Description
عرضِ سدید
کم و بیش تیس برس پہلے لطیف قریشی صاحب سے سرگودھا میں ملاقات ہوئی تو وُہ محکمہ انکم ٹیکس میں ایک بڑے عُہدے پر فائز تھے۔ دِلچسپ بات یہ ہے کہ وُہ لباس سے بھی افسر ہی نظر آتے تھے۔ اُن کا استری شُدہ سُوٹ بے داغ تھا، اور ٹائی کی گِرہ ظاہر کرتی تھی کہ وُہ زندگی کو سلیقے سے گزارنے کا فن جانتے ہیں۔ مُجھے یاد ہے کہ اُن سے یہ مُلاقات ڈاکٹروزیرآغا کے کُتُب خانے میں ہوئی تھی، جہاں ہر شام ایک صُحبتِ یاراں آباد ہوتی تھی اور زندگی کے تمام موضُوعات پر کُھل کر باتیں ہوتی تھیں، تاہم ادب کے موضُوع کو فوقیت حاصل ہوتی تھی۔ لطیف قُریشی اُس محفل میں اچانک وارد ہوئے، اور اُنھوں نے اپنا تعارُف بھی خُود کروایا۔ بِلاشُبہ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ وُہ انکم ٹیکس افسر ہیں، لیکن یہ بھی باور کروایا کہ محکمہ انکم ٹیکس میں مُلازمت یا افسری کا باعث صِرف یہ ہے کہ
”روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر“
معمُول کے مُطابق سرگودھا کی اُس شامِ دوستاں میں اصل مُکالمہ تو ڈاکٹر وزیر آغااور پروفیسر غُلام جیلانی اصغر کے درمیان ہوتا تھا۔ سجاد نقوی، پرویز بزمی اور انور سدید اُس محفل کے نیازمند سامع ہوتے تھے۔ لیکن لطیف قُریشی تشریف لائے تو اپنے ساتھ خیالات، افکار، جذبات اور احساسات کا طُوفانِ بے پایاں بھی لائے، اور اب میں اُس واقعے کو یاد کر رہا ہُوں تو یہی کہہ سکتا ہُوں کہ اُس شام انھوں نے مُتعدّد نئے موضُوعات کے ”گردباد“ مُتحرّک کر دِیے۔ وزیر آغا صاحب سُنتے رہے اور غُلام جیلانی اصغر بھی دخل در معقُولات نہ کر سکے، اور پِھر لطیف قریشی جِس تیزی سے آئے تھے، اُسی تیزی سے ”یار زندہ صُحبت باقی“ کہہ کرچلے گئے ۔ مَیں نے میز پر نظر ڈالی تو اُن کی چاے ٹھنڈی ہوگئی تھی، اور طشتری میں رس گُلّے جو اُس زمانے میں آغا صاحب کی تواضُع کا خاص حِصّہ ہوتے تھے ، اُسی طرح پڑے تھے ۔ لطیف قُریشی صاحب کے جانے کے بعد سب نے اِتّفاقِ راے سے یہ فیصلہ سُنا دیا کہ یہ نوجوان محکمہ اِنکم ٹیکس میں زیادہ دن نہیں گزارے گا، اور مُلازَمت کی غُلامی ترک کر دے گا، اِس کے اندر سے ایک انقلابی شاعر بیدار ہو گا، جو آج اپنے عہد کو نہ صِرف کڑوی نظروں سے دیکھ رہا ہے، بل کہ اِسے مُنقلب کرنے کی آرزو بھی رکھتا ہے ۔
دِلچسپ بات یہ ہے کہ لطیف قُریشی کے بارے میں یہ دونوں باتیں دُرُست ثابت ہوئیں، یعنی اُن کے اندر سے ایک انقلابی شاعر بھی بیدار ہوگیا، اور اُنھوں نے ایک بے حد نفع بخش افسری کو بھی برضا و رغبت خیر باد کہہ دیا ۔ اور اب وُہ ایک ایسے انسان کی زندگی گُزار رہے ہیں، جِس کے لب آزاد ہیں، اور جو اپنی بات اپنے انداز میں کہہ سکتا ہے ۔ اِس ضِمن میں اہم بات یہ ہے کہ اُنھوں نے 1973ع میں اپنی شاعری کی پہلی کتاب ”بارِامانت“ پیش کی تو اِس بات کا اظہار لگی لپٹی رکھے بغیر کر دیا کہ ایک انسان ہونے کے ناتے اُن کے دِل پر جو کُچھ گُذرتی ہے، وُہ اُس واردات کو لفظوں کا جامہ پہنانے سے ہر گِز گُریز نہیں کریں گے، کیوں کہ اُن کا بُنیادی مقصد اُس غافل انسان کو بیدار کرنا ہے جواپنے حُقُوق سے واقف نہیں، اور آزاد ہو جانے کے باوُجُود غُلامی کی خُو میں گرفتار ہے ۔
معنوی طور پر وُہ مُجھے ”بارِامانت“ میں ”شہرِ آشوب“ کے شاعر نظر آئے، لیکن اُن کا شہرِ آشوب میرزا محمد رفیع سودا کے شہرِ آشوب سے مُختلف تھا۔ وُہ شہر کے دِگرگوں حالات پر آنسُو بہانے کے بجاے اُن حالات اور واقعات تک پہنچنے کی سعی کرتے جو شہر کو اُس کے داخلی حُسن اور انسان کو اُس کے داخلی اوصاف سے محرُوم کر رہا تھا ۔ چُناں چہ نظر آتا تھا کہ جِس طرح ن۔م۔ راشد نے پہلے ہندوستان کے باغی نوجوان کے جذبہ و احساس کی شاعری کی تھی۔ پھر وُہ ”ایران میں اجنبی“ کی شاعری سے ایک ایشیائی شاعر کے رُوپ میں ظاہر ہوئے اور آخر میں بین الاقوامی انسان کے ترجمان بن گئے تھے ۔ اِس طرح لطیف قُریشی نے بھی ذات سے کائنات کا سفر اپنے جذبہ و احساس کے اِرتقا کے ساتھ کِیا۔ اُنھوں نے ابتدا میں غزل ، گیت اور کافی کی اصناف میں پابند نظمیں لِکھیں، لیکن اُن کا نالہ ”پابندِ نَے “ ہونے پر آمادہ نہیں تھا، چُناں چہ وُہ آزاد نظم کی طرف آگئے، اور اُنھوں نے اِظہار کے رسمی قرینوں کو بھی خیر باد کہہ دِیا۔ مُجھے یاد ہے کہ اُردُو کے مُمتاز نقّاد اور نظم کے جدید ترین شاعر جیلانی کامران نے اُن کی شاعری کی تکنیک کو مُستقبل کی نظم قرار دیا تھا ۔
لطیف قُریشی کی خُوبی یہ ہے کہ وُہ مُستقبل پر کمندیں ڈالنے کے بجاے صِرف حال کے لمحے کو گرفت میں لینے اور اُس پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چُناں چہ ”بارِ امانت“ کے بعد اُن کی کِتاب ”سادہ نظمیں“ شائع ہوئی ۔ 1975ع میں اُن کا تیسرا مجمُوعہ ”ویت نام کو سلام“ اور 1982ع میں چوتھی کتاب ”شبِ تار کا سفر“ شائع ہوئی، تو اِن کتابوں میں اُنھوں نے متعدد تیکنیکس استعمال کیں، اور بُنیادی طور پر یہ بات ثابت کی کہ ہر شعری تخلیق اپنا سانچا خُود ساخت کرواتی ہے ۔ اور شاعر کے اُس تخلیقی لمحے کی امین ہوتی ہے، جب آنکھوں دیکھی حقیقت کے مضامین غیب سے اُترتے ہیں اور شاعر صِرف صریرِ خامہ سے نواے سروش سُنتا ہے۔
یہ چند باتیں میرے قلم پرارتجالاً آ گئی ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ مَیں نے سرگودھا میں لطیف قُریشی صاحب سے اپنی پہلی مُلاقات کے بعد لمبا سفر اُن کی شاعری کے ساتھ طے کِیا ہے۔ مَیں نے اُن کے چاروں مجموعوں کی نظموں کو معرضِ تخلیق میں آتے، اور مجموعوں کی صُورت میں چھپتے ہوئے دیکھا ہے ۔ مَیں نے اظہر جاوید کے رسالے ”تخلیق“ اور پیام شاہجہان پُوری کے رسالے ”تقاضے“ میں بھی اُنھیں پڑھا ہے، اور اُن کی مُتعدّد نظموں کا تذکرہ اپنے سالانہ جائزوں میں بالالتزام کِیا ہے ۔ اِس تمام عرصے میں مُجھے محسُوس ہوتا رہا کہ لطیف قُریشی اپنی ذات کے حِصار سے نِکل کر پُوری دُنیا کو اپنے مدار میں لینے کی کوشِش کر رہے ہیں ۔ اور حالاتِ زمانہ پر اُس شاعر کی طرح ردِ عمل ظاہر کر رہے ہیں، جِس کی آنکھ ہمہ وقت روتی رہتی اور اپنا احتجاج رقم کرواتی چلی جاتی ہے۔
”مزاحمت“ لطیف قُریشی کی شاعری کا پانچواں مجمُوعہ ہے، اور یہ ایک ایسے نازُک وقت میں شائع ہو رہا ہے، جب دُنیا میں تہذیبوں کی جنگ شُرُوع ہو چُکی ہے ۔ ویت نام میں شِکست کھانے اور افغانستان میں اُس شِکست کا بدلہ سوویت یُونیئن سے لینے کے بعد اب امریکا نے عالمِ اسلام کے خلاف جنگ شُرُوع کر رکھی ہے۔ افغانستان کی سر زمین کو گولہ و بارُود سے روندنے کے بعد اُس نے عراق پر جابرانہ و قاہرانہ قبضہ کر لیا ہے۔ شام پر اسرائیل سے بمباری کروا دی ہے، اور اب ایران ، لیبیا ، سعُودی عرب اور پاکستان کی گردن میں شکنجہ ڈالنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، لیکن اِن زمینی واقعات کے تاثُّر کے خلاف ایک ردِعمل افغانستان اور عراق میں پیدا ہو رہا ہے، جوظاہر کرتا ہے کہ ﷲ کے شیروں کورُوباہی نہیں آتی ۔ شاعر ہونے کے ناتے لطیف قُریشی نے پاکستان میں قلم کا محاذ سنبھال رکھا ہے۔ اور اپنے بنکر سے مزاحمت کا سِلسلہ جاری کر رکھا ہے ، ایک زمانے میں وُہ کشمیر کی تحریکِ مُزاحمت کے لیے نظمیں لِکھ رہے تھے، اب فلسطین، چیچنیا، افغانستان اور عراق کی سر زمین پر استعماری طاقتیں بم برساتی ہیں تو لطیف قُریشی اپنے قلم کا مورچہ سنبھال لیتے ہیں، اور ایک نہیں کئی مُزاحَمتی نظمیں لکھ کر امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش ، اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون ، روسی صدر ولادی میر پوٹن اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پر بمّوں کی صُورت برسا دیتے ہیں ۔ اِس کتاب کے دیباچہ نگار جناب عبد الکریم خالد نے دُرُست لِکھا ہے کہ ظالم اور جابرقُوّتوں کے سایۂ عاطفت میں پناہ کی عرض گزارنے والے اور بمّوں کے شور میں مِنقار زیرِ پَر بیٹھ رہنے والے ( تمام شُعرا) ایک تخلیق کار ( لطیف قُریشی) کی مُزاحَمت کا انداز بھی دیکھیں کہ اِس مُزاحَمت میں ناقابلِ تردید حقیقتوں اوراَبَدی صداقتوں کے ظہُور کے آثار نُمایاں ہیں۔ یہ سطُور لکھتے ہوئے مُجھے محسُوس ہوتا ہے کہ لطیف قُریشی صاحب سے تیس سال قبل کی مُلاقات میں سرگودھا کے احباب نے جو توقُّعات باندھی تھیں، وُہ اُنھوں نے دُرُست ثابت کیں، بل کہ زمانے کی ندّی کے ساتھ بہنے اور پھر سمُندر میں گِر کر معدُوم ہو جانے کے بجاے اپنی تخلیقی لہروں کو ہمیشہ موجزن رکھا، اور مُزاحمتی شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
آج وُہ باطل کی ہر اُس قُوّت کے خلاف مُزاحَمت کر رہے ہیں جو انسان کے ساتھ مُخلص نہیں ہے ۔ لطیف قُریشی کی شاعری مُزاحمت کی مُنفرد آواز ہے۔ اُن کی مُزاحَمت وقت کا تقاضا ہے، جِسے ہمارے بہُت سے شاعروں نے اسٹیبلشمینٹ کی غُلامی میں فراموش کر رکھا ہے۔ اِن الفاظ کے ساتھ مَیں اِس کتاب کا خیر مقدم کرتا ہُوں۔
انورسدید





Reviews
There are no reviews yet.