Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

شہرِ آرزُو-راولپنڈی

2,500.00

Description

کلماتِ آخر

معروف شاعر اور بینکار ایم جاوید اقبال نے اپنی عُمر کے آخری سال ہا سال شب و روز اِس تاریخی دستاویز کی تکمیل پر صَرف کیے، اِس کے متوازی اُن کا دِل اپنی اہلیہ محترمہ رُخسانہ شاہین کے لیے بے تاب رہتا، جو کہ بیٹی ڈاکٹر ثمر جاوید سے یو-کے میں ملنے کے بعد اپنے بیٹے احسن جاوید کے پاس امریکا میں اپنے شوہر کی آمد کی مُنتظر تھیں، مگر اُن کا سفر لاک ڈاؤن کی وجہ سے مُمکن نہ رہا تھا۔ اُن کا بڑا بیٹا انجینئر احسن جاوید امریکا میں کامیاب اور آسُودہ زِندگی بسر کر رہا ہے، چہ جاے کہ یہاں اُن کی چھوٹی بیٹی سحر جاوید ٹیکسلا میں شاد و آباد لیکچرر ہیں جب کہ اُن کے ساتھ چھوٹا بیٹا مُحسن جاوید زیرِ تعلیم تھا۔ مزیر برآں اُنھیں اپنی اہلیہ کی موروثی جایداد میں سے حصّہ کے کیس میں وکلا اور عدلیہ کی ناروا تاریخ پر تاریخ پیشیاں بھی بُھگتنا پڑ رہی تھیں۔ مگر وُہ ناتوانی اور صاحبِ فراش ہونے کے باوُجُود بڑی خندہ پیشانی سے ہر محاذ پر اَن تھک ڈٹے رہے۔ وا حسرتا جنوری 2020ع میں پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی کووڈ-19، نوول کرونا وائرس وبا نے آخرِکار 27- مارچ 2021ع کو اُنھیں بھی اپنا شکار بنا لیا۔ جب بُخار میں افاقہ نہ ہُوا تو یکم اپریل کو اُنھیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا، جہاں 4-اپریل کو ایم جاوید اقبال قضاے الٰہی سے اِنتقال کر گئے۔ اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنo قبل ازیں وُہ ایک سفرنامے سمیت دو مزید کُتُب کی تصنیف کی منصُوبہ بندی بھی کر چکے تھے۔ مرحوم و مغفور نہایت شریف النفس، شائستہ، خُوددار، مخیّر، صاحبِ نسبت اور ہر دِل عزیز شخصیت تھے، یقیناً یہی وَجہ ہے کہ اُن کی اولاد اعلیٰ تعلیم یافتہ، بَلا کی ذہین، محنتی اور فرماں بردار و وفاشعار ہے۔ ایم جاوید اقبال کی صاحبزادی ڈاکٹرثمرجاوید نے اپنے والدِ گرامی کے خوابوں کی تعبیر بر لانے کی ٹھانی۔ 2017ع میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر کے مانچسٹر میٹروپولیٹن یونی ورسٹی کے ساتھ تحقیقی اُمُور انجام دینے والی ڈاکٹر ثمر جاوید نے نہایت باوقار طریق پر اپنے والد کے اِس ادُھورے اِرادے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عزمِ صمیم کر لیا۔ اُنھوں نے اپنے زخم پر ایفاے عہد کا مرہم رکھا اور دیگر فراِئض منصبی کے ساتھ ساتھ اپنے والدِ مرحوم و مغفور کے مانند شب و روز اِس تاریخی دستاویز پر یکسُوئی سے اضافۂ تحریر اور قطع و برید کا کام جاری رکھا۔ یُوں یہ کِتاب قابلِ اشاعت قرار پائی۔ بلاشُبہ ڈاکٹر ثمر جاوید نے اپنے والد کی علمی وراثت کا بارِ گراں اُٹھانے کی اہلیت نبھا کر دِکھائی۔ اللہ تعالیٰ اُن کے خانوادے کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، اُنھیں جزاے خیر سے نوازتا رہے، آمین!
اب آئیے! زیرِ نظر کِتاب کے مطالعاتی تبصرے کی جانب، ”شہرِ آرزُو-راولپنڈی“ میں پوٹھوہار کے زمان و مکان سے متعلق، حال اور مُستقبل کے واقعات، حالات، معاملات اور شخصیات کی تمام تر ذرائع پر مبنی معلومات و تفصیلات یکجا ہیں، ایم جاوید اقبال نے ناموجُود و دستیاب، قدیم و جدید نسخوں، دیومالا، سینہ با سینہ زبان زدِ عام واقعات، شہادتوں اور مصدّقہ دستاویز پر شب وروز اِس قدر تحقیق کی کہ ایک جامع و مُستند تارِیخ مرتّب ہو گئی۔ یہ سطحِ مُرتفع کِس نے دریافت کی، یہ عِلاقہ کِس کِس حملہ آور کی گُذرگاہ رہا ، اِسے جانداروں کی کِن انواع نے اپنا مسکن بنایا، یہاں پر کون کون حکمران رہا، کیا کُچھ رایگاں رہا اور کیسے کیسے پایمال ہُوا، مزید برآں عصرِجدید میں اِس عِلاقے کا ترقّیاتی مُستقبل کیا ہونا چاہیے؟ اِن سبھی عناصر و موضُوعات نے اِس کِتاب کو بے حد اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ یُوں پوٹھوہار نژادوں کے گذشتہ اور موجُودہ اعمال و افعال کی آئینہ داری ہوئی ہے۔ ایم جاوید اقبال نے مُختلف شُعبہ ہاے حیات میں سابق نسلوں کے کم مایہ اور بیش بہا تجربات کو حالیہ اور آیندہ نسلوں کی آگاہی کے لیے رقم کر دیا ہے، تاکہ وُہ اپنے پیچھے سے آنے والی روشنی میں اِستقامت سے آگے کا سفر جاری رکھیں، یہ افرادی ہُجُوم اپنے مُستقبل کو سنوارنے کی خاطر اپنے اسلاف کی کردہ و ناکردہ اغلاط اور ناانصافیوں سے مامون رہ سکے، ماضی میں ہونے والی بداعمالیوں کا اِعادہ نہ کرے اور تنقیدی بصیرت سے اپنے حال و مُستقبل کو ترقّی سے ہمکنار کر کے معاشی خُوش حالی پر مبنی محفُوظ و مامون اور آزاد معاشرہ تشکیل دے پائے۔ ایم جاوید اقبال کی تارِیخ نویسی میں نہ تو کوئی اُلجھاو ہے اور نہ ہی جانب داری یا تعصُّب۔ اُنھوں نے عِلاقائی مُستقبل کی مثبت ترقّیاتی منصوبہ بندی کرتے ہوئے تارِیخ نویسی میں آقاے مجید یکتائی کے دبستان کی توسیع کی ہے، جِن کے خیال میں تارِیخ آثار و قُرون کے اُن احوال و حوادث کی آئینہ دار ہے جو ماضی سے آگہی لیےتنبیہ کا باعِث بنتے ہیں، جب کہ ایم جاوید اقبال صِرف پیچھے کی طرف ہی نہیں دیکھتے بل کہ شش جہات میں خوردبینی اور دُور بینی سے دیدبانی کے منصب سے عہدہ برآ ہوئے ہیں۔
راولپنڈی ڈویژن میں تمدّن اور تہذیب کی تارِیخ نے گذشتہ چھے ہزار برس کے دورانیے میں کئی عجیب و غریب رُوپ دھارے، داستانوی اساطیر سے نشوونُما پاتے پاتے تارِیخ سائینسی حقائق تک اِرتقائی مراحل سر کر چُکی ہے۔ نسل در نسل، پُشت در پُشت، ہزاریہ در ہزاریہ، صدی در صدی، سال در سال اِس خطّے میں اسما اور اشکال ضُرُور تبدیل ہُوئے، مگر آج بھی ہمارے اِردگِرد بیش تر خواص و عوام کی ذِہنیت، سوچ، رویے، عادات، طرزِ سُلُوک اور روحانی اقدار بہرطریق گُذرے ہُوئے کل، ماضی یا تارِیخ سے ہی مربُوط ہیں۔ بقول ڈاکٹر آفتاب اصغر اگر یہ کہا جائے کہ تارِیخ سب کُچھ ہے اور سب کُچھ تارِیخ ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ تاریخ کے ضِمن میں متعدّد نظریات دستیاب ہیں۔ اناتول قراش رقم طراز ہیں کہ تارِیخ گذشتہ حادثات و اِتفاقات کے تحریری بیان سے عِبارت ہے۔ ای ایچ کار کے خیال میں تارِیخ تحقیق شُدہ واقعات کے ایک سلسلے پر مُشتمل ہوتی ہے۔ کارل بیکر کی راے میں تارِیخ اقوال و افعال کا عِلم ہے۔ سیلی کے نزدِیک تارِیخ گذشتہ سیاست ہے جب کہ گذشتہ سیاست موجُودہ تارِیخ ہے۔ اطخاوی کا کہنا ہے کہ عِلمِ تارِیخ کا موضُوع ایسا زمان و مکان ہے جِس میں انسان زِندگی بسر کرتا ہے۔ ابنِ خلدون تارِیخ کو ایسا عِلم قرار دیتا ہے جو کِسی خاص عہدِ مِلّت کے حالات و واقعات کو موضُوعِ بحث بناتا ہے۔ ظہیرالدین مرغشی کے خیال میں یہ ایسا عِلم ہے، جو اگلے وقتوں کے بارے میں اِطلاعات پر مُشتمل ہے۔ بہرحال نظریاتی اِختلافات کے باوُجُود سبھی مُؤرّخین مُتّفق ہیں کہ یہ ایک ایسا عِلم ہے، جو ازمنۂ قدیم اور زمان و مکان میں وُقُوع پذیر ہونے والے واقعات کی معلُومات آیندہ نسلوں کو بہم پہنچاتا ہے، دراصل تارِیخ اور تحریر بھی راولپنڈی اسلام آباد کی طرح جُڑواں ہیں، یعنی دُنیا کے اوّلین رسمِ خط کی دریافت کے ساتھ ہی تارِیخ نویسی کا آغاز ہو گیا تھا۔
ایم جاوید اقبال کی تصنیف” شہرِ آرزُو-راولپنڈی“ پڑھ کر آپ اِس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں گے کہ نہ صِرف یہ شاعر، محقّق و مؤرّخ بل کہ اب تمام قارئین اور پوٹھوہاری اپنے پنڈی کو دُنیا کا سمارٹ سِٹی دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے مُطالعہ کِیا کہ وُہ کون سی خُصُوصیات ہیں جو راولپنڈی کو سمارٹ سِٹی بنائیں گی۔ خُوش خبری یہ ہے کہ اِس سمت سفر کا آغاز ہوچُکا ہے۔ راولپنڈی کی گم شُدہ تاریخ سامنے آ چُکی ہے۔ ثابت ہوچُکا کہ راولپنڈی دُنیا کے اوّلین انسانوں کا مرکز رہا۔ وُہ دور جِس میں انسان درخت کی چھال یا پتّوں سے اپنے ننگے جسم کو ڈھانپتا اور پہاڑوں کی غاروں کے عِلاوہ درختوں کی موریوں (سوراخ/ کھوہ) میں رہایش پذیر تھا۔ وُہ جنگلی پھل کھاکر گُزارہ کرتا تھا اور جانوروں کا شکار کر کے اپنی پسندیدہ اور مرغُوب خوراک حاصل کرتا، اُس دور کی عکّاسی روایات و حکایات کی بابت ہوتی ہے۔ پِھر محقّق نے ثابت کِیا کہ راولپنڈی کی تاریخ ایک سو بلین سال پُرانی ہے۔ سواں تہذیب نے یہ ثُبُوت مُہیّا کیےکہ راولپنڈی میں پتّھر کے دور کا انسان بھی تھا۔ اِس کے ثُبُوت یہاں سے مِلنے والے بڑے بڑے جانوروں یعنی مگرمچھ، اژدہے وغیرہ کے ڈھانچے اور انسانی کھوپڑی سے مِلے ہیں۔ اِس کے عِلاوہ پتّھر کے زرعی اور شکاریات کے اوزار بھی اِس حقیقت کا ثُبُوت ہیں۔ قبل مسیح دور کی دراوڑ قوم کا تاریخی ریکارڈ بھی پایا جاتا ہے۔ آریہ بھی پُرانے وقتوں میں یہاں آن بسے۔ جنرل کننگھم نے برطانوی کنٹونمنٹ کی راولپنڈی میں موجُودہ جاے وقُوع پر ایک قدیم شہر گجنی پورکی موجُودگی کی علامات کی نشاندہی کی۔ گجنی پور یا گاجی پور شہر قبل مسیح ادوار میں بھٹی قبیلے کا صدر مقام تھا۔ (آرکیالوجیکل رپورٹ براے1862-63ع، صفحات 20اور151) ایم جاوید اقبال کی تحقیق کے مُطابِق قدیم گجنی پور ایک وسیع و عریض شہر تھا کیوں کہ قدیم یونانی و دیگر سِکّے اور ٹوٹی ہُوئی اینٹوں کے ٹکڑے آج بھی دو مربع میل کے رقبہ میں مِلتے ہیں۔ راولپنڈی سے قریباً دومیل شمال کی طرف غزنی نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں آج بھی موجُود ہے۔ مزید برآں تاریخی دور میں اُس جگہ کا نام فتح پور باوری بھی ملتا ہے، لیکن اِس نام کا حامل قصبہ چودھویں صدی کے ایک مغل حملہ کے دوران مکمّل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ اُس سے بھی پہلے سکندرِ اعظم کی افواج نے راولپنڈی کنٹونمنٹ کے عِلاقہ آدڑہ میں اپنی افواج کے ساتھ قیام کِیا۔ ٹینچ بھاٹہ کے ساتھ آج بھی محلہ آدڑہ موجُود ہے۔ اُس کے بعد حملہ آور آئے اور یہ عِلاقہ دو مرتبہ زلزلوں میں زمین بُرد ہُوا اور پِھر آریاؤں نے اُسے آگ لگا کر نیست و نابود کردیا۔ بعدازاں سفید ہن اور منگولوں نے اُس عِلاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور سکندرِ اعظم نے عِلاقہ فتح کر کے حالات کو یکسر بدل دیا۔ بدھ اِزم نے بُت پرستی کا رجحان بدلا مگر یونانیوں نے بُدھا کے مجسّمے بناکر دوبارہ لوگوں کو بُت پرستی کی طرف مائل کِیا۔ اسلام کی کِرنوں نے یہاں پائے جانے والے ذات پات کے اندھیرے اورنظام کو پاش پاش کر دیا۔ مگر مُسلمان حُکمرانوں اور رعایا نے بیش تر احکام کی عملاً نفی کی اور جاہلانہ روایات کا طوق اپنی گردن سے نہ اُتار پائے۔ مُغلوں کے بعد انگریز قابض ہُوئے، اُسی دَور میں سِکھ اِزم وُجُود میں آیا اور اِس خِطّۂ پوٹھوہارمیں مضبُوط طاقت بنا۔ یہاں تک کہ جھنڈا خان نے اُسے بحال کر کے پنڈی یا راولپنڈی نام دیا۔ 1765ع میں سردار ملکا سنگھ نے اِس پر قبضہ کِیا اور بھیرہ، میانی، پنڈدادن خان، چکوال، جہلم اور شاہ پور کے تاجروں کو یہاں لا کر تجارت کرنے کی دعوت دی۔ 1849ع میں اِس شہر پرانگریزوں کا قبضہ ہُوا جوکہ 14اگست 1947ع تک قائم رہا۔ برطانوی اِقتدار کے دوران راولپنڈی ناردرن کمانڈ کا ہیڈکوارٹر رہا۔ پہلی اور دُوسری جنگِ عظیم کے دوران راولپنڈی میں فوجی بھرتی کی وجہ سے آبادیات اور تعمیرات میں بے پناہ اضافہ ہُوا۔ قیامِ پاکستان کے بعد راولپنڈی عبوری دارالحکومت بنا اور اِس کی کوکھ سے اسلام آباد نے جنم لیا۔ عبوری دارالخلافہ بننے کے بعد اسلام آباد تعمیر ہُوا، اور راولپنڈی کی آبادی اندھا دُھند بڑھتی چلی گئی، جس کی بڑی وجہ حکومتِ پاکستان کے تمام اداروں کے ہیڈ کوارٹرز اور تجربہ کار مُلازمین اور اُن کے خاندانوں کی یہاں مُنتقلی تھی۔ عصرِ حاضر میں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت راولپنڈی کو مزید مرکزی اہمیت حاصل ہو گئی۔ چُناں چہ بین الاقوامی اداروں نے راولپنڈی کو اِس کی تاریخی، جغرافیائی اور دیگر اہمیت کی وجہ سے دُنیا کے سولہ اہم شہروں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔ راولپنڈی کو قرار واقعی اہمیت دلوانے کے لیے حکومتِ پاکستان، عوام الناس اور تمام شراکت داروں کو اپنی بھرپور کوشِشیں شُرُوع کرنی چاہییں۔ ضُرُورت اِس امر کی ہے کہ راولپنڈی میں مواصلات، تعلیم، صِحّت، اور دیگر تمام شعبہ ہاے زِندگی کو اپنا کِردار ادا کرنا چاہیے۔
ایم جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ راولپنڈی کے قدیم گھرانوں میں آج بھی بیش تر یہ رسم ہے کہ میّت کی چارپائی کے ساتھ مزید تین چارچادروں سے ڈھکی چارپائیاں بھی اُٹھائی جاتی ہیں۔ میّت کی چارپائی پر کلمۂ طیّبہ کی چھاپ والی چادر ہوتی ہے، جب کہ دیگر چارپائیوں کو سادہ چادروں سے ڈھکا گیا ہوتا ہے، جِن پر سوگواروں اور لوگوں میں تقسیم کرنے کے لیے انواع و اقسام کے پھل رکھّے ہوتے ہیں۔ مزید برآں راولپنڈی کے ایک شاعر راجہ فردوس نے روایت کی کہ راولپنڈی کے جِس گھر میں مرگ ہو، وہاں ہمسایے اور محلّے دار تمام اخراجات خُود کرتے ہیں، قبرستان میں جا کر قبر تیّار کرنے سے لے کر تجہیز و تکفین اور تمام سوگواروں، مہمانوں کے کھانے، رہایش تک کا بندوبست بھی کرتے ہیں، حتیٰ کہ مرحُوم کے اہلِ خانہ اور ورثا کو خبر تک نہیں ہونے دیتے اور اُنھیں غم و الم کے عالم میں آخری رسومات کی ادائی کا کوئی تردّد نہیں کرنا پڑتا۔ راولپنڈی کے جدّی پُشتی متوسّط طبقے کے باشندے بھی غُربا کے حق میں بے حد سخی واقع ہُوئے ہیں۔ اگر لوگ یہ سمجھیں کہ کِسی کے ساتھ کوئی ناانصافی یا ظُلم ہُوا ہے تو وُہ مجتمع ہو کر زیادتی کے خلاف آواز بُلند کرتے ہیں اور مظلُوم کی دادرسی ہونے تک چُپ نہیں ہوتے۔ شہریوں کی اکثریت نہایت انسان دوست ہے، وُہ کارِ خیر کے لیے کِسی فلاحی تنظیم یا حکومتی امداد کا انتظار کرنے کے بجاے اپنی مدد آپ کے تحت عمل پیرا ہوتے ہیں۔ خاندانی معاشرت کا نظام بَہُت مضبوط ہے، بچّے اور نوجوان اپنے اور غیر بزرگوں کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ یہاں صِرف ایک ہی غیرمثبت قدر مروّج ہے کہ لوگوں کی اکثریت اپنی بنیادی اور جائز خواہشات کا گلا گھونٹ کر جایداد بنانے کے خبط میں مُبتلا ہے، مورُوثی جایداد یا ایک گھر کی ملکیت پر عوام مُطمئن نہیں ہوتے، جِس کے باعث راولپنڈی ڈویژن میں ہر دو چار برس میں ہی زمین کے نِرخ اندھادُھند بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔
ایم جاوید اقبال کو بخوبی عِلم تھا کہ ہر زمانے کی تارِیخ میں حُکمرانوں اور معاصر مخصُوص لوگوں کا ذِکر ہوتا ہے، متعیّن واقعات، بُحرانوں اور بڑے حوادث کو ہی بیان کِیا جاتا ہے، تاہم ہر عصر کے ایسے تمام حالاتِ جُغرافیہ کی جزئیات کی نوعیتوں سے ہی توضیح کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم جاوید اقبال نے کوئی بھی لغزش ہو سکنے کے اندیشے کو بالاے طاق رکھتے ہوئے، حقائق پر مبنی کِسی بھی دور کے حالات کو نظرانداز نہیں کِیا، اُن کا قلم معروضی حالات کی روشنی میں ہی قرطاس کی تارِیک راہوں پر آگے ہی آگے روشنیاں بکھیرتا چلا گیا ہے۔ ایم جاوید اقبال نے اپنے تخلیقی وصف اور کہانی نویسی کو بروے کار لانے کے بجاے کِسی بھیِ جعل وضع، گھڑنت، تصنّع، ذاتی یا گروہی وابستگی اور کِذب و اِختراع سے بالاتر رہ کر حالات و واقعات سے متعلق بے لاگ اور مُنصفانہ مُؤرّخ کے فرائض منصبی سے عُہدہ برآ ہونے کی روایت کو راسخ کِیا ہے۔ مُؤرّخ کو اپنے تحقیقی شُعُور کے بَل پر مکمَّل عِلم حاصل ہے کہ کِن واقعات، حالات، خبروں اور افواہوں کے پسِ پردہ حقائق کیا اور کیوں تھے۔
تاریخ نویسی کے ضِمن میں ہی برِسبیل تذکرہ اپنی صحافتی ذِمہ داریوں کےساتھ ساتھ مُجھے جنگ پبلشرز، پاکستان پبلشرز، لبرٹی پبلی کیشنز اور مہتاب پبلی کیشنز کے انچارج کی حیثیت سے بھی کام کرنا پڑا۔ 2006ع میں روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر نے مُجھے حکم دیا کہ”کَےگوہرنامہ“ِطبع دُوُم کی زُبان و بیان کو بہتر بنا کر بَہُت اچّھی شایع کر دیں۔ مَیں وہاں میگزین ایڈیٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا، لہٰذا پہلُو تہی مُمکن نہ تھی۔ اِس ضمن میں قابلِ ذِکر واقعہ یہ ہے کہ پہلے اُنھوں نے قیاس کِیا کہ وُہ ہاتھی والے (ہتھیال) تھے، اِس لیے کِتاب کے ٹائیٹل پر ہاتھی کی پینٹنگ شایع کی گئی، بعد ازاں اُنھیں مشاورت پر معلوم ہُوا کہ شیر کو ہاتھی پر وحشیانہ فضیلت ہے، اِس لیے اُنھوں نے ہاتھی کی تصویر والا ٹائیٹل ضائع کروایا اور دوبارہ شیر کی پینٹنگ والا ٹائیٹل شایع کروایا گیا یعنی اُنھوں نے گکھڑوں کی سربرآوردہ گوت میں اپنی نسبی شناخت کی خودساختہ سَنَد حاصل کر لی اور اپنے علاقے کے گویا سیّد بن بیٹھے۔ میرے لیے یہ کوئی نیا تجربہ نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مالکان اپنی عملی زِندگی میں عُمر بھر اجیروں کے ساتھ نادہندگی ، دھوکادہی، بداعمالیوں اور بے راہ رویوں پر مبنی بدچلنی اپنائے رہتے ہیں، وُہ تارِیخ میں ہیر پھیر، ردّ و بدل اور فسق و فجور سے بھی نہیں چُوکتے، حال آں کہ ایک ذِمّہ دار محقّق آخرِ کار تارِیخ میں کی جانے والی ردّ و بدل، تلبیس، مِلاوٹ اور بدعُنوانی کو بھی طشت از بام کر دیتا ہے۔ کَےگوہرنامہ جیسی وقتی مفاداتی بیانیہ تاریخی کُتُب میں درآنے والی بدبینی کا سبب بیش تر مُؤرّخین کا مِزاج ہے، لیکن ایم جاوید اقبال نے ”شہرِ آرزُو-راولپنڈی “ میں غیر جانب دارانہ اور مُنصفانہ مُسلّمہ حقائق اور واقعات کے سلسلوں کا تجزیہ کِیا ہے، اِس مؤرّخ نے شواہد و قرائن کی بنیاد پر اِجتہاد کِیا ہے کہ مبینہ اور مذکورہ حوادث و واقعات میں کِس نوع کے سُقم ہیں اور اُنھوں نے ہر واقعے کی صِحّت کی اساس پر ہی نتائج اخذ کیے ہیں۔
”شہرِ آرزُو-راولپنڈی“ کی خواندگی ہمیں باور کرواتی ہے کہ تارِیخ کی وساطت سے ہی اِنسانی معاشروں میں اِرتقائی تبدیلیاں وُقُوع پذیر ہوتی ہیں، یعنی افرادِ معاشرہ زمانہ با زمانہ کِس طرح ایک مرحلے سے گُذر کر دُوسرے مرحلے تک پہنچتے رہے اور ہر ارتقائی حالت کے دوران میں وہاں کون کون سے قوانین کارفرما رہے۔ ایم جاوید اقبال نے گُذرے ہُوئے واقعات کے مُعتبر یا غیرمُعتبر ہونے کے بارے محقّقانہ بارِیک بینی سے کام لیا ہے، جِس کے باعث قدیم مشاہدات کو بھی یقین اور سچّائی کی منزل تک پہنچنے میں سُرخروئی ہُوئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایم جاوید اقبال کے والدِ محترم حافظ حبیب احمد مرحوم مصنّف اثاثۂ فِکراور بانی چیئرمین تنظیم عِلم و اخُوّت پاکستان کی شخصیت اِس کِتاب کی تصنیف میں ایک بَہُت بڑا محرک ہے۔ ایم جاوید اقبال کے ضمیر نے اُنھیں جِس نیک کام کی ترغیب دی تھی اُنھوں نے اُس کی تکمیل کے لیے اپنا بھرپورفرض بغیر کِسی لالچ، رضاکارانہ جذبے کے تحت پُورا کرنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکّھی۔ آیئے ہم سب مِل کر ایم جاوید اقبال کی راہنمائی میں راولپنڈی کی گلیوں، عمارتی ورثہ اور تعمیرات کو مِثالی بنائیں اور پاکستان کا نام دُنیا کے نقشے پر درخشندہ ستارہ بناکر روشن کریں۔ اِسی میں ہم سب کی فلاح اور آیندہ نسلوں کی بقا ہے۔ اِس کائنات بالخُصُوص اِس دُنیا میں تیز تر ترقّی دراصل تحقیق ہی کی مرہُونِ منّت ہے، اِسی باعِث نہ صِرف رُوحانی عقائد نے اخلاقی اِقدار اور سائینسی نظریے میں قلبِ ماہیت کی، بل کہ ہر شُعبے سے متعلق معلومات نے بتدریج عِلم کی حیثیت اِختیار کی۔ ایم جاوید اقبال کا اِختصاص اُن کی اِرادی تحقیق ہے۔ اِس کِتاب میں ہمیں معاشرتی، تہذیبی، سوانحی و تاریخی تحقیق کے نمونے میسّر ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے منطقی قیاسات کے تحت ایک شفّاف نظریہ قائم کر کے اُسے مشاہدے اور عملی تجربے کی روشنی میں مُستحکم طریق پر پیش کِیا ہے، مرحوم ایم جاوید اقبال کا یہی ایک مُخلصانہ تحقیقی کام اُن کی نجات و مغفرت اور اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کے جوارِ رحمت میں بلندیِ درجات کا موجب ہو گا، اور اُنھیں ہمیشہ اِس گراں قدر تارِیخی کِتاب کے حوالے سے یاد بھی رکھّا جائے گا۔
اظہر غوری
سیکرٹری
رائٹرزایسوسی ایشن لاہور

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “شہرِ آرزُو-راولپنڈی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *