Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

دُوسرے آدم کی بیٹی

350.00

Description

حرفِ آغاز

مَیں ہی چھوٹے آدم کی بیٹی ہُوں

مَیں نے زمانے کا درد لِکھا ہے

امرتا پریتم زمانے کا درد لِکھنے والوں کی ہمدرد تھیں، اور میری بھی، اُنھوں نے میری تحریروں کو بَہُت دھیان سے پڑھا اور بڑے پیار سے اپنے دِل کے قریب کِیا۔

اَمرتا جی نے میری تحریروں کو ”ناگ منی“ میں چھاپ کر ساری پنجابی دُنیا میں بانٹ دیا۔

ناگ منی کا ”افضل توصیف نمبر“ بھی نکالا۔

تب اُنھیں خیال آیا کہ مَیں نے تو دُنیا کا اور تیسری دُنیا کا درد لِکھا ہے صِرف پنجاب ہی تو نہیں۔ یہاں تو جاپان ہے، ویت نام ہے، عراق ہے، افغانستان ہے اور بوسنیا بھی، چلّی اور بنگال بھی۔ درد کی لہریں کہاں کہاں سے اُٹھ کر میرے دِل تک مار کرتی رہیں۔

اور اُنھوں نے کوشش کی کہ میری تحریریں بڑی زُبانوں میں آجائیں، اور خُود جب میرے نام کی کِتاب لِکھنے بیٹھیں تو ہندی زُبان کو فوقیت دی۔ کیوں کہ ہندی سو کروڑ لوگ پڑھ سکتے ہَیں۔

پِھر جب کِتاب چھپ گئی تو اُس کی رُونمائی بڑے موقع پر ہوئی دِلّی میں ”کِتاب میلا“ بڑی دُھوم کا تھا۔ کِتاب کے پبلشر نے اپنی تازہ ترین کِتاب کے پوسٹر قدِ آدم لگوائے۔ کیوں نہیں آخر ”چھوٹے آدم کی بیٹی“ پر کِتاب تھی اور کِتاب کی مصنّفہ کا نام زِندگی سے بڑا (Larger Than Life…..) وُہ اگست کا مہینا تھا۔ آزادی پاکستان کی، آزادی ہندوستان کی،14 اگست، 15 اگست کی تاریخیں درمیان میں۔

اَمرتا پریتم نے فیصلہ کِیا ”ہم 16 اگست کو کُچھ لفظ آزاد کریں گے۔ وُہ لفظ میرے بھی ہوں گے تیرے بھی“۔

مَیں نے سفید پھُولوں کا گُل دستہ اُٹھایا اور 14اگست کو دِلّی کے لیے اُڑان بھری۔ کیا شان تھی میری…. میرے پرس میں اَمرتا پریتم کا خط تھا۔ اُنھوں نے مجھے سپانسر کِیا تھا۔

ایسا کب ہوتا ہے کہ کِتاب کا کیریکٹر کِتاب کے رائٹر کے گھر جائے اور کِتاب وُصُول کرے، اُس ہاتھ سے جس کی اُنگلیوں نے قلم تھام کر کِتاب کے لفظ لِکھے تھے…. مگر ایسا ہی ہُوا۔ تقریب اَمرتا پریتم کے گھر میں ہُوئی، دِلّی کے نامی گرامی ادیب وہاں موجُود رہے۔ اور ایک ایسا آرٹسٹ بھی جو سُورج کے رنگ لگا کر تصویریں بناتا ہے، امروز جی۔ اور صدر نشین کون ہُوا؟…. کملیشور جی۔

اُس روز جب مَیں لاہور کے پُھول لے کر دِلّی گئی۔ بڑی خُوب صُورت شام دونوں مُلکوں کے درمیان پھیلی تھی۔ سُورج کے لیے زمین ایک چھوٹی سی گیند ہے۔ اُسے انسان کی میر تیر سے کیا لینا؟ اُس نے مٹّھی بھر رنگ اُچھالے، سارے مشرق میں شام رنگین ہو گئی۔ مَیں نے جہاز کی کھڑکی سے باہر دیکھا، شام کے رنگ نارنجی، کاسنی، اُودے، شہابی، گلابی…. اور نیچے زمین کا رنگ زمینی اور ہریالی کا۔ یہ لو، گھنٹے بھر میں جہاز دِلّی جا اُترا، بس اِتنا سا مُعاملہ! کِس نے کہا تھا، دِلّی دُور ہے؟ سیاست کی دِلّی، اقتدار کی دِلّی بے شک دُور ہے، مگر اَمرتا پریتم کی دِلّی دِل کے قریب تر۔ سامان میں کُچھ کِتابیں تھیں، مگر ایئر پورٹ اتھارٹیز نے پہلے پُھولوں پہ نگاہ کی۔ کِس لیے؟

یہ پُھول شاعرہ کے لیے ہَیں۔

”مگر یہ تو دِلّی میں بَہُت ملتے ہَیں“۔ شک کی نظر، شبہے کا خیال۔ مگر یہ پھُول امرتا کے شہر نے بھیجے ہَیں۔ یہ لاہور کے پُھول ہَیں۔

کون اَمرتا؟

”ارے ارے! تُم اَمرتا پریتم کو نہیں جانتے“۔

کِس کے گھر جانا ہے؟

اَمرتا پریتم کے گھر جانا ہے۔

دِلّی میں کِسی اور کو جانتی ہو؟

سوناموں کا ایک نام جانتی ہُوں مَیں۔ ہاں ایک دُوسرا نام بھی ہے امروز، وُہ بھی شاعر ہے؟ خانہ پُری کی خاطر وُہ پُوچھ رہے تھے۔

”وُہ مُصوّر ہے“۔ مَیں نے کہا، تو وُہ ایک دُوسرے کا مُنہ دیکھنے لگے۔

”مُصوّر جو تصویریں بناتا ہے“ مَیں نے وضاحت کی۔

”اچّھا فوٹوگرافر“۔

”نہیں ، پینٹر!“ مَیں نے غُصّے سے کہا، تو بولے:

”یُوں کہو نا“۔ یہ پڑتال کرنے والا عملہ دونوں مُلکوں میں ایک جیسا ہے۔ مگر ہندی اُردُو ایک بھاشا نہیں ہے۔ اِسی بات پر تو مُلک تقسیم ہو گیا، اب ہندی بھاشا میں لکھی کِتاب مَیں کیسے پڑھوں۔ ہاں اَمرتا جی وُہ لفظ بولیں تو مَیں ٹھیک سمجھ لوں۔ مگر یہ لِکھے لفظ….

ساری دِلّی نے کِتاب پڑھ لی۔ مَیں نے اب جا کے پڑھی ہے۔ ترجمہ جیسا بھی ہے، غنیمت ہے، یا کم ہے۔ یہ زُبانیں جن کے لیے لوگ لڑتے ہیں کِتنی مدد کرتی ہَیں۔ ہندی اُردُو میں کُچھ زیادہ فرق نہیں، مگر سکرپٹ میں بڑا فرق ہے۔ دِلّی لاہور میں کُچھ فاصلہ نہیں، مگر بڑا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلے طے ہو جاتے ہیں کِسی نہ کِسی طرح۔ مگر وُہ فاصلہ جو اب موت نے پیدا کِیا ہے۔ اب کیسے ملوں گی اُس سے، جِس نے کِتاب لکھی۔

اب مَیں دِلّی بھی جاﺅں تو کیا ہے۔ گئی بھی تھی، اُسی راستے سے، وُہی شرطیں پُوری کرتی ہُوئی۔ اب بھی نام تو اُنہی کا لِکھوایا تھا۔ اب بھی اُسی پتے پر رِکشا ڈالا تھا۔ اُس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ مگر اَمرتا جی گھر پہ نہیں تھیں۔ امروز جی سے پُوچھا تو اُنھوں نے تصویروں کی طرف اشارہ کِیا۔ کِتنی ساری تصویریں، کِتنی خُوب صُورت! یہ فطرت بھی خُوب ہے، جسے دے اُسے بَہُت کُچھ دے دیتی ہے۔

حُسن دِیا تو ذہانت بھی دی۔ لمبی عُمر دی تو بڑی صلاحیت بھی دی۔ اُن کے لِکھے لفظ، اُن کے کہے لفظ دُنیا میں رہیں گے اور وُہ لفظ بھی جو اُنھوں نے میرے لیے لِکھے۔ اُن کے بَہُت سے لفظ میرے پاس امانت بھی ہَیں۔ وُہ لفظ سچّے موتیوں جیسے ہیں اور میرے دِل میں محفُوظ رکھے ہیں۔ سچّے موتی کی وُہ انگوٹھی جو اُنھوں نے مجھے دی اور مَیں نے سنبھال کے رکھی۔ اُسے ڈاکو لے گئے۔ مگر وُہ تصویرمیں ہے، وُہی ہاتھ جو اُنھوں نے گرم جوشی سے تھام رکھا ہے، اُسی کی انگوٹھی میں وُہ دُودھیا موتی چمک رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کوئی ڈاکو وُہ لفظ نہیں لُوٹ سکے گا جو امرتا جی نے ”چھوٹے آدم کی بیٹی“ کو دیے ہَیں۔

ایک عظیم شاعرہ کی طرف سے جو مجھے مِلا ہے وُہ میرا اِنعام ہے، اِعزاز ہے، میری سب سے بڑی سَنَد ہے، زِندگی کی تسلّی ہے۔

آپ کا شکریہ، امرتا جی! آپ کے جانے کے بعد میرا کون ہے۔ کِس کا نام لے کر دِلّی آﺅں گی مَیں؟ مگر ایک تسلّی ہے آپ کا نام رہے گا اور پتا!K25حوضِ خاص۔

اور دروازہ کھولنے والا امروز بھی۔ ابھی تو مَیں زندہ ہُوں۔ اور زِندگی کے بنیرے پر کُچھ دُھوپ باقی ہے۔

اور ہاں، امرتا جی! ایک اطلاع آپ کے لیے آپ کے جانے کے بعد ہماری بہُو الکا نے وُہ ڈائننگ ٹیبل اُجڑنے نہیں دی جہاں بیٹھ کر آپ کے ہاتھ کے پُھلکے کھاتی تھی۔

افضل توصیف

۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “دُوسرے آدم کی بیٹی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *