Edit Content
Click on the Edit Content button to edit/add the content.

لاتحزن

1,200.00

Description

لاتحزن: دہریت کے خلاف علمی اور نظریاتی جہاد

معاشرتی، سماجی اور عِمرانی علوم کے مُطابق آزاد عوام کی اکثریت اپنے آبا کی تہذیبی و تمدّنی مابعدالطبیعیات کو تبدیل کرنے کا تصوُّر نہیں رکھتی۔ ایک ہزار برس قبل تک برِصغیر ہندوستان میں بسنے والے بُت پرست تصوُّرِ توحید سے ناآشنا تھے۔ حال آں کہ اُن کے اذہان میں ساڑھے پانچ ہزار برس قبل بھی ہندو دھرم اور بودھ مت کی معرفت تمام سماوی مذاہب اور ارضی فلسفوں کی مشترکہ آفاقی رسوم، اقدار اور عقائد راسخ تھے، مثلاً نیکی اور بدی کا فرق، دُنیاوی زندگی اور عاقبت کا تصوُّر، جنّت اور دوزخ، آبِ مقدّس، فرض و نفل نماز و عبادات، مرکزی روحانی اجتماع، تسبیح و مناجات، روزے، خیرات و صدقات وغیرہ وغیرہ پر مُشتمل مابعدالطبیعیاتی روایاتی عبادات۔ تاہم بیرونی حملہ آور مسلمان اپنے ساتھ مابعدالطبیعیاتی طرز و طریق کی جِدّت کے علاوہ ”کوئی معبُود نہیں! اللہ کے سِوا“ پر مُشتمل تحفۂ تصوُّر و فِکر لے آئے۔  پِھر چار صدیاں قبل سرزمینِ برِصغیر پر یورپی اقوام غالب آئیں تو نہ صِرف مسیحیت کا غلبہ ہُوا، بل کہ ہندوتوا کی نشاة الثانیہ اور استحکامِ نو کے علاوہ اسلام کی شرعی ہیئت تبدیل کرنے والے متعدّد فرقے بھی معرضِ وُجُود میں آتے چلے گئے۔ دراصل ہر آمرانہ اور فسطائی ریاست و مقتدرہ اقتدار کی بقا اور دوام کے لیے بے ثمر اور رایگاں مِحنت کرتی ہوئی اپنے قومی نظریے یا سرکاری مذہب کو عوامی اکثریت کا ضابطۂ حیات فرض کرتی ہے، لہٰذا کسی دیگر ترقّی یافتہ فِکر، سیاسی فلسفے یا مذہب کی ترویج اور فروغ، اسٹیبلشمینٹ کے لیے بیرونی اور اندرونی حملے یا سازش کے خطرے (فوبیا) کا درجہ رکھتا ہے، یہی وَجہ ہے کہ سرکاری مشینری غیرسرکاری تنظیموں اور جنونی، جہادی و خودکُش گروہوں کے ذریعے پراپیگنڈا مہم، قانون سازی، انسدادی کارروائی، ماوراے عدالت قید و بند، قتل و غارت، حتیٰ کہ فوج کشی بھی کی جاتی ہے۔ حقیقتِ امر میں بیسویں صدی عیسوی کا اختتام عالمی سطح پر اسلام کی مقبولیت پر منتج ہُوا تھا، اِسی لیے تمام تر غیراسلامی مذہبی قوتیں بیسویں صدی کے آغاز سے ہی جو مارکسزم، کمیونزم، لادینیت یا دہریت کے خلاف متحد اور صف آرا تھیں، اُنھوں نے یکایک پینترا بدلا اور اسلام کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ معاصر دُنیا کا ہر چھوٹا بڑا فرد، حتیٰ کہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا حامل ہر روبوٹ اور سافٹ ویئر بھی بخوبی آگاہ ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت انسانی حُقُوق کی کوئی بھی عَلَم بردار تنظیم قرارداد منظور کرنے کے سِوا عملی طور پر انسانی حُقُوق اور اقلیتوں کے تحفُّظ کے لیے کوئی اقدام کرنے سے معذُور ہے۔

یاد رہے کہ جب مُستشرق وِلیم میور نے 1861ع میں خاتم النبییّن حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور باضابطہ ”لائف آف محمد“ نامی کتاب لکھی، جس نے اسلامو فوبیا کو تقویت دی اور اسلام کے خلاف عوام میں ایک نیا تصوُّر سامنے آیا، مگر اُس دور میں بانیِ علی گڑھ مسلم یونی یورسٹی سرسیّد احمد خان نے ”خطباتِ احمدیہ“ لکھ کر اُس کا مُنہ توڑ جواب دیا۔ لہٰذا اِس وقت بھی ضرورت اِس بات کی ہے کہ اسلام کو گاہ بگاہ بدنام کرنے کی سازش کرنے والوں کے جواب کے لیے مسلم اُمّہ کا تحریری اور تقریری دونوں اعتبار سے لیس ہونا ازحد ضروری ہے۔ معتدل دانش وروں کا ایک ایسا گروہ ازحد ضروری ہے جو عوام کو مغرب کی سازشی کارروائیوں سے بیدار کرے۔ اِس سے انتہائی مثبت فائدہ یہ ہوگا کہ عوام کا اسلام کے بارے میں جو مزاج بنتا جا رہا ہے، اُس پر روک لگانا آسان ہو جائے گا۔

یہ خوف صِرف اسلام کے حوالے سے نہیں ہے، بل کہ Xenophobia (دُوسرے ملک کے لوگوں سے خوف) جیسے خوف بھی ہیں جو آج بھی دُنیا کے سبھی ممالک میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اِسی طرح Anti Semitism (یہودیوں کے خلاف نفرت/ خوف) کی وَجہ سے اب بھی یہودی مذہب والوں کو کئی جگہوں پر مُزاحمت اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

”لاتحزن“ کی وَجہِ تصنیف و تالیف یہ ہے کہ مصنّف ابنِ فضل حق حصولِ تعلیم اور پِھر درس و تدریس کے دوران میں ایسے اساتذہ اور طلباے علم سے ملتے رہے جِن کے اذہان وُجُودِ باری تعالیٰ کے ضمن میں تشکّک کا شکار تھے۔ تب بہت سے طلباے علم سیکولر نظریات پر مبنی سوالات اُٹھاتے رہے۔ اُنھوں نے دیکھا کہ تصوُّرِ باری تعالیٰ کی حقّانیت سے دُور کچھ اساتذہ اور اُن سے متاثّر طلباے علم کی باتوں میں سنجیدگی کے بجاے طنز تھا۔

 ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(مفہوم) : ”ہاں تو تم تعجّب کرتے ہو اور یہ تمسخر کرتے ہیں۔“

(الصٰفٰت، آیت نمبر12)

خدا کی تلاش جِن کی منزل تھی ہی نہیں۔ دُنیا اور اِس کی رنگینیوں سے متاثّر اور آنکھ کی بصارت پر اندھا اعتماد اور روحانی وجدانی بصیرتوں سے محروم، وُجُودِ باری تعالیٰ کے لطیف اشاروں کے فہم سے عاری، اِس عارضی دُنیا کو آخری دُنیا سمجھنے کی طرف مائل اور اِس زندگی کی نہایت مُختصر و قلیل مسرّتوں کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی خواہش اور اِس خواہش کی تکمیل کے لیے بے مہار آزادی، اُن کی منزل…. وہ سوالات جو طلباے عِلم کرتے رہے، اُن سوالوں کے جوابات اِس کتاب میں اِس انداز میں عُنوانات کے تحت زیرِ بحث لائے گئے ہیں تاکہ دلیل کے ساتھ اُن مخمصوں کو طلباے علم کے اذہان سے رفع کِیا جائے اور وہ Clear Concepts کے ساتھ زندگی بسرکریں۔

مصنّف کا خیال ہے کہ حقیقی آزادی دُنیا میں اللہ کو پا لینے کا نام ہے۔ جو اِس زندگی میں اللہ تعالیٰ کی قُربتوں کو محسُوس نہ کر سکا، جو اُس کے وُجُود کے لطیف اشاروں کا شاہد نہ ہو سکا، جو اُس کی ہیبت اور محبّت سے ناآشنا رہا وہ ایک بے کیف زندگی کے ساتھ تپتے ریگستان کا راہی تھا جس کے راستے میں کوئی نخلستان نہیں تھا۔ روس کے عظیم دانش ور ٹالسٹائی نے کہا تھا:

”زندگی تصوُّرِ خُدا کے سِوا کچھ نہیں ہے۔“، ”خُدا کی تلاش کے خیال نے اُسے زندہ رہنے کا حوصلہ بخشا۔“، ”زندگی کا لُطف خدا کو جاننے اور پہچاننے سے ہی ہے۔“، ” خُدا کا ساتھ نہ ہو تو زندگی میں رہ ہی کیا جاتا ہے۔“، ”جو خُدا کو جان جاتا ہے پھر اُس کے بغیر اس کی زندگی محال ہو جاتی ہے۔“

”لاتحزن“ کا مرکزی خیال ذاتِ الٰہی کی تفہیم کے وسیلے تلاش کر کے گُذربسر کرنا ہی اصل زندگی ہے۔ دِینِ اسلام ایک آسان اور فطری راستہ ہے اور سلامتی کا راستہ ہے جو آپ کی زندگی کو اطمینان اور مسرّتوں سے لبریز کر دے گا۔ مصنّف نے اللہ تعالیٰ کے وُجُود کو محسُوس کرنے کی طرف توجُّہ دِلانے کے ساتھ ساتھ مُسلمانوں کو فرقہ واریت کی بات سے گُریز، مسئلہ وحدت الوجُود کی حقیقت، محض دُنیاداری کھوکھلاپن، اولاد پرستی کا عُنصُر، ذہانت کی مِعراج فِکرِ آخرت، جادوگروں کی اصل حقیقت، دِینِ اسلام میں نماز کی آسانیاں، دُنیا کی زندگی میں خُودغرضی، حِرص اور بخیلی کے باعث پیدا ہونے والے ذِہنی اور نفسیاتی مسائل، محض لذتیت کو مقصد بنا کر زندگی گزارنے کا انجام اور یہ کہ قرآنِ حکیم کا دُوسری تحریف زدہ الہامی کتابوں توریت و اناجیل سے فرق اور اسلام میں سائینس کی اہمیت (بعنوان اسلامی تاریخ میں کوئی گلیلیو نہیں تھا) کو اُجاگر کِیا ہے۔

 انسانی رُوح اور جسم کے کامل توازن کے ذیل میں اُنھوں نے ”لاتحزن“ عنوانی مُرقّع تشکیل دِیا، جس کا مرکزی خیال ہے، ذاتِ الٰہی کی تفہیم کے وسیلے تلاش کر کے گُذر بسر کرنا ہی مِثالی زندگی ہے۔ اِس ضِمن میں اُنھوں نے جسدِ دِین پر مُشکلات و نامُمکنات کی غلاف پوشی کرنے والے علماے سُو کے بالعکس فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر حُقُوق اللہ کی عبادات اور حُقُوق العباد کی خدمات کی ادائی کی سہل یا آسان ترین پیرایے میں نقاب کُشائی کا فریضہ انجام دیا ہے، تاکہ ہر انسان اپنی زندگی کے مقصد اور بہترین استعمال کی تفہیم سے مواحد و مومن کے منصب پر فائز ہو پائے اور وہ مِن حیث المجمُوع شفّاف اور متوازن زندگی سے لُطف اندوز ہو سکے۔ ”لاتحزن“ کے مصنف و مؤلّف کے مدِنظر یہ خیال رہا کہ اِس غیرعادلانہ، غیرقانونی، غیرآئینی، غیرمساویانہ، غیرمتوازن، غیرجمہُوری اور غیرانسانی معاشرتی نظام میں رہنے کے باوُجُود اگر بندہ زندگی بھر اللہ تعالیٰ کو پیشِ نظر رکھے تو اُسے غائب سے ہر مُعاملے میں آسانی عطا ہو سکتی ہے، بصُورتِ دیگر وُہ بے راہ روی، اعصابی اضمحلال، ڈپریشن اور مایوسی کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتا ہُوا گم ہو جاتا ہے۔ دہریت کے تدارک کی خاطر اِس جہادی مواد کی تصنیف و تالیف میں ابنِ فضل حق نے مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، انجینئر محمد علی مرزا، جاوید احمد غامدی سمیت متعدّد عُلما کرام کے بصیرت افروز نظریات و خیالات سے بھی استفادہ کِیا ہے، جب کہ بالخصوص پروفیسر احمد رفیق اختر کے اقوالِ زرّیں کی روشنی اُن کی علمی جِدّوجہد کے لیے مثالیہ ہے۔ مزید برآں اُنھوں نے عالمی سطح پر معرُوف دہریوں کی کُتُب کا مُطالعاتی تجزِیّہ کر کے اُن میں موجُود فِکری نقائص کی نشان دہی کا جتن بھی کِیا ہے۔

دہریت کے علاوہ غیرمُسلم دُنیا میں درپیش مسئلہ، بل کہ خطرہ یہ ہے، اگر دُنیا میں اسلام تیزی کے ساتھ پھیلنے لگ گیا تو 2030ع تک دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں نُمایاں کمی کے علاوہ مسیحیوں اور یہودیوں کی تعداد بھی خاصی گھٹ جائے گی۔

 ابنِ فضل حق کا کہنا ہے کہ درحقیقت اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اسلام نے دُنیا کے تمام انسانوں کو احترامِ شرف اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر پہنچایا ہے، تفریق اور نفرت کے خلاف اسلام نے لوگوں کو اُبھارا ہے، باہم محبّت اور پیار کی تلقین کی ہے۔ میڈیا چینلزمسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے رہے ہیں، اُن کا یہ رویّہ ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا ہی بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جرمن ہٹلر اورنازی پارٹی نے کِیا تھا۔ تب بھی یہودیوں کے خلاف پراپیگنڈا میں انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا تھا۔ اُن کو انسانیت کے دائرے سے خارج کِیا گیا، اُس کے جو منفی نتائج برآمد ہوئے وہ کِسی سے مخفی نہیں ہیں۔

Clash of Civilizations کے مصنّف ہَنٹِنگٹَن نے لکھا تھا، اسلام کمیونزم کے خاتمہ کے بعد مغربی تہذیب کا سب سے بڑا دُشمن ہے۔ نیز مغرب میں مُسَلسَل مُسلمانوں کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ مغربی مصنّفین جو کمرشل پراپیگنڈا اَدَب تحریر کرتے چلے آ رہے ہیں، وہ بھی مُسلمانوں کے خلاف بچّوں اور نوجوانوں کی متعصّبانہ ذِہنیت بنا رہا ہے۔ مغرب میں اَن گِنت کتابیں، کتابچے، ویب سائٹس، تصاویر اور عوام کی ذاتی پبلی کیشنز اسلاموفوبیا کے ذِمہ دار ہیں۔

بیسویں صدی کے نصف آخر سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی، سماجی اور معاشی صُورتِ حالات نے بھی اسلامو فوبیا کو فروغ دیا، کیوں کہ جو گروہ وہاں قتل وغارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں، وُہ یورپ اور مغرب کے زر خرید غلام ہیں، اُن کا ریموٹ کنٹرول ایسے مافیا اور عالمی اداروں کے ہاتھ میں ہے جو دُنیا میں انسانیت کے خُون کے پیاسے ہیں۔ داعش جیسے جنگجُو گروہ اسلام کے نام پر تباہی مچا رہے ہیں، جب کہ اسلام سے اُن کا تعلق دُور کا بھی نہیں ہے۔ اسلامی تعلیمات انسان دوستی، محبّت، روداری اور بقاے باہم کی علمبردار ہیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم پر اغیار نے بڑی ہوشیاری سے پردہ ڈال دیا ہے۔ اِس صُورتِ حالات میں اسلام کا دفاع کرنے والے ابنِ فضل حق جیسے دانش وروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، جو اسلام کے خلاف کیے جانے والے ناپاک عزائم کا پردہ چاک کر سکیں اور اسلام کی اصل رُوح عوام کے سامنے لائیں۔ اگر فوری طور پر مسلمان کُش سازشوں پر قدغن نہیں لگی تو اِن کے نتائج مزید بھیانک ہوں گے۔ مضمُون بعُنوان ”ابراہیم ادھمؒ…. ایک جینیئس“ میں ابنِ فضل حق رقم طراز ہیں کہ عارضی مسرّتوں کو چھوڑ کر لازوال خوشیوں کو گلے لگانا چاہیے۔ ہر فرد خوف اور حُزن سے آزادی حاصل کر سکتا ہے، کیوں کہ خُدا سے دوستی اور خوف ایک جگہ اکٹّھے نہیں رہ سکتے۔

اِس ضِمن میں مضمُون بعُنوان ”نہ کوئی خوف، نہ کوئی غم“ میں ہر طرح کے دُنیاوی فوبیا سے محفوظ و مامون رہنے کے لیے قرآنی امانتیں، ہدایات اور احکام پر مشتمل مرقع ترتیب پایا ہے۔ مُخلص اور سنجیدہ قارئین کی خاطر بغایتِ تعارُف عرض ہے کہ ”لاتحزن“ کے مصنف و مُؤلّف ابنِ فضل حق ( محمد ریاض الحق) تعلیم ایم-اے (انگریزی و اُردُو ادب)، ایل ایل بی، ہیڈ آف ڈیپارٹمینٹ آف انگلش کی حیثیت سے گورنمنٹ کالج آف سائینس میں فرائضِ منصبی سرانجام دیتے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اُن کے والدِ گرامی چودھری فضلِ حق انجمن حمایتِ اسلام میں بطور آڈیٹر30 برس سے زائد خدمات انجام دیتے رہے۔ محمد ریاض الحق نے 16- دسمبر2008 ع کوانجمن حمایتِ اسلام کی جنرل کونسل کی رُکنیت اختیار کی تھی۔ اِن دنوں وہ حمایتِ اسلام دارالشفقت فار بوائز کمیٹی کے سیکرٹری اور حمایتِ اسلام طبیہ کالج کمیٹی کے رُکن کی حیثیت سے فرائضِ منصبی انجام دے رہے ہیں۔ قبل ازیں وہ حمایتِ اسلام ڈگری کالج براے خواتین کمیٹی کے سیکرٹری،حمایتِ اسلام ہائیر سیکنڈری سکول کمیٹی، جایداد کمیٹی، حمایتِ اسلام طبیہ کالج کمیٹی اور حمایتِ اسلام خواتین کالج گارڈن ٹاﺅن کمیٹی کے بھی رُکن رہ چکے ہیں۔

ابنِ فضل حق کا کہنا ہے کہ فتحِ مکّہ سب سے بڑی فتح تھی، اُس موقع پر ہمارے پیارے نبی ﷺ نے دُشمنوں کو معاف کر کے امن کی اعلیٰ مِثال قائم کی اور دُنیا کو دِکھایا کہ اسلام ایک پُرامن دِین ہے۔ جو مذہب غیرمُسلموں کے حُقُوق کا بھی خیال رکھتا ہے، آخر اُس مذہب سے اِتنا ڈر کیوں؟ دیکھا جائے تو دہریت اور اسلاموفوبیا کی سب سے بڑی جو وَجہ سامنے آتی ہے، یہ ہے کہ اسلام کی بڑھتی مقبُولیت۔

ابنِ فضل حق کی جواہرِ عِلم و حِکمت سے معمُور اِس بیاضِ لاتحزن کا لُبِ لُباب یہ ہے کہ عالمی انسانی حُقُوق کے تحت کسی بھی نوع کی نفرت آزادیِ اظہار کا جائز استعمال نہیں۔ اسلام اور دہشت گردی کو آپس میں جوڑنے کی کوششیں خطرناک ہیں، دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ اُنھوں نے اسلام اور نبی کریمﷺ سے مسلمانوں کی محبّت و عقیدت کے بارے میں آگاہی اور شُعُور پھیلانے کی تحریک پر بھرپور توجُّہ دی ہے۔ وُہ توحید کی ترویج کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب کے درمیان پُرامن بقاے باہمی اور احترام کی اقدار کو فروغ دینے کی مساعی کر رہے ہیں، چُوں کہ اسلام سے متعلّق منفی اور گمراہ کُن اطلاعات کے پھیلاو کو روکنے کی ضرورت ہے۔

نیّتوں اور خواہشوں کے سیاق میں ہمارے اعمال کو گرِفت میں رکھنے اور متعیّن کرنے والی قُوّت ارادہ کہلاتی ہے، اور اگر یہ قُوّت عقیدے سے مُنسلک ہو جائے تو اُس قضیے، تصوُّر یا خیال میں مُنقلب ہو جاتی ہے، کوئی بھی فرد جس پر عمل کرنے کو تیار ہو۔ گو امریکی نفسیات دان اور فلسفی وِلیم جیمز کے نزدِیک معنیات و معلومات کے فُقدان کے باوُجُود کاروبارِ حیات کے لیے ایک ارادہ براے عقیدہ ضروری ہے، کہ ہم معتقدات وضع کریں اور عمل پیرا ہوں۔ معتقدات سے اندھی تقلید یا اندھا اعتقاد مُراد نہیں، بل کہ وقوفی رُکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھنے اور عمل کرنے کے جذبے کی طرف اشارہ مِلتا ہے۔

بِلاشُبہ ابنِ فضل حق نے دنیوی اور دینوی کامیابیوں کے ضِمن میں یادگار ہدایت نامہ کی وساطت سے انسانی فلاح و خدمت کے لیے کامیاب مِحنتِ شاقّہ کی اور قاری کو سورة العصر کی روشنی میں باور کروایا کہ وُہی محنت کامیاب ہوئی، جس کا مقصد خُدا کی رضا کے سِوا کُچھ نہ تھا، باقی سب رایگاں ٹھہرا۔ اِس حوالے سے مضمُون بعُنوان ”بے ثمر و رایگاں محنتیں“ قابلِ ذِکر بھی ہے اور قابلِ فِکر بھی۔

”لاتحزن“ میں شامل زیرِ نظر مضامین کے عُنوانات اور موضُوعات جائزے، تنقید، تجزیے اور تحقیق کے سبب ایک ہمہ گِیر مباہلے، مذاکرے، فورم اور ویلٹنشانگ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ مصنف و مُؤلّف کے فروغِ آگاہی کا اصل مخاطب و ہدف مُستند و مُعتبر سائینس دان ہیں۔ تاہم اِس بُنیاد پر اظہارِ افسوس کِیا گیا ہے کہ سٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائینس دان کی ساری ذہانت اور اُس کا آئی کیو لیول محض فزکس کے تحقیقی اُمُور میں ہی ضائع ہو گیا۔ ابنِ فضل حق کم فہم اور کم علم لوگوں کے لیے سائینس کے نام پر پھیلائے جانے والے اوہام کا ازالہ کرنے کی خاطر ایک اہم دستاویز منصّۂ شہود پر لائے ہیں۔

 بِلاشُبہ ابنِ فضل حق آفاقی، انسانی، اخلاقی، معاشی، سماجی اور علمی وُجُود کی تشکیلِ نو کے خواہاں ہیں۔ وہ اپنے معاملات سِپُردِ خُدا کرنے کے نتیجے میں مِلنے والی خُوشیوں سے بخُوبی آگاہ ہیں۔ جو فرد اپنی زندگی میں انسانیت کے لیے خاموشی سے جِدّوجہد کرنے اور قُربانی دینے، یعنی کِسی اعلیٰ مقصد، کا انتخاب کر لیتا ہے، اُسے کوئی مادّی دباو جُھکا نہیں سکتا، وُہ معمُولی، محدُود خُوشی یا خُودغرضی کی آرزُو سے عاری ہو تا ہے، اور سبھی کو خُوشیاں دے کر خُوش ہوتا ہے۔ ”لاتحزن“ کے مُطالعہ سے عیاں ہو گا ہے کہ اچھی باتیں کِسی ایک کی نہیں ہوتیں، نہ کِسی ایک کے لیے ہوتی ہیں، بل کہ ہر ایک کی اور ہر ایک کے لیے ہوتی ہیں۔ تاہم ابنِ فضل حق نے اچّھی باتوں کے حوالے مُختلف عُلماے حق کے توسُّط سے بھی مرقُوم کیے۔ حال آں کہ دِین میں اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ کِن اشخاص نے کیا کیا کہا۔ اگر کوئی اہمیت ہے تو اُس بات کی جو قرآنِ مجید میں رقم ہے، یا نبیِ آخرالزمان محمدﷺ نے ازخُود کہی، کہ اچّھی باتوں کے فقط یہی دو مُستند ماخذ ہیں۔ ابنِ فضل حق کی تصنیف و تالیف پس ماندہ معاشروں میں کُفر، شرک، مغالطوں، اوہام اور تعصّبات کا شکار افراد کے زیرِ مُطالعہ آنے کا بندوبست کِیا جانا ضروری ہے، تاکہ رب العالمین سے قلبی تعلُّق کی اہمیت کو اُجاگر کِیا جا سکے۔

اظہر غوری

سیکرٹری

رائٹرز ایسوسی ایشن لاہور

۔٭۔

Reviews

There are no reviews yet.

Be the first to review “لاتحزن”

Your email address will not be published. Required fields are marked *