Description
دیباچہ
پِچھلے کُچھ عرصے سے ہمارے ادبی رسائل میں نظم کا حِصّہ سُکڑتا جا رہا ہے اور جو نظمیں شائع ہو رہی ہیں وُہ بھی عام طور سے یک رُخی ہوتی ہیں۔ جدید اُردُو نظم کے اہم شُعرا نے کثیرالابعادی نظم کے جو اسالیب وضع کِیے تھے، اُن کے بجاے اب جذباتی بیان کا پیرایہ زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔
اِس پس منظر میں عبدالرشید کی نظم نگاری کا تسلسُل اب اور بھی معنی خیز بنتا جا رہا ہے۔ ”بنکاک میں اجنبی“ کی اشاعت اُن کی نظم نگاری کا ایسا مرحلہ ہے، جہاں اُن کے اُسلُوب میں کُچھ ایسے عناصر شامل ہوتے دِکھائی دے رہے ہیں، جو اُن کی پسندیدہ وضعوں کے ساتھ مِل کر نئے اِمتزاج کی نشان دہی کرتے ہیں۔ عبدالرشید کی نظموں کی تفہیم کی راہ میں کئی مُشکلیں ہیں، اُن کی نظم نگاری کا طریقہ ہم عصر یا پیش رو نظم نگاروں سے بھی کُچھ الگ ہے اور اِس کے پس منظر میں انگریزی اور دیگر یورپی زُبانوں کے بالکل نئے شُعرا کے انداز کی جھلک ہے، اُن کے امیجزاپنی روایت سے زیادہ اُسی عالمی انداز سے نِکلے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شاعری اُردُو کے قاری بل کہ نقّاد کے لیے بھی اجنبی ہے، گویا عبدالرشید بنکاک ہی میں نہیں نظم نگاری میں بھی ”اجنبی“ ہیں۔ آر۔ پی۔ بلیک مور نے ای۔ ای۔ کمنگز کی شاعری کے بارے میں کُچھ یُوں اظہارِ خیال کِیا تھاکہ: کمنگز کا مسئلہ ذاتی واردات کو دُوسروں کے لیے قابلِ فہم بنانے کا۔ عبدالرشید کی نظموں میں ماں، بہن، کالج اور اُن کی نِجّی زندگی کے جو کوائف آتے ہیں، وُہ شاعر کے اپنے اندر تو یادوں اور احساسات کا اِرتعاش پیدا کرتے ہوں گے، قاری تک اِس اِرتعاش کو مُنتقل کرنا جِس انداز کی مُشقّت چاہتا ہے، عبدالرشید ہر جگہ اُس کی اہلیّت نہیں پا سکے۔ اِس طرح اُن کے بعض تبصرہ نگاروں کو یہ شکوہ بھی رہا ہے کہ اُن کی نظموں کے امیجز ہیں تو نِرالے، لیکن آپس میں پیوست ہوتے دِکھائی نہیں دیتے۔
”بنکاک میں اجنبی“ کے مُطالعے سے ایسے ناقدین کا اعتراض تو اب دب جانا چاہیے، کیوں کہ عبدالرشید کے جِس اِمتزاجی رنگ کا ذکر کِیا جا چُکا ہے، وُہ اُن کی کئی نظموں میں ہے، اور اِن نظموں کے امیجز میں ربطِ باہم کی کئی صُورتیں ہیں۔ اِن نظموں میں بنکاک کا منظرنامہ تو موجُود ہے، اور گلی کُوچوں، بُدھ مت کے مندروں، ریستورانوں، قحبہ خانوں کے درمیان اجنبی آنکھیں منظروں اور کِرداروں کے سیہ و سفید دائروں میں بھٹکتی پھرتی ہیں، لیکن پھر بھی شاید عبدالرشید کی اصل اجنبیت ’وُجُود کے شہر میں اجنبیت‘ ہے۔ عُمر بڑھنے کا احساس، جوانی کی یادوں کا بوجھ، بچپنے کے تلخ و شیریں تجربات۔ لندن ہو یا پیرس یا بنکاک، بڑے شہروں کی زندگی اپنے طور پر ہی اجنبیت کی علامت ہے۔ پھر اپنا وُجُود اپنا دُکھڑا انسان کا پیچھا کہاں چھوڑتا ہے اور انسان تنہائیوں، پشیمانیوں اور رایگانی کے سایوں کا تعاقُب کرتا رہتا ہے۔ اِسی اعتبار سے راشد کی ”ایران میں اجنبی“ اور عبدالرشید کی ”بنکاک میں اجنبی“ میں بَہُت فاصلہ ہے۔ راشد کی ڈرامائی آواز کِرداروں کے ذریعے کلام کرتی ہے اور جنگ کے سایے میں کراہتے ہُوئے ایک مُعاشرے کا نقشہ مُرتّب کرتی ہے، جب کہ عبدالرشید بالعموم آبی پرندوں کے دسترخوان اور نو دولتیے دِل کے مریضوں کے لیے خُونِ رواں، بنکاک کو تیزی سے اُڑتی ہُوئی تمثالوں کے ذریعے گرفت میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ شہر تواتُر سے برستی ہُوئی بارش کی نمی کو
گُلدان میں رکھتا ہے، پرندوں کی کمی کو
پھُولوں کے پر و بال سے بھرتا ہے
اے شہر مرے ہاتھ کبُوتر کی طرح سے
تری گردن کے دروبام میں پھِرتے ہیں
(بنکاک :1)
مگر باہر کے اِن مناظر کے مُقابل شہر، وُجُود کے ہیبت ناک مناظر ہیں۔ ”اپنے ہی دُکھ کے تِیر“ ،”اپنی ہی آہوں کے بٹے بان سے بندھے اپنے ہاتھ“، ”ایک جوانی کی زرہ“، ”بچپن کی انگُوٹھی“، ”زوال کی گھڑیوں کی آمد“ غرض یہ کہ مُعاملہ یک طرفہ نہیں دو طرفہ ہے۔ ”بنکاک میں اجنبی“ کی کُچھ نظموں میں سانپ کی شبیہ اُبھرتی ہے، جِس کا ایک سِرا تو بُدھ مت کے معبدوں کی تصویروں سے مربُوط ہو سکتا ہے، مگر دُوسرا سرا انسانی جبِلّتوں کے ازلی رازوں سے جا مِلتا ہے۔ نظم ”سبز سانپ“ کا ایک اِنچ موٹا اور تین فُٹ لمبا سانپ، اِسی نظم میں دریا کے گھاٹ پر چینی معبد کا ذِکر اور سیڑھیوں پر تیرتا ہلکے دھانی رنگ کا سانپ اور ساتھ ہی کوبرا، کالے رنگ کا سانپ، پھر پام کی شاخوں کی طرح جھُولتا ہُوا سبز رنگ کا سانپ، یہ سانپ کیا ہے؟ شاعر تو کہتا ہے:
سانپ جِس کی آنکھیں نہیں تھیں
دانت نہیں تھے، کیا وُہ مَیں تھا
تیرے رستوں میں پایمال
”سانپ کی زیارت“ میں اِس شبیہ کی اساطیری جہت سامنے آتی ہے:
وہ جو جنّت میں حوّا کی آنکھ کے آگے
پیڑ کے گِردا گِرد
اپنا آپ لپیٹے تھا
وہ جو اِس دھرتی پہ جنّت کے باغوں سے آیا
اپنے ساتھ زمیں کی شادابی کی خاطر
بارش لایا
میری راے میں ”سانپ کی زیارت“، ”سبز سانپ“، ”شام کی بارش“، ”وہ بارشیں“، ”اِنتظار“، ”تم مجھے اپنے ہاتھ دے دو“، ”اے پرندوں کی قوس“ جیسی نظموں میں عبدالرشید نے اپنے شعری لہجے کی کُچھ نئی سطحیں تلاش کر لی ہیں، اِس اعتبار سے یہ مجموعہ خُود عبدالرشید کے شعری مجموعوں میں بھی قابلِ توجُّہ ہے، اور جدید اُردُو نظم کا بھی قابلِ توجُّہ مجموعہ ہے۔
ڈاکٹر سہیل احمد خان





Reviews
There are no reviews yet.