Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

الہامی لفظوں کا مصوّر شفیق فاروقی

450.00

Description

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خُوشبُو آئے

ہماری یہ کائنات حسین اور لپکتے رنگوں سے مزیّن رقص کی تصویر ہے، جِس کے ہر انگ میں قُدرت نے اپنی لازوال اور بے کراں محبّت میں اُسے طرح طرح کے قابلِ بیان اور ناقابلِ بیان، رنگوں سے سجا سنوار کر، ہر ذِی رُوح کے سامنے پیش کِیا ہے، اور اِسی طرح ہر ذِی رُوح کو نئے نئے، انوکھے انوکھے رنگوں کے لاجواب پیرہن میں اوڑھنی پہنا دی ہے، ہم جِس شَے کو اِس عالمِ حیرت، میں دیکھتے ہیں، وُہی ہزار رنگوں کے پہناوے سے آراستہ ہے۔ ہم جس شَے کو اپنی نظر کے احاطے میں لاتے ہیں، وُہ بھی رنگوں کے حیرت کدے میں اپنی جولانی کے لشکارے مارتی ہے۔ رنگوں نے اِس کائنات کی ہر شَے کو اپنی لافانی قُوّت کی ناقابلِ بیان گرِفت میں لے رکھّا ہے۔ اِنھی رنگوں کے دم سے ہر جاگتی سوتی شَے میں ایک رُومانی حُسن جھلکتا ہے۔ دُوسری دِل چسپ بات یہ ہے کہ رنگوں کا اِستعمال مصوّر ہی نہِیں کرتے بل کہ ہر ذِی رُوح بڑے پیار اور محبّت سے کرتا ہے۔ بَیَا ایک مخصُوص رنگ کے تِنکوں سے اپنا گھونسلا سجاتی ہے اور رات کو، جب اُس کے بچّے آنکھیں کھول دیتے ہیں تو کہِیں سے جُگنُو پکڑ کر لاتی ہے اور اپنے گھونسلے میں چِپکا دیتی ہے، وُہ رنگوں کی خِیرہ کُن روشنی سے اپنی کائنات میں چمکتے رنگ بھر کر خُوش ہوتی ہے۔ پھُول طرح طرح کے رنگوں سے اپنی بہار کی چھبی دِکھاتے نہال ہوتے ہیں۔ درخت اپنے رنگوں کی بہار سے اپنی اتراہٹ کی جُھوم جُھوم کر انگڑائیاں، ہَوَا کے دوش پر لیتے تھکتے نہِیں، بادل رنگ رنگ کے لہریے سے آسمانوں کو سجاتے ہیں اور اپنا پُربہار جوبن دِکھا کر اپنی برسات کے حُسن سے خطّے کو نہلا دیتے ہیں۔ تب رنگ اور نِکھر آتے ہیں۔ سُورج کی کِرنیں اور چاند کی چمک اور سِتاروں کی جِھلملاہٹ اپنی طرح سے رنگوں کی برسات کرتی ہے۔ عورتیں اور مرد اپنی پوشاک و لباس کو رنگوں کی بدلتی بہار سے رعنائی بخشنے میں رُوحانی سکُون محسُوس کرتے ہیں۔ پرندے، چرندے اور دیگر حیات رنگوں کے عجیب عجیب لباس اپنے جسم پر سجائے مستی کرتے ہیں۔ گویا کائنات کے حُسن میں رنگوں کی بہار کے رقص نے ہمہ وقت ایک سِحر طاری کر رکھا ہے۔
ایسے میں مصوّر رنگوں سے نئے نئے خیال تراشتا ہے، ساری عُمر رنگوں سے کھیلتا ہے مگر پُوچھو تو ہر بار یہی کہتا ہے کہ مَیں نے قُدرت کا وُہ حسین رنگ تو ابھی تک اِستعمال ہی نہِیں کِیا۔ مصوّری خواہ وُہ کِسی بھی میڈیم سے تعلُّق رکھتی ہو، رنگوں کے اپنے اِرتعاش کے مُظاہرے کرتی نظر آتی ہے اور مصوّر اُس کے رنگوں کے رقص کا ایک کاریگر ہے کہ اُس کی صنّاعی اور رنگوں کی گُل رنگ بہار اُسے اَور دیکھنے والے کو تھکنے نہِیں دیتی۔ بس یہی مصوّری ہے خواہ وُہ لفظوں کی ہو یا خیال کی۔ اُس کی قُوّت کا سرچشمہ رنگ اور خیال کی جِدّت آفرینی ہے جِس سے نئے نئے تجرِبے خلق ہوتے رہتے ہیں اور اپنی جاویدانی کی تاثیرمیں متواتر اضافے کرتے چلے جاتے ہیں۔
شفیق فارُوقی بھی دُوسرے مصوّروں کی طرح رنگوں سے کئی سالوں سے کھیل رہا ہے۔ ہم اُس کے رنگوں کے کھیل اور لکیروں کے تماشے دیکھ دیکھ کر حیرتوں کے جنگل میں سرگرداں ہیں، مگر تھکتے نہِیں،وہ تھکنے بھی نہِیں دیتا، کبھی کبھی وُہ خُود تھک جاتا ہے۔ اِس تھکن میں وُہ رنگوں کی نئی توانائی کا ذخیرہ کرتا ہے اور پِھر رنگوں سے نئی طرح کھیلنے لگتا ہے۔ یہ سِلسلہ ہمیشہ سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔ اِس میں توانائی ہے اور اِس میں رنگوں کی بہار کی پھوار ہے۔
شفیق فارُوقی قریب آتا ہے اور پِھر غائب ہو جاتاہے۔ 2004ع میں وُہ قریب تھا، قُربان اور نہال۔ مَیں نے تب یہ کتاب مُکمّل کی۔ پِھر وُہ غائب ہو گیا، ابھی تک غائب ہے، دوستوں سے محبّت بھی کرتا ہے اور جلدی سے بدگُمان بھی ہو جاتا ہے۔ مگر وُہ دِل کا بُرا ہرگز نہِیں ہے۔ اُس کا دِل بے پناہ رنگوں سے آراستہ ہے، میرا خیال ہے کہ وُہ دِل کا رنگ بدل لیتا ہے، پِھر اُس رنگ میں کھو جاتا ہے۔ مَیں نے تو فیصلہ کر رکھا ہے کہ جب وُہ رنگ بدلے اور نئے رنگ میں کھو جائے تو اُسے چھیڑو مت۔ وُہ محبّت کا مارا ہے، کِسی نہ کِسی دِن آجائے گا، زور زور سے روئے گا، آنسُو بہائے گا، کلیجے سے لگائے گا اور ایک معصُوم بچّے کی طرح محبّت کرنے لگے گا۔ مَیں اُس کی محبّتوں اور نفرتوں کے ہر رنگ سے مُدّتوں سے آشنا ہُوں۔ اُس کے یہ رنگ زِندگی کی حقیقی علامتوں کے امین ہیں، جِن کی قدر کم از کم مُجھے تو ہے، اُسے بھی ہے مگر رنگ بدل بدل کر، جو مُجھے اور سب کو پیارے لگتے ہیں، اور پیارے لگتے رہیں گے۔ اُسی پیار کی نشانی اِس کتاب کے مضامین ہیں، جو اُس کے فن کا مُختصر سا احاطہ کرتے ہیں، جِن میں خُوشبُوبھی ہے اور رنگ رنگ کے لہریے بھی لہراتے ہیں۔
مُجھے یقین ہے کہ فنِ مصوّری کے رُمُوز اور رنگوں کی لفظوں سے رنگ پیمائی کے یہ اِستعارے اُردُو مصوّری میں تحقیق اور تنقید میں لازماً نئے عہد کے نئے رنگوں کے رنگ دار بادبان کھولیں گے۔ اِسی لیے کہ مصوّری کے حوالے سے اُردُو کی تنقیدی اور تحقیقی زُبان میں نہ ہونے کے برابر سرمایہ ہے۔ مُجھے یہ بھی یقین ہے کہ میری یہ تحریر جو خالص طبع زاد ہے۔ اُردو ادب، شاعری اور فکری نظریات کے نئے اُسلُوب، نئے طرزِ اِظہار اور نئی تمثال کا منفرد سرچشمہ ہیں، اُس کی وَجہ یہ ہے کہ شعری نظریات اور کلاسیک کا حسین امتزاج ہمیشہ نئے عہد کی داغ بیل ڈالتا ہے۔ میرے ادبی اور جمالیاتی نظریات اِن تحریروں میں، میرے اندر کی تخلیقی توانائی کی صُورت میں اُبھرے ہیں، جو نئے ادبی عہد میں، نئے نظریات کے طور پر اپنی جگہ ضُرُور بنائیں گے۔
مَیں جناب اظہر غوری کا شُکرگُزار ہُوں کہ اُنھوں نے مُجھ سے، شفیق فارُوقی سے اور مصوّری کی تحقیق وجدید تنقید کے حوالے سے اِس کتاب کو اپنے اشاعتی ادارے ”ملٹی میڈیا افیئرز“ سے شائع کر کے، مصوّری کے جدید اُسلُوب سے اِظہارِ محبّت فرمایا ہے، جِس کی یاد نہ کبھی مصوّری فراموش کر سکے گی اور نہ ہی جدید اُردُو اَدَب۔ رُجحان ساز لوگ (اظہر غوری) اور رُجحان ساز زاویے اور ادارے ہمیشہ زِندہ رہتے ہیں۔
ڈاکٹر آغا سلمان باقر
۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “الہامی لفظوں کا مصوّر شفیق فاروقی”

Your email address will not be published. Required fields are marked *