Description
عبدالمجید چٹّھہ….فنا فی الرّسُول ناعت
”بابِ رحمت“ کے خالق عبدالمجید چٹّھہ نے حضرت محمدﷺ کی ذاتِ اقدس سے عقیدت اور اُن کی مدحت کے لیے نعت خوانی اور نعت گوئی کا وسیلہ اِختیار کِیا۔ لامحدُودیتِ موضُوع کے سبب اِس عالَم کے کِسی بھی عالِم کے لیے اپنے زورِ قلم میں ہر مُمکن زیادتی کے باوُجُود سرکارِ دو عالمﷺ کی ذات کو کِسی ایک بھی حوالے سے کما حقہٗ احاطۂ تحریر میں لانا بعید از امکان ہے، بعینہٖ نعت کے معنوی و اِصطلاحی مفاہیم تک کاملاً رسائی بھی کارِ ناممکن ہے۔ دراصل مُسلم مُعاشرت میں صِنفِ نعت کے ذریعے ہی شعری اَدَب مُعتبر و مُقدّس درجات سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔ محقّقینِ دِینِ مُبین نعت کو سُنّتِ خُداوندی سے بھی تعبیر کرتے ہیں، اِس لیے غیر کاروباری شُعرا نعت گوئی کے ذریعے دِینی اِعتبار سے رُوحانی مراحل طے کر کے نہ صِرف از خُود اپنی نجات اور شفاعت کے اسباب پاتے ہیں، بل کہ بعض قارئین و سامعین کو بھی حُصُولِ ثوابِ دارین کے مواقع مُہیّا کرتے ہیں۔
اکثر محافلِ سماع کے دوران نمایشی نفسیات کے حامل بیشتر مسلمان نعرہ زنی، ظاہری وجد، روپے نچھاور کرنے کے تماش بینی اطوار اور پُر رعونت نمُود کے مظاہر سے اپنی پارسائی کی دھاک بٹھانے پر مُصر ہوتے ہیں، حال آں کہ اُنھیں نعت کی بابت یہ سبق مِل رہا ہوتا ہے کہ وُہ سُنّتِ رسُولﷺ کے اِتباع اور تقویٰ پر قانع رہیں، تا کہ منافقت، شرک اور کُفر کے لاشُعُوری گُناہ ہاے کبیرہ سے مامون رہیں، شُعُوری طریق پر کذب، حیلے، دھوکا دہی، اِستحصال کرنے اور دہشت زدگی سے محروم بنانے کے اِرتکاب سے گُریز کریں۔ جِس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے ربُّ المسلمین کے بجاے ربُّ العالمین اور حضرت محمدﷺ کے لیے رحمت المسلمین کے بجاے رحمت العالمین کے خطابات پسند فرمائے، اُسی طرح غیرمُسلم شُعرا نے بھی حمد، نعت، منقبت، مرثیہ، سلام اور دیگر اصناف میں اپنی عقیدت کے گراں قدر نذرانے رقم کیے۔ توحیدی ادیان و عقائد کی آفاقی ہم آہنگی سے صَرفِ نظر کر کے بین المذاہب تعصُّب کو فروغ دینے کی خاطر بزعمِ خُود مومنین پر مشتمل چند گروہ ربوبیّت کی عبودیّت اور نبیِ آخِرُالزّماں کی بنی نوعِ اِنسان کے لیے ازلی و اَبَدی رحمت کو فقط اپنے لیے ہی مخصُوص سمجھ بیٹھے، نتیجتاً اِنتہا پسندی، دہشت گردی، فرض ناشناسی اور عدم رواداری ترویج پا کر خالقِ حقیقی کی راہ گُم کردہ مخلُوق کے لیے عذابِ الیم کی صُورت اِختیار کر چُکی ہے۔ بہرحال آج بھی مُسلمان شُعرا حُضُورﷺ کی محبّت و اطاعت کی ضُرُورت کا اِحساس جگانے والی آیاتِ قُرآنی اور احادیث کے پیشِ نظر بِالخُصُوص نعت خوانی کو اپنی نجات و شفاعت کا وسیلہ اور حُصُولِ ثواب کا بہُت بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ متضاد فلسفیانہ و صُوفیانہ حوالوں سے اِس کے کئی ایک ظاہری اور باطنی اسباب ہیں۔ البتہ سُنّتِ خُداوندی، عِشقِ رسُول، اِظہارِ عقیدت، اطاعتِ رسُولﷺ کا جذبہ، تبلیغِ دِین کا وسیلہ، ذِکرِ رسُولﷺ کو عام کرنے کی خواہش، وسیلۂ برکت، روضۂ رسُولﷺ پر حاضری کی خواہش معاصر نعت گوئی کے قابلِ ذِکر محرکات ہیں، جنھوں نے اِس صِنفِ سُخن کو ہماری مجلسی زِندگی میں نہ صِرف متعارف کروایا، بل کہ بے پناہ مقبولیت بھی دِلوائی۔
محقّقین کے مُطابِق اِسلامی عُلُوم و فُنُون اور خاص طور پر نعت کے فروغ میں مذہبی فلاسفہ اور صُوفیہ نے قابلِ قدر حِصّہ ڈالا۔ صحابہ کرامؓ نے عربی میں نعت کا آغاز کِیا، بعد ازاں انھی صُوفیہ کے طبقات سے وحدت الشہود اور وحدت الوجود یا فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسُولﷺ کی اِصطلاحات عام ہُوئیں۔ دراصل تصوُّف کی مُوشگافیوں میں اُسوۂ حسنہ پر ہی زیادہ زور دِیا گیا اور مجاہدات کے ذریعے رسُول کی ذات میں فنا ہونے کو ہی اوّلیت دِی گئی۔ مختلف طبقاتِ صُوفیہ نے ذِکر و فِکر کی محفلوں میں اِسمِ محمدﷺ و احمد کے وِرد کے ساتھ ساتھ اسماے نبیﷺ کے ذِکر کو بھی ضرُوری قرار دِیا، تا کہ حُبِ رسُولﷺ زیادہ سے زیادہ بڑھے، یہی وَجہ ہے کہ صُوفیہ کے وظائف و اورادمیں نعت خوانی کو بڑی اہمیت حاصل ہو گئی۔ عقائد پرست مؤرّخین کے مُطابِق صُوفی شعرا نے خُود بھی نعت گوئی کی اور محافلِ میلاد میں نعت خوانی کو تخصیص بھی بخشی۔ اِسی ضِمن میں قوالی کی محفلوں، درگاہوں پر منعقد ہونے والے عُرسوں، ربیعُ الاوّل، محرم الحرام، رمضانُ المبارک کے مُقدّس مہینوں، شبِ برات، معراج شریف کے مواقع اور سیرت کی مجلسوں کو بھی خاص مقام حاصل ہے۔ بہُت سی تقریبات کے آغاز پر جہاں تلاوتِ کلام پاک ہوتی ہے، وہاں نعت خوانی بھی ناگُزیر ہے۔ معاشرتی تقریبات میں نعت گو اور نعت خواں طبقے کا تعارُف ہُوا تو نعت نے شعر اکے اِس طبقے کو شہرت بھی دِی اور کیؤں کے لیے عبادت اور محرّکِ اجرِ آخِرت کے بجاے محض دُنیاوی وسیلۂ رِزق بھی بنی۔ درایں حالات عبدالمجید چٹّھہ پر آقاے دو جہاںﷺ کا سب سے بڑا کرم یہ ہے کہ اُنھیں عبادت و زیارت کو پیشۂ تجارت بنانے کی ضُرُورت پیش نہ آئی۔ وُہ پنجاب کے محکمۂ تعلیم سے فقط روزگار کے لیے وابستہ نہِیں ہُوئے، اُنھوں نے طُلباے عِلم کو تعلیم کے علاوہ تربیت کے زیور سے آراستہ کرنے کے اعلیٰ مقاصد بھی پیشِ نظر رکھے۔ اُن کے ہزارہا مُعتقدین و شاگرد دِینی مدارس کے بالعکس روشن خیال بندگانِ خُدا اور سچّے عُشّاقِ نبیِ آخِرُالزّماںﷺ ہیں۔
دیگر ادیان میں مروّج حمد و مناجات، بھجن اور مذہبی نغموں کے مانند مُسلمان معاشرے میں بھی نعت گوئی اور نعت خوانی کے بارے مُتّفق علیہ راے قائم ہے۔ اِس ضِمن میں بُخاری شریف میں مرقُوم دو احادیثِ رسُولﷺ قابلِ ذِکر ہیں، ”تُم میں کوئی مومن نہ ہو گا، جب تک مَیں اُس کے نزدِیک ماں باپ، اولاد اور دیگر تمام افراد سے زیادہ محبُوب نہ ہو جاﺅں“۔ اور ”جِس فرد میں دو خصلتیں ہوں، وُہ ایمان کی لذّت و حلاوت پائے گا، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسُولﷺ اُسے تمام تر ماسِوا سے زیادہ پیارے ہوں، دُوسری یہ کہ وُہ کُفر میں لوٹ جانا ایسا بُرا سمجھے جیسا آگ میں پھینکے جانے کو بُرا سمجھتا ہے“۔ مزید برآں دو ارشاداتِ ربّانی توجُّہ طلب ہیں، سُورة الاحزاب کی چھٹی آیت کہ ”بِلا شُبہ اہلِ ایمان کے لیے نبی اُن کی اپنی جانوں سے زیادہ قریب ہیں“۔ اور سُورة توبہ کی چوبیسویں آیت کہ ”میرے حبیب فرما دیجیے، کہ اے لوگو! تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری عورتیں، تمھارا کُنبہ، تُمھاری کمائی کے مال، اور وُہ تجارت جِس کے نقصان کا تمھیں ڈر رہتا ہے، اور تُمھاری پسند کے مکان، اِن میں سے کوئی چیز بھی اگر تمھیں اللہ اور اُس کے رسُولﷺ اور اُس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبُوب ہے، تو اِنتظار کرو کہ اللہ اپنا عذاب اُتارے۔ اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو راہ نہِیں دیتا“۔ مذکُورہ احادیث اور قُرآنی حوالوں میں رسُولﷺ سے محبت کو مُؤثّر صراحت سے ایمان کا حِصّہ قرار دِیا گیا۔ یہی وَجہ ہے کہ عبدالمجید چٹّھہ نے عِشق و عقیدت کے مذکُور رُتبہ ہاے بُلند کو پانے کی غایت سے شاعری کے درپردہ نعت گوئی شعار کی۔ وُہ بہرہ وَر ہیں کہ آقاے دو جہاں کی مدحتِ سیادت ہی ارفع تر سعادت ہے۔ بِلاشُبہ اُنھوں نے اپنے نعتیہ کلام کے طُفیل اپنی شاعری کو قابلِ ذِکر فہرست میں شامل کروا لِیا، جیسا کہ حضرت حسّان بِن ثابتؓ نے اپنے ایک نعتیہ شعر میں یکساں عِجز و تعلّی کی نظیر یُوں مُہیّا کی، ”مَیں نے اپنی شاعری کے ذریعے حضرت محمدﷺ کی تعریف نہِیں کی، بل کہ اُن کے ذِکر سے اپنے کلام کو قابلِ ذِکر بنا لِیا“۔
قُرآنِ مجید کی سُورة الاحزاب کی چھپنویں آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ یُوں ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے نبیِ کریم(چٹھّہ) پر درُود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تُم بھی اُن پر درُود و سلام بھیجو“۔ لہٰذا نبی کریمﷺ کی سیرت و کِردار کی خُوبی، دِل کشی اور حُسن کے باعث حُقُوق اللہ اور حُقُوق العباد کی ادائی کے ساتھ ساتھ اُن کے اوصاف و خصائل کی تعریف و توصیف بھی اُمّت کے لیے عبادات کا جُزوِ لاینفک ٹھہری۔ حقیقتِ امر میں رسُولِ کریمﷺ سے قبل اور بعد میں اُن کا کوئی مثل نہ ہو پایا، اِسی سبب مدحِ رسُولﷺ کو بِالخُصُوص صِنف قرار دے کر شاعری میں طُغراے اِمتیاز حاصل کرنے کا مطمحِ نظر مرغُوبِ شعرا ہے۔ تحقیق کی رُو سے اوّل اوّل تِرمذی شریف میں منقُولہ حدیث کی بابت حضرتِ علیؓ نے آپ کے حُلیہ مُبارک کے اِظہار کے حوالے سے واصف کے بجاے اپنے لیے ’ناعت‘ کہلانا پسند کِیا۔ مذکُور ہے، ” جِس فرد پر آپ کی نظر پڑ جاتی، وُہ مرعُوب ہو جاتا۔ آپ کی قرابت، محبّت اور توصیف کرنے والوں کا یہی کہنا ہے کہ نہ آپ سے پہلے آپ سا کوئی دیکھا اور نہ ہی آپ کے بعد آپ سا دیکھا ہے“۔
قُرآنِ مجید کے پہلے پارے کی گیارھویں آیت ہے، ”وُہ پہلے اِس نبی (ﷺ) کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے اور جب آپ تشریف لے آئے تو وُہ آپ کے مُنکر ہو گئے“۔ یعنی رسُولﷺ کی بعثت سے قبل یہُود و نصاریٰ سرورِ کائناتﷺ کے وسیلے سے دُعا مانگتے تھے اور آپ کی آمد کے مُنتظر تھے۔”اے اللہ! ہماری مدد کر، اُس پاک نبی ﷺ کے وسیلے سے، جو آخِری زمانے میں بھیجے جائیں گے، جِن کی نعت اور توصیف ہم نے تورات میں دیکھی ہے“۔ گویا خُداے بزُرگ و برتر سے اِستعانت، سہایتا اور اِلتجا کے عمل میں بھی عُنصُرِ نعت کارفرما تھا۔
دیگر زُبانوں کی طرح اُردُو اَدَب میں بھی نعتیہ نثر و نظم کی روایت نہایت پُختہ اور عظیم المرتبت ہے، اِس تناظُر میں اَن گِنَت دفاتر کُھل سکتے ہیں، اِختصار کو ملحُوظ رکھتے ہُوئے اِسی پر موقُوف کررہا ہُوں کہ ’بابِ رحمت‘ میں سرورِ کائناتﷺ کے اذکارِ خیر کی روایات کہِیں اِستغاثہ کے انداز میں منظُوم ہُوئی دِکھائی دیتی ہیں، تو کہِیں مدحت کے اُسلُوب میں نظر آتی ہیں، بہرحال کُچھ اشعار میں خطابیہ طرزِ اِحساس موجُود ہے اور بیش تر اِلتجائیہ لَحن محسوس کِیا جا سکتا ہے۔ اللہ عبدالمجید چٹّھہ کے حمدیہ اور نعتیہ سُخن و لَحن کو قبولیت کا درجہ عطا کرے اور اُن کی شعری ریاضت کو عبادت کا شرف ملے۔
اظہر غوری





Reviews
There are no reviews yet.