Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

حُبِ رسُولﷺ

500.00

Category:

Description

پیش لفظ

نعت نِگاری عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور عبادت بے وضو ممکن نہِیں اِس لیے نعت نِگار کا رُوحانی طور پر با وضو ہونا ضروری ہے، نعت سے گہرا شغف رکھنے والا تخلیق کار ہو یا قاری، دونوں کا فرض ہے کہ حُضُور نبیِ محترم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی محبّت کے نتیجے میں خُلُوصِ دِل کے ساتھ ہر شعر کے معانی پر نظر رکھیں اور اپنے کِردار و عمل سے یہ ثابت کریں کہ وہ حُضُور ﷺ کے اُسوۂ حسنہ کو ذریعۂ نجات سمجھتے ہیں۔ نعت نِگاری میں روایتی مضامین اور رسمی عقیدت کا اِظہار اور اِس کا تسلسُل عام سی روِش بن چُکی ہے، ضُرُورت یہ ہے کہ ہمارے نعت گو شُعرا نبی پاکﷺ کے شمائل و فضائل اور عادات و خصائل کے ساتھ عہدِ موجُود کے مسائل اور عالمِ اسلام کی سربُلندی سے متعلق موضُوعات کو نعت میں قرینے سے بیان کریں اور غور و فِکرکرنے، حالات کو بدلنے، نیز حُضُور ﷺ سے استمداد کی التجا کرنے جیسے مضامین کو لبادۂ مدحت پہنائیں۔

عبدالمجید چٹّھہ کاروانِ نعت نِگاراں میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے اور تیسرا مجموعۂ نعت پیش کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کے طلب گار ہیں۔ ”حُبِ رسول ﷺ“ دِیدہ زیب، معیاری طباعت کا دِلکش نمونہ اورملٹی میڈیا افیئرز کی جانب سے اِس دعوے کے ساتھ اشاعت پذیر ہُوا ہے کہ یہ اِدارہ معیاری اُردُو زُبان اور دُرُست اِملا کا محرّک اشاعتی اِدارہ ہے۔ قاری کے ذوقِ مُطالَعہ کا لحاظ رکھتے ہوئے عبدالمجید چٹّھہ نے یہ قرینہ اِختیار کِیا ہے کہ حضرت حسّانؓ بن ثابت کی نعت کا ایک شعر ”ہمیں غیروں پر یہ فضیلت کافی ہے کہ ہمارے دِل حُبِ نبیﷺ سے پُر ہیں“، اِسی طرح حضرت سعدی شیرازیؒ اور حضرت عبدالرحمٰن جامیؒ کے عشقِ رسالت مآب ﷺ کے مظہر اشعار سے آغاز کرنا موجبِ خیر و برکت تصوُّر کِیا گیا ہے۔ اِس مجموعۂ نعت میں حمد و نعت کا حسین امتزاج اور دُعا بھی مناجات کی صُورت میں نظر آتی ہیں:

تری رحمتوں کا ٹھکانا نہِیں ہے

نہ کوئی بَلا اب مرے گھر کو گھیرے

مری حشر میں جو کریں گے شفاعت

لگا دے مِرے اُن کے قدموں میں ڈیرے

عبدالمجید چٹّھہ نے اِس مختصر مجموعے میں قریباً پچّاس نعتیں شامل کیں، ان میں سے بیشتر نعتوں میں حُضُور ﷺ سے بے پناہ محبّت کا اِظہار کرتے ہوئے آپ کے شہر مدینہ کی گلیوں، بازاروں اور گُذرگاہوں کی دُھول کو سُرمۂ چشمِ عقیدت بنا کر اپنے دِیدہ و دِل کو راحت آشنا کِیا ہے۔ مدینہ عالمِ اسلام کی شناخت اور مسلمان زائرین کا مرکز و محور ہونے کے ناتے ہمیشہ لائقِ صد احترام رہے گا۔ اِس پاکیزہ اور مُقدّس شہر کی زیارت خُوش نصیبوں کو حاصل ہے جو گنبدِ خضریٰ کی چھاؤں میں طمانیت سے ہم کنار ہوتے ہیں:

جو شخص مدینے کی محبّت میں جیے گا

اُس شخص کی بخشش کا زمانے کو یقیں ہے

…………

الٰہی مدینے کی گلیاں دِکھا دے

رسالت کا شہرِ وفا چاہتا ہُوں

چلوں ہر قدم یاد آئے مدینہ

مدینے کی آب و ہَوَا چاہتا ہُوں

…………

نازاں ہے جِس پہ خُلد وہ طیبہ کی دُھول ہے

سارے جہاں سے اعلیٰ تو شہرِ رسول ہے

…………

عشقِ نبی کو قلب و نظر میں بسا کے رکھ

بِن حُبِ مُصطفٰی ترا جینا فضول ہے

آقاے دو جہاں کی محبّت جُزوِ ایمان ہے، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا فرمائی اور اُسے لایقِ عبادت گردانا، ورنہ آپ ﷺ کی رہنُمائی کے بغیر دُنیا خالق کا پتا کِس سے پُوچھتی، حُضُور نبی پاک ﷺ کا احسانِ عظیم یہ ہے کہ آپ ﷺ نے بندوں کو خُدا سے مِلا دیا اور گُم کردہ راہ لوگوں کو اپنے خیرِ عمل سے اللہ تعالیٰ کا عرفان مرحمت فرمایا، خالقِ کائنات نے اپنے محبوب کو عرشِ معظّم پر سِدْرَةُ الْمُنْتَہٰی سے آگے قَابَ قَوْسَیْن کی منزل دو کمانوں کا فاصلہ رکھ کر تمام پردے اُٹھا دِیے، تمام انبیا کو آپ ﷺ کی زیارت سے مشرّف فرمایا اور آپ ﷺ کی امامت میں نماز پڑھنے والوں میں انبیا کے علاوہ ملائکہ بھی شامل ہوئے۔ عبدالمجید چٹّھہ نے اِس طویل مضمون کو ایک شعر میں سمو دیا:

اللہ کی نظروں میں وُہی تو ہُوا افضل

نبیوںؑ کی سرِ عرش امامت جو کرے گا

”حُبِ رسول ﷺ“میں جیسا کہ عُنوان سے ظاہر ہے عبدالمجید چٹّھہ نے اپنی عقیدت اور محبّت کے پھُول اِس طرح یک جا کیے کہ اُن کا یہ مجموعہ ایک گُل دستۂ عشقِ مصطفٰی ﷺ نظرآیا۔ اُن کی نعت نِگاری میں یہ جذبِ صادق خوشبو کی طرح فضاے قرطاسِ نظر میں مشّامِ جان کو مُعطّر کر رہا ہے، یہ کارِ خیر حُضُور ﷺ کی رضا جُوئی کا حامل ہے کہ اِن اشعار میں سرمستی اور سرخوشی کارفرما ہے:

رب کی جنّت ہو گی پیاری ہمیں مدینہ پیارا

اس سے اپنی مانگ بھریں گے ہم کو ملے گر دُھول

اوج پہ شان ہے میرے نبی کی دیکھے کُل زمانہ

خالق کی مخلوق میں سب سے پیارے مرے رسول

ضیاے نُورِ محمد ہی ہر طرف پھیلی

فلک پہ آئے قمر کا کوئی کمال نہِیں

مجید سارا زمانہ ہے اُن کے سایے میں

مَیں کیسے کہہ دُوں کہ اُن کو مرا خیال نہِیں

جیسا کہ اِبتدا میں کہا گیا کہ عصرِ حاضر کے حوالے سے بھی نئے موضوعات نعت میں در آئے ہیں، اِن موضوعات کی افادیت سے اِنکار ممکن نہِیں۔ قوم میں شُعُور کے علاوہ زمینی حقایق کا اِدراک بھی حاصل ہونا ضُرُوری ہے اِس لیے نعت نِگار قرینے سے یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے کہ حُضُور ﷺ کو وسیلۂ اِظہار بنا کر آشوبِ زمانہ کا ذِکر اور بارگاہِ نبوّتﷺ میں استغاثہ کِیا جا سکتا ہے۔ عبدالمجید چٹّھہ کے ہاں روایتی نعت نِگاری غالب ہے لیکن اُنھوں نے التزاماً فِکرِ فردا کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے اور نعت میں حُضُور نبیِ محترم ﷺ کے سامنے فریاد کرنے کی ضُرُورت محسُوس کی ہے جو خُوش آیند بات ہے:

یا نبی یہ میرے دیس کے رہنُما

ہاتھ غیروں کے آگے بڑھانے لگے

ذِکر اِن کی زُباں پہ اگرچہ ترا

دِل میں غیروں کو اپنے بٹھانے لگے

جو اخُوّت کا روشن سا مینار تھا

زر کے بدلے میں اُس کو گِرانے لگے

اب نظر ہو محبّت کی شاہِ اُمم

ہم تو لاشے جواں اب اُٹھانے لگے

مختصر یہ کہ عبدالمجید چٹّھہ اپنی منفرد آواز اور نُدرتِ فِکر و نظر کی امثال سے آسمانِ مدحت میں نئے سِتارے ٹانک رہے ہیں۔ اُن کے ہاں جذبے کی صداقت اور عقیدت کی سچّائی ہے۔ وہ ایک کامیاب اور کَھرے نعت گو اور نعت خواں عاشقِ رسول ﷺ ہیں۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حبیبِ پاک ﷺ کی مدح سرائی کا صلہ دونوں جہانوں میں مرحمت فرمائے اور اُن کی قدر افزائی کے امکانات روشن ہوں۔

پروفیسرحسن عسکری کاظمی

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “حُبِ رسُولﷺ”

Your email address will not be published. Required fields are marked *