مَیں‘ کا انسانی پن زیادہ واضح اور نُمایاں ہے۔

          مرے مسئلے وُہ نہیں ہیں

          جو تُم سوچتے ہو

          نہ وُہ ہیں جو تُم چاہتے ہو

          مَیں اپنی طرح کا اکیلا ہی انسان ہُوں

یہ نظم کا آغاز ہے، ایک مُکمّل آغاز۔ باقی نظم اِسی کی تفصیل ہے۔ انسان کو آدمیّت کے مُروّجہ اسالیب اور موجُودہ بناوٹ سے مُنقطع کر کے اناے محض میں ڈھالنے کا یہ عمل اپنے جوہر میں اخلاقی ہے۔ اِس نظم کی بڑی خُصُوصیّت یہ ہے، اِس میں اخلاق اور معنی کو ایک پیچیدہ تناظُر میں مربُوط کِیا گیا ہے۔ اِنسان کے اخلاقی وُجُود کی موت نے کِس طرح اُسے اپنی حقیقت اور معنی سے محرُوم کر رکھا ہے، ”مَیں سے مَیں تک“ اِسی کی المیہ رُوداد ہے۔

اپنی اِخلاقی حقیقت سے مُتّصل رہنے پر اِصرار کرنے والا آدمی وُجُودی اعتبار سے بھی اکیلا ہو جاتا ہے۔ اکیلا یعنی تنہا، اکیلا یعنی یکتا اور اکیلا یعنی آخری۔ شہزاد احمد نے ایک لفظ میں اِتنے معنی بھر دیے ہیں کہ لگتا ہے فہم اور محسُوسات کے اندر ایک نئی لچک اور ایک مختلف سمائی پیدا ہو رہی ہے۔ ’مَیں‘ کی اخلاقی تشکیل کے قریباً تمام عناصر لفظِ واحد میں یکجا ہو گئے ہیں:

1-      تنہائی اور اُس کی المیاتی شِدّت، جو انا کو شُعُور اور احساس کے آخری درجے میں بھی اِنسانی حُدُود کے اندر رکھتی ہے اور انسانوں سے مایُوس ہو جانے کے باوُجُود ان سے بے نیاز نہیں ہونے دیتی۔

2-      یکتائی کا شُعُور جو ’مَیں‘ کی اصل ہے اور اخلاقی استقامت کی بُنیاد۔ حقیقت کا اِخلاقی تناظُر اِسی شُعُور پر قائم ہے۔

3-      آخری پن کا احساس جو خُودی کی اخلاقی تکمیل کا لازمہ ہے۔ اتمام اُصُولاً اختتام ہی ہوتا ہے۔ ”اپنی طرح کا اکیلا ہی انسان“ انا کی اخلاقی حقیقت کا تنہا اور واحد ہی نہیں، آخری مظہر بھی ہے۔

یہ اکیلا انسان شُعُورِ محض ہے اور اپنے ارادے کی حدِ رسائی سے پرے جا چُکا ہے۔ اِسی وجہ سے دُنیا اُس کی ہستی کا ماحول نہیں بن سکی۔ اِس کی حَرَکت، وقت کی رفتار سے مختلف ہے۔ ’مَیں‘ کی اخلاقی ماہیت کا تقاضا ہے کہ زمانے پر غالب نہ آ سکنے کی صُورت میں دُنیا سے بھی لاتعلُّق ہو جائے اور اُس تشخُّص سے بھی جو آدمی دُنیا سے اخذ کرتا ہے۔ اخلاقی انا فعلیت میں بھی غیر ذاتی ہوتی ہے۔ یُوں کہہ لیں کہ ذات گویا اُس کی مترُوکہ اِملاک ہے، جِس کی ساری تفصیل اُسے حِفظ ہے۔

          مَیں زمانے کے ہمراہ چلنے کی کوشِش بھی کرنے سے معذُور ہُوں

          تُم سمجھتے ہو مغرُور ہُوں

          ذات کے بندی خانے میں محصُور ہُوں

یہ ’تُم‘ ایک زاوِیے سے آدمیّت کا دُنیا اساس تشخُّص ہے اور دُوسرے رُخ سے انا کا وُہ گُذشتہ تعیُّن ہے، جو اخلاقی اصل کے حُصُول سے پہلے تک اُس کی پہچان تھا۔ بالفاظِ دِگر ’تُم‘ دُنیاوی آدمی کی پُوری نوع کا عُنوان ہے، جو دُنیا سے بُلند ہو جانے کی اخلاقی قُوّت کو خُودپرستی سے تعبیر کرتی ہے اور خُودی کو بھی اپنی انا پر قیاس کر کے ایک تنگ و تاریک قیدخانہ تصوُّر کرتی ہے۔

’مَیں‘ اور ’تُم‘ کی یکسانی اور اِمتیاز کی نشان دہی ہو جانے کے بعد اچانک منظر بدل جاتا ہے اور دُنیا اپنی داخلیت سمیت سامنے آ جاتی ہے، جو ’تُم‘ یعنی مترُوکہ ’مَیں‘ کا مدارِ ہستی ہے۔

          دُور سے دیکھنے پر تو منظر وُہی ہے

          جو تُم کہہ رہے ہو

          مگر مُجھ کو لگتا ہے، چاروں طرف

          ایک بے نام سی بے حِسّی کے سِوا

          کُچھ نہیں!

دُنیا، اِنسانی دُنیا کا یہ منظر، جِس میں اُس کے اندر تک کی سیر ہو جاتی ہے، ایک اخلاقی بُلندی ہی سے نظر آ سکتا ہے۔ ’دُور‘ کا لفظ اِس ٹکڑے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

’دُور سے دیکھنا‘ = صِرف ظاہر پر نظر جمانا + باہر/ اُوپر سے دیکھنا + کُچھ دیکھنے کا وہم + تماش بینی + غفلت اور خالی الذہنی کے ساتھ دیکھنا۔۔۔

اِن سب پہلُوﺅں کو ملحُوظ رکھتے ہُوئے ایک بات اور نظر میں رہنی چاہیے: یہ دُوری فزیکل نہیں ہے! دیکھنے والا کسی قابلِ پیمایش فاصلے پر نہیں ہے، بل کہ منظر کے وسط میں موجُود ہے، بل کہ خُود منظر کا مرکزی حِصّہ ہے۔

دُنیا اور آدمی ایک دُوسرے میں مدغم ہونے کے عمل سے گُذر رہے ہیں، جِس کی وجہ سے اِس منظر کی بناوٹ میں اِنسانی عُنصُر نُمایاں ہے۔ ”ایک بے نام سی بے حِسی“:

          کوئی آہٹ کسی ایسے جنگل سے آتی ہے

          جِس میں درندے درختوں سے لپٹے ہُوئے رو رہے ہیں

          کہِیں مر گئے ہیں کہ دربان ابھی سو رہے ہیں

          یہاں کِس لیے رات دِن حادثے ہو رہے ہیں

’ایک بے نام سی بے حِسّی‘ میں لپٹا ہُوا یہ منظر اب کھُلنا شُرُوع ہو رہا ہے، مگر آنکھوں پر نہیں، بل کہ تقدیر کی چاپ سُننے والی سماعت پر اور معنی کو صُورت بنا لینے والے تخیُّل پر۔ دُنیا میں ’صَرف ہو جانے والا ’تُم‘ یہ نہیں جانتا کہ یہ عالَم خُود کُچھ نہیں ہے، بل کہ تقدیر کے آئینے پر بنتا بِگڑتا عکس ہے۔ اُس جنگل کا عکس جہاں ہمیشہ مُستقبل کا موسم رہتا ہے۔ جِس کل کو ابھی آنا ہے، وُہ وہاں کا آج ہے۔ ہم یہاں جو بننے والے ہیں، وہاں بن چکے ہیں۔ جن واقعات سے ہم آیندہ گُذریں گے، وُہ اُدھر ہو چکے ہیں۔ (یہ ہے، اِس کتاب کے نام کی معنویّت)۔

یہ جنگل اصلی دُنیا ہے اور یہ درندے اصلی آدمی۔ گویا ہم جِسے دُنیا سمجھ رہے ہیں، وُہ نقلی جنگل ہے، اور یہاں کا انسان نقلی درندہ، جو درندگی کے بُنیادی آداب سے بھی عاری ہے۔

          یہ انسان کیسا درندہ ہے

          اپنی ہی گردن میں خُود دانت گاڑے ہُوئے ہے

          اور اپنی ہی صُورت بِگاڑے ہُوئے ہے

یہ انسان جو مَیں‘ کو ’تُم‘ سے لاتعلُّق نہیں ہونے دیتا، یعنی انا کی اخلاقی تشکیل کے عمل کو پُوری طرح مُکمّل ہونے سے روکے ہُوئے ہے، ایک ایسے ماحول کا قیدی ہے، جہاں خُودشناسی کا ہر دروازہ بند ہے۔ خُود کو محسُوس تو کرتا ہے، مگر انا کے حُدُود اِس قدر ٹُوٹ پُھوٹ چکے ہیں کہ اپنی پہچان کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔ دُنیا خُودی کی کسی بُلندتر حالت کو قُبُول ہی نہیں کرتی۔ اُس نے آدمی کو قبر کی طرح دبا رکھّا ہے، کوئی زِندہ انسان وہاں تک پَہُنچ ہی نہیں سکتا۔ اِس میں وُہ تہہ داری ناپید ہے جو ذاتِ انسانی کے بُلند و پست مراتب کو آپس میں مربُوط رکھتی ہے۔ خُودی کی ایک جِست اُسے اِس اکہرے اور اُتھلے نِظامِ ہستی سے ایسا باہر کر دیتی ہے کہ واپسی کی سمت ہی گُم ہو جاتی ہے۔

          یہاں دُور تک آئینہ بھی نہیں

          جِس میں، مَیں اپنی صُورت کو پہچاننے کی تمنّا کروں

          جِس کے اندر اُتر کر

          مَیں اِس شہر تک آن پَہُنچوں

          جہاں تُم مکیں ہو!

دُنیا بس ’تُم‘ کے لیے سازگار ہے، ’مَیں‘ کو اپنے اندر نہیں اُترنے دیتی۔ یہاں ہستی کی لُغت بس ایک صیغے کی تفصیل پر مُشتمل ہے: ’تُم‘۔۔۔ مُخاطب بھی ’تُم‘ ہے اور مُتکلّم بھی۔ مُشکل یہ ہے کہ آدمی کے اندر ’مَیں‘ بننے کا داعیہ ابھی ماند نہیں پڑا۔ یہ ’مَیں‘ ناقابلِ شناخت تو ہے، مگر اِس کے حُصُول کی خواہش اِتنی شدید ہے کہ وُہ ’تُم‘ کو جِس میں دُوسروں کے ساتھ خُود وُہ بھی شامل ہے، فنا کرنے کے درپے رہتا ہے۔ تخریب اور خُودکُشی کا ایک ریلا اُس کے اندر چل رہا ہے۔ وُہ نیستی کے ماحول میں موجُود اور اپنا گلا گُھونٹ کر زِندہ رہنا چاہتا ہے۔

          عجب بات ہے

          تُم جو زِندہ نظر آ رہے ہو

          مگر چند صدیوں سے زندہ نہیں ہو

          مُدّتوں میں کہِیں جاگتے ہو

          اور اپنا لہُو چاٹنے کے لیے

          دُم ہلاتے ہُوئے ہر طرف بھاگتے ہو

چند صدیوں سے دُنیاے جدید کی پیدایش کا زمانہ مُعیّن ہوتا ہے۔ جدید دُنیا جو نقلی جنگل ہے اور جدید آدمی جو نقلی درندہ ہے، اِن کو پیدا ہُوئے ابھی کُچھ صدیاں ہی گُذری ہیں۔ اصلیت کا وصف حاصل کرنے کے لیے دُنیا خُود کو ویران کرنا سِیکھ رہی ہے اور اِنسان اپنی گردن میں دانت گاڑ کر اور اپنا لہُو چاٹ کر درِندگی کی مشق کر رہا ہے۔

اِس بند کو ایک اور زاوِیے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں سے خطاب کا رُخ مُسلمانوں کی طرف ہو گیا ہے۔ اِس طرح معنی میں واقعیت اور تاریخی پن پیدا ہو جاتا ہے۔ یعنی اُمّتِ مُسلمہ صدیوں سے مُردہ پڑی ہے، مُدّتوں میں کہِیں کوئی ہل چل پیدا بھی ہوتی ہے، تو اُس کی مثال مُردے کی بیداری کی سی ہے، جو موت کو پہلے سے زیادہ مُکمّل کر دیتی ہے۔ یہ اپنے آپ کو مارنے کے لیے دُشمنوں کی غُلامی میں چلی جاتی ہے۔ عِراق، افغانستان، سعُودی عرب، خلیج، الجزائر، پاکستان۔ ہر جگہ یہی ہو رہا ہے کہ ہم اپنا لہُو چاٹنے کے لیے دُم ہِلاتے ہُوئے ہر طرف بھاگ رہے ہیں، کہ کہاں ہیں ہمارے آقا، کہاں ہیں ہمارے قاتل؟

اگلے بند میں مُسلم حُکُومتوں سے رُوے تخاطُب پھیر کر القاعدہ جیسی تنظیموں کی طرف کر دیا گیا ہے، جو خُودکُشی کے اِسی جُنُون کو دُوسرے رنگ میں ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم نظم میں کارفرما معانی کی یہ محض ایک سطح ہے جِس کی طرف اِتنا اِشارہ کافی ہے۔ ہم اپنی گُفتگُو کو اِس ایک سطح تک محدُود نہیں رکھ سکتے، لہٰذا اِسے مزید طُول دینے کے بجاے اپنی توجُّہ اِس نظم کی مجموعی معنویّت کے مرکز پر مُرتکز رکھیں گے۔

          مگر تُم کو اِتنا تو معلُوم ہے

          تُم یہاں پر اکیلے ہو

          تخریب کی زرد خواہش تُمھیں مرنے دیتی نہیں

          زخم رکھتی ہے ہر دم ہرے

          بھرنے دیتی نہیں

          اِک چُبھن ہے

          جو آرام کرتی نہیں، کرنے دیتی نہیں

سخت ہولناک المیہ ہے۔ فرد کی تنہائی میں تو پھر بھی کوئی گہرائی اور طمانیت ہوتی ہے، لیکن پُوری نوع اکیلی رہ جائے! اِس سے زیادہ ڈراﺅنے پن کا تصوُّر بھی نہیں کِیا جا سکتا۔ ’مَیں‘ کی حیثیت سے تنہائی موجُود ہونے کی کیفیت میں شِدّت اور وُسعت پیدا کر دیتی ہے، مگر ’تُم‘ بن کر تنہا ہو جانا، ایک مُہمل معدُومیّت میں مُبتلا ہو جانے کے مُترادف ہے۔ اور پھر یہ ’تُم‘ بھی شخصی نہیں، بل کہ نوعی ہے۔ ساری نوع خُود اپنے لیے اِدراک اور اِظہار کی ہر سطح پر ’تُم‘ بن گئی ہے، اِس کا اکیلا پن تاریخِ ہستی کا سب سے بھیانک واقعہ ہے، جِس نے عدم کی معنویّت کو بھی مسخ کر کے رکھ دِیا ہے۔

نظم کے آغاز سے جِس منظر کی ابتدا ہوئی تھی، وُہ تمام تر پیچیدگی اور ہولناکی کے ساتھ اِس بند میں تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ ’مَیں‘ سے خالی ’تُم‘ کی یہ تصویر، معنی کی ایک نئی قِسم کا اظہار ہے، جو لفظ کی معنی داری کے ڈھب پر ہے، نہ ذہن کی معنی پذیری کے چلن پر۔ بس آگہی کا ایک جھماکا ہے، جو ذہن کو چُندھیا دیتا ہے اور تجربے کی ایک باڑھ ہے، جو محسُوسات کے حدُود کو پھلانگ جاتی ہے۔ اِس کی کیفیت پر تھوڑی سی گُفتگُو پچھلے بند کی تمہید میں ہو چکی ہے، البتّہ اِس کی معنویّت پر ایک آدھ بات کرنے کی کوشِش کرتے ہیں، جو ذہن کے اُسلُوبِ فہم سے بہُت زیادہ مُغایرت نہ رکھتی ہو۔

موجُود ہونے کے حالات سازگار ہوں اور احوال قوی، تو انسان ’مَیں‘ کی اساس پر اِستقامت کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہ ہو تو وُہ غیرِ خُود میں مُنقلب ہو جاتا ہے، یعنی اپنے لیے بھی ’تُم‘ بن جاتا ہے۔ بے معنی اور قابلِ نفرت ’تُم‘ مُردہ انا کا بُھوت، جو اپنی موت کا اِنتقام لینے کے لیے چکراتا پِھر رہا ہے۔ اُس کا ہدف کوئی اور نہیں، وُہ خُود ہے۔ یہاں اِس کے سوا اور ہے ہی کون؟ ایک مشّاق قاتل، نیز ایک بے آسرا مقتُول!

خُودی کے حقیقی دروبست سے خارج ہو کر آج کا آدمی بے انائی کے جِس خلا میں مُبتلا ہے، وہاں تنہائی، موت اور اِنتشار وُجُودی ضُرُورت بن گئے ہیں۔ فرد کمزور حالت میں بھی باقی رہ جاتا، تو یہ خلا نمُودار نہ ہوتا اور اِنسانیت کی مُتوازی قُوّتیں جو وُجُود کی ترکیب میں شامل اضداد کو توازُن کے ساتھ ایک دُوسرے کے مُقابل رکھتی ہیں، برقرار رہتیں۔ تنہائی اور مُعاشرہ، موت اور زِندگی، اِنتشار اور وحدت۔ یہ ہے وُہ مُستقل تقابُل، جو اِنسان کے لیے وُہی حیثیت رکھتا ہے، جو زمین کے لیے قُطبین کی ہے۔ یہ پُورا اُصُول ’مَیں‘ اور ’وُہ / تُم‘ کی نسبت پر قائم ہے یا اِس نسبت کے شُعُور پر مُکمّل ہوتا ہے۔ یہی نسبت اور اِس کا شُعُور انا کی وُجُودی اور اخلاقی بُنیاد ہے۔ اِسی کی بدولت ’مَیں‘ کے اندر وُہ پھیلاو اور تنوُّع پیدا ہوتا ہے کہ ’وُہ‘ اور ’تُم‘ بھی اِس میں سما جاتے ہیں اور فرد و نوع کی وُجُودی ساخت ایک ہو جاتی ہے یا اِن کا اصلاً ایک ہونا زِندگی کی ہر سطح پر برسرِ عمل رہتا ہے۔

یہاں تک گویا تشبیب چل رہی تھی، اب گُریز کے ٹکڑے آتے ہیں۔ یہ اِس نظم کا دُوسرا آغاز ہے۔ حال کے تناظُر سے اُٹھ کر ماضی کے بعید ترین سرے کو پکڑا گیا ہے، جب اور جہاں ’مَیں‘ اور ’تُم‘ کسی اِمتیاز کے بغیر ایک تھے۔ اِس کے لیے پہلی بار ’ہم‘ یعنی جمع مُتکلّم کا صِیغہ استعمال کِیا گیا ہے۔

          کیا خطا تھی ہماری!

          ہمیں جنّتوں سے نِکالا گیا

          اور جنگل میں بَن باسیوں کی طرح ہم کو پالا گیا

          دِل میں تخریب کرنے کی خواہش کو ڈالا گیا

گو کہ ان مِصرعوں میں شاعری نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم نظم کی بناوٹ ایسی ہے کہ بیچ بیچ میں تھوڑا سا سپاٹ پن اور ذرا سی ناہمواری بھی درکار ہے، تاکہ وُہ تاثُّر ادُھورا نہ رہ جائے، جو شہزاد احمد پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ حِصّہ معنی کے اعتبار سے سپاٹ ہے اور اُسلُوب کے لحاظ سے ناہموار، تو اِس کی بھی ایک وجہ ہے۔ شہزاد احمد، قاری کو اِس مقام پر رُکنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، تاکہ اُس کی توجُّہ نظم کے مرکزی تھیم سے اِدھر اُدھر نہ ہونے پائے۔

”کیا خطا تھی ہماری! “ اِس اِستفہام میں جو اب ایک ایسی اَن کہی کی طرح موجُود ہے، جو اظہار سے زیادہ مُکمّل اور جامع ہوتی ہے۔ ہماری اصلی خطا یہ تھی کہ ہم نے خُودی کو جبِلّی بنا کر اُسے اندر سے دولخت کر دیا۔ جنت میں ذات اور ہستی کا جو پیٹرن بنا ہُوا تھا، یہ دولختی اُس سے مُتصادم تھی۔ انا کا بربِناے جبِلّت اِنقسام چُوں کہ ایک حقیقت کو تقسیم کر کے اُس میں اُفُقیّت کو داخل کر دیتا ہے اور حقیقت کو اُس کے مرتبے سے گِرا دیتا ہے، لہٰذا ہمیں جنگلوں میں اُتار کر ہماری خُودی کے نئے تقاضوں کے مُطابق پرورش کِیا گیا۔ انا کا جبِلّی اِمتیاز اِسی ماحول میں پروان چڑھ سکتا تھا۔

اوّلین داعیہ جِس کی بیداری اِس امتیاز کا سبب بنی، جِنس تھا۔ جِنس جو اپنی ماہیت میں غُصّے اور محبّت کا آمیزہ ہے، انا میں ارضیت کا جوہر ہے، جو اُسے تعمیر بھی کرتا ہے اور مُنہدم بھی۔ جنت یعنی خُودی کی ارفع وحدت کا عالَم حافظے میں زِندہ تھا، اِس لیے جِنس کا پہلا اِظہار جھنجلاہٹ اور غضب ناکی میں ہُوا۔ مرد، عورت کو فنا کر دینے کے درپے تھا اور عورت، مرد کو۔ تخریب کی یہ خواہش چُوں کہ شُعُور کے بغیر تھی، لہٰذا اِس کے حُدُود مُتعیّن نہ ہو سکے اور دُنیا بھی اِس کی زد میں آ گئی۔ مرد و عورت ایک دُوسرے کو اور دُنیا کو مِسمار کر کے خُودی کے گُذشتہ احوال کا اعادہ کرنا چاہتے تھے۔

دُوسرا مرحلہ محبّت کا تھا۔ ایک دُوسرے پر غلبے کی خواہش باہم مغلُوبیّت کی لذّت بن گئی۔ خُودی اپنی تقسیم در تقسیم سے مانُوس ہو کر اپنے مُتحارب اجزا کے درمیان کشِش اور ہم آہنگی پیدا کرنے پر قادر ہو گئی۔ مگر یہ دونوں ما قبلِ شُعُور مراحل تھے۔ شُعُور کی پیدایش نے اِن کی تقدیم و تاخیر کو محو کر دیا اور دونوں خُود کو غالب رکھنے کے لیے جارحانہ انداز میں ایک دُوسرے میں سرایت کر گئے۔ جو ٹکراو میکانکی سطح پر ختم ہو چلا تھا وُہ زیادہ تخریبی قُوّت کے ساتھ برپا ہو گیا۔

          رفتہ رفتہ ہمیں پھر وُہ طاقت عطا کی گئی

          جو اگر دیوتاﺅں کے حِصّے میں آتی

          تو ہر سُو محبّت کی اِک لہر سی پھیل جاتی

          مگر ہم نے اِس خاک کو کیا دِیا

          نفرتوں کے سِوا

’مَیں سے مَیں تک‘ اصل میں دو حِصّوں پر مُشتمل ہے، پہلا حِصّہ یہاں ختم ہو جاتا ہے۔ مراتبِ انا، اُن کا نُقطۂ وحدت اور پھر اُن میں در آنے والا اِنتشار اور تصادُم۔ یہ تھا اِس حِصّے کا بُنیادی موضُوع۔ دُوسرے حِصّے میں انا کی نفسیاتی اور تاریخی بناوٹ کو توڑ کر اُس کی خالص وُجُودی ہیئت مُتعیّن کرنے کے لیے ایسی فضا اور ایسا تناظُر اِیجاد کِیا گیا ہے، جِس میں ایک مابعدالطبیعی انداز کی غیرزمانیت اور نامکانی پن پایا جاتا ہے۔ انسان کو اُس کی پُوری تاریخ سے مُنقطع کر کے بالکل نئے وُجُودی اُصُول کا مِصداق بنانے کا تصوُّر کِسی معرُوضی تکمیل کا مُتقاضی نہیں ہو سکتا، اُسے تو بس اپنا اِظہار درکار ہے۔ اور یہ اِظہار اِس حِصّے میں ہو گیا ہے۔

          اگر ہم میں کوئی کمی ہے

          تو اِتنی بڑی ہے

          کہ ہم اُس کے آگے

          پرِکاہ لگتے ہیں

          بے راہ لگتے ہیں

          آگاہ لگتے ہیں

          اپنے اُس انجام سے

جو بہُت جلد ہم پر نمُودار ہونے کی خواہش میں ہے

اِس بند میں کُچھ لفظ ہیں جنھیں مُروّجہ مفہُوم ہی میں اِستعمال کِیا گیا ہے، مگر پہلی نظر میں اِن کا مصرف سمجھ میں نہیں آتا، مثلاً: ’اگر‘، ’بے راہ‘، ’کوئی‘۔ اِن کا محلِ استعمال جاننے کے لیے اِنھیں اچّھی طرح کھنگالنا پڑتا ہے، تاکہ اِن کے چھپے ہُوئے اِمکانات دسترس میں آ جائیں اور اِن الفاظ کی فوری دلالت بھی برقرار رہے۔ لفظ کی چِھپی ہُوئی اطراف، یعنی اُس کی معنی خیزی کی مجمُوعی صلاحیت کو اُس لفظ کے معرُوف اور عمومی حُدُود سے تجاوُز کیے بغیر برُوے کار لانا، آسان نہیں ہے۔ شہزاد احمد کی ایک خُصُوصیت یہ بھی ہے کہ معمُولی لفظوں سے معنویّت کے بڑے بڑے اِمکانات برآمد کر لیتے ہیں اور سامنے کے مطالب میں بھی کوئی ترمیم نہیں ہونے دیتے۔ لیکن یہ بات اُوپر ہو چکی ہے، لہٰذا اِسے یہیں چھوڑتے ہیں اور اِس نہایت مُشکل ٹکڑے کو کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

”اگر“ شرطیہ کلمہ ہے اور اِس کا کوئی اِستعمال شرط سے عاری نہیں ہو سکتا۔ ”اگر ہم میں کوئی کمی ہے“۔ یہاں ’اگر‘ بیک وقت مفرُوضہ بھی ہے اور یقین بھی۔

          ”اگر (بالفرض) ہم میں کوئی کمی ہے تو۔۔۔“

          ”اگر ہم میں کوئی کمی ہے (اور یقینا ہے) تو۔۔۔“

مُخاطب چُوں کہ اپنی حقیقت کا کوئی تصوُّر نہیں رکھتا، لہٰذا اُسے ایک بالکل اجنبی خیال اور احساس کی طرف لانے کے لیے بات کا آغاز ’اگر‘ سے کِیا جا رہا ہے، جو اُس کے لیے مفرُوضے کا مفہُوم رکھتا ہے اور کہنے والے کے لیے یقین کا۔ اِسی طرح ’کوئی‘ سُننے والے کے لیے غیرمُتعیّن اور فرضی ہے، جب کہ مُتکلّم کے لیے مُتعیّن اور قطعی۔

یہ پہلُو نظر میں رکھ کر اب دیکھیے کہ کہا کیا جا رہا ہے؟ ہماری کمی ہم سے بڑی ہے۔ صِرف بڑی ہی نہیں، اِتنی بڑی ”کہ ہم اُس کے آگے پرِکاہ لگتے ہیں“۔ یعنی ہم جو ہیں، وُہ اُس سے بے شُمار گُنا کم ہیں، جو ہم نہیں ہیں! دُوسرے لفظوں میں ہمارا نہ ہونا، ہمارے ہونے سے کہِیں زیادہ ہے۔ آخری دو جُملے ہم معنی نہیں ہیں۔ ایک میں کمی، کمال کے مُقابلے میں ہے اور دُوسرے میں زیادتی کے۔ زیرِ نظر مِصرعوں میں دونوں معنی مُراد ہیں۔ یہ کمی کیا ہے؟ خُودی کا شخصی ہو جانا اور شخصیت کا اپنے مدار سے خارج ہو جانا! یہ ایک مُشکل مگر بامعنی تصوُّر ہے، جو حقائق کو شعری تخیُّل کا موضُوع بنائے بغیر مُنکشف نہیں ہوتا۔ بہرحال اِس تصوُّر کی ضُرُوری تفصیل یہ ہے کہ خُودی اپنی ہمہ گیری کے مرتبے سے اُتر کر ایک جِسم جِتنی محدُود اور بے اصل ’مَیں‘ کے اندر سِمٹ آئی۔ خُودی کا یہ مُستقر اتنا غیر یقینی تھا کہ ”مَیں“ کی تشکیل کا مرحلہ شُرُوع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ آدمی کے تشخُّص کا سب سے نِچلا اور کمزور حِصّہ، یعنی شخصیت بھی انا کا مِصداق بننے کی اہلیت حاصل کرنے سے محرُوم رہ گئی۔ یہ محرُومی اخلاقی جہت سے مُکمّل ہو چُکی ہے اور وُجُودی پہلُو سے اِس کا انجام نزدیک ہے، مگر یہ نزدیکی زمانی نہیں ہے، بل کہ وُجُودی یا تقدیری ہے۔ اِس کے انتظار کا لمحہ ازل سے ابد تک پھیلا ہُوا ہے۔ اور ازل سے ابد تک کا فاصلہ ظاہر ہے کہ زمانی نہیں ہے۔ اِس کی غیرزمانیت کو مزید واضح کرنے کے لیے اِس فاصلے کو نزدیکی کی پیمایش میں ناکافی دِکھایا گیا ہے۔

          اور ہم مُنتظر ہیں

          ازل سے ابد تک، فقط مُنتظر ہیں

کِسی چیز کا موجُود ہونا اُس وقت تک مُحتاجِ ثُبُوت رہتا ہے، جب تک اُس کی حقیقت اور غایت نہ ثابت ہو جائے۔ ہمارا وُجُودی بُحران اِتنا شدید ہے کہ ہمارے ہونے کی اصل بھی غائب ہے اور مقصُود بھی۔ ہم جِس نقص کے حامل ہیں، وُہ اِتنا بڑا ہے کہ اُس کے سامنے ہمارا ہونا وُجُودی اعتبار سے بے حقیقت ہے اور اخلاقی جہت سے بے مقصد۔ ’پرِکاہ‘ اور ’بے راہ‘ کا یہی مطلب ہے۔ ایسی بے اصل اور بے غایت ہستی کا نہ ہونا بھی بے اصل اور بے غایت ہے۔ یہ ہے وُہ آگاہی، جو اِس سارے تجربے سے مُیسّر آئی ہے۔ اب انتظار ہے کہ خُود یہ آگاہی تجربے میں کب ڈھلتی ہے۔ ہمارا ہونا، گویا، نہ ہونے کا اِنتظار بن گیا ہے:

          اور ہم مُنتظر ہیں

          ازل سے ابد تک فقط مُنتظر ہیں

          یہی چاہتے ہیں

          جو ہونا ہے ہو جائے

          تاخیر کرنے کا کیا فائدہ!

          اوراِس اذیّت کے ٹھہرے ہُوئے سِلسلے سے نِکل کر

          کِسی ایسی جنّت میں جانے کی کوشِش کریں

          جو ہمارے ہی دِل کے کسی ایک گوشے میں موجُود ہے

          پِھر بھی مفقُود ہے

جنّت، یعنی خُودی کی وُجُودی، اخلاقی اور جمالیاتی تکمیل کے لیے سازگار ماحول، کہِیں خارج میں موجُود نہیں ہے، بل کہ بقول اقبال خُودی کے احوال میں سے ایک حال ہے۔ ہمیں اِس حال کا پتا تو ہے، مگر تجرِبہ نہیں۔ کیوں کہ ہم ’مَیں‘ کی جِس سطح پر پڑے ہوئے ہیں، وہاں خُودی کا قیام محال ہے۔

یہاں سے نظم اپنے موضُوع پر شِدّت کے ساتھ مُرتکز ہو جاتی ہے۔ درمیان کی بہُت سی کڑیوں کو نظرانداز کر کے شہزاد احمد اِس سِلسلے کے آخری حلقوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اب نظم آخر تک انا کے شخصی اور غیرشخصی سیاق و سباق کا بیانیہ ہے:

          ’مَیں‘ سے ’مَیں‘ تک بہُت فاصلہ ہے

          اگر جاننے کی تمنّا بھی ہو

          تو یہ مُمکن نہیں ہے

          کہ ہم اِس مسافت کو کم کر سکیں

          ’مَیں‘ سے ’مَیں‘ کو بہم کر سکیں

’مَیں‘ سے ’مَیں‘ تک کا یہ فاصلہ خُودی کے خلا میں واقع ہے۔ اِس فاصلے کو جانا جا سکتا ہے، شاید ناپا بھی جا سکتا ہے، لیکن سمیٹا نہیں جا سکتا۔ کیوں کہ خلا میں فاصلہ ہی حقیقی ہے، یہ ختم نہیں ہو سکتا۔ دونوں ’مَیں‘ اپنی ماہیت میں ایک ہیں۔ یہ خُودی کے مُنتشر ذرّات ہیں۔ وُجُودِ انسانی کے مرکز میں برپا اِس انتشار کا عِلم تو مُمکن ہے، مگر یہ عِلم مُؤثّر نہیں ہے۔ خُودی اور ’مَیں‘ کی مُغایرت سے وُہ نُقطہ غائب ہو گیا، جہاں عِلم اور وُجُود یکجا تھے۔ آگہی اُس قُوّت سے عبارت تھی، جو ہستی کا تھام بنتی ہے اور اِس کو ایک مُستقل مِعیار پر قائم رکھتی ہے۔ انا یعنی خُودی کے شخصی مظہر میں ایسی دراڑ پڑ چُکی ہے، جِس نے ’مَیں‘ اور ’مَیں‘ میں ایک ناقابلِ عُبُور فاصلہ پیدا کر کے موجُود اور معلُوم کو دولخت اور مسخ کر دیا ہے۔ دراڑ کے اِس سرے پر رہ جانے والا ’مَیں‘ وُجُود کی نفی ہے اور اُس طرف جا پڑنے والا ’مَیں‘ عِلم کی۔ یعنی انا کا جو حِصّہ مُیسّر ہے، وُہ موجُود نہیں ہے اور جو ہماری دسترس سے باہر ہے، وُہ معلُوم نہیں ہے۔ یہ ہے، انا کا وُہ شخصی اور غیرشخصی سیاق و سباق، جِس کا حوالہ ابھی اُوپر آیا تھا۔

شخصیت اور غیر شخصیت کی یہ مُتوازیّت کِسی ٹکراو کی شکل بھی نہیں اختیار کرتی کہ اِس مُنجمد صُورتِ حالات میں تبدیلی کا کوئی اِمکان پیدا ہو جائے۔ نتیجتاً شخصیت میں یہ استعداد ہی مفقُود ہو گئی کہ وُہ ہونے کا تجرِبہ فراہم کر سکے یا نہ ہونے کی کیفیت سے گُذرنے کے عمل کو کوئی معنی دے سکے۔ اور تو اور، اِس میں سے خُود اپنا شُعُور خارج ہو گیا ہے۔

          مگر اِس قدر آگہی بھی بہُت ہے

          کہ اِک اور ’مَیں‘ یا کئی ’مَیں‘!

          بن میں پھیلی ہُوئی بے حِسی کی طرح ہیں۔۔۔

غور کیجیے کہ یہ آگہی ’مَیں‘ کا مشمُول (Content) نہیں ہے، بل کہ یُوں کہنا چاہیے کہ اِس کا حامل کوئی مُتعیّن ’مَیں‘ نہیں ہے۔ انا اپنے تعیُّن سے نِکل جائے، تو شُعُورِ انا بھی لامحالہ غیر مُتعیّن ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ’مَیں‘ کا سب سے نِچلا مگر ٹھوس مِصداق، یعنی شخصیت کے حُدُود بھی ٹُوٹ جاتے ہیں اور انا ایک اَن گھڑ واہمے کی طرح لایعنی اور بے مصرف ہو جاتی ہے۔

اِن تین مِصرعوں کو نسبتاً زیادہ غور سے دیکھنا چاہیے، اِن میں نظم کا جوہر سمٹ آیا ہے۔ ’آگہی‘، ’اک اور مَیں‘، ’کئی مَیں‘، ’بن‘ اور ’بے حِسی‘ بہُت اہم کلمات ہیں۔ معنی کا ایسا وُفُور ہے کہ اِن کی لفظیّت جیسے محو ہو گئی ہے۔ اِن کے معانی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اگر لُغت نویسی کا اُسلُوب اختیار کر لِیا جائے، تو شاید بات کُچھ واضح ہو جائے:

’آگہی‘:          1-      عِلم جو وُجُود سے مُنقطع ہو چُکا ہے

          2-      شُعُور جِس کا حامل غیرمُتعیّن ہے

          3-      فُقدانِ معنی اور بُحرانِ وُجُود کا غیر مُؤثّر اِدراک

’اک اور مَیں‘: 1-      شخصیت کے اُصُولِ تشکیل کا خاتمہ

                    2-      ’مَیں‘ کا مُطلقاً اضافی ہو جانا

                    3-      انا جو تصوُّرِ محض بن گئی ہے

’کئی مَیں‘:     1-      انا کا عدم اِرتکاز،’مَیں‘ کا غیر شخصی ہوجانا

                    2-      وُجُود کا واقعیت کے باوُجُود مُہمل اور لایعنی ہو جانا

                    3-      شخصیت کے حُدُود کا اِنہدام

’بن‘:   1-      دُنیا جو خارجی سے زیادہ ذہنی ہے

          2-      لاشیئت کا ظرف، معدُومیت کا پھیلاو

          3-      عِلم اور وُجُود کی دولختی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عالَم جو معلُوم کی حیثیت سے کُچھ اور ہے، اور موجُود کی حیثیت سے کُچھ اور

’بے حِسی‘:    1-      مُکمّل لاتعلُّقی کی حالت

                    2-      لاوُجُودی

                    3-      لایعنی پن، بے اصلیت

ہستی کے یہ سب انداز واقعیت سے عاری نہیں ہیں، مگر لگتا ہے کِسی ہذیانی تصوُّر میں اُبھرنے والے مناظر ہیں، جِن کی معنویت فرض یا اِیجاد کرنی پڑتی ہے۔ یہاں مِیرؔ یاد آ رہے ہیں، اُردُو کے سب سے بڑے شاعر، خُداے سخُن مِیرؔ:

یہ توہم کا کارخانہ ہے

یاں وُہی ہے جو اعتبار کِیا

شُعُور کی کُل پُونجی یہی ’مَیں‘ ہے، جو ایک خالی لفظ کی طرح ہے، جِسے کِسی بھی معنی سے بھرا جا سکتا ہے:

          مگر مُجھ کو اِتنا پتا ہے کہ موجُود ہیں

          اور کئی بار اُبھر کر

          مِرے سامنے، میری تصویر بن کر

          اُجالے اندھیرے میں

          میرا ہی ملبُوس پہنے ہُوئے

          اُس طرف آ نِکلتی ہیں

          جِس سمت مَیں بھی نہیں ہُوں

          میرے نقشِ قدم بھی نہیں

بے گھر اور ادُھوری اناﺅں کا یہ انبوہ، شُعُور کی گُم گشتہ گہرائیوں میں محفُوظ ’مَیں‘ کی وحدت میں جذب ہو جانے کا راستہ ڈُھونڈ رہا ہے۔ مگر خُود یہ ’مَیں‘ ایک اِلتباس ہے، جِس کا پیچھا کرنے کے لیے جو راہ بھی چُنی جاتی ہے، وُہ کسی ایسے خلا پر ختم ہوتی ہے، جہاں یہ اِلتباس بھی معدُوم ہے۔

عجیب اُلجھی ہُوئی صُورتِ حالات ہے، جِس میں یہ کہنا خلافِ واقعہ نہیں ہے کہ”مَیں، اپنا ہی ایک وہم ہے“ اور ”مَیں خالی ہے ’مَیں‘ سے“۔

          یہ عجب ’مَیں‘ ہے

          جو اپنے معدُوم ہونے پہ اِصرار کرتی ہے

          اور اپنے موجُود ہونے کا اِنکار کرتی ہے

          اور یہ جانتی ہے

          کہ ہونے نہ ہونے سے کُچھ فرق پڑتا نہیں۔۔۔

یہ ’مَیں‘ یعنی ’اک اور مَیں‘ دراصل انا کا عکس ہے، جو ذہن کے آئینے تک محدُود نہیں رہا یا یُوں کہہ لیں کہ یہاں اپنی جگہ نہیں بنانے پا رہا، کیوں کہ خُود انا بھی ایک عکس ہی ہے، جو اِس آئینے کا اصلی مکین ہے۔ گویا عکس تو اپنے موجُود ہونے پر اِصرار اور معدُوم ہونے کا اِنکار کر رہا ہے، جب کہ عکس کا عکس یعنی ’یہ مَیں‘ بالکل مُخالف مُؤقّف پر قائم ہے۔ اپنی اصل سے آزاد ہونے کی دُھن نے اِسے ہونے نہ ہونے سے بھی بے پروا کر دِیا ہے۔ ویسے بھی یہ آزادی ایک وُجُودی ضُرُورت بن گئی ہے، کیوں کہ اصل خُود معدُوم ہے، اگرچہ شُعُور اُس کی معدُومیّت کو اُس کے تصوُّر سے ڈھانپنے کی کوشش میں لگا ہُوا ہے۔

دُوسرے رُخ سے دیکھیں تو ’مَیں‘ کا یہ لاشخصی ہیُولیٰ اپنے نہ ہونے پر اِصرار اور اپنے ہونے کے اِنکار میں سچّا ہے، اور ایک ایسے اُسلُوبِ وُجُود کو تشکیل دینے کے درپے ہے، جو ہونے نہ ہونے کی موجُودہ روایت سے کوئی مُناسبت نہ رکھتا ہو۔

          اِس جہاں میں جو موجُود ہونے کا دعویٰ کرے

          اُس کو اِتنا تو معلُوم ہو

          کون اُس کی صدا سُن رہا ہے!

’اِس جہاں‘ سے یہ دُنیا مُراد ہے اور وُہ شُعُور بھی جو ہست و نیست کے ایک مخصُوص ڈھب پر چل رہا ہے۔ وُجُود کی رسمی منطق یہ ہے کہ بالکل تنہائی اور مُکمّل اکیلا پن، معدُومیّت ہے۔ یہ اکیلا پن چاہے انفرادی ہو یا نوعی، موجُود ہونے کے دعوے کو باطل کر دیتا ہے۔ کِسی چیز کا ہونا، دُوسرے کی تصدیق بل کہ وُجُود پر مُنحصر ہے۔ اور یہ دُوسرا ضُرُوری نہیں ہے کہ خارج میں پایا جائے، خُود اپنے اندر بھی موجُود ہو سکتا ہے۔ انا کی معدُومیّت کا سبب یہی ہے کہ اِس میں سے دُوسرا پن غائب ہو گیا، جِس کا نتیجہ یہ نِکلا کہ اپنا پن بھی برقرار نہ رہا۔ یہاں خُودی اور اِس کے اخلاقی دروبست کی بحث پھر دیکھ لیجیے، جِس سے ہم نے بات کا آغاز کِیا تھا۔

یہاں تک آتے آتے شہزاد احمد نے ’مَیں‘ کی اخلاقی ساخت میں بھی ترمیم کر دی ہے اور اِسے ایک مُتصادم ماحول میں اُتار دِیا ہے۔

          کِسی سمت میں کُچھ نہیں ہے

          اب یہ سمتیں بھی ایک ایسا دھوکا ہیں

          جو آئنے کو بچانے کی خاطر بنایا گیا ہے۔۔۔

آئن سٹائن کے بعد زمان و مکاں کی اکائی ایک واقعہ ہے، کوئی شاعرانہ تخیُّل نہیں۔ مگر اُس پر اکائی کی مابعدالطبیعی علامت نُقطے یا دائرے کا اطلاق نہیں ہو سکتا، یہ اپنی بناوٹ میں خطّی ہے، یعنی لکیر کی طرح۔ ’سمت‘ بھی ایک لکیر ہی تو ہے، جِس میں حَرَکت اور پھیلاو، یعنی زمان و مکاں دونوں جمع ہیں۔ اِس اجتماع میں چُوں کہ ایک ما بعدالطبیعی پن بھی پایا جاتا ہے، لہٰذا شہزاد احمد نے اُس رنگ کو مزید تیز کر کے پُوری لکیر ہی کو دھوکے سے تعبیر کِیا ہے، جو اِس صُورتِ حالات میں ایک ما بعدالطبیعی مفہُوم بھی رکھتا ہے۔

یہ سمتیں، معدُومیّت کی اطراف ہیں، جِنھوں نے انسان کے موجُود ہونے کی ہر سطح یا موجُود ہو سکنے کے ہر اِمکان کا احاطہ کر رکّھا ہے۔ اِس بات کو مُکمّل کرنے کے لیے ضُرُوری ہے کہ آئینے کی علامت کو کھولنے کی کوشِش کی جائے۔ ’آئینہ‘ جو اِن سمتوں کا محلِ وُقُوع ہے، اِنسان کی دُنیاے وُجُود ہے، جہاں کُچھ بھی اصلی نہیں ہے، نہ مَیں، نہ وُہ، نہ تُم۔ اصل سے دست بردار ہو کر عکس بنے بغیر یہاں قیام نہیں ہو سکتا۔ عکس کی ہر حرکت خُود عکس کی طرف ہے، یعنی ایک اور ’مَیں‘ کی طرف، یعنی ایک اور معدُومیّت کی طرف۔ یہ سمتیں جو نہ کہِیں سے شُرُوع ہوتی ہیں اور نہ کہِیں لے جاتی ہیں، اگر نہ ہوں تو آئینہ، عکس کا یہ جہان، فنا ہو جائے۔

          ہم اِسی آئنے میں مُقیّد ہیں

          اور اپنے ہونے کا ہم کویقین بھی نہیں ہے

          گُماں بھی نہیں!

موجُود ہونے کے تمام شرائط اگر رفع ہو جائیں، تو بھی ایک شرط بہر حال باقی رہے گی: اپنے ہونے کا یقین یا گُمان! یہاں وُہ بھی مفقُود ہے، بل کہ اپنا تو کیا ذِکر، خُود ’ہونا‘ اِس شرط سے عاری ہے۔ ’مَیں‘ کا تعیُّن وُجُود کے بجاے معدُومیّت سے ہو رہا ہے اور شُعُور، یعنی وُجُود کا ہم زاد، نہ ہونے کا تابعِ مُہمل بن کر رہ گیا ہے۔

          ’مَیں‘ سے ’مَیں‘ تک بہُت فاصلہ ہے

          مگر فاصلہ بھی نہ ہونے کی تصدیق ہے

          ایسا زندیق ہے

          جِس نے سارے جہاں توڑ کر ریزہ ریزہ کیے ہیں۔۔۔

’زِندیق‘ کا لفظ بالکل اچانک آیا ہے۔ یہ محض ’تصدیق‘ کا قافیہ نہیں ہے، بل کہ نظم کی معنوی بناوٹ میں ایک نئے عُنصُر کا اضافہ کرتا ہے۔ ’زِندیق‘ اُس شخص کو کہتے ہیں جو ایمان کے کلمے کو کُفر کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ ’فاصلہ‘ جِس کی وجہ سے ”مَیں سے مَیں تک“ ایسا فِقرہ کہنا مُمکن ہُوا ہے، زِندیق اِس معنی میں ہے کہ اُس نے ’مَیں‘ کو ذات سے خالی کر دِیا ہے، یعنی لفظ کو برقرار رکھّا ہے، مگر معنی کو غائب کر دِیا ہے۔ ذات سے خالی ہو کر ’مَیں‘ ایک خلاے محض کا ظرف بن کر رہ گیا ہے، جِس نے اُس کی وحدت کو پارہ پارہ نہیں، بل کہ فنا کر ڈالا ہے۔ ظاہر ہے معنی سے محرُومی کِسی چیز کو مُتعیّن نہیں رہنے دیتی اور وحدت، تعیُّن ہی پر قائم ہُوا کرتی ہے۔

’زِندیق‘ کے لفظ نے توجُّہ اپنی طرف کھینچ لی، ورنہ گُفتگُو کی ترتیب وُہی ہونی چاہیے تھی جو اِن چار لائنوں کی ہے۔ بات لمبی نہ ہو جائے اِس لیے ضُرُوری نِکات کو قدرے مربُوط انداز سے نمبر وار بیان کر دینا مُناسب رہے گا۔

1-      ’آئینہ‘= دُنیاے وُجُود/شُعُورِ انا+ ’مَیں‘=بے اصل

           عکس+’اور مَیں‘= بے اصل عکس کا عکس

اِس پس منظر میں دیکھیں تو:

1:1،   ’آئینہ‘ فاصلہ گاہ ہے، جہاں سمتیں مُعطّل بل کہ موُہوم ہیں۔ اِس وجہ سے یہاں پایا جانے والا فاصلہ بھی مُعطّل بل کہ موُہوم ہے، یعنی ایک نہ ختم ہو سکنے والی غیر واقعیت رکھتا ہے۔

1:2،   ’فاصلہ‘ بہُت اِس لیے ہے کہ غیرموجُود چیزوں کے درمیان ہے۔ یہ معدُومیّت کا پھیلاو ہے اور مُکمّل خلا ہے، جہاں دُوری ہی حقیقی ہے۔ ایسے پھیلاو اور خلا کو ناپا نہیں جا سکتا، لہٰذا اِس میں کمی کا کوئی اِمکان نہیں۔ ’بہُت‘ میں یہ سب اشارے موجُود ہیں۔

2-      ”مگر فاصلہ بھی نہ ہونے کی تصدیق ہے“۔ بہُت ٹیڑھا مصرع ہے۔ ’مگر‘ اور ’بھی‘ جیسے غیراہم اور معمُولی حرف بھی پیچ دار بن گئے ہیں۔ ’نہ ہونے‘ کا مفہُوم بھی اکہرا نہیں ہے اور ’تصدیق‘ کا لفظ بھی ایک فنّی اور معنوی تہہ داری کے ساتھ استعمال ہُوا ہے:

1:2،   فاصلے کا ہولناک کِردار جو ذرا آگے چل کر مزید واضح ہو جائے گا، ایک تقدیری جبر کا مظہر ہے، لہٰذا اِس سے حاصل ہونے والے تجرِبے میں کِسی جذباتی تُندی یا افسُردگی کے بجاے ایک عارفانہ طمانیت کا رنگ غالب ہو گا۔ مگر (شکایت کی کوئی بات نہیں، خُود) فاصلہ بھی۔۔۔

1:1:2، فاصلہ منطق کی اِصطلاح میں فصلِ حقیقی ہے، اِس کا اصل مصرف یہ ہے کہ اِس کی وجہ سے چیزیں ایک دُوسرے سے مُمتاز ہو جاتی ہیں، لیکن یہ فاصلہ جو ’مَیں‘ اور ’مَیں‘ کے درمیان واقع ہے، کسی اور ہی نوع کا ہے۔ یہ تو نہ ہونے کے احوال کو الگ الگ کرتا ہے، یعنی لاشے کو لاشے سے مُمتاز کرتا ہے۔ اِس مِصرعے کی ذرا مُفصّل نثر کُچھ یُوں ہو گی:

          ’مگر یہ فاصلہ موجُودات کے حُدُود کو واضح رکھنے والا فاصلہ نہیں ہے۔ یہ تو معدُومات کو ایک دُوسرے سے دُور کر کے اُن کی معدُومیّت کے درجات کی نشان دہی اور تصدیق کرتا ہے۔‘ گویا پُورا نظامِ ہستی اندر سے مُنقلب ہو چُکا ہے اور اِس کے آثار اِن الفاظ کی طرح برقرار ہیں، جنھیں بالکل مُتضاد معنی سے بھر دِیا گیا ہو۔ یہ جگہ بنائی جا رہی ہے ’زِندیق‘ کی۔

2-      ’زِندیق‘ کے دو معنی ہیں، ایک تو وُہی جو اُوپر مذکُور ہُوئے کہ بلحاظِ لفظ مومن اور باعتبارِ معنی کافر، اور دُوسرا مطلب یہ ہے کہ زِندیق وُہ ہے، جو ثنویت کا قائل ہو کہ خیر و شر، رُوح و مادّہ وغیرہ مُتوازی الاصل ہیں۔ اِن دونوں معانی کی رعایت رکھتے ہُوئے فاصلے کو ’زندیق‘ کہا گیا ہے کہ اِس نے وُجُود کی صُورت کو عدم کے معنی دے دیے ہیں اور انا کی دولختی اِسی کی بُنیاد پر مُستقل ہو گئی ہے۔

4-      سارے جہاں توڑ کر ریزہ ریزہ کر دینے والی قُوّت میں بھی زِندیق کے دُوسرے معنی کی واضح جھلک پائی جاتی ہے کہ ثنویت، شکستِ وحدت ہی کا نام ہے، تاہم اِس میں ایک دُوسرا پہلُو بھی موجُود ہے۔ فاصلہ اپنے واقعی حُدُود سے تجاوُز کر جائے تو اُس کا container ٹُوٹ جائے گا۔ دائرے کا اندرونی قطر بڑھنے لگے تو اُس کی سمائی کی حد ٹُوٹ کر اُسے دائرہ نہیں رہنے دے گی۔

’جہان‘ اپنے ہر معنی میں فاصلہ گاہ ہی تو ہے۔ اِس کی مثال بھی دائرے جیسی ہے۔

          ۔۔۔مگر اب یہ ریزے کہاں ہیں!

          نہ تُم اُن میں ہو

          اور نہ ’مَیں‘ اُن میں ہُوں

فاصلے اور خلا کے دباو کی شِدّت سے پھٹ پڑنے والے جہان جِن ریزوں میں تبدیل ہو گئے ہیں، اُن میں سے ہر ریزہ اپنی اصل، یعنی ’جہان‘ سے زیادہ پھیلاو رکھتا ہے۔ جِس دباو کی شِدّت کائنات سے نہیں سہاری گئی، یہ ریزے اُسے اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ ہر ریزہ، ہر ذرّہ ’نہ ہونے‘ کا container ہے، جِس کی وُسعت ’ہونے‘ سے کہِیں زیادہ ہے۔ سب کُچھ فنا ہو جائے گا، مگر یہ ذرّے باقی رہیں گے۔ کیوں کہ یہ بھی فنا ہو گئے تو معدُومیّت فنا ہو جائے گی۔ اور یہ محال ہے۔

          لوگ کہتے ہیں، ریزے فنا ہونے والے نہیں ہیں

          اگر کوئی پُوچھے

          کہ ایسے تصوُّر کی بُنیاد کیا ہے؟

          تو وُہ یہ کہیں گے

          کہ ریزوں کے، ذرّوں کے چہرے بدلتے ہیں

          فِطرت بدلتی نہیں

دیکھیے ایک خالص شاعرانہ تخیُّل کو کیسے سائینسی اور ریاضیاتی تیقُّن سے بیان کِیا گیا ہے! یہ ریزے، یہ ذرّے کیا ہیں؟ ذات سے خالی ’مَیں‘!

یہی خلا اُن کی فطرت، یعنی حقیقت ہے۔ ذات یا انا یا شخصیت اُن کی عارضی شناخت ہے جو اُنھیں اپنی حقیقت کے مُخالف رُخ پر مُتعیّن رکھتی ہے۔ فنا کی دسترس اِسی شناخت تک ہے، اور جیسا کہ اُصُول ہے، شے معدُوم ہو جاتی ہے، مگر اُس کی حقیقت برقرار رہتی ہے، ’مَیں‘ نابُود ہو گیا ہے، لیکن اُس کے اندر کا خلا اپنی جگہ پر ہے۔ ’مَیں‘ سے خالی ’مَیں‘۔۔۔ منطق کے قاعدے کے مُطابق اِس قضیے میں ’موضُوع‘ اور ’محمُول‘ ایک ہے، مگر یہ وحدت سلبی ہے۔ اِس کے دونوں جُز منفی ہیں۔ یعنی ’مَیں‘ جو ہے، وُہ ’مَیں‘ نہیں ہے! اب اِس نظم کا آخِری بند آتا ہے۔ اِس پر گُفتگُو ذرا زور لگا کر ہو گی:

          اور اگر یہ حقیقت ہے

          تو پھر مُجھ کو چہرے کی حاجت ہی کیا ہے!

          کسی آئنے کی ضُرُورت ہی کیا ہے

          مَیں ہوتے ہُوئے بھی نہیں ہُوں

          اور نہ ہوتے ہُوئے بھی یہیں ہُوں

          یہیں کا مکیں ہُوں!

اگر وُجُود، موجُود اور عدم، معدُوم نہیں ہے، یعنی وُجُود، معدُوم ہے اور عدم، موجُود، تو کم از کم تین چیزیں غیرضُرُوری ہیں: انا، کائنات اور شُعُور۔ اِن تینوں میں اِس حقیقت سے سازگاری کی صلاحیت نہیں ہے۔ اِن کا مدار بس صُورت پر ہے اور اپنی لسانیاتی ماہیت کی وجہ سے یہ اِدراک و اِظہار کی تنگ بیڑیوں میں اِس طرح جکڑی ہُوئی ہیں کہ اظہار، ہونے، نہ ہونے کی شرط بن گیا ہے۔ جو ظاہر نہیں ہے، وُہ موجُود ہے، نہ معدُوم۔

اِدراک اور اِظہار ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں، اِن کا حقیقت سے کوئی تعلُّق نہیں ہے، یہ صُورت ہی کے دو تناظُر ہیں۔ ایک شُعُور کی مجبُوری ہے اور دُوسرا وُجُود کی۔ حقیقت کا تجربہ یا اِنکشاف ما بعدالطبیعی رنگ میں نہ ہو، تب بھی اِس مجبُوری سے نکال لیتا ہے۔ اب آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو چہرے کی ضُرُورت ہے، نہ آئینے کی، ہستی کی حاجت ہے نہ نیستی کی، ’مَیں‘ کی احتیاج ہے نہ اُس کے عکس کی۔۔۔

بظاہر یہ حالت ایک ایسا حال معلُوم ہوتی ہے جو وُجُود اور شُعُور کی مابعدالطبیعی تکمیل کا خاصّہ ہے، لیکن شہزاد احمد نے اِسے بالکل مُتضاد تجربے کا بیان بنا دیا ہے۔ اپنے احوال میں مُنتہاے کمال اور نہایت پستی یکساں ہے۔ دونوں میں نسبتیں، اضافتیں اور تحدیدات غائب ہو جاتی ہیں۔

مُجھے کوئی مُناسب اِختتام نہیں سُوجھ رہا، اِس کتاب کا ایک شعر سُن لیجیے اور اجازت دیجیے:

کبھی اُبھرے نہ اُبھرنے کی تمنّا کی ہے

عُمر بھر ڈُوبے رہے ایک ہی گہرائی میں

احمد جاوید

8۔فروری2005ع

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “آنے والا کل”

Your email address will not be published. Required fields are marked *