Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

جہانِ رنگ و بُو

350.00

Description

دو تہذیبوں کی دُہری معنویّت کے حامل افسانے

”جہانِ رنگ و بُو“ کے خالق نیّراقبال علوی گُذشتہ تیس برس سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں مُقیم ہیں۔ پاکستان اور جرمنی کی تہذیبی اور تمدُّنی صُورتِ حالات اُن کے تخلیقی شُعُور کے بیک وقت اجزاے لاینفک ہیں۔ اِن افسانوں سے پاکستان اور جرمنی کے جُغرافیائی، مُعاشرتی، ثقافتی، سیاسی، اقتصادی اور عمرانیاتی تناظُر میں بسر ہوتی ہوئی رنگارنگ زندگی کی تفہیم، اِن تہذیبوں کے کوائف و مظاہر سے آگاہی کے حُصُول کے علاوہ، اُن کو ارزاں ہونے والی وُسعت، تنوُّع اور پیچیدگی کا ادراک وارد ہوتا ہے۔ نیّراقبال علوی کے افسانوں کا مِن حیثُ المجموع جائزہ لیتے ہوئے اِس تمہِید پر اِصرار کرنے کا مُدّعا کہ اِن افسانوں میں پاکستان اور جرمنی کے جُغرافیائی اور تمدُّنی کوائف کی باس جھلکتی ہے، یعنی کسی ادب پارے کے تخلیقی عمل میں اُس کا سیاق و سباق اور مقامی رنگ ازحد اہمیت رکھتا ہے۔ غالباً اِن کہانیوں کے علامتی افسانے میں مُنقلب ہونے کا ایک سبب بھی یہی دُہری شہریّت ہے۔ یُوں نیّراقبال علوی کے افسانوں میں کِردار و واقعات دُہری معنویّت کے ترفّع سے لیس ہیں، اور ہر افسانہ اپنے معانی کی دونوں سطحوں کے اعتبار سے ایک بامعنی اور مربُوط کہانی معلُوم ہوتا ہے۔ یعنی یہ افسانے علامتی ہونے کے علاوہ مربُوط کہانی پن کے مظہر ہیں۔ اِن میں ایک تو کہانی کی ظاہری سطح ہے، اور دُوسری سطح اِن میں در آنے والی علامات کی توجیہ و تاویل سے وُجُود پذیر ہوتی ہے۔ ہمارے زمانے کا طرزِ فکر و احساس، نئے عالمی بربرانہ نظام، بینُ الاقوامی اِقتصادی تصوُّرات، سماجی روابط اور اخلاقی عقائد اِن افسانوں میں سرایت کیے ہوئے ہیں، نیّراقبال علوی نے اپنے عہد کی انسانی زندگی کے ہر شُعبے کے مؤثّرات کا سُراغ لگانے میں اپنے تئیں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کِیا۔ بڑے تجربے، مُشاہدے اور عِلم کے بغیر آفاقی اور ابدی موضُوعات کو تخلیقی عمل کا حِصّہ بنانا کوئی کارِ آساں نہیں، اور یہ افسانے غمّاز ہیں کہ نیّراقبال علوی نے اپنے عہد کے تمام تراہم مسائل کو فن کارانہ کامیابی سے ہم کنار کِیا ہے۔ اِن افسانوں کا قاری محسُوس کر سکتا ہے کہ کئی ہنگامی موضُوعات کا کسی ابدی موضُوع سے رشتہ قائم کرنا ’جہانِ رنگ و بُو‘ کے افسانہ نگار کے لیے کوئی مُشکل امر نہیں۔ نیّراقبال علوی باآسانی کسی بھی مُعاملے کا انصاف، حُسن، خیر، صداقت اور انسان دوستی کی اعلیٰ اقدار کے ساتھ رابطہ دریافت کر لیتے ہیں، اور اُسے اپنے افسانے میں مرکزی اہمیت دے دیتے ہیں۔ اُن کے افسانے اِس امر کے لیے بُرہان فراہم کرتے ہیں کہ ہنگامی مسائل پر بھی ایسا سنجیدہ ادب تخلیق کِیا جا سکتا ہے، جو ایک عہد کے کسی ایک مُعاشرے کا آئینہ دار ہونے کے باوُجُود ہر عہد اور ہر مُعاشرے کے قاری کو مُتاثر کر سکے۔
گو اُسلُوب کے اعتبار سے نیّراقبال علوی نہ تو لِسانی تشکیلات کو برُوے کار لائے اور نہ ہی تجریدی اور تخیّلاتی رو میں بہے، اُنھوں نے روایتی کہانی کا دامن وسیع کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی، لیکن وہ اُن معدُودے چند اُردُو افسانہ نگاروں میں شامل ہیں، جنھوں نے ہمارے بیشتر بھولے بھالے قارئین کا آبگینۂ دِل توڑنے کا قصد نہایت بے رحمی سے انجام دیا ہے۔ مجھے افسوس کے بجاے خُوشی ہے کہ نیّراقبال علوی نے لاتعداد نام نہاد مقبولِ عام کہانی نویسوں کے باقاعدہ قارئین کی اُن تمام تر توقُّعات کو یکسر پایمال کر دیا ہے، جو یکساں روایتی کِرداروں کی صُورت میں جسدِ افسانہ سے جونکوں کی طرح چِمٹے ہوئے ہیں۔ نیّراقبال علوی کے بیش تر افسانوں میں نہ کہِیں ہیرو مِلتا ہے، اور نہ کہِیں ہیروئن۔ نہ تو کِسی مُصیبت کے موڑ پر اچانک ہیرو کا بازی گر ساتھی نمُودار ہوتا ہے، اور نہ ہی کسی آڑے وقت میں کام آنے والی ہیروئن کی کوئی محرمِ راز رفیقہ نمودار ہوتی ہے۔ نیّراقبال علوی کی کہانیوں کے کِردار کِسی اَن ہونی اُلجھن میں نہیں پھنستے، نہ تو اُن کی کہانی آگے بڑھنے سے معذُوری کا اظہار کرتی ہے، اور نہ ہی حسبِ مُراد انجام کے مُتضاد اُس کا رُخ پلٹتا ہے۔ اُنھیں اپنی کہانی کی آبرُو رکھنے کو کہِیں بھی تائید و مُخالفتِ غیبی کی کِسی صُورت کو برُوے کار لانا نہیں پڑتا۔ ہمارے بَہُت سے کہانی نویسوں کے ہاں قُوّتِ قِصّہ گوئی میں کمی لاحق ہونے پر کبھی کوئی بزرگ، درویش، خواجہ یا حضرت صاحب کِرداروں کی رہنُمائی اور مُشکل کُشائی کرتے دکھائی دیتے ہیں، کہِیں اسمِ اعظم سے اِستفادہ کِیا جاتا ہے، کہِیں کسی طِلِسمی قُوّتیں رکھنے والی نِشانی سے مدد لی جاتی ہے، یا جادُو، عمل، تعویذ، منتر اور چِلّے سے۔ کہِیں مُشکل صُورتِ حالات کو کسی حُسنِ اتّفاق، کرِشمے یا سُوے اِتّفاق کے ذریعے حل کر لیا جاتا ہے۔ کبھی کوئی غیر مُتوقّع یا خلافِ قیاس واقعہ لا کر کہانی کو آگے بڑھایا جاتا ہے، یا حسبِ منشا موڑ دِیا جاتا ہے۔ نیّراقبال علوی کے افسانوں کو جِنّوں، دیووں، بُھوتوں، چُڑیلوں، پریوں یا اپسراﺅں یا کسی حیرت ناکی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ”جہانِ رنگ و بُو“ کے افسانوں کا یہی طُرّۂ اِمتیاز ہے کہ اِن میں ہمیں روایتی اور سِکّہ بند کِرداروں سے کوئی واسطہ نہیں پڑتا۔ نیّراقبال علوی کا کمال یہ ہے کہ وہ جو کُچھ کہنا چاہتے ہیں سلیقے سے کہہ دیتے ہیں، اُن کے افسانوں میں حُسنِ بیان کی مُتعدّد اور مُتنوّع صُورتیں موجُود ہیں۔ اُنھوں نے افراد، رویّے اور واقعات کو کسی بھی تعصُّب، عینیت اور طے شُدہ رُومانیّت سے آلودہ کیے بغیر دیانت و صداقت کے ساتھ پیش کرنے کو اپنا مطمحِ تخلیق ٹھہرایا ہے، تاکہ قاری اِن افسانوں کی وساطت سے اپنی مُعاصر زندگی کے سچّے بیان سے آگاہ ہو سکے۔
اِس ضِمن میں عابد حسن مِنٹو اپنے مضمُون ”ایک افسانہ نگار۔۔۔ بلونت سنگھ“ میں رقم طراز ہیں: ”اُردو افسانے کے خالق کی طرح اِس کے موضُوعات بھی عام طور سے درمیانے طبقے کے مسائل سے وابستہ رہے ہیں۔ اِن مسائل میں درمیانے طبقے کا اِخلاقی کھوکھلا پن، اُس کے افراد کی جِنسی اور رُومانی زندگی کے بُحران، اور اُس کے کھوکھلے پن اور بُحران کے پسِ پردہ کام کرنے والی معاشی ناہمواری ہمارے ادب کا سب سے اہم موضُوع رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں افسانے کے اہم کِردار بَہُت مُدّت تک بوہیمین افراد رہے ہیں۔ یہ کِردار مُروّجہ اقدار سے بدظن تھے، اُن کے خلاف بغاوت بھی کرتے تھے، لیکن اِن میں سے شاید ہی کوئی ایسا کِردار ہو گا، جو نئی اور جان دار قدروں کا پیغام بر بن کر سامنے آیا ہو۔“
نیّراقبال علوی نے اپنی تخلیقات کے ذیل میں عِلّت و معلُول کے رِشتوں کی تلاش، معروضی طرزِ فِکر اور طریقِ تحقیق کو بالخُصُوص اہمیت دی ہے۔ دراصل اُردو ادب اِس امر کا مُتقاضی ہے کہ نہ صِرف اپنے قاری کو خُوش فہمیوں، عقیدتوں، توہُّمات، جذباتیت اور ماورائیت سے احتراز کرنے کی راہ پر لانا ادیب ہی کا فرضِ عین ہے، بل کہ یہ ذِمّہ داری بھی اُسی کی ہے کہ وہ خُود بھی قیاس آرائیوں سے اِجتناب کرنے کے علاوہ موجُود مواد کو بِلا نقد قُبُول کرنے کے بجاے اُسے پرکھنے کا میلان اپنائے۔ نیّراقبال علوی کے افسانے مُعاشرے، ریاست اور مذہب کے مُقابلے میں فرد کو ہی زیادہ اہمیت کا حق دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ افسانے معاشی عدم مساوات کے نتیجے میں ظہُور پذیر سماجی ناانصافیوں کے خلاف عَلَمِ احتجاج بلند کرنے کے علاوہ محض جُزوی تبدیلیوں کے بجاے سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بدلنے کی تمنّا ظاہر کرتے ہیں۔ اِن افسانوں میں جہاں مختلف گروہ ایک دُوسرے کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی سعی کرتے دکھائی دیتے ہیں، وہاں افسانہ نگار ہر طرح کے مسائل کا مُقابلہ کرنے اور معرُوضی حالات سے مُطابقت پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ نامساعد ماحول کے خلاف ردِعمل اور سازگار فضا کے لیے جِدّوجُہد اِن افسانوں کا بُنیادی مقصد ہے۔ اِسی ربط ضبط میں عابد حسن مِنٹو کا کہنا ہے:
”ترقّی پسند تحریک کے اثرات میں اہم ترین اثر تو ادب کو خالص داخلیّت (شاعری میں) اور رُومانی ماورائیّت (افسانے اور داستان میں) سے آزاد کر کے زندگی اور اِس کے مسائل سے قریب تر لانے میں پوشیدہ ہے۔ زندگی سے قریب لانے کے اِسی عمل کا ایک لازمی نتیجہ یہ تھا کہ فن کار زندگی کے مسائل سے دوچار ہوتا۔ چُناں چہ محدُود طور پر اور (اکثر) نِیم شاعرانہ انداز میں ہی سہی، ہمارے افسانوی ادب میں بے کاری، بُھوک، اخلاقی پستی، مُروّجہ سماجی اقدار کا کھوکھلا پن اور جِنسی زندگی کے بُحران کے موضُوعات اِس ترقّی پسند تحریک کے زیر اثر ہی جگہ پا سکے ہیں۔“
نیّراقبال علوی کے افسانے اپنے موضُوعی اور معروضی رویّوں کے اعتبار سے اِسی ذیل میں شامل ہیں کہ اگر کوئی اِن افسانوں کا وُقُوع تسلیم نہ کرے، تب بھی امکانِ وُقُوع کو کسی بھی صُورت میں رد نہیں کِیا جا سکتا، کیوں کہ یہ افسانے تخیُّلی ہونے سے زیادہ حقائق پر مبنی واقعات محسُوس ہوتے ہیں۔ ناقدینِ ادب اِس امر پر مُتّفق ہیں کہ وُقُوع بھی امکانِ وُقُوع میں شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ، ہے کہ اِن افسانوں کے واقعات ہُو بہُو ہماری اِس دُنیا کے واقعات اور حالات ہیں۔
مَیں نے نیّراقبال علوی کے افسانوں کا ذِکر اِختصاص کے ساتھ اِس لیے نہیں کِیا کہ کسی بھی افسانے کا تجزیہ اور جائزہ اِن محدُود صفحات سے تجاوُز کر جائے گا، لہٰذا یہاں ایک ایک افسانے کا حوالہ دینے کے بجاے مَیں اُن کے طرزِ احساس اور تخلیقی رویّوں کا اختصار سے تذکرہ کر رہا ہُوں۔ نیّراقبال علوی کی انفرادیّت جہاں دردِ ملّت اور پیغامِ عمل نظر آتی ہے، وہاں اپنے موضُوع اور متن کے سیاق و سباق کی وضاحت کرنا بھی ہے۔ اُن کے بیش تر افسانوں میں خُود کلامی (Soliloquy) ایک اہم اور طاقت ور عُنْصُر کے طور پر سامنے آتی ہے۔ اِس طرح جہاں اُن کے کِرداروں کا سوچ تک، قاری کے عِلم میں آتا ہے، وہاں کہانی کے علاوہ خود افسانہ نگار کا سوچ بھی مُتوازی رو کے طور پر معلُوم ہو جاتا ہے۔ غالباً نیّراقبال علوی اِس خُود کلامی یا رواں تبصرے سے پلاٹ اور موضُوع کی وضاحت کرتے ہیں، یا غالباً پلاٹ کے ضِمن میں اپنے جذبات، سوچ اور نُقطۂ نظر کے اظہار سے ہی اُنھوں نے اپنا اِنفرادی اُسلُوب وضع کِیا ہے۔ میرے خیال میں نیّراقبال علوی کے تخلیقی عمل میں یہ نہایت پیچیدہ تکنیک ہے۔ اگر بَہُت بڑی صلاحیت اور پُختہ مہارت نہ ہو تو تخلیق کار افسانے کی ڈھلوان سے پِھسل کر رپورتاژ کی کھائی میں بھی گِر سکتا ہے، کہ وہاں بھی مُصنّف کا تخیل اور موضُوعی رویّہ، اِن واقعات میں ایک بصیرت افروز معنویّت اور ایک فکرانگیز فضا پیدا کرنے کا مُکمَّل اہتمام کرتا ہے۔ لیکن نیّراقبال علوی نے اِس تکنیک کے جادۂ ہُنر پر اپنے پیر خُوب جما کر رکھے، اور اُردو افسانے کی تاریخ میں آگے کا سفر کِیا ہے۔ وہ اپنے افسانے کے تمام بُنیادی عناصِر کو لے کر اُن کا ایک منطقی سِلسِلہ قائم کرتے ہیں۔ افسانے میں در آنے والے تمام واقعات باہم اِس طرح مربُوط ہو جاتے ہیں کہ ایک واقعہ دُوسرے واقعے سے اُبھرتا ہُوا معلُوم ہوتا ہے۔ کہِیں عِلّت و معلُول کی صُورت پیدا ہوتی ہے، کہِیں کِسی اور لزُوم کی، لیکن بہرحال کہانی کے واقعات مربُوط ہو کر افکار کے ایک سِلسلے کا رُوپ دھارتے ہیں۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ نیّراقبال علوی کے افسانوں کا مواد ذاتی نہیں، بل کہ اجتماعی ہے، یعنی یہ کسی فردِ واحد سے مخصُوص نہیں۔ یہ مواد مختلف گروہوں اور قوموں کے علاوہ پُوری انسانیّت پر حاوی ہے۔ نیّراقبال علوی اپنے افسانوں میں واقعات اور حالات کے روشن پہلُو پر کڑی نظر رکھتے ہیں، کہ کسی بھی زمانے میں اِنسانی مُعاشرت کے لیے رجائیہ ادب ناگُزیر ہے۔ اور ہاں! آخر میں بھی پہلی بات ہی، کہ ”جہانِ رنگ و بُو“ کے افسانوں میں ہر دور اور ہر دیار کے لوگوں کو مُتاثّر اور محظُوظ کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔
اظہرغوری

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “جہانِ رنگ و بُو”

Your email address will not be published. Required fields are marked *