Description
دو پُھول اور چار ستارے
ماں تری آنکھوں سے نکلے دو پُھول اور چار ستارے
چھوٹاسا اک گھر تھا جس کے آنگن میں، دھوپ
کہانی بن کے پھرتی تھی
بارش نے اپنے برسوں پرانے قصّے کو تحریر کیا تھا
رسوئی گھر میں بیٹھی ہوئی تُو، آنے والے دنوں کے اندیشوں کا پانی
جب برتن میں بھرتی، وہم کی چکنائی سے میلے ہاتھ کبھی ہنڈیا کو
کُھرچتے، کبھی فردا کے پیالوں سے ٹکراتے
جامن کے پیٹر کے نیچے مَیں اک مورت، گُم صُم، ساکن
تیرے ہاتھ مجھے گھڑتے ہیں
اورمَیں اپنے بدن کی تنہائی کے گاڑھے گارے میں محصُور
خواہش برچھی بن کر جسم میں داخل ہوتی ہے
بچپن کی پلکیں لذ ّت بن کرکِھلتی ہیں
تنہائی سے، رات کی کا لی خبروں سے، اور اُمّیدوں کی چھڑی
جو تیرے ہاتھ میں ہے، مَیں ڈر سا گیا ہُوں
عُمروں کے رہوار کے نیچے مات کی بازی کے پتّے تھے
ہر پتّے پہ میری شبیہ تھی، تم نے دیکھا
اور پھر پتّے ہاتھ سے پھینک دیے
اور وہ آنکھیں جو میرے بچپن کی نگراں تھیں
ان میں اکھوے بنے، ان میں دھبّے بنے،
ناکامی کی ڈھال کے پیچھے چِھپ سکتا تھا
اور نہ تیرے سامنے آسکتا تھا
اک لمبی چیخ تھی میری مسافت، اور یہ سفر بھی کیا تھا
گھومتے رہنا، اپنے گردا گرد، بگولا بن کر
اب اتنے برسوں کی اُفتاد کے بعد مَیں ڈھونڈ رہا ہُوں
اپنی جوانی کا خنجرجو یہیں کہیں رکھّا تھا
کپڑوں میں، روٹی کے ٹکڑوں میں، پاپوش کے نیچے
یہیں کہیں رکھا تھا
ماں یہ بارش تیرے کرم کے بھرے بھرے
میدانوں سے اٹھی تھی، مَیں بھٹک گیا تھا
سچ یہ ہے مَیں جگ کی کلائی موڑنے والے غُصّے اور نخوت کے سا تھ
بِھڑ نہ سکا، تیری خاطر اس رہ پہ دو کوس چلا
پر یہ میرا رستہ نہ تھا
مَیں لفظوں کی چِلمن کے پیچھے
چُپ چُپ آکر بیٹھ گیا
لفظ،گھنے، گھنگھور، صدا کے بیج،
گُنہ اور شہوت کے مایوس اندھیروں میں
عشرت کی سیج بنے
مَیں اس سیج پہ لیٹ گیا
تُو نے مجھ کو پانی کے چشموں کے اندر قید کِیا
تُو نے مجھ کو سُرخ ہتھیلی کی مٹّی میں کاشت کِیا
خود رحمی کے پیٹر کے کڑوے پتّے مجھے کھلائے
ماں تری آنکھوں سے پُھوٹے خود رحمی کے پیٹر کے اندر
میرا جنم ہوا
ماں مرے ہاتھوں کی چھتری چھوٹی ہے
تجھ کو، میری بابت تیرے قیاس کو، اور اس شعلے کو
جو تُو نے جلایا، کہ مَیں، گِرتا پڑتا آپہنچوں
شاید ڈھک نہ سکے
میرے اندر ایک جہنم زار ہے، اس کا مجھے پتا نہ تھا
اور میں اس میں گِر کے رہ جاﺅں گا
اس کا بھی کچھ پتا نہ تھا۔
٭٭٭٭٭٭





Reviews
There are no reviews yet.